Back to Ruku Index

Ruku 382

1 Surahs8 Versesركوع 382
35:38
إِنَّ
بیشک
ٱللَّهَ
اللہ تعالیٰ
عَـٰلِمُ
جاننے والا ہے
غَيۡبِ
غیب کو
ٱلسَّمَـٰوٰتِ
آسمانوں کے
وَٱلۡأَرۡضِۚ
اور زمین کے
إِنَّهُۥ
بیشک وہ
عَلِيمُۢ
جاننے والا ہے
بِذَاتِ
بھید
ٱلصُّدُورِ
سینوں کے
٣٨
یقینا اللہ خوب جاننے والا ہے آسمانوں اور زمین کی چھپی ہوئی چیزوں کا یقینا وہ واقف ہے سینوں میں چھپے رازوں سے
35:39
هُوَ
وہ اللہ
ٱلَّذِى
وہ ذات ہے
جَعَلَكُمۡ
اس نے بنایا تم کو
خَلَـٰٓئِفَ
جانشین
فِى
میں
ٱلۡأَرۡضِۚ
زمین (میں)
فَمَن
تو جو کوئی
كَفَرَ
کفر کرے
فَعَلَيۡهِ
تو اسی پر ہی ہے
كُفۡرُهُۖۥ
اس کا کفر
وَلَا
اور نہیں
يَزِيدُ
زیادہ کرے گا
ٱلۡكَـٰفِرِينَ
کافروں کو
كُفۡرُهُمۡ
ان کا کفر
عِندَ
نزدیک
رَبِّهِمۡ
ان کے رب کے
إِلَّا
مگر
مَقۡتًاۖ
غضب میں۔ شدید بغض میں
وَلَا
اور نہیں
يَزِيدُ
اضافہ کرے گا
ٱلۡكَـٰفِرِينَ
کافروں کو
كُفۡرُهُمۡ
ان کا کفر
إِلَّا
مگر
خَسَارًا
خسارے میں
٣٩
وہی تو ہے جس نے تمہیں جانشین بنایا زمین میں تو جس کسی نے کفر کیا تو اس کے کفر کا وبال اسی پر ہوگا اور کافروں کے لیے ان کا کفر ان کے رب کے نزدیک سوائے غضب کے کسی چیز میں اضافہ نہیں کرے گا اور کافروں کے لیے ان کا کفر سوائے خسارے کے اور کچھ نہیں بڑھائے گا
35:40
قُلۡ
کہہ دیجیے
أَرَءَيۡتُمۡ
کیا دیکھا تم نے
شُرَكَآءَكُمُ
اپنے شریکوں کو
ٱلَّذِينَ
وہ جن کو
تَدۡعُونَ
تم پکارتے تھے
مِن
کے
دُونِ
سوا
ٱللَّهِ
اللہ کے
أَرُونِى
دکھاؤ مجھ کو
مَاذَا
کیا کچھ
خَلَقُواۡ
انہوں نے پیدا کیا ہے
مِنَ
سے
ٱلۡأَرۡضِ
زمین میں (سے)
أَمۡ
یا
لَهُمۡ
ان کے لیے
شِرۡكٌ
کوئی حصہ ہے
فِى
میں
ٱلسَّمَـٰوٰتِ
آسمانوں (میں)
أَمۡ
یا
ءَاتَيۡنَـٰهُمۡ
دی ہم نے ان کو
كِتَـٰبًا
کوئی کتاب
فَهُمۡ
تو وہ
عَلَىٰ
اوپر
بَيِّنَتٍ
ایک دلیل کے ہیں
مِّنۡهُۚ
اس سے
بَلۡ
بلکہ
إِن
نہیں
يَعِدُ
وعدہ کرتے
ٱلظَّـٰلِمُونَ
ظالم
بَعۡضُهُم
ان میں سے بعض
بَعۡضًا
بعض سے
إِلَّا
مگر
غُرُورًا
دھوکے کا
٤٠
آپ ﷺ کہیے کہ کیا تم نے اپنے ان شریکوں کے بارے میں کبھی غور کیا جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو ؟ ذرا مجھے دکھائو کہ انہوں نے زمین میں کونسی چیز پیدا کی ہے یا ان کی کوئی شراکت ہے آسمانوں میں یا ہم نے انہیں کوئی کتاب عطا کی تھی اور وہ اس کی کسی واضح دلیل پر ہیں بلکہ یہ ظالم آپس میں ایک دوسرے کو وعدے نہیں دے رہے مگر فریب کے
35:41
۞إِنَّ
بیشک
ٱللَّهَ
اللہ تعالیٰ
يُمۡسِكُ
تھامے ہوئے ہے
ٱلسَّمَـٰوٰتِ
آسمانوں کو
وَٱلۡأَرۡضَ
اور زمین کو
أَن
کہ
تَزُولَاۚ
ٹل جائیں گے
وَلَئِن
اور اگر
زَالَتَآ
وہ دونوں ٹل جائیں
إِنۡ
نہیں
أَمۡسَكَهُمَا
ان دونوں کو تھامنے والا
مِنۡ
کوئی
أَحَدٍ
ایک
مِّنۢ
سے
بَعۡدِهِۚۦٓ
اس کے بعد
إِنَّهُۥ
بیشک وہ
كَانَ
ہے
حَلِيمًا
حلم والا
غَفُورًا
بخشنے والا
٤١
یقینا اللہ ہی تھامے ہوئے ہے آسمانوں اور زمین کو کہ وہ (اپنے راستے سے) ہٹ نہ جائیں اور اگر وہ ہٹ جائیں تو کوئی نہیں جو ان کو تھام سکے اس کے بعد یقینا وہ بہت بردبار بہت بخشنے والا ہے
35:42
وَأَقۡسَمُواۡ
اور وہ قسمیں کھاتے ہیں
بِٱللَّهِ
اللہ کی
جَهۡدَ
پکی
أَيۡمَـٰنِهِمۡ
قسمیں اپنی
لَئِن
البتہ اگر
جَآءَهُمۡ
آیا ان کے پاس
نَذِيرٌ
کوئی ڈرانے والا
لَّيَكُونُنَّ
البتہ ضرور وہ ہوں گے
أَهۡدَىٰ
زیادہ ہدایت یافتہ
مِنۡ
سے
إِحۡدَى
کسی ایک سے (بڑھ کر )
ٱلۡأُمَمِۖ
امتوں میں سے
فَلَمَّا
پھر جب
جَآءَهُمۡ
آگیا ان کے پاس
نَذِيرٌ
ڈرانے والا
مَّا
نہ
زَادَهُمۡ
اضافہ ہوا ان میں
إِلَّا
مگر
نُفُورًا
نفرت کا
٤٢
اور انہوں نے اللہ کی پختہ قسمیں کھائی تھیں کہ اگر ان کے پاس کوئی خبردار کرنے والاآیا تو وہ لازماً ہدایت یافتہ ہوجائیں گے کسی بھی امت سے بڑھ کر پھر جب آگئے ان کے پاس خبردار کرنے والے (محمد ﷺ تو اس چیز نے ان کے اندر (حق سے) فرار کے سوا کوئی اضافہ نہیں کیا
35:43
ٱسۡتِكۡبَارًا
تکبر کی وجہ سے
فِى
میں
ٱلۡأَرۡضِ
زمین (میں)
وَمَكۡرَ
اور چال کی
ٱلسَّيِّىِٕۚ
بری
وَلَا
اور نہیں
يَحِيقُ
گھیرتی
ٱلۡمَكۡرُ
چال
ٱلسَّيِّئُ
بری
إِلَّا
مگر
بِأَهۡلِهِۚۦ
اس کے اہل کو۔ اپنے اہل کو
فَهَلۡ
تو نہیں
يَنظُرُونَ
وہ انتظار کرتے
إِلَّا
مگر
سُنَّتَ
سنت کا۔ طریقوں کا
ٱلۡأَوَّلِينَۚ
پہلوں کے
فَلَن
تو ہرگز نہیں
تَجِدَ
تو پائے گا
لِسُنَّتِ
طریقے کے لیے
ٱللَّهِ
اللہ کے
تَبۡدِيلاًۖ
کوئی تبدیلی
وَلَن
اور ہرگز نہ
تَجِدَ
تو پائے گا
لِسُنَّتِ
سنت کو۔ طریقے کو
ٱللَّهِ
اللہ کی
تَحۡوِيلاً
پھیرنے والا
٤٣
زمین میں تکبر کرتے ہوئے اور ُ بری چالیں چلتے ہوئے اور ُ بری چال کا وبال نہیں پڑتا مگر اس کے چلنے والے پر ہی تو وہ کس چیز کے انتظار میں ہیں سوائے پہلے والوں کے انجام کے تو تم ہرگز نہیں پائو گے اللہ کے قانون میں کوئی تبدیلی اور تم ہرگز نہیں پائو گے اللہ کے قانون کو رخ پھیرتے ہوئے
35:44
أَوَلَمۡ
کیا بھلا نہیں
يَسِيرُواۡ
وہ چلے پھرے
فِى
میں
ٱلۡأَرۡضِ
زمین (میں )
فَيَنظُرُواۡ
تاکہ وہ دیکھتے
كَيۡفَ
کس طرح
كَانَ
ہوا
عَـٰقِبَةُ
انجام
ٱلَّذِينَ
ان لوگوں کا
مِن
سے
قَبۡلِهِمۡ
جو ان سے پہلے تھے
وَكَانُوٓاۡ
اور تھے وہ
أَشَدَّ
زیادہ سخت
مِنۡهُمۡ
ان سے
قُوَّۚةً
قوت میں
وَمَا
اور نہیں
كَانَ
ہے
ٱللَّهُ
اللہ
لِيُعۡجِزَهُۥ
کہ عاجز کرے اس کو
مِن
کوئی
شَىۡءٍ
چیز
فِى
میں
ٱلسَّمَـٰوٰتِ
آسمانوں (میں)
وَلَا
اور نہ
فِى
میں
ٱلۡأَرۡضِۚ
زمین (میں)
إِنَّهُۥ
بیشک وہ
كَانَ
ہے
عَلِيمًا
جاننے والا
قَدِيرًا
قدرت رکھنے والا
٤٤
کیا یہ لوگ زمین میں گھومے پھرے نہیں ہیں پس یہ دیکھتے کہ کیسا ہوا انجام ان کا جو ان سے پہلے تھے حالانکہ وہ طاقت میں ان سے کہیں بڑھ کر تھے ! اور اللہ کی شان ایسی نہیں کہ اسے کوئی بھی چیز آسمانوں میں یا زمین میں عاجز کرسکے یقینا وہ ہرچیز کا علم رکھنے والا ہرچیز پر قادر ہے
35:45
وَلَوۡ
اور اگر
يُؤَاخِذُ
پکڑ لے
ٱللَّهُ
اللہ
ٱلنَّاسَ
لوگوں کو
بِمَا
بوجہ اس کے جو
كَسَبُواۡ
انہوں نے کمائی کی
مَا
نہ
تَرَكَ
چھوڑے
عَلَىٰ
پر
ظَهۡرِهَا
اس کی پشت (پر) سے
مِن
کوئی
دَآبَّةٍ
جاندار
وَلَـٰكِن
لیکن وہ
يُؤَخِّرُهُمۡ
مہلت دے رہا ہے ان کو
إِلَىٰٓ
تک
أَجَلٍ
ایک مدت (تک) کے لیے
مُّسَمًّىۖ
مقررہ
فَإِذَا
پھر جب
جَآءَ
آجاتی ہے
أَجَلُهُمۡ
ان کی مقررہ مدت
فَإِنَّ
تو بیشک
ٱللَّهَ
اللہ تعالیٰ
كَانَ
ہے
بِعِبَادِهِۦ
اپنے بندوں کے ساتھ
بَصِيرَۢا
دیکھنے والا
٤٥
اور اگر اللہ (فوری) گرفت کرتا لوگوں کی ان کے اعمال کے سبب تو اس (زمین) کی پشت پر کوئی جاندار بھی باقی نہ چھوڑتا لیکن وہ موخر کرتا رہتا ہے ان کو ایک وقت مقرر تک پھر جب ان کا وقت ِمعین ّآ جائے گا تو اللہ یقینا اپنے بندوں کے حالات کو خود دیکھنے والا ہے