Back to Ruku Indexٱ ل نّ َبِىُّٱ لۡمُؤۡمِنِينَج َلَـٰ بِيبِهِنّ َۚي ُعۡرَفۡنَٱ للَّهُر َّحِيمًا٥٩ل َّمۡٱ لۡمُنَـٰ فِقُونَم َّرَضٌ و َٱ لۡمُرۡجِفُونَٱ لۡمَدِينَةِٱ للَّهِٱ لَّذِينَق َبۡ لُۖت َجِدَٱ للَّهِٱ ل نّ َاسُٱ ل سَّاعَةِۖٱ للَّهِۚٱ ل سَّاعَةَٱ للَّهَٱ لۡكَـٰ فِرِينَل َّاو َلَاٱ ل نّ َارِٱ للَّهَٱ ل رَّسُولَاۡ٦٦ٱ ل سَّبِيلَاۡ٦٧ٱ لۡعَذَابِك َبِيرًا٦٨
Ruku 370
1 Surahs10 Versesركوع 370
33:59
يَـٰٓ أَيُّهَا
اے
نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)
قُل
کہہ دیجیے
لِّأَزۡوٰ جِكَ
اپنی بیویوں کو
وَبَنَاتِكَ
اور اپنی بیٹیوں کو
وَنِسَا ٓءِ
اور عورتوں کو
اہل ایمان کی
يُدۡ نِينَ
وہ لٹکا لیں
عَلَيۡهِنّ َ
اپنے اوپر
مِن
سے
اپنی چادروں میں سے۔ اپنے جلباب میں سے
ذٰ لِكَ
یہ
أَدۡ نَىٰٓ
قریب تر ہے
أَن
کہ
وہ پہچان لی جائیں
فَلَا
پھر نہ
يُؤۡذَيۡنَۗ
وہ ستائی جائیں
وَكَانَ
اور ہے
اللہ تعالیٰ
غَفُورًا
غفور
رحیم
اے نبی ﷺ ! اپنی بیویوں اپنی بیٹیوں اور اہل ایمان خواتین سے کہہ دیں کہ وہ اپنے اوپر اپنی چادروں کا ایک حصہ لٹکا لیا کریں۔ یہ اس سے نزدیک تر ہے کہ وہ پہچان لی جائیں تو انہیں کوئی ایذا نہ پہنچائی جائے۔ } اور اللہ بہت بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے۔
33:60
۞لَّئِن
البتہ اگر
نہیں
يَنت َهِ
باز آئے
منافق
وَٱ لَّذِينَ
اور وہ لوگ
فِى
میں
قُلُوبِهِم
جن کے دلوں (میں)
بیماری ہے
اور بری خبریں اڑانے والے
فِى
میں
مدینہ (میں)
لَنُغۡرِيَنّ َكَ
ہم ضرور پیچھے لگا دیں گے تجھ کو
بِهِمۡ
ان کے
ثُمّ َ
پھر
لَا
نہ
يُجَاوِرُونَكَ
وہ ہمسایہ رہیں گے آپ کے
فِيهَآ
اس میں
إِلَّا
مگر
قَلِيلاً
٦٠بہت تھوڑے
اگر باز نہ آئے یہ منافق اور وہ لوگ جن کے دلوں میں روگ ہے اور جو مدینہ میں سنسنی پھیلانے والے ہیں تو (اے نبی ﷺ !) ہم آپ کو ان پر اکسا دیں گے } پھر وہ آپ ﷺ کے پڑوسی بن کر اس (شہر) میں نہیں رہ سکیں گے مگر بہت تھوڑا عرصہ۔
33:61
مَّلۡعُونِينَۖ
لعنت کیے گئے
أَيۡنَمَا
جہاں کہیں
ثُقِفُوٓ اۡ
وہ پائے گئے
أُخِذُواۡ
پکڑے گئے
وَقُتِّلُواۡ
اور قتل کر دیے جائیں
تَقۡ تِيلاً
٦١بری طرح قتل کیا جانا
یہ پھٹکارے ہوئے لوگ ہیں جہاں بھی پائے جائیں گے پکڑ لیے جائیں گے اور ُ بری طرح قتل کردیے جائیں گے۔
33:62
سُنّ َةَ
طریقہ ہے
اللہ کا
فِى
معاملے میں
ان لوگوں کے
خَلَوۡاۡ
جو گزر چکے
مِن
سے
اس سے پہلے
وَلَن
اور ہرگز نہ
تو پائے گا
لِسُنّ َةِ
طریقے کو
اللہ کے
تَبۡ دِيلاً
٦٢بدلنے والا
اللہ کی یہی ُ سنت ّرہی ہے ان لوگوں کے بارے میں بھی جو پہلے گزر چکے ہیں۔ اور تم ہرگز نہیں پائو گے اللہ کے طریقے میں کوئی تبدیلی۔
33:63
يَسۡــَٔلُكَ
پوچھتے ہیں آپ سے
لوگ
عَنِ
کے بارے میں
قیامت کی
قُلۡ
کہہ دیجئے
إِنّ َمَا
بیشک
عِلۡمُهَا
علم اس کا
عِند َ
پاس
اللہ کے
وَمَا
اور کیا
يُدۡ رِيكَ
چیز بتائے تجھ کو
لَعَلَّ
شاید کہ
قیامت
تَكُونُ
ہو
قَرِيبًا
٦٣قریب ہی
(اے نبی ﷺ !) لوگ آپ سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ کہہ دیجیے کہ اس کا علم تو اللہ ہی کے پاس ہے اور تمہیں کیا معلوم شاید کہ قیامت قریب ہی آچکی ہو
33:64
إِنّ َ
بیشک
اللہ تعالیٰ
لَعَنَ
اس نے لعنت فرمائی ہے
کافروں پر
وَأَعَدَّ
اور تیار کررکھا ہے
لَهُمۡ
ان کے لیے
سَعِيرًا
٦٤بھڑکتی ہوئی آگ کو
بیشک اللہ نے کافروں پر لعنت فرمائی ہے اور ان کے لیے دہکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے
33:65
خَـٰ لِدِينَ
ہمیشہ رہنے والے ہیں
فِيهَآ
اس میں
أَبَدًاۖ
ہمیشہ ہمیشہ
نہ
يَجِدُونَ
وہ پائیں گے
وَلِيًّا
کوئی دوست
اور نہ
نَصِيرًا
٦٥کوئی مددگار
وہ اس میں رہیں گے ہمیشہ ہمیش۔ نہیں پائیں گے وہ کوئی حمایتی اور نہ کوئی مددگار۔
33:66
يَوۡمَ
جس دن
تُقَلَّبُ
الٹ پلٹ کیے جائیں گے
وُجُوهُهُمۡ
ان کے چہرے
فِى
میں
آگ (میں)
يَقُولُونَ
کہیں گے
يَـٰ لَيۡتَنَآ
اے کاش کہ ہم
أَطَعۡنَا
اطاعت کرتے ہم
اللہ کی
وَأَطَعۡنَا
اور اطاعت کرتے ہم
رسول کی
جس دن ان کے چہرے آگ میں الٹ پلٹ کیے جائیں گے } (اس وقت) وہ کہیں گے : ہائے کاش ! ہم نے اطاعت کی ہوتی اللہ کی اور اطاعت کی ہوتی رسول ﷺ کی
33:67
وَقَالُواۡ
اور وہ کہیں گے
رَبَّنَآ
اے ہمارے رب
إِنّ َآ
بیشک ہم نے
أَطَعۡنَا
اطاعت کی ہم نے
سَادَتَنَا
اپنے سرداروں کی
وَكُبَرَا ٓءَنَا
اور اپنے بڑوں کی
فَأَضَلُّونَا
تو انہوں نے بھٹکا دیا ہم کو
اصل راستے سے
اور کہیں گے : اے ہمارے پروردگار ! ہم نے اپنے سرداروں اور اپنے بڑوں کی اطاعت کی تو انہوں نے ہمیں سیدھے راستے سے بھٹکا دیا۔
33:68
رَبَّنَآ
اے ہمارے رب
ءَاتِهِمۡ
دے ان کو
ضِعۡفَيۡنِ
دوگنا
مِنَ
سے
عذاب میں (سے)
وَٱ لۡعَنۡهُمۡ
اور لعنت فرما
لَعۡنًا
ان پر لعنت
بڑی
اے ہمارے پروردگار ! ُ تو ان کو دوگنا عذاب دے اور ان پر لعنت فرما بہت ہی بڑی لعنت۔