Back to Ruku Indexٱ لۡمَلَؤُاۡ و َأُوۡ لُواۡ ش َدِيدٍ و َٱ لۡأَمۡرُٱ لۡمُلُوكَو َكَذٰ لِكَب ِهَدِيَّةٍ ف َنَاظِرَةُۢ ب ِمَٱ لۡمُرۡسَلُو نَ٣٥ف َمَآ ٱ للَّهُم ِّمّ َآ ب َلۡب ِهَدِيَّتِكُمۡب ِجُنُودٍ ل َّاب ِهَام ِّنۡهَآ و َهُمۡٱ لۡمَلَؤُاۡ ي َأۡتُونِىم ِّنَٱ لۡجِنّ ِت َقُومَم َّقَامِكَۖٱ لَّذِىم ِّنَٱ لۡكِتَـٰ بِي َرۡتَدَّف َضۡلِش َكَرَك َفَرَك َرِي مٌ٤٠ٱ لَّذِينَٱ لۡعِلۡمَق َبۡ لِهَاد ُونِٱ للَّهِۖق َوۡمٍ ك َـٰ فِرِي نَ٤٣ٱ دۡ خُلِىٱ ل صَّرۡحَۖو َكَشَفَتۡس َاقَيۡهَاۚم ُّمَرَّدٌ م ِّن ق َوَارِيرَۗٱ لۡعَـٰ لَمِي نَ٤٤
Ruku 329
1 Surahs13 Versesركوع 329
27:32
قَالَتۡ
کہنے لگی
يَـٰٓ أَيُّهَا
اے
سرداران قوم
أَفۡتُونِى
مجھے مشورہ دو ۔ جواب دو ۔ فتوی دو
فِىٓ
میں
أَمۡرِى
میرے معاملے
مَا
نہیں
كُنت ُ
ہوں میں
قَاطِعَةً
قطعی فیصلہ کرنے والی
أَمۡرًا
اس کام میں
حَتَّىٰ
یہاں تک کہ
تَشۡهَدُو نِ
٣٢تم حاضر ہو میرے پاس
اس نے کہا : اے سردارو ! میرے اس معاملے میں آپ لوگ مجھے مشورہ دیں۔ میں کسی معاملے میں بھی حتمی فیصلہ نہیں کرتی جب تک آپ لوگ موجود نہ ہوں
27:33
قَالُواۡ
انہوں نے کہا
نَحۡنُ
ہم
أُوۡ لُواۡ
والے ہیں
قُوَّةٍ
قوت
اور والے ہیں
بَأۡسٍ
زور
سخت
اور معامل
إِلَيۡكِ
ہ تیری طرف ہے۔ تیرے ہاتھ میں ہے
فَٱ نظ ُرِى
تو دیکھ لو
مَاذَا
کیا کچھ
تَأۡمُرِي نَ
٣٣تم حکم دیتی ہو
انہوں نے کہا : ہم طاقتور بھی ہیں اور زبردست جنگی صلاحیت والے بھی اور فیصلے کا اختیار تو آپ ہی کے پاس ہے چناچہ آپ خود دیکھ لیں کہ کیا حکم دیتی ہیں
27:34
قَالَتۡ
وہ کہنے لگی
إِنّ َ
بیشک
بادشاہ
إِذَا
جب
دَخَلُواۡ
داخل ہوتے ہیں
قَرۡيَةً
کسی بستی میں
أَفۡسَدُوهَا
فساد کرتے ہیں وہ اس میں
وَجَعَلُوٓ اۡ
اور کردیتے ہیں
أَعِزَّةَ
معزز لوگوں کو
أَهۡلِهَآ
اس کے رہنے والے
أَذِلَّةًۖ
ذلیل
اور اسی طرح
يَفۡعَلُو نَ
٣٤وہ کیا کرتے ہیں
اس نے کہا کہ بادشاہ جب کسی بستی میں داخل ہوتے ہیں تو اس میں فساد برپا کردیتے ہیں اور اس کے معزز لوگوں کو ذلیل کردیتے ہیں اور وہ ایسے ہی کرتے ہیں
27:35
وَإِنّ ِى
اور بیشک میں
مُرۡسِلَةٌ
بھیجنے والیل ہوں
إِلَيۡهِم
ان کی طرف
ایک ہدیہ
پھر دیکھتی ہوں
کس چیز کے ساتھ
يَرۡجِعُ
لوٹتے ہیں
بھیجے ہوئے
تو میں ان کی طرف اپنے ایلچی کچھ تحائف کے ساتھ بھیجتی ہوں پھر دیکھتی ہوں کہ وہ کیا جواب لے کر واپس آتے ہیں
27:36
فَلَمّ َا
تو جب
جَا ٓءَ
وہ آئے
سُلَيۡمَـٰ نَ
سلیمان کے پاس
قَالَ
کہا
أَتُمِدُّونَنِ
کیا تم مدد دیتے ہو مجھ کو
بِمَالٍ
مال کے ساتھ
تو جو
ءَاتَـٰ نِۦ َ
عطا کیا مجھ کو
اللہ نے
خَيۡرٌ
بہتر ہے
اس سے جو
ءَاتَـٰ كُم
اس نے عطا کیا تم کو
بلکہ
أَنت ُم
تم
اپنے ہدیے کے ساتھ
تَفۡرَحُو نَ
٣٦تم خوش ہوتے ہو
تو جب وہ (وفد) آیا سلیمان کے پاس اس نے کہا کہ کیا تم میری اعانت کرنا چاہتے ہو مال و دولت سے ؟ تو جو کچھ مجھے اللہ نے دے رکھا ہے وہ کہیں بہتر ہے اس سے جو اس نے تمہیں دیا ہے اپنے ان تحائف سے تم خود ہی خوش رہو
27:37
ٱرۡجِعۡ
پلٹو
إِلَيۡهِمۡ
ان کی طرف
فَلَنَأۡتِيَنّ َهُم
ورنہ البتہ ہم ضرور لائیں گے ان کے پاس
کچھ لشکر
نہیں
قِبَلَ
طاقت۔ مقابلہ
لَهُم
ان کے لیے
ان سے نمٹنے کے لیے
وَلَنُخۡرِجَنّ َهُم
اور البتہ ہم ضرور نکال دیں گے ان کو
اس سے (ان کی اپنی بستی سے)
أَذِلَّةً
ذلت کے ساتھ
اور وہ
صَـٰ غِرُو نَ
٣٧چھوٹے ہوکر رہیں گے
تم لوٹ جاؤ ان کی طرف تو ہم ان پر ایسے لشکروں سے حملہ آور ہوں گے جن کا مقابلہ ان کے لیے ممکن نہیں ہوگا اور ہم نکال باہر کریں گے انہیں اس ملک سے ذلیل کر کے اور وہ خوار ہوجائیں گے
27:38
قَالَ
کہا
يَـٰٓ أَيُّهَا
اے
اہل دربار
أَيُّكُمۡ
کون سا تم میں سے
يَأۡتِينِى
لاتا ہے میرے پاس
بِعَرۡشِهَا
اس کا تخت
قَبۡ لَ
اس سے پہلے
أَن
کہ
وہ آجائیں میرے پاس
مُسۡلِمِي نَ
٣٨تابع ہوکر مطیع ہوکر
پھر اپنے درباریوں سے مخاطب ہو کر) سلیمان نے کہا : اے درباریو ! تم میں سے کون اس (ملکہ) کا تخت میرے پاس لائے گا اس سے پہلے کہ وہ لوگ فرمانبردار ہو کر میرے پاس پہنچیں
27:39
قَالَ
کہا
عِفۡرِيتٌ
ایک دیو نے
میں سے
جنوں
أَنَاۡ
میں
ءَاتِيكَ
لاؤں گا تیرے پاس
بِهِۦ
اس کو،
قَبۡ لَ
اس سے قبل
أَن
کہ
تو کھڑا ہو
مِن
سے
اپنی جگہ
وَإِنّ ِى
اور بیشک میں
عَلَيۡهِ
اس پر
لَقَوِىٌّ
البتہ قوت رکھنے والا ہوں،
أَمِي نٌ
٣٩امانت دارہوں
جنوں میں سے ایک دیو نے کہا کہ میں اسے آپ کے پاس لے آتا ہوں اس سے پہلے کہ آپ ؑ اپنی اس مجلس سے اٹھیں اور میں یقیناً اس کام کے لیے طاقت بھی رکھتا ہوں اور امانت دار بھی ہوں
27:40
قَالَ
کہا
اس شخص نے
عِند َهُۥ
جس کے پاس
عِلۡمٌ
علم تھا
میں سے
کتاب
أَنَاۡ
میں
ءَاتِيكَ
لاؤں گا تیرے پاس
بِهِۦ
اس کو
قَبۡ لَ
اس سے پہلے
أَن
کہ
پھرے۔ جھپکے
إِلَيۡكَ
تیری طرف
طَرۡفُكَۚ
نگاہ تیری
فَلَمّ َا
پھر جب
رَءَاهُ
اس نے دیکھا اس کو
مُسۡتَقِرًّا
لکھا ہوا
عِند َهُۥ
اپنے پاس
قَالَ
کہا
هَـٰ ذَا
یہ
مِن
فضل ہے
رَبِّى
میرے رب کا
لِيَبۡ لُوَنِىٓ
تاکہ وہ آزمائے مجھ کو
ءَأَشۡكُرُ
کیا میں شکر کرتا ہوں
أَمۡ
یا
أَكۡفُرُۖ
ناشکری کرتا ہوں
وَمَن
اور جس نے
شکر کیا
فَإِنّ َمَا
تو یقینا
يَشۡكُرُ
شکر ادا کرے گا
لِنَفۡسِهِۦ ۖ
اپنی ہی ذات کے لیے
وَمَن
اور جس نے
کفر کیا
فَإِنّ َ
تو یقینا
رَبِّى
میرا رب
غَنِىٌّ
بےنیاز ہے
عزت والا ہے
کہنے لگا وہ شخص جس کے پاس کتاب کا علم تھا کہ میں اسے آپ کے پاس لے آتا ہوں اس سے قبل کہ آپ ؑ کی نگاہ پلٹ کر آپ ؑ کی طرف آئے پھر جب اس نے دیکھا اسے اپنے سامنے رکھا ہوا اس ؑ نے کہا کہ یہ میرے رب ہی کے فضل سے ہے تاکہ وہ مجھے آزمائے کہ کیا میں شکر ادا کرتا ہوں یا نا شکری کرتا ہوں اور جو کوئی شکر کرتا ہے وہ اپنے ہی (بھلے کے) لیے کرتا ہے اور جو کوئی نا شکری کرتا ہے تو میرا رب یقیناً بےنیاز ہے بہت کرم کرنے والا
27:41
قَالَ
سلیمان نے کہا
نَكِّرُواۡ
بدل ڈالو۔ غیر مانوس کردو
لَهَا
اس کے لیے
عَرۡشَهَا
اس کا تخت
نَنظ ُرۡ
ہم دیکھتے ہیں
أَتَهۡتَدِىٓ
کیا وہ ہدایت پاتی ہے
أَمۡ
یا
تَكُونُ
ہوتی ہے وہ
مِنَ
میں سے
ان لوگوں
لَا
نہیں
يَهۡتَدُو نَ
٤١جو ہدایت پاتے
سلیمان ؑ نے کہا کہ اس کے لیے اس کے تخت کی ہیئت ذرا بدل دو ہم دیکھیں کہ وہ پہچان پاتی ہے یا ان لوگوں میں سے ہوتی ہے جو نہیں پہچان پاتے
27:42
فَلَمّ َا
تو جب
جَا ٓءَتۡ
وہ آگئی
قِيلَ
کہا گیا
أَهَـٰ كَذَا
کیا اس طرح
عَرۡشُكِۖ
تیرا تخت ہے
قَالَتۡ
بولی
كَأَنّ َهُۥ
گویا کہ وہ
هُوَۚ
وہی ہے
وَأُوتِينَا
اور ہم دیئے گئے
علم
مِن
اس سے
پہلے ہی
وَكُنّ َا
اور تھے ہم
مُسۡلِمِي نَ
٤٢اطاعت گزار
پھر جب وہ آئی تو (اس سے) کہا گیا کہ کیا اسی طرح کا ہے آپ کا تخت ؟ اس نے کہا یہ تو گویا وہی ہے اور ہمیں اس سے پہلے ہی علم حاصل ہوچکا ہے اور ہم اسلام لا چکے ہیں
27:43
وَصَدَّهَا
اور روکا تھا اس کو
مَا
(ان خداؤں نے) جن کی
كَانَت
تھی وہ
تَّعۡبُدُ
عبادت کرتی
مِن
سوا
اللہ کے
إِنّ َهَا
بیشک وہ
كَانَتۡ
تھی وہ
مِن
سے
قوم
کافر قوم (میں سے)
اور سلیمان ؑ نے اسے روک دیا (اس سے) جس کو وہ پوجتی تھی اللہ کے سوا وہ ایک کافر قوم میں سے تھی
27:44
قِيلَ
کہا گیا
لَهَا
اس سے
داخل ہوجا
محل میں
فَلَمّ َا
تو جب
رَأَتۡهُ
اس نے دیکھا اس کو
حَسِبَتۡهُ
سمجھا اس کو
لُجَّةً
حوض
اور کھول لیے
عَن
سے
اپنی پنڈلیوں
قَالَ
فرمایا
إِنّ َهُۥ
بیشک وہ
صَرۡحٌ
محل ہے
چکنا
سے
شیشے بنا ہوا
قَالَتۡ
کہنے لگی
رَبِّ
اے میرے رب
إِنّ ِى
بیشک میں نے
ظَلَمۡتُ
ظلم کیا
نَفۡسِى
اپنی جان پر
وَأَسۡلَمۡتُ
اور میں اسلام لے آئی
مَعَ
کے ساتھ
سُلَيۡمَـٰ نَ
سلیمان
لِلَّهِ
اللہ کے لئیے
رَبِّ
رب
العالمین
اس سے کہا گیا کہ اب محل میں داخل ہو جاؤتو جب اس نے اس (کے فرش) کو دیکھا تو اسے گہرا پانی سمجھا اور اپنی دونوں پنڈلیاں کھول دیں سلیمان ؑ نے کہا : یہ تو ایسا محل ہے جو مرصعّ ہے شیشوں سے اس نے کہا : اے میرے پروردگار ! یقیناً میں نے اپنی جان پر ظلم کیا اور اب میں نے سلیمان ؑ کے ساتھ اللہ کی اطاعت اختیار کی ہی جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے