Back to Ruku Index

Ruku 364

1 Surahs12 Versesركوع 364
33:9
يَـٰٓأَيُّهَا
اے وہ
ٱلَّذِينَ
لوگو جو
ءَامَنُواۡ
ایمان لائے ہو
ٱذۡكُرُواۡ
یاد کرو
نِعۡمَةَ
نعمت کو
ٱللَّهِ
اللہ کی
عَلَيۡكُمۡ
جو تم پر ہے
إِذۡ
جب
جَآءَتۡكُمۡ
آئے تمہارے پاس
جُنُودٌ
لشکر
فَأَرۡسَلۡنَا
تو بھیجی ہم نے
عَلَيۡهِمۡ
ان پر
رِيحًا
ایک آندھی۔ ہوا
وَجُنُودًا
اور کچھ لشکر
لَّمۡ
نہیں
تَرَوۡهَا‌ۚ
تم نے دیکھا ان کو
وَكَانَ
اور ہے
ٱللَّهُ
اللہ تعا لیٰ
بِمَا
ساتھ اس کے
تَعۡمَلُونَ
جو تم عمل کرتے ہو
بَصِيرًا
دیکھنے والا
٩
اے اہل ِایمان ! یاد کرو اللہ کے اس انعام کو جو تم لوگوں پر ہو جب تم پر حملہ آور ہوئے بہت سے لشکرتو ہم نے ان پر ایک سخت آندھی بھیجی اور ایسے لشکر بھی جو تم نے نہیں دیکھے۔ } اور جو کچھ تم لوگ کر رہے تھے اللہ اسے دیکھ رہا تھا۔
33:10
إِذۡ
جب
جَآءُوكُم
وہ آئے تمہارے پاس
مِّن
سے
فَوۡقِكُمۡ
تمہارے اوپر
وَمِنۡ
اور سے
أَسۡفَلَ
نیچے کی طرف
مِنكُمۡ
تمہارے
وَإِذۡ
اور جب
زَاغَتِ
کج ہوگئیں
ٱلۡأَبۡصَـٰرُ
نگاہیں۔ پھر گئیں نگاہیں
وَبَلَغَتِ
اور پہنچ گئے
ٱلۡقُلُوبُ
دل
ٱلۡحَنَاجِرَ
حلق کو
وَتَظُنُّونَ
اور تم گمان کر رہے تھے
بِٱللَّهِ
اللہ کے بارے میں
ٱلظُّنُونَاۡ
بہت سے گمان
١٠
جب وہ (لشکر) آئے تم پر تمہارے اوپر سے بھی اور تمہارے نیچے سے بھی اور جب (خوف کے مارے) نگاہیں پتھرا گئی تھیں اور دل حلق میں آگئے تھے اور تم اللہ کے بارے میں طرح طرح کے گمان کرنے لگے۔
33:11
هُنَالِكَ
اسی جگہ
ٱبۡتُلِىَ
آزمائے گئے
ٱلۡمُؤۡمِنُونَ
سب مومن
وَزُلۡزِلُواۡ
اور ہلا مارے گئے
زِلۡزَالاً
ہلا مارا جانا
شَدِيدًا
شدت کا
١١
اس وقت اہل ایمان کو خوب آزما لیا گیا اور وہ شدت کے ساتھ جھنجھوڑ ڈالے گئے
33:12
وَإِذۡ
اور جب
يَقُولُ
کہہ رہے تھے
ٱلۡمُنَـٰفِقُونَ
منافق
وَٱلَّذِينَ
اور وہ لوگ
فِى
میں
قُلُوبِهِم
ان کے دلوں
مَّرَضٌ
بیماری تھی
مَّا
نہیں
وَعَدَنَا
وعدہ کیا ہم سے
ٱللَّهُ
اللہ نے
وَرَسُولُهُۥٓ
اور اس کے رسول نے
إِلَّا
مگر
غُرُورًا
دھوکے کا
١٢
اور جب کہہ رہے تھے منافقین اور وہ لوگ جن کے دلوں میں روگ تھا کہ نہیں وعدہ کیا تھا ہم سے اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے مگر دھوکے کا۔
33:13
وَإِذۡ
اور جب
قَالَت
کہا تھا
طَّآئِفَةٌ
ایک گروہ نے
مِّنۡهُمۡ
ان میں سے
يَـٰٓأَهۡلَ
اے اہل
يَثۡرِبَ
یثرب
لَا
نہیں
مُقَامَ
کھڑے ہونے کی جگہ
لَكُمۡ
تمہارے لیے
فَٱرۡجِعُواۡ‌ۚ
پس پلٹ چلو۔ لوٹ چلو
وَيَسۡتَــٔۡذِنُ
اور اجازت مانگ رہا تھا
فَرِيقٌ
ایک گروہ
مِّنۡهُمُ
ان میں سے
ٱلنَّبِىَّ
نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے
يَقُولُونَ
وہ کہہ رہے تھے
إِنَّ
بیشک
بُيُوتَنَا
ہمارے گھر
عَوۡرَةٌ
غیر محفوظ ہیں۔ کھلے ہیں
وَمَا
حالانکہ نہیں تھے
هِىَ
وہ
بِعَوۡرَةٍ‌ۖ
کھلے۔ غیر محفوظ
إِن
نہیں
يُرِيدُونَ
وہ چاہتے تھے
إِلَّا
مگر
فِرَارًا
فرار ہونا۔ بھاگنا
١٣
اور جب ان میں سے ایک گروہ نے کہا کہ اے اہل ِیثرب ! اب تمہارا کوئی ٹھکانہ نہیں چناچہ تم لوٹ جائو اور ان میں سے ایک گروہ نبی ﷺ سے اجازت طلب کر رہا تھا وہ کہہ رہے تھے کہ ہمارے گھر غیر محفوظ ہیں۔ حالانکہ وہ غیر محفوظ نہیں تھے۔ } حقیقت میں وہ کچھ نہیں چاہتے تھے سوائے فرار کے۔
33:14
وَلَوۡ
اور اگر
دُخِلَتۡ
داخل کیے جاتے
عَلَيۡهِم
ان پر
مِّنۡ
سے
أَقۡطَارِهَا
ان کے اطراف
ثُمَّ
پھر
سُئِلُواۡ
وہ سوال کیے جاتے
ٱلۡفِتۡنَةَ
فتنے کا
لَأَتَوۡهَا
البتہ وہ آجائے اس کی طرف۔ اس کو
وَمَا
اور نہ
تَلَبَّثُواۡ
وہ انتظار کرتے
بِهَآ
اس کا
إِلَّا
مگر
يَسِيرًا
بہت تھوڑا
١٤
اور اگر کہیں ان پر دشمن گھس آئے ہوتے مدینہ کے اطراف سے پھر ان سے مطالبہ کیا جاتا فتنے (ارتداد) کا تو وہ اسے قبول کرلیتے اور اس میں بالکل توقف نہ کرتے مگر تھوڑا سا۔
33:15
وَلَقَدۡ
اور البتہ تحقیق
كَانُواۡ
انہوں نے
عَـٰهَدُواۡ
عہد کیا تھا
ٱللَّهَ
اللہ سے
مِن
اس سے
قَبۡلُ
پہلے
لَا
نہیں
يُوَلُّونَ
وہ پھیریں گے
ٱلۡأَدۡبَـٰرَ‌ۚ
پیٹھیں
وَكَانَ
اور ہے
عَهۡدُ
عہد
ٱللَّهِ
اللہ کا
مَسۡــُٔولاً
پوچھا جانے والا
١٥
حالانکہ اس سے قبل وہ اللہ سے وعدہ کرچکے تھے کہ وہ کبھی پیٹھ نہیں دکھائیں گے۔ } اور اللہ سے کیے گئے عہد کی باز پرس تو ہونی ہے۔
33:16
قُل
کہہ دیجیے
لَّن
ہرگز نہیں
يَنفَعَكُمُ
فائدہ دے گا تم کو
ٱلۡفِرَارُ
بھاگنا
إِن
اگر
فَرَرۡتُم
بھاگے تم
مِّنَ
سے
ٱلۡمَوۡتِ
موت
أَوِ
یا
ٱلۡقَتۡلِ
قتل سے
وَإِذًا
اور تب
لَّا
نہ
تُمَتَّعُونَ
تم فائدہ دیئے جاؤ گے
إِلَّا
مگر
قَلِيلاً
بہت تھوڑا
١٦
(اے نبی ﷺ ! ان سے) کہہ دیجیے کہ تمہارا یہ بھاگنا تمہیں کوئی فائدہ نہیں پہنچائے گا اگر تم لوگ موت یا قتل سے بھاگ رہے ہو } اور (اگر بھاگو گے) تب بھی تم (زندگی کے سازوسامان سے) فائدہ نہیں اٹھا سکو گے مگر تھوڑا سا۔
33:17
قُلۡ
کہہ دیجیے
مَن
کون ہے
ذَا
وہ
ٱلَّذِى
جو
يَعۡصِمُكُم
بچائے تم کو
مِّنَ
سے
ٱللَّهِ
اللہ
إِنۡ
اگر
أَرَادَ
اس نے ارادہ کیا
بِكُمۡ
تمہارے ساتھ
سُوٓءًا
برائی کا
أَوۡ
یا
أَرَادَ
ارادہ کیا
بِكُمۡ
تمہارے ساتھ
رَحۡمَةً‌ۚ
رحمت کا
وَلَا
اور نہ
يَجِدُونَ
وہ پائیں گے
لَهُم
اپنے لیے
مِّن
سے
دُونِ
سوا
ٱللَّهِ
اللہ کے
وَلِيًّا
کوئی دوست
وَلَا
اور نہ
نَصِيرًا
کوئی مددگار
١٧
آپ ﷺ کہیے کہ کون ہے وہ جو تمہیں اللہ سے بچا سکتا ہے اگر وہ ارادہ کرے تمہارے ساتھ نقصان کا ؟ یا (اُس کی رحمت کو روک سکتا ہے) اگر وہ ارادہ کرے تمہارے ساتھ رحمت کا ؟ } اور یہ لوگ نہیں پائیں گے اپنے لیے اللہ کے مقابلے میں کوئی حمایتی اور نہ کوئی مدد گار۔
33:18
۞قَدۡ
تحقیق
يَعۡلَمُ
جانتا ہے
ٱللَّهُ
اللہ
ٱلۡمُعَوِّقِينَ
روکنے والوں کو
مِنكُمۡ
تم میں سے
وَٱلۡقَآئِلِينَ
اور کہنے والوں کو
لِإِخۡوٰنِهِمۡ
اپنے بھائیوں سے
هَلُمَّ
چلے آؤ
إِلَيۡنَا‌ۖ
ہماری طرف
وَلَا
اور نہ
يَأۡتُونَ
آئیں گے
ٱلۡبَأۡسَ
وہ لڑائی کو
إِلَّا
مگر
قَلِيلاً
بہت تھوڑے
١٨
اللہ خوب جانتا ہے تم میں سے ان لوگوں کو جو روکنے والے ہیں اور اپنے بھائیوں سے یہ کہنے والے ہیں کہ ہماری طرف آ جائو } اور وہ نہیں آتے جنگ کی طرف مگر بہت تھوڑی دیر کے لیے۔
33:19
أَشِحَّةً
بخیلی کرتے ہوئے
عَلَيۡكُمۡ‌ۖ
تم پر
فَإِذَا
پھر جب
جَآءَ
آتا ہے
ٱلۡخَوۡفُ
خوف
رَأَيۡتَهُمۡ
تم دیکھتے ہو ان کو
يَنظُرُونَ
وہ نظر کرتے ہیں
إِلَيۡكَ
آپ کی طرف
تَدُورُ
گھومتی ہیں
أَعۡيُنُهُمۡ
آنکھیں ان کی
كَٱلَّذِى
اس شخص کی طرح
يُغۡشَىٰ
ڈھانپ لیا جاتا ہے
عَلَيۡهِ
اس پر
مِنَ
سے
ٱلۡمَوۡتِ‌ۖ
موت
فَإِذَا
پھر جب
ذَهَبَ
چلا جاتا ہے
ٱلۡخَوۡفُ
خوف
سَلَقُوكُم
بد زبانی کرتے ہیں تم سے
بِأَلۡسِنَةٍ
ساتھ زبانوں کے
حِدَادٍ
تیز
أَشِحَّةً
بخیلی کرنے والے
عَلَى
اوپر
ٱلۡخَيۡرِ‌ۚ
بھلائی کے
أُوۡلَـٰٓئِكَ
یہی لوگ
لَمۡ
نہیں
يُؤۡمِنُواۡ
وہ ایمان لائے تو
فَأَحۡبَطَ
ضائع کردیا
ٱللَّهُ
اللہ نے
أَعۡمَـٰلَهُمۡ‌ۚ
ان کے اعمال کو
وَكَانَ
اور ہے
ذٰلِكَ
یہ بات
عَلَى
پر
ٱللَّهِ
اللہ
يَسِيرًا
بہت آسان
١٩
(اے مسلمانو !) تمہارا ساتھ دینے میں یہ سخت بخیل ہیں تو جب خطرہ پیش آجاتا ہے تو (اے نبی ﷺ !) آپ ان کو دیکھتے ہیں کہ وہ آپ کی طرف اس طرح تاک رہے ہوتے ہیں کہ ان کی آنکھیں گردش کرتی ہیں اس شخص کی (آنکھوں کی) طرح جس پر موت کی غشی طاری ہو۔ پھر جب خطرہ جاتا رہتا ہے تو وہ تم لوگوں پر چڑھ دوڑتے ہیں اپنی تیز زبانوں سے لالچ کرتے ہوئے مال پر۔ یہ وہ لوگ ہیں جو حقیقت میں ایمان نہیں لائے تو اللہ نے ان کے اعمال ضائع کردیے۔ } اور یہ اللہ پر بہت آسان ہے۔
33:20
يَحۡسَبُونَ
وہ سمجھتے ہیں
ٱلۡأَحۡزَابَ
گروہوں کو
لَمۡ
نہیں
يَذۡهَبُواۡ‌ۖ
وہ گئے
وَإِن
اور اگر
يَأۡتِ
آجائیں
ٱلۡأَحۡزَابُ
گروہ
يَوَدُّواۡ
وہ چاہیں گے
لَوۡ
کاش کہ
أَنَّهُم
بیشک وہ
بَادُونَ
جنگل میں رہنے والے ہوتے
فِى
میں
ٱلۡأَعۡرَابِ
اعراب
يَسۡــَٔلُونَ
وہ پوچھتے پھرتے ہیں
عَنۡ
کے بارے میں
أَنۢبَآئِكُمۡ‌ۖ
تم لوگوں کے حالات
وَلَوۡ
اور اگر
كَانُواۡ
وہ ہوتے
فِيكُم
تم میں
مَّا
نہ
قَـٰتَلُوٓاۡ
وہ جنگ کرتے
إِلَّا
مگر
قَلِيلاً
بہت کم
٢٠
وہ لشکروں کے بارے میں سمجھتے ہیں کہ ابھی وہ گئے نہیں ہیں۔ اور اگر لشکر (دوبارہ) حملہ آور ہوجائیں تو ان کی خواہش ہوگی کہ وہ بدوئوں کے ساتھ صحرا میں رہ رہے ہوتے (اور وہیں سے) تمہاری خبریں معلوم کرتے رہتے۔ } اور اگر وہ تمہارے درمیان رہتے تو قتال نہ کرتے مگر بہت ہی تھوڑا۔