Back to Ruku Indexٱ لَّذِينَٱ للَّهِم ِّاۡ ئَةُو َٱ للَّهُي َشَا ٓءُۗٱ للَّهِو َلَآ ل َّهُمۡم َّعۡرُوفٌ و َمَغۡفِرَةٌم ِّن ص َدَقَةٍ ي َتۡبَعُهَآ و َٱ للَّهُٱ لَّذِينَب ِٱ لۡمَنّ ِٱ ل نّ َاسِٱ لۡأَخِرِۖف َأَصَابَهُۥ ف َتَرَكَهُۥ ل َّام ِّمّ َاٱ لۡقَوۡمَٱ لۡكَـٰ فِرِي نَ٢٦٤ٱ لَّذِينَٱ بۡ تِغَا ٓءَٱ للَّهِم ِّنۡب ِرَبۡ وَةٍف َـَٔـاتَتۡل َّمۡف َطَلٌّۗ و َٱ للَّهُت َكُونَم ِّن ن َّخِيلٍ و َأَعۡنَابٍ ت َجۡ رِىت َحۡتِهَاٱ لۡأَنۡهَـٰ رُك ُلِّٱ ل ثَّمَرٰ تِٱ لۡكِبَرُض ُعَفَا ٓءُف ِيهِف َٱ حۡتَرَقَتۡۗٱ للَّهُٱ لۡأَيَـٰ تِ
Ruku 37
1 Surahs6 Versesركوع 37
2:261
مَّثَلُ
مثال
ان لوگوں کی
يُنف ِقُونَ
جو خرچ کرتے ہیں
أَمۡوٰ لَهُمۡ
اپنے مالوں کو
فِى
میں
سَبِيلِ
راستے میں
اللہ کے
كَمَثَلِ
مانند مثال
حَبَّةٍ
ایک دانے کے ہے
أَنۢب َتَتۡ
اس نے اگائیں
سَبۡ عَ
سات
سَنَابِلَ
بالیاں ۔ خوشےسو
فِى
میں
كُلِّ
ہر
سُنۢب ُلَةٍ
بالی
سو
حَبَّةٍۗ
دانے
اور اللہ
يُضَـٰ عِفُ
بڑھاتا ہے
لِمَن
واسطے جس کے
وہ چاہتا ہے
وَٱ للَّهُ
اور اللہ
وٰ سِعٌ
وسعت والا ہے
عَلِي مٌ
٢٦١جاننے والا ہے
مثال ان کی جو اپنے مال اللہ کی راہ میں (اللہ کے دین کے لیے) خرچ کرتے ہیں ایسے ہے جیسے ایک دانہ کہ اس سے سات بالیاں (خوشے) پیدا ہوں اور ہر بالی میں سو دانے ہوں اللہ جس کو چاہتا ہے افزونی عطا فرماتا ہے اور اللہ بڑی وسعت والا اور سب کچھ جاننے والا ہے
2:262
ٱلَّذِينَ
وہ لوگ
يُنف ِقُونَ
جو خرچ کرتے ہیں
أَمۡوٰ لَهُمۡ
اپنے مالوں کو
فِى
میں
سَبِيلِ
راستے
اللہ کے
ثُمّ َ
پھر
لَا
نہیں
يُتۡبِعُونَ
وہ پیچھا کرتے احسان جتا کر
مَآ
اس کا جو
أَنف َقُواۡ
انہوں نے خرچ کیا
مَنًّا
اس کا جو
اور نہ
أَذًىۙ
اذیت دے کر۔ تکلیف دے کر
ان کے لئیے
أَجۡ رُهُمۡ
ان کا اجر ہے
عِند َ
پاس
رَبِّهِمۡ
ان کے رب کے
وَلَا
اور نہ
خَوۡفٌ
کوئی خوف ہوگا
عَلَيۡهِمۡ
ان پر
وَلَا
اور نہ
هُمۡ
وہ
يَحۡزَنُو نَ
٢٦٢غمگین ہوں گے
جو لوگ اپنے مال خرچ کرتے ہیں اللہ کی راہ میں پھر جو کچھ وہ خرچ کرتے ہیں اس کے بعد نہ تو احسان جتاتے ہیں اور نہ تکلیف پہنچاتے ہیں ان کا اجر ان کے رب کے پاس محفوظ ہے۔ اور نہ تو ان کے لیے کوئی خوف ہوگا اور نہ ہی وہ کسی رنج و غم سے دوچار ہوں گے
2:263
۞قَوۡلٌ
بات
اچھی۔ بھلی
اور بخشش۔ درگزر
خَيۡرٌ
بہتر ہے
سے
اس صدقہ سے
پیچھے آئے اس کے۔ جس کے بعد
أَذًىۗ
تکلیف۔ دکھ
اوراللہ
غَنِىٌّ
بےنیاز
حَلِي مٌ
٢٦٣بردبار ہے
بھلی بات کہنا اور درگزر کرنا بہتر ہے اس خیرات سے جس کے بعد اذیتّ پہنچائی جائے اللہ تعالیٰ غنی ہے اور حلیم ہے
2:264
يَـٰٓ أَيُّهَا
اے
لوگو
ءَامَنُواۡ
جو ایمان لائے ہو
لَا
نہ
تُبۡ طِلُواۡ
تم ضائع کرو
صَدَقَـٰ تِكُم
اپنے صدقات کو
احسان جتا کر
وَٱ لۡأَذَىٰ
اور اذیت دے کر
كَٱ لَّذِى
اس شخص کی طرح
يُنف ِقُ
جو خرچ کرتا ہے
مَالَهُۥ
اپنا مال
رِئَا ٓءَ
دکھاوے کو۔ ریاکاری کے لیے
لوگوں کے
وَلَا
اور نہ
يُؤۡمِنُ
وہ ایمان لاتا
بِٱ للَّهِ
اللہ پر
وَٱ لۡيَوۡمِ
اور یوم
آخرت پر
فَمَثَلُهُۥ
تو اس کی مثال
كَمَثَلِ
مانند مثال
صَفۡوَانٍ
چکنے پتھر کے ہے
عَلَيۡهِ
جس پر
تُرَابٌ
مٹی ہو
تو پہنچے اس کو
وَابِلٌ
تیز بارش
تو چھوڑ دے اس کو
صَلۡدًاۖ
صاف۔ چٹیل
نہیں
يَقۡ دِرُونَ
وہ قدرت رکھتے ہوں گے
عَلَىٰ
اوپر
شَىۡءٍ
کسی چیز کے
اس میں سے جو
كَسَبُواۡۗ
انہوں نے کمائی کی
وَٱ للَّهُ
اور اللہ
لَا
نہیں
يَهۡدِى
ہدایت دیتا
قوم کو
کافر
اے اہل ایمان ! اپنے صدقات کو باطل نہ کرلو احسان جتلا کر اور کوئی اذیت بخش بات کہہ کر اس شخص کی طرح جو اپنا مال خرچ کرتا ہے لوگوں کو دکھانے کے لیے اور وہ ایمان نہیں رکھتا اللہ اور یوم آخرت پر تو اس کی مثال اس چٹان کی سی ہے جس پر کچھ مٹی (جم گئی) ہو پھر اس پر زوردار بارش پڑے تو وہ اس کو بالکل صاف پتھر چھوڑ دے ان کی کمائی میں سے کچھ بھی ان کے ہاتھ نہیں آئے گا اور اللہ تعالیٰ ایسے کافروں کو راہ یاب نہیں کرتا
2:265
وَمَثَلُ
اور مثال
ان لوگوں کی
يُنف ِقُونَ
جو خرچ کرتے ہیں
أَمۡوٰ لَهُمُ
اپنے مالوں کو
تلاش کرنے کے لیے
مَرۡضَاتِ
مرضی۔ رضامندی
اللہ کی
وَتَثۡبِيتًا
اورپختگی۔ ثابت قدمی
کی طرف
أَنف ُسِهِمۡ
اپنے نفسوں کی۔ ان کے نفسوں
كَمَثَلِ
مانند مثال
جَنّ َةِۭ
ایک باغ کے ہے
اونچی جگہ پر
أَصَابَهَا
پہنچے اس کو
وَابِلٌ
تیز بارش
تو وہ دے دے
أُكُلَهَا
پھل اپنا
ضِعۡفَيۡنِ
دوگنا
فَإِن
پھر اگر
نہ
يُصِبۡ هَا
پہنچے اس کو
وَابِلٌ
تیز بارش
تو شبنم ہی سہی۔ کافی ہے
اور اللہ
بِمَا
ساتھ اس کے جو
تَعۡمَلُونَ
تم عمل کرتے ہو
بَصِي رٌ
٢٦٥دیکھنے والا ہے
اور مثال ان لوگوں کی جو خرچ کرتے ہیں اپنے مال اللہ کی رضاجوئی کے لیے اور اپنے دلوں کو جمائے رکھنے کے لیے اس باغ کی مانند ہے جو بلندی پر واقع ہو اب اگر اس باغ کے اوپر زوردار بارش برسے تو دو گنا پھل لائے اور اگر زوردار بارش نہ بھی برسے تو ہلکی سی پھوار (ہی اس کے لیے کافی ہوجائے) اور جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ تعالیٰ اس کو دیکھ رہا ہے
2:266
أَيَوَدُّ
کیا چاہتا ہے
أَحَدُكُمۡ
تم میں سے کوئی ایک
أَن
کہ
ہو
لَهُۥ
اس کے لیے
جَنّ َةٌ
ایک باغ
کا
کھجوروں
اورانگوروں کا
بہتی ہوں
مِن
اس کے
نیچے
نہریں
لَهُۥ
اس کے لیے
فِيهَا
اس میں
مِن
ہر طرح
پھل ہوں
وَأَصَابَهُ
اور پہنچے اس کو
بڑھاپا
وَلَهُۥ
اور اس کے لیے
ذُرِّيَّةٌ
اولاد ہو
کمزور
فَأَصَابَهَآ
پھر پہنچے اسکو
إِعۡصَارٌ
ایک بگولہ
اس میں
نَارٌ
آگ ہو
تو مل جائے
كَذٰ لِكَ
اسی طرح
يُبَيِّنُ
بیان کرتا ہے
اللہ
لَكُمُ
تمہارے لیے
نشانیاں
لَعَلَّكُمۡ
تاکہ تم
تَتَفَكَّرُو نَ
٢٦٦تم غور و فکر کرو
کیا تم میں سے کوئی یہ پسند کرے گا کہ اس کے پاس کھجوروں اور انگوروں کا ایک باغ ہو جس کے دامن میں ندیاں بہتی ہوں اس کے لیے اس باغ میں ہر طرح کے پھل ہوں اور اس پر بڑھاپا طاری ہوجائے جبکہ اس کی اولاد ابھی ناتواں ہو اور عین اس وقت اس باغ پر ایک ایسا بگولا پھرجائے جس میں آگ ہو اور وہ باغ جھلس کر رہ جائے ؟ اس طرح اللہ تعالیٰ اپنی آیات تمہارے لیے واضح کرتا ہے تاکہ تم غور و فکر کرو۔