Back to Ruku Indexٱ لَّذِىٱ للَّهُٱ لۡمُلۡكَٱ لَّذِىٱ للَّهَٱ لۡمَشۡرِقِٱ لۡمَغۡرِبِٱ لَّذِىٱ لۡقَوۡمَٱ ل ظَّـٰ لِمِي نَ٢٥٨و َهِىَٱ للَّهُٱ للَّهُث ُمّ َق َالَف َٱ نظ ُرۡل ِّلنّ َاسِۖٱ لۡعِظَامِف َلَمّ َاٱ للَّهَق َدِي رٌ٢٥٩ٱ لۡمَوۡتَىٰۖق َالَل ِّيَطۡ مَئِنّ َم ِّنَٱ ل طَّيۡرِٱ جۡ عَلۡم ِّنۡهُنّ َث ُمّ َٱ دۡ عُهُنّ َو َٱ عۡلَمۡٱ للَّهَ
Ruku 36
1 Surahs3 Versesركوع 36
2:258
أَلَمۡ
کیا نہیں
تَرَ
تم نے دیکھا
إِلَى
طرف
اس شخص کے
حَا ٓجَّ
جس سے حجت بازی کی
إِبۡ رٰ هِــۧ مَ
ابراہیم سے
فِى
بارے میں
رَبِّهِۦٓ
اس کے رب کے
أَنۡ
کہ
ءَاتَـٰ هُ
عطا کی
اللہ تعالیٰ نے
اس کو بادشاہت
إِذۡ
جب
قَالَ
کہا
إِبۡ رٰ هِــۧ مُ
ابراھیم نے
رَبِّىَ
میرا رب
وہ ہے جو
يُحۡىِۦ
زندہ کرتا ہے
وَيُمِيتُ
اور موت دیتا ہے
قَالَ
کہا
أَنَاۡ
میں
أُحۡىِۦ
زندہ کرتا ہوں
وَأُمِيتُۖ
اورمیں موت دیتا ہوں
قَالَ
کہا
إِبۡ رٰ هِــۧ مُ
ابراہیم نے
فَإِنّ َ
پس بیشک
اللہ تعالیٰ
يَأۡتِى
لاتا ہے
بِٱ ل شَّمۡسِ
سورج کو
مِنَ
سے
مشرق
فَأۡتِ
پس تم لے آؤ
بِهَا
اس کو
مِنَ
سے
مغرب سے کفر کیا
فَبُهِتَ
تو مبہوت ہوگیا۔ پس حیران ہوگیا
وہ جس نے
كَفَرَۗ
کفر کیا
وَٱ للَّهُ
اللہ تعالیٰ نے
لَا
نہیں
يَهۡدِى
ہدایت دیتا ہے
قوم کو
جو ظالم ہو
کیا تم نے اس شخص کو نہیں دیکھا جس نے حجتّ بازی کی تھی ابراہیم ؑ سے اس وجہ سے کہ اللہ نے اسے بادشاہی دی ہوئی تھی جب ابراہیم ؑ نے کہا کہ میرا رب تو وہ ہے جو زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے تو اس نے کہا کہ میں بھی زندہ کرتا اور مارتا ہوں ابراہیم ؑ نے کہا کہ اللہ سورج کو مشرق سے نکالتا ہے (اگر تو خدائی کا مدعی ہے) تو اسے مغرب سے نکال کر دکھا تو مبہوت ہو کر رہ گیا وہ کافر اور اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں دیا کرتا
2:259
أَوۡ
یا
كَٱ لَّذِى
اس شخص کی طرح ہے جو۔ پابند اس شخص کے جو
مَرَّ
گزرا
عَلَىٰ
پر
قَرۡيَةٍ
ایک بستی کے
اوروہ
خَاوِيَةٌ
گری ہوئی تھی
عَلَىٰ
پر
عُرُوشِهَا
اپنی چھتوں کے
قَالَ
اس نے کہا
أَنّ َىٰ
کس طرح۔ کیوں کر
يُحۡىِۦ
زندہ کرے گا
هَـٰ ذِهِ
اس کو
اللہ
بَعۡدَ
بعد
مَوۡتِهَاۖ
اس کی موت کے
فَأَمَاتَهُ
تو مار دیا اس کو
اللہ نے
مِاۡ ئَةَ
سو
عَامٍ
سال
پھر
بَعَثَهُۥ ۖ
اٹھایا اس کو۔ زندہ کیا اس کو
قَالَ
فرمایا
كَمۡ
کتنا عرصہ
لَبِثۡتَۖ
تم ٹھہرے ہو
قَالَ
اس نے کہا
لَبِثۡتُ
میں ٹھہرا
يَوۡمًا
ایک دن
أَوۡ
یا
بَعۡضَ
کچھ حصہ
يَوۡمٍۖ
دن کا
فرمایا
بَل
بلکہ
لَّبِثۡتَ
تو ٹھہرا
مِاۡ ئَةَ
سو
عَامٍ
سال
پس دیکھ
إِلَىٰ
طرف
طَعَامِكَ
اپنے کھانے کے
وَشَرَابِكَ
اور اپنے پینے کے
لَمۡ
نہیں
يَتَسَنّ َهۡۖ
خراب ہوا وہ
وَٱ نظ ُرۡ
اور دیکھو
إِلَىٰ
طرف
حِمَارِكَ
اپنے گدھے کے
وَلِنَجۡ عَلَكَ
اور تاکہ ہم بنادیں تم کو
ءَايَةً
ایک نشانی
لوگوں کے لیے
وَٱ نظ ُرۡ
اور دیکھو
إِلَى
طرف
ہڈیوں کے
كَيۡفَ
کس طرح
نُنش ِزُهَا
ہم جوڑ دیتے ہیں ان کو۔ ہم حرکت دیتے ہیں ان کو۔ ہم الٹا دیتے ہیں ان کو
ثُمّ َ
پھر
نَكۡسُوهَا
ہم پہناتے ہیں
لَحۡمًاۚ
گوشت
پھر جب
تَبَيَّنَ
واضح ہوگیا
لَهُۥ
واسطے اس کو
قَالَ
کہا
أَعۡلَمُ
میں جان گیا
أَنّ َ
بیشک
اللہ تعالیٰ
عَلَىٰ
اوپر
كُلِّ
ہر
شَىۡءٍ
چیز کے
قادر ہے
یا پھر جیسے کہ وہ شخص (اس کا واقعہ ذرایاد کرو) جس کا گزر ہوا ایک بستی پر اور وہ اوندھی پڑی ہوئی تھی اپنی چھتوں پر اس نے کہا کہ اللہ اس بستی کو اس کے اس طرح مردہ اور برباد ہوجانے کے بعد کس طرح زندہ کرے گا ؟ تو اللہ نے اس پر موت وارد کردی سو برس کے لیے اور پھر اس کو اٹھایا پوچھا کتنا عرصہ یہاں رہے ہو ؟ کہنے لگا ایک دن یا ایک دن کا کچھ حصہ تو ذرا تم اپنے کھانے اور اپنے مشروب کو (جوسفر میں تمہارے ساتھ تھا) دیکھو ان کے اندر کوئی بساند پیدا نہیں ہوئی اور (دوسری طرف) اپنے گدھے کو دیکھو (ہم اس کو کس طرح زندہ کرتے ہیں) اور تاکہ ہم تمہیں لوگوں کے لیے ایک نشانی بنائیں اور اب ان ہڈیوں کو دیکھو کس طرح ہم انہیں اٹھاتے ہیں پھر (تمہاری نگاہوں کے سامنے) ان کو گوشت پہناتے ہیں پس جب اس کے سامنے یہ بات واضح ہوگئی وہ پکار اٹھا کہ میں نے پوری طرح جان لیا (اور مجھے یقین کامل حاصل ہوگیا) کہ اللہ ہر شے پر قادر ہے
2:260
وَإِذۡ
اور جب
قَالَ
کہا
إِبۡ رٰ هِــۧ مُ
ابراہیم نے
رَبِّ
اے میرے رب
أَرِنِى
تو دکھا مجھ کو
كَيۡفَ
کس طرح
تُحۡىِ
تو زندہ کرے گا۔ تو زندہ کرتا ہے
مردوں کو
قَالَ
فرمایا
أَوَلَمۡ
کیا بھلا نہیں
تُؤۡمِنۖ
تم ایمان رکھتے
کہا
بَلَىٰ
کیوں نہیں
وَلَـٰ كِن
لیکن۔ مگر
اس لیے تاکہ مطمئن ہوجائے
قَلۡبِىۖ
میرا دل
قَالَ
فرمایا
فَخُذۡ
پس لے لو
أَرۡبَعَةً
چار
میں سے
پرندوں
فَصُرۡهُنّ َ
پھر مائل کرو ان کو
إِلَيۡكَ
اپنی طرف
ثُمّ َ
پھر
رکھ دو
عَلَىٰ
اوپر
كُلِّ
ہر
جَبَلٍ
پہاڑ کے
ان میں سے
جُزۡءًا
ایک حصہ
پھر
بلاؤ ان کو
يَأۡتِينَكَ
وہ آجائیں گے تیرے پاس
سَعۡيًاۚ
دوڑتے ہوئے
اورجان لو
أَنّ َ
بیشک
اللہ تعالیٰ
عَزِيزٌ
غالب ہے
حَكِي مٌ
٢٦٠حکمت والا ہے
اور یاد کرو جبکہ ابراہیم ؑ نے بھی کہا تھا پروردگار ! ذرا مجھے مشاہدہ کرا دے کہ تو مردوں کو کیسے زندہ کرے گا ؟ (اللہ تعالیٰ نے) فرمایا کیا تم (اس بات پر) ایمان نہیں رکھتے ؟ کہا کیوں نہیں ! (ایمان تو رکھتا ہوں) لیکن چاہتا ہوں کہ میرا دل پوری طرح مطمئن ہوجائے فرمایا اچھاتو چار پرندے لے لو اور انہیں اپنے ساتھ ہلا لو پھر ان کے ٹکڑے کر کے ہر پہاڑ پر ان کا ایک ایک ٹکڑا رکھ دو پھر ان کو پکارو تو وہ تمہارے پاس دوڑتے ہوئے آئیں گے اور (اس بات کو یقین کے ساتھ) جان لو کہ اللہ تعالیٰ زبردست ہے کمال حکمت والا ہے۔