Back to Ruku Indexي َهۡدِيَنِىٱ ل سَّبِي لِ٢٢م ِّنَٱ ل نّ َاسِد ُونِهِمُٱ مۡرَأَتَيۡنِٱ ل رِّعَا ٓءُۖك َبِي رٌ٢٣ٱ ل ظِّلِّف َقِي رٌ٢٤ٱ سۡتِحۡيَا ٓءٍ ق َالَتۡٱ لۡقَصَصَٱ لۡقَوۡمِٱ ل ظَّـٰ لِمِي نَ٢٥ٱ سۡتَــٔۡجِرۡهُۖٱ سۡتَــٔۡجَرۡتَٱ لۡقَوِىُّٱ لۡأَمِي نُ٢٦ٱ بۡ نَتَىَّت َأۡجُرَنِىف َإِنۡف َمِنۡش َا ٓءَٱ للَّهُٱ ل صَّـٰ لِحِي نَ٢٧ٱ لۡأَجَلَيۡنِ
Ruku 336
1 Surahs7 Versesركوع 336
28:22
وَلَمّ َا
اور جب
تَوَجَّهَ
اس نے رخ کیا
تِلۡقَا ٓءَ
جانب
مَدۡ يَنَ
مدین کے
قَالَ
کہا
عَسَىٰ
امید ہے
رَبِّىٓ
میرا رب
أَن
کہ
رہنمائی کرے گا میری
سَوَا ٓءَ
سیدھے
راستے کی طرف
اور جب اس نے مدین کی طرف رخ کیا اس نے کہا : امید ہے میرا رب سیدھے راستے کی طرف میری راہنمائی کرے گا
28:23
وَلَمّ َا
اور جب
وَرَدَ
وہ پہنچا/ وارد ہوا
مَا ٓءَ
پانی پر
مَدۡ يَنَ
مدین کے
وَجَدَ
پایا
عَلَيۡهِ
اس پر
أُمّ َةً
ایک گروہ کو
سے
لوگوں میں (سے)
يَسۡقُونَ
جو پانی پلا رہے تھے
وَوَجَدَ
اور پایا
مِن
کے
ان کے علاوہ
دوعورتوں کو
تَذُودَانِۖ
جو روکے ہوئے تھیں/ ہٹا رہی تھیں
قَالَ
کہا
مَا
کیا
خَطۡ بُكُمَاۖ
معاملہ ہے تم دونوں کا
قَالَتَا
وہ دونوں کہنے لگیں
لَا
نہیں
نَسۡقِى
ہم پانی پلاتیں
حَتَّىٰ
یہاں تک کہ
يُصۡدِرَ
واپس نکال لائیں
چرواہے
وَأَبُونَا
اور ہمارا باپ
شَيۡخٌ
بوڑھا ہے
بڑی عمر کا ہے
اور جب وہ مدین کے کنویں پر پہنچا اس نے اس پر لوگوں کے ایک گروہ کو (اپنے جانوروں کو) پانی پلاتے ہوئے پایا اور اس نے ان سے الگ دو عورتوں کو دیکھا جو (اپنے جانوروں کو) روکے کھڑی تھیں اس نے کہا : آپ دونوں کا کیا معاملہ ہے انہوں نے کہا کہ ہم (اپنے جانوروں کو) پانی نہیں پلا سکتے جب تک تمام چرواہے (اپنے جانور) نکال نہ لے جائیں اور ہمارے والد بہت زیادہ بوڑھے ہیں
28:24
فَسَقَىٰ
تو اس نے پانی پلایا
لَهُمَا
ان دونوں کو
ثُمّ َ
پھر
تَوَلَّىٰٓ
پھر گیا/مڑا
إِلَى
طرف
سائے کی (طرف)
فَقَالَ
پھر کہنے لگا
رَبِّ
اے میرے رب
إِنّ ِى
بیشک میں
لِمَآ
واسطے اس کے جو
أَنز َلۡتَ
تو نازل کرے
إِلَىَّ
میری طرف
مِنۡ
کوئی
خَيۡرٍ
بھلائی
محتاج ہوں
تو موسیٰ ؑ نے ان دونوں کے لیے پانی پلا دیا پھر سائے کی طرف پھر آیا تو اس نے دعا کی : پروردگار ! جو خیر بھی تو میری جھولی میں ڈال دے میں اس کا محتاج ہوں
28:25
فَجَا ٓءَتۡهُ
تو آئی اس کے پاس
إِحۡدَٮٰ هُمَا
ان دونوں میں سے ایک
تَمۡشِى
چلتی ہوئی
عَلَى
ساتھ
حیا کے ساتھ/ شرماتی ہوئی
کہنے لگی
إِنّ َ
بیشک
أَبِى
میرا باپ
يَدۡ عُوكَ
بلا رہا ہے تجھ کو
لِيَجۡ زِيَكَ
تاکہ بدلہ دے تجھ کو
أَجۡ رَ
اس اجر کا
مَا
جو
سَقَيۡتَ
تونے پلایا
لَنَاۚ
ہم کو
فَلَمّ َا
تو جب
جَا ٓءَهُۥ
وہ آگیا اس کے پاس
وَقَصَّ
اور قصہ سنایا
عَلَيۡهِ
اس پر
قصہ سنانا
قَالَ
بولا
لَا
نہ
تَخَفۡۖ
ڈرو
نَجَوۡتَ
تم نجات پاگئے ہو
مِنَ
سے
قوم
ظالم
اتنے میں اس کے پاس ان دو میں سے ایک لڑکی شرم و حیا کے ساتھ چلتی ہوئی آئی اس نے کہا : میرے والد آپ کو بلا رہے ہیں تاکہ وہ بدلہ دیں آپ کو اس کا جو آپ نے ہمارے لیے پانی پلایا ہے تو جب موسیٰ ؑ اس کے پاس آیا اور اس نے اسے اپنا سارا قصہ سنایا اس نے کہا : اب ڈرو نہیں تم نجات پاچکے ہو ظالموں کی قوم سے
28:26
قَالَتۡ
بولی
إِحۡدَٮٰ هُمَا
ان میں سے ایک
يَـٰٓ أَبَتِ
اے میرے ابا جان
اجرت پر رکھ لیجئے اس کو
إِنّ َ
بیشک
خَيۡرَ
بہترین
مَنِ
جس کو
آپ اجرت پر رکھیں/ نوکر رکھیں
جو مضبوط ہو
جو امانت دار ہو
ان دونوں میں سے ایک نے کہا : ابا جان ! آپ ان کو ملازم رکھ لیں یقیناً بہترین آدمی جسے آپ ملازم رکھیں وہی ہوسکتا ہے جو طاقتور اور امین ہو
28:27
قَالَ
اس نے کہا
إِنّ ِىٓ
بیشک میں
أُرِيدُ
میں چاہتا ہوں
أَنۡ
کہ
أُنك ِحَكَ
میں نکاح کردوں تجھ سے
إِحۡدَى
ایک کا
اپنی دو بیٹیوں میں سے
هَـٰ تَيۡنِ
یہ دونوں
عَلَىٰٓ
پر
أَن
اس شرط پر کہ
تو نوکری کرے میری
ثَمَـٰ نِىَ
آٹھ
حِجَجٍۖ
سال
پھر اگر
أَتۡمَمۡتَ
تو پورا کردے
عَشۡرًا
دس (سال)
سے
عِند ِكَۖ
تو تیری طرف سے ہے
وَمَآ
اور نہیں
أُرِيدُ
میں چاہتا
أَنۡ
کہ
أَشُقَّ
میں سختی کروں
عَلَيۡكَۚ
تجھ پر
سَتَجِدُنِىٓ
عنقریب تو پائے گا مجھ کو
إِن
ان
شاء
اللہ
مِنَ
سے
نیک لوگوں (میں سے)
اس نے (موسیٰ ؑ سے) کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ اپنی ان دونوں بیٹیوں میں سے ایک کا نکاح تمہارے ساتھ کر دوں اس شرط پر کہ تم آٹھ سال تک میری ملازمت کرو پھر اگر تم دس سال پورے کر دو تو یہ تمہاری طرف سے ہے اور میں تمہیں مشقت میں ڈالنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا ان شاء اللہ تم مجھے نیک آدمی پاؤ گے
28:28
قَالَ
کہا
ذٰ لِكَ
یہ
بَيۡنِى
میرے درمیان ہے
وَبَيۡنَكَۖ
اور تیرے درمیان ہے
أَيَّمَا
جو بھی
دو مدتوں میں سے
قَضَيۡتُ
میں نے پوری کی
فَلَا
تو نہ
عُدۡ وٰ نَ
کوئی زیادتی ہوگی
عَلَىَّۖ
مجھ پر
وَٱ للَّهُ
اور اللہ
عَلَىٰ
اوپر
مَا
اس کے جو
نَقُولُ
ہم کہیں
وَكِي لٌ
٢٨نگہبان ہے
موسیٰ ؑ ٰ نے کہا : (ٹھیک ہے) یہ بات میرے اور آپ کے درمیان طے ہوگئی ان دونوں میں سے جو مدت بھی میں پوری کردوں تو مجھ پر کوئی زیادتی نہ ہو اور جو کچھ (اس وقت) ہم کہہ رہے ہیں اللہ اس پر وکیل ہے