Back to Ruku Indexنٓ ۚٱ لۡمَفۡتُو نُ٦ض َلَّس َبِيلِهِۦ ٱ لۡمُكَذِّبِي نَ٨م َّهِي نٍ١٠م َّشَّا ٓءِۭ ب ِنَمِي مٍ١١ل ِّلۡخَيۡرِب َعۡدَك َانَو َبَنِي نَ١٤ٱ لۡأَوَّلِي نَ١٥ٱ لۡخُرۡطُو مِ١٦ٱ لۡجَنّ َةِم ِّن ر َّبِّكَٱ غۡدُواۡ ك ُنت ُمۡل َّاٱ لۡيَوۡمَم ِّسۡكِي نٌ٢٤ق َـٰ دِرِي نَ٢٥ي َتَلَـٰ وَمُو نَ٣٠ي ُبۡ دِلَنَام ِّنۡهَآ ٱ لۡعَذَابُۖٱ لۡأَخِرَةِ
Ruku 500
1 Surahs33 Versesركوع 500
68:1
ن
وَٱ لۡقَلَمِ
قسم ہے قلم کی
وَمَا
اور قسم ہے اس کی جو کچھ
يَسۡطُرُو نَ
١وہ لکھ رہے ہیں
ن قسم ہے قلم کی اور جو کچھ یہ لکھتے ہیں۔
68:2
مَآ
نہیں ہیں
أَنت َ
آپ
بِنِعۡمَةِ
نعمت کے ساتھ
رَبِّكَ
اپنے رب کی
بِمَجۡ نُو نٍ
٢مجنون
آپ اپنے رب کے فضل و کرم سے مجنون نہیں ہیں۔
68:3
وَإِنّ َ
اور بیشک
لَكَ
آپ کے لیے
لَأَجۡ رًا
البتہ اجر ہے
غَيۡرَ
نہ
مَمۡنُو نٍ
٣ختم ہونے والا
اور یقینا آپ کے لیے تو وہ اجر ہے جس کا سلسلہ کبھی منقطع نہیں ہوگا۔
68:4
وَإِنّ َكَ
اور بیشک آپ
لَعَلَىٰ
البتہ
خُلُقٍ
اخلاق کے
عَظِي مٍ
٤بلند مرتبے پر ہیں
اور آپ ﷺ یقینا اخلاق کے بلند ترین مرتبے پر فائز ہیں۔
68:5
فَسَتُبۡ صِرُ
پس عنقریب تم بھی دیکھو گے
وَيُبۡ صِرُو نَ
٥اور وہ بھی دیکھیں گے
تو عنقریب آپ ﷺ بھی دیکھ لیں گے اور وہ بھی دیکھ لیں گے۔
68:6
بِأَييِّكُمُ
کون تم میں سے
فتنے میں پڑا ہو ا ہے
کہ تم میں سے کون فتنے میں مبتلا تھا !
68:7
إِنّ َ
بیشک
رَبَّكَ
رب تیرا
هُوَ
وہ
أَعۡلَمُ
زیادہ جانتا ہے
بِمَن
اس کو جو
بھٹک گیا
عَن
سے
اس کے راستے
وَهُوَ
اور وہ
أَعۡلَمُ
زیادہ جانتا ہے
بِٱ لۡمُهۡتَدِي نَ
٧ہدایت پانے والوں کو
یقینا آپ ﷺ کا رب خوب جانتا ہے کہ کون اس کی راہ سے بھٹک گیا ہے اور وہ ان کو بھی خوب جانتا ہے جو ہدایت یافتہ ہیں۔
68:8
فَلَا
پس نہ
تُطِعِ
تم اطاعت کرو
جھٹلانے والوں کی
تو (اے نبی ﷺ !) آپ ان جھٹلانے والوں کی باتوں پر دھیان نہ دیں۔
68:9
وَدُّواۡ
وہ چاہتے ہیں
لَوۡ
کاش تم
تُدۡ هِنُ
سستی کرو
فَيُدۡ هِنُو نَ
٩تو وہ بھی سستی کریں۔ مداہنت کریں
وہ تو چاہتے ہیں کہ آپ ﷺ ذرا ڈھیلے پڑیں تو وہ بھی ڈھیلے پڑجائیں۔
68:10
وَلَا
اور نہ
تُطِعۡ
تم اطاعت کرو
كُلَّ
بہت
حَلَّافٍ
قسمیں کھانے والے کی
ذلیل
اور آپ ﷺ مت مانیے کسی ایسے شخص کی بات جو بہت قسمیں کھانے والا انتہائی گھٹیا ہے۔
68:11
هَمّ َازٍ
عیب جوئی کرنے والا
چلنے والا
ساتھ چغل خوری کے
رُو در رُو طعنے دیتا ہے چغلیاں کھاتا پھرتا ہے۔
68:12
مَّنّ َاعٍ
بہت روکنے والا
بھلائی کا
مُعۡتَدٍ
حد سے بڑھنے والا
أَثِي مٍ
١٢گناہ گار
خیر سے روکنے والا حد سے بڑھنے والا گنہگار۔
68:13
عُتُلِّۭ
بدمزاج
بعد
ذٰ لِكَ
اس کے
زَنِي مٍ
١٣بداصل بھی ہے
بالکل گنوار ہے اس کے بعد یہ کہ بداصل بھی ہے۔
68:14
أَن
کہ ہے
وہ
ذَا
والا
مَالٍ
مال
اور بیٹوں والا
صرف اس گھمنڈ پر کہ وہ مال و دولت اور بیٹوں والا ہے۔
68:15
إِذَا
جب
تُتۡلَىٰ
پڑھی جاتی ہیں
عَلَيۡهِ
اس پر
ءَايَـٰ تُنَا
ہماری آیات
قَالَ
کہتا ہے
أَسَـٰ طِيرُ
کہانیاں ہیں
پہلوں کی
جب اسے ہماری آیات پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو وہ کہتا ہے کہ یہ تو پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں۔
68:16
سَنَسِمُهُۥ
عنقریب ہم داغ دیں گے اس کو۔ داغ لگائیں گے اس کو
عَلَى
اوپر
ناک کے
ہم عنقریب اس کی سونڈ پر داغ لگائیں گے۔
68:17
إِنّ َا
بیشک ہم نے
بَلَوۡنَـٰ هُمۡ
آزمائش میں ڈالا ہم نے ان کو
كَمَا
جیسا کہ
بَلَوۡنَآ
آزمایا ہم نے
أَصۡحَـٰ بَ
والوں کو
باغ
إِذۡ
جب
أَقۡ سَمُواۡ
انہوں نے قسم کھائی
لَيَصۡرِمُنّ َهَا
البتہ ضرور کاٹ لیں گے اس کو
مُصۡبِحِي نَ
١٧صبح سویرے
یقینا ہم نے ان (اہل مکہ) کو اسی طرح آزمایا ہے جیسے ہم نے باغ والوں کو آزمایا تھا۔ جبکہ انہوں نے قسم کھائی کہ وہ ضرور اس کا پھل اتار لیں گے صبح سویرے۔
68:18
وَلَا
اور نہ
يَسۡتَثۡنُو نَ
١٨وہ استثناء کررہے تھے
اور انہوں نے (اس پر) ان شاء اللہ بھی نہ کہا۔
68:19
فَطَافَ
تو پھر گیا
عَلَيۡهَا
اس پر
طَا ٓئِفٌ
ایک پھرنے والا
طرف سے
تیرے رب کی
وَهُمۡ
اور وہ
نَا ٓئِمُو نَ
١٩سو رہے تھے
پس ایک پھرنے والا پھر گیا اس (باغ) پر آپ کے رب کی طرف سے جبکہ وہ ابھی سوئے ہوئے ہی تھے۔
68:20
فَأَصۡبَحَتۡ
تو ہوگیا وہ باغ
كَٱ ل صَّرِي مِ
٢٠جڑکٹا۔ مانند جڑ کئے کے
تو وہ ایسے ہوگیا جیسے کٹی ہوئی فصل ہو۔
68:21
فَتَنَادَوۡاۡ
تو ایک دوسرے کو پکارے لگے
مُصۡبِحِي نَ
٢١صبح سویرے
اب صبح ہی صبح انہوں نے ایک دوسرے کو پکارا۔
68:22
أَنِ
کہ
چلو
عَلَىٰ
پر
حَرۡثِكُمۡ
اپنے کھیت
إِن
اگر
ہو تم
صَـٰ رِمِي نَ
٢٢کاٹنے والے
کہ صبح سویرے چلو اپنے کھیت کی طرف اگر تم پھل توڑنا چاہتے ہو۔
68:23
فَٱ نط َلَقُواۡ
تو وہ چل دئیے
وَهُمۡ
اور وہ
يَتَخَـٰ فَتُو نَ
٢٣چپکے چپکے باتیں کررہے تھے
چناچہ وہ چلے اور آپس میں چپکے چپکے یہ باتیں کرتے جا رہے تھے۔
68:24
أَن
کہ
نہیں
يَدۡ خُلَنّ َهَا
داخل ہوگا اس پر
آج
عَلَيۡكُم
تم پر
کوئی مسکین
کہ دیکھو آج کوئی مسکین تمہارے پاس باغ میں ہرگز داخل نہ ہونے پائے۔
68:25
وَغَدَوۡاۡ
اور وہ صبح سویرے گئے
عَلَىٰ
اوپر
حَرۡدٍ
بخیلی کے۔ بخل کرتے ہوئے
جیسا کہ قدرت رکھنے والے ہوں
اور وہ صبح سویرے چلے جلدی جلدی (یہ سمجھتے ہوئے) کہ وہ اس ارادہ پر پوری طرح قادر ہیں۔
68:26
فَلَمّ َا
تو جب
رَأَوۡهَا
انہوں نے دیکھا اس کو
قَالُوٓ اۡ
کہنے لگے
إِنّ َا
بیشک ہم
لَضَا ٓلُّو نَ
٢٦البتہ بھٹک گئے ہیں
پھر جب انہوں نے اس (باغ) کو دیکھا تو کہنے لگے کہ ہم تو کہیں بھٹک گئے ہیں۔
68:27
بَلۡ
(نہیں) بلکہ
نَحۡنُ
ہم
مَحۡرُومُو نَ
٢٧محروم کردئیے گئے ہیں
نہیں نہیں (باغ تویہی ہے) ہم تو محروم ہوگئے ہیں۔
68:28
قَالَ
بولا
أَوۡسَطُهُمۡ
ان کا درمیانہ۔ ان کا بہتر شخص
أَلَمۡ
کیا نہیں
أَقُل
میں نے کہا تھا
لَّكُمۡ
تم سے
لَوۡلَا
کیوں نہیں
تُسَبِّحُو نَ
٢٨تم تسبیح کرتے
ان کے درمیان والے نے کہا : میں تمہیں کہتا نہ تھا کہ تم (اپنے رب کی) تسبیح کیوں نہیں کرتے ؟
68:29
قَالُواۡ
انہوں نے کہا
سُبۡ حَـٰ نَ
پاک ہے
رَبِّنَآ
رب ہمارا
إِنّ َا
بیشک ہم
كُنّ َا
تھے ہم
ظَـٰ لِمِي نَ
٢٩ظالم
انہوں نے کہا (واقعی تم ٹھیک کہتے ہو) ہمارا رب پاک ہے بیشک ہم ہی ظالم تھے۔
68:30
فَأَقۡ بَلَ
تو متوجہ ہوا
بَعۡضُهُمۡ
ان کا بعض
عَلَىٰ
پر
بَعۡضٍ
بعض
آپس میں ملامت کرتے ہوئے
پھر وہ آپس میں ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے۔
68:31
قَالُواۡ
انہوں نے کہا
يَـٰ وَيۡلَنَآ
ہائے افسوس ہم پر
إِنّ َا
بیشک ہم
كُنّ َا
تھے ہم
طَـٰ غِي نَ
٣١سرکش
(بالآخر اعتراف کرتے ہوئے) وہ کہنے لگے : ہائے ہماری بدبختی ! اصل میں ہم سب ہی اپنی حدود سے تجاوز کرنے والے تھے۔
68:32
عَسَىٰ
امید ہے کہ
رَبُّنَآ
ہمارا رب
أَن
کہ
بدل کردے ہم کو
خَيۡرًا
بہتر
اس سے
إِنّ َآ
بیشک ہم
إِلَىٰ
طرف
رَبِّنَا
اپنے رب کی
رٰ غِبُو نَ
٣٢رغبت کرنے والے ہیں
اُمید ہے ہمارا رب ہمیں اس سے بہتر عطا کر دے گا اب ہم اپنے رب کی طرف رجوع کرتے ہیں۔
68:33
كَذٰ لِكَ
اسی طرح ہوتا ہے۔ ایسا ہوتا ہے
عذاب
وَلَعَذَابُ
اور البتہ عذاب
آخرت کا
أَكۡبَرُۚ
زیادہ بڑا ہے
لَوۡ
کاش
كَانُواۡ
وہ ہوتے
يَعۡلَمُو نَ
٣٣وہ جانتے
اسی طرح آتا ہے عذاب ! اور آخرت کا عذاب تو یقینا بہت ہی بڑا ہے۔