Back to Ruku Indexٱ ل نّ َبِىُّٱ ل نّ ِسَا ٓءَٱ لۡعِدَّةَۖٱ للَّهَب ُيُوتِهِنّ َي َأۡتِينَم ُّبَيِّنَةٍۚ و َتِلۡكَٱ للَّهِۚي َتَعَدَّٱ للَّهِٱ للَّهَو َأَشۡهِدُواۡ م ِّنك ُمۡٱ ل شَّهَـٰ دَةَك َانَٱ لۡأَخِرِۚي َتَّقِٱ للَّهَي َتَوَكَّلۡٱ للَّهِٱ للَّهَٱ للَّهُق َدۡ رًا٣ٱ لۡمَحِيضِن ِّسَا ٓئِكُمۡٱ رۡتَبۡ تُمۡو َٱ لَّــٰٓ ــِٔىٱ لۡأَحۡمَالِي َضَعۡنَي َتَّقِٱ للَّهَٱ للَّهِي َتَّقِٱ للَّهَم ِّن و ُجۡ دِكُمۡك ُنّ َف َأَنف ِقُواۡ ب ِمَعۡرُوفٍۖ و َإِن ت َعَاسَرۡتُمۡم ِّن س َعَتِهِۦ ۖق ُدِرَٱ للَّهُۚٱ للَّهُٱ للَّهُي ُسۡرًا٧
Ruku 494
1 Surahs7 Versesركوع 494
65:1
يَـٰٓ أَيُّهَا
اے
نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)
إِذَا
جب
طَلَّقۡ تُمُ
طلاق دو تم
عورتوں کو
فَطَلِّقُوهُنّ َ
تو طلاق دو ان کو
لِعِدَّتِهِنّ َ
ان کی عدت کے لیے
وَأَحۡصُواۡ
اور شمار کرو۔ گن لو
عدت کو
وَٱ تَّقُواۡ
اور ڈرو
اللہ سے
رَبَّكُمۡۖ
جو رب ہے تمہارا
لَا
نہ
تُخۡرِجُوهُنّ َ
تم نکالو ان کو
مِنۢ
سے
ان کے گھروں (سے )
وَلَا
اور نہ
يَخۡرُجۡ نَ
وہ نکلیں
إِلَّآ
مگر
أَن
یہ کہ
وہ آئیں
بِفَـٰ حِشَةٍ
بےحیائی کو
کھلی
اور یہ
حُدُودُ
حدود ہیں
اللہ کی
وَمَن
اور جو
تجاوز کرے گا
حُدُودَ
حدود سے
اللہ کی
فَقَدۡ
تو تحقیق
ظَلَمَ
اس نے ظلم کیا
نَفۡسَهُۥ ۚ
اپنی جان پر
لَا
نہیں
تَدۡ رِى
تم جانتے
لَعَلَّ
شاید کہ
اللہ تعالیٰ
يُحۡدِثُ
پیدا کردے
بَعۡدَ
بعد
ذٰ لِكَ
اس کے
أَمۡرًا
١کوئی صورت
اے نبی ﷺ !) جب آپ لوگ اپنی عورتوں کو طلاق دو تو ان کی عدت کے حساب سے طلاق دو اور عدت کا پورا لحاظ رکھو۔ اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو جو تمہارا ربّ ہے۔ انہیں مت نکال باہر کرو ان کے گھروں سے اور وہ خود بھی نہ نکلیں سوائے اس کے کہ وہ ارتکاب کریں کسی کھلی بےحیائی کا۔ اور یہ اللہ کی حدود ہیں۔ اور جو کوئی اللہ کی حدود سے تجاوز کرے گا تو اس نے اپنی ہی جان پر ظلم کیا۔ تمہیں نہیں معلوم کہ شاید اس کے بعد اللہ کوئی نئی صورت پیدا کردے۔
65:2
فَإِذَا
پھر جب
بَلَغۡنَ
وہ پہنچیں
أَجَلَهُنّ َ
اپنی مدت کو
فَأَمۡسِكُوهُنّ َ
تو روک لو ان کو
بِمَعۡرُوفٍ
بھلے طریقے سے
أَوۡ
یا
فَارِقُوهُنّ َ
جدا کردو ان کو
بِمَعۡرُوفٍ
ساتھ بھلے طریقے کے
اور گواہ بنا لو
ذَوَىۡ
دو والوں کو
عَدۡ لٍ
عدل
تم میں سے
وَأَقِيمُواۡ
اور قائم کرو
گواہی کو
لِلَّهِۚ
اللہ ہی کے لیے
ذٰ لِكُمۡ
یہ بات
يُوعَظُ
نصیحت کی جاتی ہے
بِهِۦ
ساتھ اس کے
مَن
اسے جو کوئی
ہو
يُؤۡمِنُ
ایمان رکھتا ہے
بِٱ للَّهِ
اللہ پر
وَٱ لۡيَوۡمِ
اور یوم
آخرت پر
وَمَن
اور جو
ڈرے گا
اللہ سے
يَجۡ عَل
وہ پیدا کردے گا
لَّهُۥ
اس کے لیے
مَخۡرَجًا
٢نکلنے کا راستہ
پھر جب وہ اپنی (عدت کی) میعاد کو پہنچنے لگیں تو اب ان کو یا تو (اپنے نکاح میں) روک رکھو معروف طریقے سے یا جدا کردو معروف طریقے سے اور اپنے میں سے دو معتبر اشخاص کو گواہ بنا لو اور گواہی قائم کرو اللہ کے لیے۔ یہ ہے جس کی نصیحت کی جا رہی ہے ہراس شخص کو کہ جو ایمان رکھتا ہو اللہ پر اور یوم آخر پر۔ اور جو شخص اللہ کا تقویٰ اختیار کرے گا اللہ اس کے لیے (مشکلات سے) نکلنے کا راستہ پیدا کر دے گا۔
65:3
وَيَرۡزُقۡ هُ
اور رزق دے گا اس کو
مِنۡ
سے
حَيۡثُ
جہاں سے
لَا
نہ
يَحۡتَسِبُۚ
وہ گمان کرتا ہوگا
وَمَن
اور جو
بھروسہ کرے گا
عَلَى
پر
اللہ (پر)
فَهُوَ
تو وہ
حَسۡبُهُۥٓۚ
کافی ہے اس کو
إِنّ َ
بیشک
اللہ تعالیٰ
بَـٰ لِغُ
پہنچنے والا ہے
أَمۡرِهِۦ ۚ
اپنے حکم کو
قَدۡ
تحقیق
جَعَلَ
بنادیا
اللہ نے
لِكُلِّ
ہر کے لیے
شَىۡءٍ
چیز (کے لیے)
ایک اندازہ
اور اسے وہاں سے رزق دے گا جہاں سے اسے گمان بھی نہیں ہوگا۔ اور جو کوئی اللہ پر توکل کرتا ہے تو اس کے لیے وہ کافی ہے۔ اللہ تو یقینا اپنا کام پورا کر کے ہی رہتا ہے۔ اللہ نے ہرچیز کے لیے ایک اندازہ مقرر کر رکھا ہے۔
65:4
وَٱ لَّــٰٓ ــِٔى
اور وہ عورتیں
يَئِسۡنَ
جو مایوس ہوچکی ہوں
مِنَ
سے
حیض (سے)
مِن
سے
تمہاری عورتوں میں (سے)
إِنِ
اگر
شک ہو تم کو
فَعِدَّتُهُنّ َ
تو ان کی عدت
ثَلَـٰ ثَةُ
تین
أَشۡهُرٍ
مہینے ہے
اور وہ عورتیں
لَمۡ
نہیں
يَحِضۡنَۚ
جنہیں ابھی حیض آیا ہو۔ جو حائضہ ہوئی ہوں
وَأُوۡ لَـٰ تُ
اور والیاں
حمل والیاں
أَجَلُهُنّ َ
ان کی عدت
أَن
کہ
وہ رکھ دیں
حَمۡلَهُنّ َۚ
اپنا حمل
وَمَن
اور جو
ڈرے گا
اللہ سے
يَجۡ عَل
وہ کردے گا
لَّهُۥ
اس کے لیے
مِنۡ
سے
أَمۡرِهِۦ
اس کے کام میں
يُسۡرًا
٤آسانی
اور تمہارے ہاں کی خواتین میں سے جو حیض سے مایوس ہوچکی ہوں اگر تمہیں شک ہو تو ان کی عدت تین ماہ ہوگی اور حاملہ خواتین کی عدت یہ ہے کہ ان کا وضع حمل ہوجائے۔ اور جو کوئی اللہ کا تقویٰ اختیار کرتا ہے وہ اس کے کاموں میں آسانی پیدا کردیتا ہے۔
65:5
ذٰ لِكَ
یہ
أَمۡرُ
حکم ہے
اللہ کا
أَنز َلَهُۥٓ
اس نے نازل کیا ہے اس کو
إِلَيۡكُمۡۚ
تمہاری طرف
وَمَن
اور جو
ڈرے گا
اللہ سے
يُكَفِّرۡ
وہ دور کردے گا
عَنۡهُ
اس سے
سَيِّـَٔـاتِهِۦ
اس کی برائیاں
وَيُعۡظِمۡ
اور بڑا کردے گا
لَهُۥٓ
اس کے لیے
أَجۡ رًا
٥اجر کو
یہ اللہ کا حکم ہے جو اس نے نازل کردیا ہے تمہاری طرف۔ اور جو اللہ کا تقویٰ اختیار کرے گا وہ اس کی برائیوں کو اس سے دور فرما دے گا اور اسے بہت بڑا اجرو ثواب عطا کرے گا۔
65:6
أَسۡكِنُوهُنّ َ
بساؤ ان عورتوں کو
مِنۡ
سٰے
حَيۡثُ
جہاں
سَكَنت ُم
تم رہتے ہو
کے
اپنی وسعت کے مطابق
وَلَا
اور نہ
تُضَا ٓرُّوهُنّ َ
تم ضرر پہنچاؤ ان کو
لِتُضَيِّقُواۡ
تاکہ تم تنگ کرو۔ تنگی کرو
عَلَيۡهِنّ َۚ
ان پر
وَإِن
اور اگر
ہوں
أُوۡ لَـٰ تِ
والیاں
حَمۡلٍ
حمل (والیاں)
تو خرچ کرو
عَلَيۡهِنّ َ
ان پر
حَتَّىٰ
یہاں تک کہ
يَضَعۡنَ
وہ رکھ دیں
حَمۡلَهُنّ َۚ
حمل اپنا
فَإِنۡ
پھر اگر
أَرۡضَعۡنَ
وہ دودھ پلائیں
لَكُمۡ
تمہارے لیے
فَـَٔـاتُوهُنّ َ
تو دے دو ان کو
أُجُورَهُنّ َۖ
ان کے اجر
وَأۡتَمِرُواۡ
اور معاملہ کرو
بَيۡنَكُم
آپس میں
بھلے طریقے سے
اور اگر
آپس میں کشمش کرو تم
فَسَتُرۡضِعُ
تو دودھ پلا دے
لَهُۥٓ
اس کے لیے
أُخۡرَىٰ
٦کوئی دوسری
اور ان عورتوں کو وہیں رکھو جہاں تم خود رہتے ہو اپنی حیثیت کے مطابق اور انہیں کوئی تکلیف نہ پہنچائو انہیں تنگ کرنے کے لیے۔ پھر اگر وہ تمہارے لیے (تمہارے بچے کو) دودھ پلائیں تو انہیں ان کا معاوضہ ادا کرو۔ اور آپس میں مشورہ کرلیا کرو بھلے طریقے سے۔ اور اگر تم ایک دوسرے سے تنگی محسوس کرو تو پھر کوئی اور عورت اس کے لیے دودھ پلائے گی۔
65:7
لِيُنف ِقۡ
تاکہ خرچ کرے
ذُو
والا
سَعَةٍ
وسعت (والا)
سے
اپنی وسعت میں (سے)
وَمَن
اور جو کوئی
تنگ کیا گیا
عَلَيۡهِ
اس پر
رِزۡقُهُۥ
اس کا رزق
فَلۡيُنف ِقۡ
پس چاہیے کہ خرچ کرے
مِمّ َآ
اس میں سے جو
ءَاتَـٰ هُ
عطا کیا اس کو
اللہ نے
لَا
نہیں
يُكَلِّفُ
تکلیف دیتا
اللہ
نَفۡسًا
کسی شخص کو
إِلَّا
مگر
مَآ
جتنا
ءَاتَـٰ هَاۚ
دیا اس نے اس کو
سَيَجۡ عَلُ
عنقریب کردے گا
اللہ
بَعۡدَ
بعد
عُسۡرٍ
تنگی کے
آسانی
چاہیے کہ خرچ کرے وسعت والا اپنی وسعت کے مطابق۔ اور جس پر اس کا رزق تنگ کردیا گیا ہے وہ خرچ کرے اس میں سے جو اللہ نے اس کو دیا ہے۔ اللہ کسی جان کو ذمہ دار نہیں ٹھہراتا مگر اسی قدر جو اس نے اسے دے رکھا ہے۔ عنقریب اللہ تنگی کے بعد آسانی بھی پیدا کر دے گا۔