Back to Ruku Indexٱ لَّذِينَٱ لۡأَرۡضِل َّوۡٱ للَّهُف ِىق ُتِلۡتُمۡٱ للَّهِم ِّنَٱ للَّهِم ِّمّ َام ُّتُّمۡٱ للَّهِم ِّنَٱ للَّهِٱ لۡقَلۡبِٱ لۡأَمۡرِۖٱ للَّهِۚٱ للَّهَٱ لۡمُتَوَكِّلِي نَ١٥٩ي َنص ُرۡكُمُٱ للَّهُي َخۡذُلۡكُمۡذ َاٱ لَّذِىم ِّنۢ ب َعۡدِهِۦ ۗٱ للَّهِٱ لۡمُؤۡمِنُو نَ١٦٠ي َغُلَّۚي َغۡلُلۡٱ لۡقِيَـٰ مَةِۚم َّاٱ تَّبَعَٱ للَّهِب َا ٓءَم ِّنَٱ للَّهِٱ لۡمَصِي رُ١٦٢ٱ للَّهِۗب ِمَاٱ للَّهُٱ لۡمُؤۡمِنِينَم ِّنۡٱ لۡكِتَـٰ بَك َانُواۡ ق َبۡ لُم ُّبِي نٍ١٦٤م ُّصِيبَةٌ ق َدۡ م ِّثۡلَيۡهَاٱ للَّهَق َدِي رٌ١٦٥ٱ ل ۡتَقَىٱ لۡجَمۡعَانِٱ للَّهِٱ لۡمُؤۡمِنِي نَ١٦٦ٱ لَّذِينَٱ للَّهِٱ دۡ فَعُواۡۖ ل َّٱ تَّبَعۡنَـٰ كُمۡۗم َّاٱ لۡمَوۡتَك ُنت ُمۡٱ لَّذِينَٱ للَّهِب َلۡٱ للَّهُف َضۡلِهِۦ م ِّنۡم ِّنَٱ للَّهِو َأَنّ َٱ للَّهَٱ لۡمُؤۡمِنِي نَ١٧١
Ruku 58
1 Surahs16 Versesركوع 58
3:156
يَـٰٓ أَيُّهَا
اے
وہ لوگو
ءَامَنُواۡ
جو ایمان لائے ہو
لَا
نہ
تَكُونُواۡ
تم ہوجاؤ
كَٱ لَّذِينَ
ان لوگوں کی طرح
كَفَرُواۡ
جنہوں نے کفر کیا
وَقَالُواۡ
اور انہوں نے کہا
لِإِخۡوٰ نِهِمۡ
واسطے اپنے بھائیوں کے
إِذَا
جب
ضَرَبُواۡ
وہ چلے پھرے
فِى
میں
زمین (میں)
أَوۡ
یا
كَانُواۡ
تھے وہ
غُزًّى
لڑنے والے
اگر
كَانُواۡ
وہ ہوتے
عِند َنَا
ہمارے پاس
مَا
نہ
مَاتُواۡ
وہ مرتے
وَمَا
اور نہ
قُتِلُواۡ
وہ قتل کیے جاتے
لِيَجۡ عَلَ
تاکہ کردے
اللہ
ذٰ لِكَ
اس کو
حَسۡرَةً
حسرت کا سبب
میں
قُلُوبِهِمۡۗ
ان کے دلوں (میں)
وَٱ للَّهُ
اور اللہ
يُحۡىِۦ
زندہ کرتا ہے
وَيُمِيتُۗ
اور موت دیتا ہے
وَٱ للَّهُ
اور اللہ
بِمَا
ساتھ اس کے جو
تَعۡمَلُونَ
تم کرتے ہو
بَصِي رٌ
١٥٦دیکھنے والا ہے
اے اہل ایمان ! تم ان لوگوں کی مانند نہ ہوجانا جنہوں نے کفر کیا اور جنہوں نے اپنے بھائیوں کے بارے میں جبکہ وہ زمین میں سفر پر نکلے ہوئے تھے یا کسی جہاد میں شریک تھے (اور وہاں ان کا انتقال ہوگیا) کہا کہ اگر وہ ہمارے پاس ہوتے تو نہ مرتے نہ قتل ہوتے (یہ بات اس لیے ان کی زبان پر آتی ہے) تاکہ اللہ اس کو ان کے دلوں میں حسرت کا باعث بنا دے اور دیکھو اللہ ہی زندہ رکھتا ہے اور وہی موت وارد کرتا ہے اور جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ اسے دیکھ رہا ہے
3:157
وَلَئِن
اور البتہ اگر
مارے گئے تم
فِى
میں
سَبِيلِ
راستے
اللہ کے
أَوۡ
یا
مُتُّمۡ
مرگئے تم
لَمَغۡفِرَةٌ
البتہ بخشش ہے
سے
اللہ کی طرف
وَرَحۡمَةٌ
اور رحمت
خَيۡرٌ
وہ بہتر ہے
اس سے جو
يَجۡ مَعُو نَ
١٥٧وہ جمع کر رہے ہیں
اور اگر تم اللہ کی راہ میں قتل ہوجاؤ یا ویسے ہی تمہیں موت آجائے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو مغفرت اور رحمت تمہیں ملے گی وہ کہیں بہتر ہے ان چیزوں سے جو یہ جمع کر رہے ہیں
3:158
وَلَئِن
اور البتہ اگر
مر بھی جاؤ تم
أَوۡ
یا
قُتِلۡتُمۡ
قتل کیے جاؤ تم
لَإِلَى
البتہ طرف
اللہ کی
تُحۡشَرُو نَ
١٥٨تم اکٹھے کیے جاؤ گے
اور چاہے تم مرو یا قتل ہو بہرحال اللہ ہی کے پاس اکٹھے کیے جاؤ گے
3:159
فَبِمَا
پس بوجہ اس کے جو۔ تو ساتھ کس
رَحۡمَةٍ
رحمت ہے۔ رحمت کے
سے
اللہ کی طرف (سے)
لِنت َ
تم نرم دل ہو۔ تم نرم دل ہوئے
لَهُمۡۖ
ان کے لیے
وَلَوۡ
اور اگر
كُنت َ
ہوتے تم
فَظًّا
تند خو
غَلِيظَ
سخت
دل
لَٱ نف َضُّواۡ
البتہ منتشر ہوجاتے
مِنۡ
سے
حَوۡلِكَۖ
تیرے آس پاس
فَٱ عۡفُ
پس درگزر کیجیے
عَنۡهُمۡ
ان سے
وَٱ سۡتَغۡفِرۡ
اور بخشش مانگیے
لَهُمۡ
ان کے لیے
وَشَاوِرۡهُمۡ
اور مشورہ کرو ان سے
فِى
میں
معاملات (میں)۔ معاملہ میں
فَإِذَا
پھر جب
عَزَمۡتَ
پختہ ارادہ کریں آپ
فَتَوَكَّلۡ
تو بھروسہ کریں
عَلَى
پر
اللہ
إِنّ َ
بیشک
اللہ تعالیٰ
يُحِبُّ
محبت رکھتا ہے
بھروسہ کرنے والوں سے
(اے نبی ﷺ یہ تو اللہ کی رحمت ہے کہ آپ ان کے حق میں بہت نرم ہیں اور اگر آپ ﷺ تندخو اور سخت دل ہوتے تو یہ آپ ﷺ کے ارد گرد سے منتشرہو جاتے پس آپ ان سے درگزر کریں اور ان کے لیے مغفرت طلب کریں اور معاملات میں ان سے مشورہ لیتے رہیں پھر جب آپ فیصلہ کرلیں تو اب اللہ پر توکل کریں یقیناً اللہ تعالیٰ توکل کرنے والوں کو پسند کرتا ہے
3:160
إِن
اگر
مدد کرے تمہاری
اللہ
فَلَا
تو نہیں
غَالِبَ
کوئی غالب آنے والا
لَكُمۡۖ
تم پر
وَإِن
اور اگر
وہ چھوڑ دے تم کو
فَمَن
تو کون
وہ
جو
يَنص ُرُكُم
مدد کرے تمہاری
سے
اس کے بعد
وَعَلَى
اور پر
اللہ ہی
فَلۡيَتَوَكَّلِ
پس چاہیے کہ توکل کیا کریں
مومن۔ ایمان والے
(اے مسلمانو ! دیکھو) اگر اللہ تمہاری مدد کرے گا تو کوئی تم پر غالب نہیں آسکتا اور اگر وہ تمہیں چھوڑ دے (تمہاری مدد سے دست کش ہوجائے) تو کون ہے جو تمہاری مدد کرے گا اس کے بعد ؟ اور اللہ ہی پر توکل کرنا چاہیے ایمان والوں کو۔
3:161
وَمَا
اور نہیں
كَانَ
ہے (مناسب)
لِنَبِىٍّ
کسی نبی کے لیے
أَن
کہ
وہ خیانت کرے
وَمَن
اور جو کوئی
خیانت کرے گا
يَأۡتِ
وہ لے آئے گا
بِمَا
ساتھ اس کے جو
غَلَّ
اس نے خیانت کی
يَوۡمَ
دن
قیامت کے
ثُمّ َ
پھر
تُوَفَّىٰ
پورا پورا دیا جائے گا
كُلُّ
ہر
نَفۡسٍ
شخص کو
جو
كَسَبَتۡ
اس نے کمائی کی
وَهُمۡ
اور وہ
لَا
نہ
يُظۡلَمُو نَ
١٦١ظلم کیے جائیں گے
اور کسی نبی کی یہ شان نہیں ہے کہ وہ خیانت کرے اور جو کوئی خیانت کرے گا تو وہ اپنی خیانت کی ہوئی چیز سمیت حاضر ہوگا قیامت کے دن پھر ہر جان کو پورا پورا دے دیا جائے گا جو کچھ اس نے کمایا ہوگا اور ان پر کچھ ظلم نہ ہوگا
3:162
أَفَمَنِ
کیا بھلا جو
پیروی کرے
رِضۡوٰ نَ
رضا کی
اللہ کی
كَمَنۢ
اس شخص کی طرح ہوسکتا ہے جو
پلٹے
بِسَخَطٍ
ساتھ ناراضگی کے
سے
اللہ کی طرف
وَمَأۡوَٮٰ هُ
اور ٹھکانہ اس کا
جَهَنّ َمُۚ
جہنم ہے
وَبِئۡسَ
اور کتنی بری ہے
لوٹنے کی جگہ
) تو کیا بھلا وہ شخص جس نے اللہ کی رضا کی پیروی کی اس کی مانندہو جائے گا جو اللہ کے غضب اور غصے کو کما کر لوٹا ؟ اور اس کا ٹھکانہ جہنم ہے اور وہ بہت ہی بری جگہ ہے پہنچنے کی
3:163
هُمۡ
وہ
دَرَجَـٰ تٌ
درجوں میں ہیں
عِند َ
نزدیک
اللہ کے
وَٱ للَّهُ
اور اللہ
بَصِيرُۢ
دیکھنے والا ہے
اس کو جو
يَعۡمَلُو نَ
١٦٣وہ عمل کرتے ہیں
ان کی بھی درجہ بندیاں ہیں اللہ کے ہاں اور جو کچھ یہ کر رہے ہیں اللہ اسے دیکھ رہا ہے
3:164
لَقَدۡ
البتہ تحقیق
مَنّ َ
احسان کیا
اللہ نے
عَلَى
پر
مومنوں
إِذۡ
جب
بَعَثَ
بھیجا
فِيهِمۡ
ان میں
رَسُولاً
ایک رسول
سے
أَنف ُسِهِمۡ
ان کے نفسوں میں
يَتۡلُواۡ
وہ پڑھتا ہے۔ تلاوت کرتا ہے
عَلَيۡهِمۡ
ان پر
ءَايَـٰ تِهِۦ
اس کی آیات
وَيُزَكِّيهِمۡ
اور وہ پاک کرتا ہے ان کو
وَيُعَلِّمُهُمُ
اور وہ سکھاتا ہے ان کو
کتاب
وَٱ لۡحِكۡمَةَ
اور حکمت
وَإِن
اور اگرچہ
تھے وہ
مِن
سے
اس سے پہلے
لَفِى
البتہ میں
ضَلَـٰ لٍ
گمراہی (میں)
کھلی
درحقیقت اللہ نے یہ بہت بڑا احسان کیا ہے اہل ایمان پر جب ان میں اٹھایا ایک رسول ﷺ ان ہی میں سے جو تلاوت کر کے انہیں سناتا ہے اس کی آیات اور انہیں پاک کرتا ہے اور تعلیم دیتا ہے انہیں کتاب و حکمت کی اور یقیناً اس سے پہلے (یعنی رسول ﷺ کی آمد سے قبل) تو وہ لازماً کھلی گمراہی کے اندر مبتلا تھے
3:165
أَوَلَمّ َآ
کیا بھلا جب
أَصَـٰ بَتۡكُم
پہنچتی تم کو
کوئی مصیبت
تحقیق
أَصَبۡ تُم
پہنچائی تم نے
اس سے دوگنی
قُلۡتُمۡ
کہا تم نے
أَنّ َىٰ
کہاں سے آئی ہے
هَـٰ ذَاۖ
یہ
قُلۡ
کہہ دیجیے
هُوَ
وہ
مِنۡ
سے
عِند ِ
کی طرف
أَنف ُسِكُمۡۗ
تمہارے نفسوں کی (طرف سے ہے)
إِنّ َ
بیشک
اللہ
عَلَىٰ
اوپر
كُلِّ
ہر
شَىۡءٍ
چیز کے
قدرت رکھنے والا ہے
اور کیا جب تم پر ایک مصیبت آئی جبکہ تم اس سے دگنی مصیبت ان کو پہنچا چکے ہو تو تم کہنے لگے کہ یہ کہاں سے آگئی ؟ (اے نبی ﷺ کہہ دیجیے یہ تمہارے اپنے نفسوں (کی شرارت کی وجہ) سے ہوا ہے یقیناً اللہ تو ہرچیز پر قادر ہے
3:166
وَمَآ
اور جو کچھ
أَصَـٰ بَكُمۡ
پہنچا تم کو
يَوۡمَ
جس دن
ملی تھیں
دو جماعتیں
فَبِإِذۡنِ
پس اذن سے
اللہ کے
وَلِيَعۡلَمَ
اور تاکہ وہ جان لے
مومنوں کو
اور جو بھی مصیبت تم پر آئی ہے اس دن جب دونوں لشکر آپس میں بھڑ گئے تھے وہ اللہ کے اذن سے آئی ہے اور یہ اس لیے تھی کہ اللہ ظاہر کردے ایمان والوں کو
3:167
وَلِيَعۡلَمَ
اور تاکہ وہ جان لے
ان لوگوں کو
نَافَقُواۡۚ
جنہوں نے منافقت کی
وَقِيلَ
اور جبکہ کہا گیا
لَهُمۡ
ان کو
تَعَالَوۡاۡ
آؤ
قَـٰ تِلُواۡ
جنگ کرو
فِى
میں
سَبِيلِ
راستے
اللہ کے
أَوِ
یا
مدافعت کرو
قَالُواۡ
انہوں نے کہا
لَوۡ
اگر
نَعۡلَمُ
ہم جانتے ہوتے
قِتَالاً
جنگ کرنا
البتہ ہم پیروی کرتے تمہاری
هُمۡ
وہ
لِلۡكُفۡرِ
کفر کے لیے
يَوۡمَئِذٍ
اس دن
أَقۡ رَبُ
زیادہ قریب تھے
مِنۡهُمۡ
ان سے
لِلۡإِيمَـٰ نِۚ
ایمان کے لیے۔ بہ نسبت ایمان کے
يَقُولُونَ
وہ کہہ رہے تھے
بِأَفۡوٰ هِهِم
اپنے مونہوں کے ساتھ
جو
لَيۡسَ
نہیں تھا
فِى
میں
قُلُوبِهِمۡۗ
ان کے دلوں
وَٱ للَّهُ
اور اللہ
أَعۡلَمُ
زیادہ جانتا ہے
بِمَا
ساتھ اس کے
يَكۡتُمُو نَ
١٦٧جو وہ چھپاتے ہیں
اور تاکہ ان لوگوں کو بھی ظاہر کر دے جنہوں نے منافقت اختیار کی اور ان (منافقوں) سے کہا گیا کہ آؤ اللہ کی راہ میں جنگ کرو یا (کم از کم اپنے شہر کا) دفاع کرو انہوں نے کہا کہ اگر ہم سمجھتے کہ جنگ ہونی ہے تو ہم ضرور تمہارا ساتھ دیتے یہ لوگ اس دن ایمان کی نسبت کفر سے قریب تر تھے یہ اپنے مونہوں سے وہ بات کہہ رہے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں ہے اور اللہ اس چیز کو خوب جانتا ہے جو کچھ وہ چھپا رہے ہیں
3:168
ٱلَّذِينَ
وہ لوگ
قَالُواۡ
جنہوں نے کہا
لِإِخۡوٰ نِهِمۡ
واسطے اپنے بھائیوں کے
وَقَعَدُواۡ
اور وہ خود بیٹھ گئے
لَوۡ
اگر
أَطَاعُونَا
وہ اطاعت کرتے ہماری
مَا
نہ
قُتِلُواۡۗ
وہ مارے جاتے۔ نہ وہ قتل کیے جاتے
قُلۡ
کہہ دیجیے
فَٱ دۡ رَءُواۡ
پس ہٹا لو
عَنۡ
سے
أَنف ُسِكُمُ
اپنے نفسوں سے
موت کو
إِن
اگر
ہو تم
صَـٰ دِقِي نَ
١٦٨سچے
یہ وہ لوگ ہیں جو خود تو بیٹھے رہے اور اپنے (شہید ہوجانے والے) بھائیوں کی نسبت کہا کہ اگر وہ بھی ہمارے ساتھ آگئے ہوتے تو قتل نہ ہوتے تو (اے نبی ﷺ ان سے کہیے اچھا اگر تم (اپنے اس قول میں) سچے ہو تو اپنی جانوں سے موت کو ہٹا کر دکھا دو
3:169
وَلَا
اور نہ
تَحۡسَبَنّ َ
تم خیال کرو
ان لوگوں کو
قُتِلُواۡ
جو مارے گئے
فِى
میں
سَبِيلِ
راستے
اللہ کے
أَمۡوٰ تَۢاۚ
مردہ
بلکہ
أَحۡيَا ٓءٌ
زندہ ہیں
عِند َ
ہاں
رَبِّهِمۡ
اپنے رب کے
يُرۡزَقُو نَ
١٦٩وہ رزق دیے جاتے ہیں
اور ہرگز نہ سمجھنا ان لوگوں کو جو اللہ کی راہ میں قتل ہوجائیں کہ وہ مردہ ہیں بلکہ وہ تو زندہ ہیں اپنے رب کے پاس رزق پا رہے ہیں
3:170
فَرِحِينَ
خوش ہیں
بِمَآ
ساتھ اس کے جو
ءَاتَـٰ هُمُ
عطا کیا ان کو
اللہ نے
مِن
سے
اپنے فضل
وَيَسۡتَبۡ شِرُونَ
اور وہ خوشخبری پاتے ہیں
بِٱ لَّذِينَ
ان لوگوں کے بارے میں
لَمۡ
نہیں
يَلۡحَقُواۡ
وہ ملے
بِهِم
ان کو
سے
خَلۡفِهِمۡ
ان کے پیچھے سے
أَلَّا
کہ نہیں
خَوۡفٌ
کوئی خوف
عَلَيۡهِمۡ
ان پر
وَلَا
اور نہ
هُمۡ
وہ
يَحۡزَنُو نَ
١٧٠غمگین ہوں گے
شاداں وفرحاں ہیں اس پر جو کچھ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے فضل سے عطا کیا ہے اور بشارت حاصل کر رہے ہیں ان لوگوں کے بارے میں جو ان کے پیچھے (دنیا میں) رہ گئے ہیں اور ابھی ان سے نہیں ملے کہ نہ ان پر کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ حزن سے دوچار ہوں گے
3:171
۞يَسۡتَبۡ شِرُونَ
وہ خوشیاں مناتے ہیں
بِنِعۡمَةٍ
نعمت پر
سے
اللہ کی طرف
وَفَضۡلٍ
اور فضل پر
اور بیشک
اللہ تعالیٰ
لَا
نہیں
يُضِيعُ
ضائع کرتا
أَجۡ رَ
اجر
ایمان والوں کا
وہ خوشیاں منا رہے ہیں اللہ تعالیٰ کی نعمت کی وجہ سے اور اس کے فضل کی بنا پر اور اس بات پر کہ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کے اجر کو ضائع نہیں کرتا