Back to Ruku Index

Ruku 8

1 Surahs2 Versesركوع 8
2:60
۞وَإِذِ
اور جب
ٱسۡتَسۡقَىٰ
پانی مانگا
مُوسَىٰ
موسیٰ نے
لِقَوۡمِهِۦ
اپنی قوم کے لئے
فَقُلۡنَا
تو کہا ہم نے
ٱضۡرِب
مارو
بِّعَصَاكَ
ساتھ اپنے عصا کے
ٱلۡحَجَرَ‌ۖ
اس پتھر کو
فَٱنفَجَرَتۡ
تو پھوٹ پڑے / بہہ نکلے
مِنۡهُ
اس سے
ٱثۡنَتَا
دو
عَشۡرَةَ
دس (بارہ)
عَيۡنًا‌ۖ
چشمے
قَدۡ
تحقیق
عَلِمَ
جان لیا
كُلُّ
تمام
أُنَاسٍ
لوگوں نے / گروہوں نے
مَّشۡرَبَهُمۡ‌ۖ
اپنے پنگھٹ کو / اپنی پینے کی جگہ کو
كُلُواۡ
کھاؤ
وَٱشۡرَبُواۡ
اور پیو
مِن
سے
رِّزۡقِ
رزق (رزق سے)
ٱللَّهِ
اللّٰهِ
وَلَا
اورنہیں
تَعۡثَوۡاۡ
تم فساد کرتے پھرو
فِى
میں
ٱلۡأَرۡضِ
زمین
مُفۡسِدِينَ
فسادی بن کر
٦٠
اور جب پانی مانگا موسیٰ نے اپنی قوم کے لیے تو ہم نے کہا ضرب لگاؤ اپنے عصا سے چٹان پر تو اس سے بارہ چشمے پھوٹ بہے ہر قبیلے نے اپنا گھاٹ جان لیا (اور معینّ کرلیا) (گویا ان سے یہ کہہ دیا گیا کہ) کھاؤ اور پیو اللہ کے رزق میں سے اور زمین میں فساد مچاتے نہ پھرو۔
2:61
وَإِذۡ
اور جب
قُلۡتُمۡ
کہا
يَـٰمُوسَىٰ
اے موسیٰ
لَن
ہرگز نہیں
نَّصۡبِرَ
ہم صبر کریں گے
عَلَىٰ
اوپر
طَعَامٍ
کھانے کے
وٰحِدٍ
ایک
فَٱدۡعُ
پس تم دعا کرو
لَنَا
ہمارے لئے
رَبَّكَ
اپنے رب سے
يُخۡرِجۡ
وہ نکالے
لَنَا
ہمارے لئے
مِمَّا
اس میں سے جو
تُنۢبِتُ
اگاتی ہے
ٱلۡأَرۡضُ
زمین (یعنی)
مِنۢ
سے
بَقۡلِهَا
سبزی اس کی سے
وَقِثَّآئِهَا
اور ککڑی اس کی سے
وَفُومِهَا
لہسن اس کے سے
وَعَدَسِهَا
مسور اس کی سے
وَبَصَلِهَا‌ۖ
پیاز اس کی سے
قَالَ
کہا
أَتَسۡتَبۡدِلُونَ
تم بدلنا چاہتے ہو
ٱلَّذِى
اسے جو
هُوَ
وہ
أَدۡنَىٰ
کم تر ہے
بِٱلَّذِى
بدلے اس کے جو
هُوَ
وہ
خَيۡرٌ‌ۚ
بہتر ہے
ٱهۡبِطُواۡ
اتر جاؤ (بلند مقام سے)
مِصۡرًا
کسی شہر میں
فَإِنَّ
تو بیشک
لَكُم
تمہارے لئے ہے
مَّا
جو
سَأَلۡتُمۡ‌ۗ
سوال کیا تم نے / مانگا تم نے
وَضُرِبَتۡ
اور ماری گئی / مسلط کی گئی
عَلَيۡهِمُ
اوپر ان کے
ٱلذِّلَّةُ
ذلت
وَٱلۡمَسۡكَنَةُ
اور مسکنت
وَبَآءُو
اور وہ لوٹے
بِغَضَبٍ
ساتھ غضب کے
مِّنَ
طرف سے
ٱللَّهِ‌ۗ
اللہ
ذٰلِكَ
یہ
بِأَنَّهُمۡ
بوجہ اسکے کہ بیشک وہ
كَانُواۡ
تھے وہ
يَكۡفُرُونَ
وہ کفر کرتےرہتے تھے
بِـَٔـايَـٰتِ
ساتھ آیات کے
ٱللَّهِ
اللہ
وَيَقۡتُلُونَ
اور قتل کر ڈالتے تھے
ٱلنَّبِيِّــۧنَ
نبیوں کو
بِغَيۡرِ
بغیر
ٱلۡحَقِّ‌ۗ
حق کے
ذٰلِكَ
یہ
بِمَا
بوجہ اس کے
عَصَواۡ
وہ نافرمانی کرتے تھے
وَّكَانُواۡ
اور تھے وہ
يَعۡتَدُونَ
حد سےنکل جاتے
٦١
اور یاد کرو جب کہ تم نے کہا تھا اے موسیٰ ! ہم ایک ہی کھانے پر صبر نہیں کرسکتے تو ذرا اپنے رب سے ہمارے لیے دعا کرو کہ نکالے ہمارے لیے اس سے کہ جو زمین اگاتی ہے اس کی ترکاریاں اور ککڑیاں اور لہسن اور مسور اور پیاز۔ حضرت موسیٰ ؑ نے فرمایا کیا : تم وہ شے لینا چاہتے ہو جو کم تر ہے اس کے بدلے میں جو بہتر ہے ؟ اترو کسی شہر میں تو تم کو مل جائے گا جو کچھ تم مانگتے ہو۔ اور ان پر ذلتّ و خواری اور محتاجی و کم ہمتی تھوپ دی گئی۔ اور وہ اللہ کا غضب لے کر لوٹے۔ یہ اس لیے ہوا کہ وہ اللہ کی آیات کا انکار کرتے رہے اور اللہ کے نبیوں کو ناحق قتل کرتے رہے۔ اور یہ اس لیے ہوا کہ وہ نافرمان تھے اور حد سے تجاوز کرتے تھے۔