Back to Ruku Indexٱ لَّذِينَد ِيَـٰ رِهِمۡٱ لۡمَوۡتِٱ للَّهُٱ للَّهَٱ ل نّ َاسِٱ ل نّ َاسِٱ للَّهِٱ للَّهَذ َاٱ لَّذِىٱ للَّهَف َيُضَـٰ عِفَهُۥ ك َثِيرَةًۚ و َٱ للَّهُٱ لۡمَلَإِب َنِىٓ ب َعۡدِل َّهُمُٱ بۡ عَثۡن ُّقَـٰ تِلۡٱ للَّهِۖك ُتِبَٱ لۡقِتَالُٱ للَّهِد ِيَـٰ رِنَاٱ لۡقِتَالُم ِّنۡهُمۡۗب ِٱ ل ظَّـٰ لِمِي نَ٢٤٦ٱ للَّهَق َالُوٓ اۡ ٱ لۡمُلۡكُم ِّنَٱ لۡمَالِۚٱ للَّهَٱ صۡطَفَـٰ هُف ِىٱ لۡعِلۡمِي َشَا ٓءُۚي َأۡتِيَكُمُٱ ل تَّابُوتُم ِّن ر َّبِّكُمۡم ِّمّ َاٱ لۡمَلَـٰٓ ئِكَةُۚل َّكُمۡك ُنت ُم م ُّؤۡمِنِي نَ٢٤٨
Ruku 33
1 Surahs6 Versesركوع 33
2:243
۞أَلَمۡ
کیا نہیں
تَرَ
دیکھا تم نے
إِلَى
طرف
ان لوگوں کے
خَرَجُواۡ
جو نکل گئے
مِن
سے
اپنے گھروں
وَهُمۡ
اور وہ
أُلُوفٌ
ہزاروں میں تھے
حَذَرَ
ڈر سے
موت کے ۔موت سے بچنے کے لیے
فَقَالَ
تو کہا
لَهُمُ
ان کو۔ واسطے ان کے
اللہ نے
مُوتُواۡ
مرجاؤ
ثُمّ َ
پھر
أَحۡيَـٰ هُمۡۚ
اس نے زندہ کیا ان کو
إِنّ َ
بیشک
اللہ
لَذُو
البتہ
فَضۡلٍ
فضل والا ہے
عَلَى
پر
لوگوں
وَلَـٰ كِنّ َ
اور لیکن
أَكۡثَرَ
اکثر
لوگ
لَا
نہیں
يَشۡكُرُو نَ
٢٤٣شکر ادا کرتے
کیا تم نے ان لوگوں کے حال پر غور نہیں کیا جو نکل کھڑے ہوئے اپنے گھروں سے جبکہ وہ ہزاروں کی تعداد میں تھے موت کے ڈر کی وجہ سے تو اللہ نے ان سے کہا کہ مرجاؤ ! پھر (اللہ نے) انہیں زندہ کیا یقیناً اللہ تعالیٰ تو لوگوں پر بڑا فضل کرنے والا ہے لیکن اکثر لوگ شکر نہیں کرتے۔
2:244
وَقَـٰ تِلُواۡ
اور جنگ کرو
فِى
میں
سَبِيلِ
راستے
اللہ کے
وَٱ عۡلَمُوٓ اۡ
اور جان لو
أَنّ َ
بیشک
اللہ
سَمِيعٌ
سننے والا ہے
عَلِي مٌ
٢٤٤جاننے والا ہے
اور جنگ کرو اللہ کی راہ میں اور خوب جان لو کہ اللہ تعالیٰ سب کچھ سننے والا (اور) سب کچھ جاننے والا ہے
2:245
مَّن
کون ہے
جو
وہ
يُقۡ رِضُ
قرض دے
اللہ کو
قَرۡضًا
قرض
حَسَنًا
حسنہ
تو وہ بڑھا دے اس کو
لَهُۥٓ
اس کے لیے
أَضۡعَافًا
کئی گنا
بہت زیادہ
اور اللہ
يَقۡ بِضُ
گھٹاتا ہے۔ تنگ کرتا ہے
وَيَبۡ صُۜطُ
اور بڑھاتا ہے۔ کشادہ کرتا ہے۔
وَإِلَيۡهِ
اور اسی کی طرف
تُرۡجَعُو نَ
٢٤٥تم لوٹائے جاؤ گے
کون ہے جو اللہ کو قرض حسنہ دے تو اللہ اس کو اس کے لیے کئی گنا بڑھاتا رہے اور اسی کی طرف تمہیں لوٹا دیا جائے گا
2:246
أَلَمۡ
کیا نہیں
تَرَ
تم نے دیکھا
إِلَى
طرف
سرداروں کے
مِنۢ
سے
بنی
إِسۡرٰ ٓءِيلَ
اسرائیل میں
مِنۢ
سے
بعد
مُوسَىٰٓ
موسیٰ کے
إِذۡ
جب
قَالُواۡ
انہوں نے کہا
لِنَبِىٍّ
واسطے ایک نبی کے
اپنے ۔ ان کے
مقرر کر
لَنَا
ہمارے لیے
مَلِكًا
ایک بادشاہ
ہم جنگ کریں
فِى
میں
سَبِيلِ
راستے
اللہ کے
قَالَ
اس نے کہا
هَلۡ
کیا
عَسَيۡتُمۡ
امید ہے تم کو۔ ہوسکتا ہے کہ تم
إِن
اگر
لکھا گیا
عَلَيۡكُمُ
تم پر
جنگ کرنا۔ لڑنا
أَلَّا
کہ نہ
تُقَـٰ تِلُواۡۖ
تم لڑو گے
قَالُواۡ
انہوں نے کہا
وَمَا
اور کیا ہے
لَنَآ
ہمارے لیے
أَلَّا
کہ نہ
نُقَـٰ تِلَ
ہم لڑائی کریں گے۔ ہم جنگ کریں گے
فِى
میں
سَبِيلِ
راستے
اللہ کے
وَقَدۡ
اور تحقیق
أُخۡرِجۡ نَا
ہم نکالے گئے
مِن
سے
اپنے گھروں سے
وَأَبۡ نَا ٓئِنَاۖ
اور اپنے بیٹوں سے
فَلَمّ َا
پھر جب
كُتِبَ
لکھ دیا گیا
عَلَيۡهِمُ
ان پر
جنگ کرنا
تَوَلَّوۡاۡ
تو وہ منہ موڑ گئے
إِلَّا
مگر
قَلِيلاً
تھوڑے سے
ان میں سے
وَٱ للَّهُ
اور اللہ
عَلِيمُۢ
جاننے والا ہے
ظالموں کو
کیا تم نے غور نہیں کیا بنی اسرائیل کے سرداروں کے معاملے میں جو انہیں موسیٰ کے بعد پیش آیا ؟ جبکہ انہوں نے اپنے نبی سے کہا کہ ہمارے لیے کوئی بادشاہ مقرر کردیجیے تاکہ ہم اللہ کی راہ میں جنگ کریں انہوں نے کہا کہ تم سے اس بات کا بھی اندیشہ ہے کہ جب تم پر جنگ فرض کردی جائے تو اس وقت تم جنگ نہ کرو انہوں نے کہا یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ہم اللہ کی راہ میں قتال نہ کریں ؟ جبکہ ہمیں نکال دیا گیا ہے ہمارے گھروں سے اور اپنے بیٹوں سے پھر جب ان پر جنگ فرض کردی گئی تو سب پیٹھ پھیر گئے سوائے ان کی ایک قلیل تعداد کے اور اللہ ایسے ظالموں سے خوب باخبر ہے
2:247
وَقَالَ
اور کہا
لَهُمۡ
ان کے لیے
نَبِيُّهُمۡ
ان کے نبی نے
إِنّ َ
بیشک
اللہ
قَدۡ
تحقیق
بَعَثَ
مقرر کردیا ہے۔ بھیجا ہے
لَكُمۡ
تمہارے لیے
طَالُوتَ
طالوت کو
مَلِكًاۚ
ایک بادشاہ
انہوں نے کہا
أَنّ َىٰ
کہاں سے۔ کیسے۔ کیونکر
يَكُونُ
ہوسکتی ہے
لَهُ
اس کے لیے
بادشاہت
عَلَيۡنَا
ہم پر
وَنَحۡنُ
اور حالانکہ ہم
أَحَقُّ
زیادہ حق دار ہیں
بِٱ لۡمُلۡكِ
بادشاہت کے
مِنۡهُ
اس سے
وَلَمۡ
اور نہیں
يُؤۡتَ
وہ دیا گیا
سَعَةً
وسعت
سے
مال
قَالَ
اس نے کہا
إِنّ َ
بیشک
اللہ نے
چن لیا ہے اس کو
عَلَيۡكُمۡ
اوپر تمہارے
وَزَادَهُۥ
اور بڑھا دیا ہے اس نے اس کی
بَسۡطَةً
فراخی کو۔ کشادگی کو
میں
علم میں
وَٱ لۡجِسۡمِۖ
اور جسم میں
وَٱ للَّهُ
اور اللہ
يُؤۡتِى
دیتا ہے
مُلۡكَهُۥ
بادشاہت اپنی
مَن
جسے
چاہتا ہے
وَٱ للَّهُ
اور اللہ
وٰ سِعٌ
وسعت والا ہے
عَلِي مٌ
٢٤٧جاننے والا ہے
اور ان سے کہا ان کے نبی ؑ نے کہ اللہ تعالیٰ نے طالوت کو تمہارا بادشاہ مقرر کردیا ہے انہوں نے کہا کہ کیسے ہوسکتا ہے کہ اسے ہمارے اوپر بادشاہت ملے ؟ جبکہ ہم اس سے زیادہ حق دار ہیں بادشاہت کے اور اسے تو مال کی وسعت بھی نہیں دی گئی (نبی ؑ نے) کہا : (اب جو چاہو کہو) یقیناً اللہ نے اس کو چن لیا ہے تم پر اور اسے کشادگی عطا کی ہے علم اور جسم دونوں چیزوں میں اور اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے اپنی بادشاہت دے دیتا ہے اور اللہ بہت سمائی والا ہے سب کچھ جاننے والا ہے
2:248
وَقَالَ
اور کہا
لَهُمۡ
ان کے لیے
نَبِيُّهُمۡ
ان کے نبی نے
إِنّ َ
بیشک
ءَايَةَ
نشانی
مُلۡكِهِۦٓ
اس کی بادشاہت کی
أَن
یہ کہ
آجائے گا تمہارے پاس
تابوت
فِيهِ
اس میں
سَكِينَةٌ
تسکین ہے
سے
تمہارے رب کی طرف
وَبَقِيَّةٌ
اور باقی مانندہ ہے
اس میں سے جو
تَرَكَ
چھوڑ گئے
ءَالُ
آل
مُوسَىٰ
موسیٰ
وَءَالُ
اور آل
هَـٰ رُونَ
ہارون
تَحۡمِلُهُ
اٹھائے ہوئے ہوں اس کو
فرشتے
إِنّ َ
بیشک
فِى
میں
ذٰ لِكَ
اس
لَأَيَةً
البتہ ایک نشانی ہے
تمہارے لیے
إِن
اگر
ہو تم
ایمان لانے والے
اور ان سے کہا ان کے نبی نے کہ طالوت کی بادشاہت کی ایک نشانی یہ ہوگی کہ تمہارے پاس وہ صندوق آجائے گا (جو تم سے چھن چکا ہے) جس میں تمہارے لیے تسکین کا سامان ہے تمہارے رب کی طرف سے اور کچھ آل موسیٰ ؑ اور آل ہارون ؑ کے چھوڑے ہوئے تبرکات ہیں وہ صندوق فرشتوں کی تحویل میں ہے یقیناً اس میں تمہارے لیے بڑی نشانی ہے اگر تم ماننے والے ہو