Back to Ruku Index

Ruku 441

1 Surahs10 Versesركوع 441
46:11
وَقَالَ
اور کہا
ٱلَّذِينَ
ان لوگوں نے
كَفَرُواۡ
جنہوں نے کفر کیا
لِلَّذِينَ
ان لوگوں سے
ءَامَنُواۡ
جو ایمان لائے
لَوۡ
اگر
كَانَ
ہوتا وہ
خَيۡرًا
اچھا
مَّا
نہ
سَبَقُونَآ
وہ سبقت لے جاتے ہم پر
إِلَيۡهِ‌ۚ
طرف اس کے
وَإِذۡ
اور جبکہ
لَمۡ
نہیں
يَهۡتَدُواۡ
انہوں نے ہدایت پائی
بِهِۦ
ساتھ اس کے
فَسَيَقُولُونَ
تو عنقریب وہ کہیں گے
هَـٰذَآ
یہ
إِفۡكٌ
جھوٹ ہے
قَدِيمٌ
پرانا
١١
اور کہا ان لوگوں نے جنہوں نے کفر کی روش اختیار کی ان لوگوں کے بارے میں جو ایمان لائے کہ اگر یہ (قرآن) کوئی خیر ہوتا تو یہ لوگ اس کی طرف ہم سے سبقت نہ لے جاتے۔ } اور چونکہ انہوں نے اس (قرآن) کے ذریعے سے ہدایت نہیں پائی تو اب کہیں گے کہ یہ تو گھڑی ہوئی پرانی چیز ہے۔
46:12
وَمِن
اور سے
قَبۡلِهِۦ
اس سے پہلے
كِتَـٰبُ
کتاب
مُوسَىٰٓ
موسیٰ کی
إِمَامًا
رہنما
وَرَحۡمَةً‌ۚ
اور رحمت کے طور پر (آچکی ہے)
وَهَـٰذَا
اور یہ
كِتَـٰبٌ
کتاب
مُّصَدِّقٌ
تصدیق کرنے والی ہے
لِّسَانًا
زبان ہے
عَرَبِيًّا
عربی
لِّيُنذِرَ
تاکہ متنبہ کرے
ٱلَّذِينَ
ان لوگوں کو
ظَلَمُواۡ
جنہوں نے ظلم کیا
وَبُشۡرَىٰ
اور خوشخبری ہو
لِلۡمُحۡسِنِينَ
نیکو کاروں کے لیے
١٢
حالانکہ اس سے پہلے موسیٰ ؑ ٰ کی کتاب موجود ہے راہنمائی کرنے والی اور رحمت اور یہ کتاب اس کی تصدیق کرنے والی ہے عربی زبان میں تاکہ خبردار کر دے ان لوگوں کو جنہوں نے ظلم کی روش اختیار کی اور بشارت بن جائے احسان کی روش اختیار کرنے والوں کے لیے۔
46:13
إِنَّ
بیشک
ٱلَّذِينَ
وہ لوگ
قَالُواۡ
جنہوں نے کہا
رَبُّنَا
ہمارا رب
ٱللَّهُ
اللہ ہے
ثُمَّ
پھر
ٱسۡتَقَـٰمُواۡ
انہوں نے استقامت اختیار کی۔ جم گئے
فَلَا
تو نہیں
خَوۡفٌ
کوئی خوف
عَلَيۡهِمۡ
ان پر
وَلَا
اور نہ
هُمۡ
وہ
يَحۡزَنُونَ
غمگین ہوتے ہیں
١٣
بیشک جن لوگوں نے اقرار کیا کہ ہمارا رب اللہ ہے پھر اس پر جم گئے تو ان پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ حزن سے دوچار ہوں گے۔
46:14
أُوۡلَـٰٓئِكَ
یہی لوگ
أَصۡحَـٰبُ
ساتھی ہیں۔ والے ہیں
ٱلۡجَنَّةِ
جنت کے
خَـٰلِدِينَ
ہمیشہ رہنے والے ہیں
فِيهَا
اس میں
جَزَآءَۢ
بدلہ ہے
بِمَا
بوجہ اس کے جو
كَانُواۡ
تھے وہ
يَعۡمَلُونَ
وہ عمل کرتے
١٤
یہی لوگ جنت والے ہیں اس میں ہمیشہ رہنے والے۔ یہ جزا ہوگی ان اعمال کی جو وہ کرتے رہے۔
46:15
وَوَصَّيۡنَا
اور وصیت کی۔ تاکید کی ہم نے
ٱلۡإِنسَـٰنَ
انسان کو
بِوٰلِدَيۡهِ
اپنے والدین کے ساتھ
إِحۡسَـٰنًا‌ۖ
احسان کرنے کی
حَمَلَتۡهُ
اٹھایا اس کو
أُمُّهُۥ
اس کی ماں نے
كُرۡهًا
تکلیف میں
وَوَضَعَتۡهُ
اور جنم دیا اس کو
كُرۡهًا‌ۖ
ناگواری میں
وَحَمۡلُهُۥ
اور حمل اس کا۔ اٹھانا اس کا
وَفِصَـٰلُهُۥ
اور دودھ چھڑانا اس کا
ثَلَـٰثُونَ
تیس
شَهۡرًا‌ۚ
ماہ تھا
حَتَّىٰٓ
یہاں تک کہ
إِذَا
جب
بَلَغَ
وہ پہنچ چکا
أَشُدَّهُۥ
اپنی جوانی کو
وَبَلَغَ
اور پہنچا
أَرۡبَعِينَ
چالیس
سَنَةً
سال کو
قَالَ
کہا
رَبِّ
اے میرے رب
أَوۡزِعۡنِىٓ
مجھے توفیق دے
أَنۡ
کہ
أَشۡكُرَ
میں شکر ادا کروں
نِعۡمَتَكَ
تیری نعمت کا
ٱلَّتِىٓ
وہ
أَنۡعَمۡتَ
جو انعام کی تو نے
عَلَىَّ
مجھ پر
وَعَلَىٰ
اور پر
وٰلِدَىَّ
میرے والدین پر
وَأَنۡ
اور یہ کہ
أَعۡمَلَ
میں عمل کروں
صَـٰلِحًا
صالح
تَرۡضَـٰهُ
تو راضی ہوجائے اس پر
وَأَصۡلِحۡ
اور اصلاح کردے -درست کردے
لِى
میرے لیے
فِى
میں
ذُرِّيَّتِىٓ‌ۖ
میری اولاد میں
إِنِّى
بیشک میں نے
تُبۡتُ
میں نے توبہ کی
إِلَيۡكَ
تیری طرف
وَإِنِّى
اور بیشک میں
مِنَ
سے
ٱلۡمُسۡلِمِينَ
مسلمانوں میں سے ہوں
١٥
اور ہم نے تاکید کی انسان کو اس کے والدین کے بارے میں حسن سلوک کی۔ اور فیصلہ کردیا ہے آپ ﷺ کے رب نے کہ تم نہیں عبادت کرو گے کسی کی سوائے اس کے اور والدین کے ساتھ احسان (کروگے)۔ اگر پہنچ جائیں تمہارے پاس بڑھاپے کو ان میں سے کوئی ایک یا دونوں تو مت کہو ان کو اف بھی اور مت جھڑکو ان کو اور بات کرو ان سے نرمی کے ساتھ۔ اس کی ماں نے اسے اٹھائے رکھا (پیٹ میں) تکلیف جھیل کر اور اسے جنا تکلیف کے ساتھ۔ اور اس کا یہ حمل اور دودھ چھڑانا ہے (لگ بھگ) تیس مہینے میں یہاں تک کہ جب وہ اپنی پوری قوت کو پہنچتا ہے اور چالیس برس کا ہوجاتا ہے وہ کہتا ہے : اے میرے پروردگار ! مجھے توفیق دے کہ میں شکر کرسکوں تیرے انعامات کا جو تو نے مجھ پر اور میرے والدین پر فرمائے۔ اور یہ کہ میں ایسے اعمال کروں جنہیں تو پسند کرے اور میرے لیے میری اولاد میں بھی اصلاح فرما دے۔ } میں تیری جناب میں توبہ کرتا ہوں اور یقینا میں (تیرے) فرمانبرداروں میں سے ہوں۔
46:16
أُوۡلَـٰٓئِكَ
یہی
ٱلَّذِينَ
وہ لوگ ہیں
نَتَقَبَّلُ
ہم قبول کرلیتے ہیں
عَنۡهُمۡ
ان سے
أَحۡسَنَ
بہترین
مَا
جو
عَمِلُواۡ
انہوں نے عمل کیے
وَنَتَجَاوَزُ
اور ہم درگزر کردیتے ہیں۔ تجاوز کرجاتے ہیں
عَن
سے
سَيِّـَٔـاتِهِمۡ
ان کی برائیوں (سے)
فِىٓ
میں
أَصۡحَـٰبِ
والوں (میں)
ٱلۡجَنَّةِ‌ۖ
جنت
وَعۡدَ
وعدہ
ٱلصِّدۡقِ
سچا
ٱلَّذِى
وہ جو
كَانُواۡ
تھے وہ
يُوعَدُونَ
وہ وعدہ دیئے جاتے
١٦
یہ وہ لوگ ہیں جن سے ہم ان کے بہترین اعمال قبول فرمائیں گے اور ہم ان کی خطائوں سے بھی درگزر فرمائیں گے (اور وہ ہوں گے) جنت والوں میں سے یہ وہ سچا وعدہ ہے جو ان سے کیا جاتا تھا۔
46:17
وَٱلَّذِى
اور وہ شخص
قَالَ
جس نے کہا
لِوٰلِدَيۡهِ
اپنے والدین سے
أُفٍّ
اف
لَّكُمَآ
تم دونوں کے لیے
أَتَعِدَانِنِىٓ
کیا تم مجھے خوف دلاتے ہو
أَنۡ
کہ
أُخۡرَجَ
میں نکالا جاؤں گا
وَقَدۡ
حالانکہ تحقیق
خَلَتِ
گزر چکیں
ٱلۡقُرُونُ
نسلیں
مِن
سے
قَبۡلِى
مجھ سے پہلے
وَهُمَا
اور وہ دونوں
يَسۡتَغِيثَانِ
فریاد کرتے ہوئے کہتے ہیں (اپنے بیٹے کو)
ٱللَّهَ
اللہ سے
وَيۡلَكَ
تیرا برا ہو
ءَامِنۡ
ایمان لے آ
إِنَّ
بیشک
وَعۡدَ
وعدہ
ٱللَّهِ
اللہ کا
حَقٌّ
سچا ہے
فَيَقُولُ
تو وہ کہتا ہے
مَا
نہیں
هَـٰذَآ
یہ
إِلَّآ
مگر
أَسَـٰطِيرُ
کہانیاں ہیں
ٱلۡأَوَّلِينَ
پہلوں کی
١٧
اور ایک وہ شخص ہے جو اپنے والدین سے کہتا ہے کہ میں بیزار ہوں آپ دونوں سے کیا آپ مجھے اس سے ڈراتے ہیں کہ میں نکال کھڑا کیا جائوں گا (زندہ کر کے قبر سے) ؟ حالانکہ مجھ سے پہلے کتنی ہی نسلیں گزر چکی ہیں اور وہ دونوں اللہ کی دہائی دے کر کہتے ہیں : بربادی ہو تیری ایمان لے آ ! یقینا اللہ کا وعدہ سچا ہے لیکن وہ کہتا ہے : یہ کچھ نہیں مگر پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں
46:18
أُوۡلَـٰٓئِكَ
یہی
ٱلَّذِينَ
وہ لوگ ہیں
حَقَّ
حق ہوگئی
عَلَيۡهِمُ
ان پر
ٱلۡقَوۡلُ
بات
فِىٓ
میں
أُمَمٍ
گروہوں
قَدۡ
تحقیق
خَلَتۡ
گزر چکے
مِن
سے
قَبۡلِهِم
ان سے پہلے
مِّنَ
سے
ٱلۡجِنِّ
جنوں
وَٱلۡإِنسِ‌ۖ
اور انسانوں میں (سے)
إِنَّهُمۡ
بیشک وہ
كَانُواۡ
تھے وہ
خَـٰسِرِينَ
خسارہ پانے والے
١٨
یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ کی بات صادق آئی (یہ بھی شامل کردیے جائیں گے) ان قوموں میں جو ان سے پہلے گزر چکی ہیں جنوں اور انسانوں میں سے یقینا یہی لوگ ہیں خسارے والے
46:19
وَلِكُلٍّ
اور واسطے ہر ایک کے
دَرَجَـٰتٌ
درجے ہیں
مِّمَّا
اس میں سے جو
عَمِلُواۡ‌ۖ
انہوں نے عمل کیے
وَلِيُوَفِّيَهُمۡ
اور تاکہ پورا پورا بدلہ دے ان کو
أَعۡمَـٰلَهُمۡ
ان کے اعمال کا
وَهُمۡ
اور وہ
لَا
نہ
يُظۡلَمُونَ
ظلم کیے جائیں گے
١٩
اور ہر ایک کے لیے درجے (اور مقامات) ہوں گے ان کے اعمال کے اعتبار سے اور تاکہ وہ پورا پورا دے انہیں ان کے اعمال کا بدلہ اور ان پر کوئی ظلم نہیں ہوگا
46:20
وَيَوۡمَ
اور جس دن
يُعۡرَضُ
پیش کیے جائیں گے
ٱلَّذِينَ
وہ لوگ
كَفَرُواۡ
جنہوں نے کفر کیا
عَلَى
پر
ٱلنَّارِ
آگ (پر)
أَذۡهَبۡتُمۡ
(کہا جائے گا) لے گئے تم
طَيِّبَـٰتِكُمۡ
اپنی نعمتیں
فِى
میں
حَيَاتِكُمُ
اپنی زندگی میں
ٱلدُّنۡيَا
دنیا کی
وَٱسۡتَمۡتَعۡتُم
اور فائدہ اٹھا لیا تم نے
بِهَا
ساتھ ان کے
فَٱلۡيَوۡمَ
تو آج کے دن
تُجۡزَوۡنَ
تم جزا دیئے جاؤ گے
عَذَابَ
عذاب
ٱلۡهُونِ
رسوائی کا
بِمَا
بوجہ اس کے جو
كُنتُمۡ
تھے تم
تَسۡتَكۡبِرُونَ
تم تکبر کرتے
فِى
میں
ٱلۡأَرۡضِ
زمین (میں)
بِغَيۡرِ
نا
ٱلۡحَقِّ
حق
وَبِمَا
اور بوجہ اس کے جو
كُنتُمۡ
تھے تم
تَفۡسُقُونَ
تم نافرمانی کرتے
٢٠
اور جس دن یہ کافر پیش کیے جائیں گے آگ پر (اُس وقت ان سے کہا جائے گا :) تم اپنے حصے کی اچھی چیزیں اپنی دنیا کی زندگی میں لے چکے اور ان سے تم نے خوب فائدہ اٹھا لیا تو آج تمہیں ذلت کا عذاب دیا جائے گا بسبب اس تکبر کے جو تم زمین میں ناحق کرتے رہے ہو اور بسبب ان نافرمانیوں کے جو تم کرتے رہے ہو