Back to Ruku Indexو َعِلۡمًاۚ و َكَذٰ لِكَٱ لۡمُحۡسِنِي نَ١٤ٱ لۡمَدِينَةَم ِّنۡش ِيعَتِهِۦ ٱ لَّذِىش ِيعَتِهِۦ ٱ لَّذِىٱ ل شَّيۡطَـٰ نِۖم ُّضِلٌّ م ُّبِي نٌ١٥ٱ لۡغَفُورُٱ ل رَّحِي مُ١٦ل ِّلۡمُجۡ رِمِي نَ١٧ٱ لۡمَدِينَةِي َتَرَقَّبُٱ لَّذِىٱ سۡتَنص َرَهُۥ م ُّبِي نٌ١٨ي َبۡ طِشَل َّهُمَات َقۡ تُلَنِىب ِٱ لۡأَمۡسِۖت ُرِيدُت َكُونَف ِىٱ لۡأَرۡضِت َكُونَٱ لۡمُصۡلِحِي نَ١٩م ِّنۡٱ لۡمَدِينَةِٱ لۡمَلَأَٱ ل نّ َـٰ صِحِي نَ٢٠ي َتَرَقَّبُۖٱ لۡقَوۡمِٱ ل ظَّـٰ لِمِي نَ٢١
Ruku 335
1 Surahs8 Versesركوع 335
28:14
وَلَمّ َا
اور جب
بَلَغَ
وہ پہنچ گیا
أَشُدَّهُۥ
اپنی جوانی کو
وَٱ سۡتَوَىٰٓ
اور پورا ہوگیا
ءَاتَيۡنَـٰ هُ
عطا کی ہم نے اس کو
حُكۡمًا
ثبوت/ حکمت
اور علم
اور اسی طرح
نَجۡ زِى
ہم جزا دیتے ہیں
محسنین کو
اور جب موسیٰ اپنی جوانی کو پہنچ گیا اور ہر لحاظ سے تواناہو گیا تو ہم نے اسے حکم اور علم عطا فرمایا اور اسی طرح ہم بدلہ دیتے ہیں نیکو کاروں کو
28:15
وَدَخَلَ
اور داخل ہوا
شہر میں
عَلَىٰ
میں
حِينِ
وقت میں
غَفۡلَةٍ
غفلت (کے وقت میں)
کے
أَهۡلِهَا
اس کے رہنے والوں کی
فَوَجَدَ
تو اس نے پایا
فِيهَا
اس میں
رَجُلَيۡنِ
دو لوگوں کو/ دو مردوں کو
يَقۡ تَتِلَانِ
وہ دونوں لڑ رہے تھے
هَـٰ ذَا
یہ
مِن
سے
اس کے گروہ میں سے تھا
وَهَـٰ ذَا
اور یہ
مِنۡ
سے
عَدُوِّهِۦ ۖ
جو اس کے دشمنوں میں (سے) تھا
فَٱ سۡتَغَـٰ ثَهُ
پس مدد طلب کی اس سے
اس نے
مِن
جو
اس کے اپنے گروہ میں سے تھا
عَلَى
پر
اس کے خلاف سے جو
مِنۡ
سے
عَدُوِّهِۦ
اس کے دشمنوں میں (سے) تھا
فَوَكَزَهُۥ
تو گھونسہ مارا اس کو
مُوسَىٰ
موسیٰ نے
فَقَضَىٰ
تو پوری کردی
عَلَيۡهِۖ
اس پر (زندگی)
قَالَ
بولا
هَـٰ ذَا
یہ
مِنۡ
سے
عَمَلِ
کام میں (سے) ہے
شیطان کے
إِنّ َهُۥ
یقیناً وہ
عَدُوٌّ
دشمن ہے
گمراہ کرنے والا
کھلم کھلا
اور (ایک روز) وہ شہر میں داخل ہوا ایسے وقت جبکہ اس کے باسی غفلت میں (پڑے سو رہے) تھے تو اس نے وہاں پایا دو اشخاص کو آپس میں لڑتے ہوئے ایک اس کی اپنی قوم میں سے تھا اور دوسرا اس کے دشمنوں میں سے تو مدد مانگی موسیٰ ؑ سے اس نے جو اس کی قوم میں سے تھا اس کے خلاف جو اس کی دشمن قوم سے تھا تو موسیٰ ؑ نے اس کو ایک مکاّ رسید کیا اور اس کا کام تمام کردیا (یہ دیکھتے ہی) وہ پکار اٹھا کہ یہ تو شیطان کا عمل ہے۔ یقیناً وہ دشمن ہے کھلا گمراہ کرنے والا
28:16
قَالَ
کہا
رَبِّ
اے میرے رب
إِنّ ِى
بیشک میں نے
ظَلَمۡتُ
ظلم کیا
نَفۡسِى
اپنی جان پر
فَٱ غۡفِرۡ
پس بخش دے
لِى
مجھ کو
فَغَفَرَ
تو اس نے بخش دیا
لَهُۥٓۚ
اس کو
إِنّ َهُۥ
بیشک وہ
هُوَ
وہ
غفور
رحیم ہے
عرض کیا : اے میرے پروردگار ! میں تو اپنی جان پر ظلم کر بیٹھا ہوں پسُ تو مجھے بخش دے تو اللہ نے اسے بخش دیا یقیناً وہی ہے بڑا بخشنے والا رحم فرمانے والا
28:17
قَالَ
کہا
رَبِّ
اے میرے رب
بِمَآ
بوجہ اس کے جو
أَنۡعَمۡتَ
احسان کیا تو نے
عَلَىَّ
مجھ پر
فَلَنۡ
تو ہرگز نہیں
أَكُونَ
ہوں گا
ظَهِيرًا
میں مدد گار
مجرموں کے لئے
اس نے کہا : پروردگار ! بسبب اس احسان کے جو تو نے مجھ پر کیا ہے (میں عہد کرتا ہوں کہ) اب میں کبھی مددگار نہیں بنوں گا مجرموں کا
28:18
فَأَصۡبَحَ
تو صبح کی
فِى
میں
شہر (میں)
خَا ٓئِفًا
ڈرتے ہوئے
خبر لیتے ہوئے
فَإِذَا
پھر اچانک
وہ شخص
جس نے مدد مانگی تھی اس سے
بِٱ لۡأَمۡسِ
کل
يَسۡتَصۡرِخُهُۥ ۚ
پکار رہا تھا اس کو
قَالَ
کہا
لَهُۥ
اس کو
مُوسَىٰٓ
موسیٰ نے
إِنّ َكَ
بیشک تو
لَغَوِىٌّ
البتہ گمراہ ہے/ بہکا ہوا ہے
کھلم کھلا
تو اس نے صبح کی شہر میں (اس کیفیت میں) کہ وہ خوف زدہ بھی تھا اور چوکنا بھی تو اچانک (اس نے دیکھا کہ) جس شخص نے کل اس سے مدد مانگی تھی وہی آج پھر اس سے فریاد کر رہا ہے موسیٰ ؑ نے اس سے کہا کہ (معلوم ہوتا ہے) تم ہی ایک کھلے ہوئے شریر آدمی ہو
28:19
فَلَمّ َآ
تو جب
أَنۡ
کہ
أَرَادَ
اس نے ارادہ کیا
أَن
کہ
پکڑ لے
بِٱ لَّذِى
اس کو جو
هُوَ
وہ
عَدُوٌّ
دشمن تھا
ان دونوں کا
قَالَ
اس نے کہا
يَـٰ مُوسَىٰٓ
اے موسیٰ
أَتُرِيدُ
کیا تو چاہتا ہے
أَن
کہ
تو مجھ کو قتل کردے
كَمَا
جیسا کہ
قَتَلۡتَ
تو نے قتل کیا
نَفۡسَۢا
ایک نفس کو
کل
إِن
نہیں
تو چاہتا
إِلَّآ
مگر
أَن
کہ
تو ہو
جَبَّارًا
جبار/ ظالم
میں
زمین (میں)
وَمَا
اور نہیں
تُرِيدُ
تو چاہتا
أَن
کہ
ہو تو
مِنَ
سے
اصلاح کرنے والوں میں (سے)
پھر جب اس نے پکڑنا چاہا اس کو جو ان دونوں کا دشمن تھا وہ چیخ اٹھا : اے موسیٰ ؑ ! کیا تم مجھے بھی قتل کرنا چاہتے ہو جس طرح تم نے کل ایک شخص کو مارڈالا تھا تم صرف یہ چاہتے ہو کہ تم اس ملک میں بڑے جابر بن جاؤ اور تم نہیں چاہتے کہ تم اصلاح کرنے والوں میں سے بنو
28:20
وَجَا ٓءَ
اور آیا
رَجُلٌ
ایک شخص
سے
أَقۡ صَا
دور دراز علاقے (سے)
شہر کے
يَسۡعَىٰ
دوڑتا ہوا
قَالَ
کہا
يَـٰ مُوسَىٰٓ
اے موسیٰ
إِنّ َ
بیشک
سردار
يَأۡتَمِرُونَ
مشورہ کررہے ہیں
بِكَ
تیرے بارے میں
لِيَقۡ تُلُوكَ
کہ قتل کردیں تجھ کو
فَٱ خۡرُجۡ
پس نکل جا
إِنّ ِى
بیشک میں
لَكَ
تیرے لئے
مِنَ
سے
خیر خواہوں میں (سے) ہوں
اور ایک شخص آیا شہر کے آخری کنارے سے دوڑتا ہوا اس نے کہا : اے موسیٰ ؑ ٰ ! اعیان حکومت تمہارے بارے میں مشورہ کر رہے ہیں کہ تمہیں قتل کردیں تو تم یہاں سے نکل جاؤ میں تمہارے خیر خواہوں میں سے ہوں
28:21
فَخَرَجَ
تو نکلا
مِنۡهَا
اس میں سے
خَا ٓئِفًا
ڈرتے ہوئے
خفتہ ٹوہ لگاتے ہوئے
قَالَ
کہا
رَبِّ
اے میرے رب
نَجِّنِى
نجات دے مجھ کو
مِنَ
سے
قوم (سے)
ظالم
تو وہ نکلا وہاں سے ڈرتے ڈرتے بڑا چوکنا ہو کر اور اس نے دعا کی کہ اے میرے پروردگار ! مجھے ان ظالموں کی قوم سے نجات دے دے