Back to Ruku Index

Ruku 40

1 Surahs2 Versesركوع 40
2:282
يَـٰٓأَيُّهَا
اے
ٱلَّذِينَ
لوگو
ءَامَنُوٓاۡ
جو ایمان لائے ہو
إِذَا
جب
تَدَايَنتُم
تم باہم لین دین کرو
بِدَيۡنٍ
قرض کا
إِلَىٰٓ
تک
أَجَلٍ
وقت مقررہ۔ طے شدہ (مقررہ وقت تک)
مُّسَمًّى
فَٱكۡتُبُوهُ‌ۚ
تو لکھا کرو اس کو۔ تو لکھ لیا کرو اس کو
وَلۡيَكۡتُب
چاہیے کہ لکھے
بَّيۡنَكُمۡ
تمہارے درمیان
كَاتِبُۢ
لکھنے والا
بِٱلۡعَدۡلِ‌ۚ
ساتھ عدل کے
وَلَا
اور نہ
يَأۡبَ
انکار کرے
كَاتِبٌ
لکھنے والا
أَن
کہ
يَكۡتُبَ
وہ لکھے
كَمَا
جیسا کہ
عَلَّمَهُ
سکھا دیا اس کو
ٱللَّهُ‌ۚ
اللہ نے
فَلۡيَكۡتُبۡ
پس چاہیے کہ وہ لکھے
وَلۡيُمۡلِلِ
اور چاہیے کہ املاء کرے
ٱلَّذِى
وہ شخص
عَلَيۡهِ
جس پر
ٱلۡحَقُّ
حق ہے (مقروض ہے)
وَلۡيَتَّقِ
اورچاہیے کہ
ٱللَّهَ
اللہ سے
رَبَّهُۥ
جو رب ہے اس کا
وَلَا
اور نہ
يَبۡخَسۡ
کمی کرے
مِنۡهُ
اس سے
شَيۡــًٔا‌ۚ
کسی چیز کی
فَإِن
پھر اگر
كَانَ
ہو
ٱلَّذِى
وہ شخص (یعنی مقروض)
عَلَيۡهِ
اوپر اس کے
ٱلۡحَقُّ
حق ہے
سَفِيهًا
بےوقوف۔ کم عقل
أَوۡ
یا
ضَعِيفًا
کمزور
أَوۡ
یا
لَا
نہیں
يَسۡتَطِيعُ
وہ استطاعت رکھتا
أَن
کہ
يُمِلَّ
املاء کرے
هُوَ
وہ
فَلۡيُمۡلِلۡ
پس چاہیے کہ املاء کرے
وَلِيُّهُۥ
سرپرست اس کا
بِٱلۡعَدۡلِ‌ۚ
عدل کے ساتھ
وَٱسۡتَشۡهِدُواۡ
اور گواہ بنالیا کرو
شَهِيدَيۡنِ
دو گواہ
مِن
سے
رِّجَالِكُمۡ‌ۖ
اپنے مردو (میں سے)
فَإِن
پھر اگر
لَّمۡ
نہ
يَكُونَا
وہ دو ہوں
رَجُلَيۡنِ
دو مرد
فَرَجُلٌ
تو ایک مرد
وَٱمۡرَأَتَانِ
اور دو عورتیں
مِمَّن
اس میں سے جو
تَرۡضَوۡنَ
تم پسند کرتے ہو
مِنَ
سے
ٱلشُّهَدَآءِ
گواہوں میں
أَن
اس لیے کہ۔ مبادا کہ
تَضِلَّ
بھول جائے گی
إِحۡدَٮٰهُمَا
ان دونوں میں سے ایک
فَتُذَكِّرَ
تو یاد دہانی کرادے
إِحۡدَٮٰهُمَا
ان دونوں میں سے ایک
ٱلۡأُخۡرَىٰ‌ۚ
دوسری کو
وَلَا
اور نہ
يَأۡبَ
انکار کریں
ٱلشُّهَدَآءُ
گواہ
إِذَا
جب بھی۔ جہاں بھی
مَا
دُعُواۡ‌ۚ
وہ بلائے جائیں
وَلَا
اور نہ
تَسۡــَٔمُوٓاۡ
تم سستی کرو
أَن
کہ
تَكۡتُبُوهُ
تم لکھ لو اس کو
صَغِيرًا
چھوٹا ہو
أَوۡ
یا
كَبِيرًا
بڑا ہو
إِلَىٰٓ
طرف
أَجَلِهِۦ‌ۚ
اس کے مقرر وقت کے
ذٰلِكُمۡ
یہ بات
أَقۡسَطُ
زیادہ انصاف والی ہے
عِندَ
نزدیک
ٱللَّهِ
اللہ کے
وَأَقۡوَمُ
اور زیادہ درست رکھنے والی ہے
لِلشَّهَـٰدَةِ
گواہی کے لیے
وَأَدۡنَىٰٓ
اور زیادہ قریب ہے
أَلَّا
کہ نہ
تَرۡتَابُوٓاۡ‌ۖ
تم شک میں مبتلا ہو جاو
إِلَّآ
مگر
أَن
کہ
تَكُونَ
ہو
تِجَـٰرَةً
تجارت۔ سودا
حَاضِرَةً
حاضر
تُدِيرُونَهَا
تم لین دین کرتے ہو اس کا
بَيۡنَكُمۡ
آپس میں
فَلَيۡسَ
تو نہیں ہے
عَلَيۡكُمۡ
تم پر
جُنَاحٌ
کوئی گناہ
أَلَّا
کہ نہ
تَكۡتُبُوهَا‌ۗ
تم لکھو اس کو
وَأَشۡهِدُوٓاۡ
اور گواہ بنا لو
إِذَا
جب
تَبَايَعۡتُمۡ‌ۚ
باہم خریدوفروخت کرو تم
وَلَا
اور نہ
يُضَآرَّ
ضرر پہنچایاجائے
كَاتِبٌ
کاتب کو
وَلَا
اور نہ
شَهِيدٌ‌ۚ
گواہ کو
وَإِن
اور اگر
تَفۡعَلُواۡ
تم کرو گے
فَإِنَّهُۥ
تو بیشک وہ
فُسُوقُۢ
گناہ ہوگا
بِكُمۡ‌ۗ
تمہارے لئیے
وَٱتَّقُواۡ
اور ڈرو تم
ٱللَّهَ‌ۖ
اللہ سے
وَيُعَلِّمُكُمُ
اور سکھاتا ہے تم کو
ٱللَّهُ‌ۗ
اللہ
وَٱللَّهُ
اور اللہ
بِكُلِّ
ساتھ ہر
شَىۡءٍ
چیز کے
عَلِيمٌ
جاننے والا ہے
٢٨٢
اے اہل ایمان ! جب بھی تم قرض کا کوئی معاملہ کرو ایک وقت معینّ تک کے لیے تو اس کو لکھ لیا کرو اور چاہیے کہ اس کو لکھے کوئی لکھنے والا تمہارے مابین عدل کے ساتھ اور جو لکھنا جانتا ہو وہ لکھنے سے انکار نہ کرے جس طرح اللہ نے اس کو سکھایا ہے پس چاہیے کہ وہ لکھ دے اور املا وہ شخص کرائے جس پر حق آتا ہے اور (لکھواتے ہوئے) اس میں سے کوئی شے کم نہ کر دے پھر اگر وہ شخص جس پر حق عائد ہوتا ہے ناسمجھ یا ضعیف ہو یا اس کے اندر اتنی صلاحیت نہ ہو کہ املا کرواسکے تو جو اس کا ولی ہو وہ انصاف کے ساتھ لکھوا دے اور اس پر گواہ بنالیاکرو اپنے َ مردوں میں سے دو آدمیوں کو پھر اگر دو مرد دستیاب نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتیں ہوں یہ گواہ تمہارے پسندیدہ لوگوں میں سے ہوں تاکہ ان میں سے کوئی ایک بھول جائے تو دوسری یاد کروا دے اور نہ انکار کریں گواہ جبکہ ان کو بلایا جائے اور تساہل مت کرو اس کے لکھنے میں معاملہ خواہ چھوٹا ہو یا بڑا اس کی معینّ مدت کے لیے یہ اللہ کے نزدیک بھی زیادہ مبنی بر انصاف ہے اور گواہی کو زیادہ درست رکھنے والا ہے اور یہ اس کے زیادہ قریب ہے کہ تم شبہ میں نہیں پڑو گے الا یہ کہ کوئی تجارتی لین دین ہو جو تم دست بدست کرتے ہو تو تم پر کوئی گناہ نہیں ہے کہ اسے نہ لکھو اور گواہ بنا لیا کرو جب کوئی (مستقبل کا) سودا کرو اور نہ نقصان پہنچایا جائے کسی لکھنے والے کو اور گواہ کو۔ اور نہ نقصان پہنچائے کوئی لکھنے والا اور گواہ اور اگر تم ایسا کرو گے (نقصان پہنچاؤ گے) تو یہ تمہارے حق میں گناہ کی بات ہوگی اور اللہ سے ڈرتے رہو اور اللہ تمہیں تعلیم دے رہا ہے اور اللہ ہرچیز کا علم رکھنے والا ہے
2:283
۞وَإِن
اور اگر
كُنتُمۡ
ہو تم
عَلَىٰ
پر
سَفَرٍ
سفر
وَلَمۡ
اورنہ
تَجِدُواۡ
تم پاؤ
كَاتِبًا
لکھنے والا
فَرِهَـٰنٌ
تو رھن رکھا ہے
مَّقۡبُوضَةٌ‌ۖ
قبضہ کی ہوئی کا
فَإِنۡ
پھر اگر
أَمِنَ
اعتبار کرے
بَعۡضُكُم
تم میں سے بعض
بَعۡضًا
بعض کا
فَلۡيُؤَدِّ
پس چاہیے کہ ادا کرے
ٱلَّذِى
وہ شخص جو
ٱؤۡتُمِنَ
امین بنایا گیا
أَمَـٰنَتَهُۥ
اس کی امانت کو
وَلۡيَتَّقِ
اورچاہے کہ وہ ڈرے
ٱللَّهَ
اللہ سے
رَبَّهُۥ‌ۗ
جو رب ہے اس کا
وَلَا
اور نہ
تَكۡتُمُواۡ
تم چھپاؤ
ٱلشَّهَـٰدَةَ‌ۚ
گواہی کو
وَمَن
اور جو کوئی
يَكۡتُمۡهَا
چھپائے گا اس کو
فَإِنَّهُۥٓ
تو بیشک وہ
ءَاثِمٌ
گناہ گار ہے
قَلۡبُهُۥ‌ۗ
دل اس کا
وَٱللَّهُ
اور اللہ
بِمَا
ساتھ اس کے جو
تَعۡمَلُونَ
تم عمل کرتے ہو
عَلِيمٌ
جاننے والا ہے
٢٨٣
اور اگر تم سفر پر ہو اور کوئی لکھنے والا نہ پاؤ تو کوئی شے گروی رکھ لو قبضے میں پھر اگر تم میں سے ایک دوسرے پر اعتماد کرے تو جس کے پاس امانت رکھی گئی ہے اس کو چاہیے کہ وہ اس کی امانت واپس کرے اور اللہ سے ڈرے جو اس کا رب ہے اور گواہی کو چھپایا نہ کرو اور جو کوئی گواہی کو چھپائے گا تو اس کا دل گنہگار ہوگا اور جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ اسے خوب جانتا ہے