Back to Ruku Indexٱ ل نّ ِسَا ٓءَي َنك ِحۡنَب ِٱ لۡمَعۡرُوفِۗك َانَٱ لۡأَخِرِۗي ُتِمّ َٱ ل رَّضَاعَةَۚٱ لۡمَوۡلُودِب ِوَلَدِهَال َّهُۥ ٱ لۡوَارِثِت َرَاضٍ م ِّنۡهُمَاف َلَات َسۡتَرۡضِعُوٓ اۡ م َّآ ب ِٱ لۡمَعۡرُوفِۗٱ للَّهَٱ للَّهَي َتَرَبَّصۡنَو َعَشۡرًاۖ ف َإِذَاب ِهِۦ ٱ ل نّ ِسَا ٓءِٱ للَّهُل َّات َقُولُواۡ م َّعۡرُوفًاۚ و َلَاٱ ل نّ ِكَاحِٱ لۡكِتَـٰ بُٱ للَّهَٱ للَّهَ
Ruku 31
1 Surahs4 Versesركوع 31
2:232
وَإِذَا
اور جب
طَلَّقۡ تُمُ
طلاق دے دو تم
عورتوں کو
فَبَلَغۡنَ
پھر وہ پہنچیں
أَجَلَهُنّ َ
اپنی مدت کو
فَلَا
تو نہ
تَعۡضُلُوهُنّ َ
تو منع کرو انہیں۔ تو نہ روکو انہیں
أَن
کہ
وہ نکاح کرلیں
أَزۡوٰ جَهُنّ َ
اپنے شوہروں سے
إِذَا
جب
تَرٰ ضَوۡاۡ
وہ باہم رضا مند ہوجائیں
بَيۡنَهُم
آپس میں
مناسب طریقے سے
ذٰ لِكَ
یہ
يُوعَظُ
نصیحت کی جاتی ہے
بِهِۦ
ساتھ اس کے
مَن
(اسے) جو
ہو
مِنك ُمۡ
تم میں سے
يُؤۡمِنُ
ایمان رکھتا
بِٱ للَّهِ
اللہ پر
وَٱ لۡيَوۡمِ
اور یوم
آخرت پر۔ قیامت کے دن پر
ذٰ لِكُمۡ
یہ بات
أَزۡكَىٰ
زیادہ پاکیزہ ہے
لَكُمۡ
تمہارے لیے
وَأَطۡ هَرُۗ
اور زیادہ پاک ہے
وَٱ للَّهُ
اور اللہ
يَعۡلَمُ
جانتا ہے
وَأَنت ُمۡ
اور تم
لَا
نہیں
تَعۡلَمُو نَ
٢٣٢تم جانتے
اور جب تم اپنی عورتوں کو طلاق دے دو پھر وہ اپنی عدت پوری کرلیں تو مت آڑے آؤ اس میں کہ وہ عورتیں پھر نکاح کرلیں اپنے سابق ازواج سے جبکہ وہ آپس میں رضامند ہوجائیں بھلے طریقے پر یہ وہ چیز ہے جس کی نصیحت کی جا رہی ہے تم میں سے اس کو جو واقعتا ایمان رکھتا ہو اللہ پر اور یوم آخرت پر یہی طریقہ تمہارے لیے زیادہ پاک اور زیادہ عمدہ ہے اور اللہ جانتا ہے تم نہیں جانتے
2:233
۞وَٱ لۡوٰ لِدٰ تُ
اور مائیں
يُرۡضِعۡنَ
دودھ پلائیں
أَوۡلَـٰ دَهُنّ َ
اپنی اولاد کو
حَوۡلَيۡنِ
دو سال
كَامِلَيۡنِۖ
مکمل۔ پورے
لِمَنۡ
واسطے اس کے جو
أَرَادَ
ارادہ کرے
أَن
کہ
وہ پورا کرے
دودھ کی مدت
وَعَلَى
اور پر
جس کا بچہ ہے
لَهُۥ
اس کے
رِزۡقُهُنّ َ
رزق ہے ان عورتوں کا
وَكِسۡوَتُهُنّ َ
اور لباس ان کا
بِٱ لۡمَعۡرُوفِۚ
بھلے طریقے سے
لَا
نہ
تُكَلَّفُ
تکلیف دیا جائے
نَفۡسٌ
کوئی نفس
إِلَّا
مگر
وُسۡعَهَاۚ
اس کی وسعت کے مطابق
لَا
نہ
تُضَا ٓرَّ
نقصان پہنچایا جائے
وٰ لِدَةُۢ
والدہ کو۔ ماں کو
اس کے بچے کی وجہ سے
وَلَا
اور نہ
مَوۡلُودٌ
والد کو
اس کے
بِوَلَدِهِۦ ۚ
بچے کی وجہ سے
وَعَلَى
اور اوپر
وارث کے ہے (ذمہ داری)
مِثۡلُ
مانند۔ اسی قسم کی
ذٰ لِكَۗ
اسی کی
فَإِنۡ
پھر اگر
أَرَادَا
وہ دونوں ارادہ کرلیں
فِصَالاً
دودھ چھڑانے کا باھم رضا مندی سے
عَن
باہم رضا مندی سے
اپنی۔ ان دونوں کی
وَتَشَاوُرٍ
اور باہم مشورے سے
تو نہیں
جُنَاحَ
کوئی گناہ
عَلَيۡهِمَاۗ
ان دونوں پر
وَإِنۡ
اور اگر
أَرَد تُّمۡ
تم ارادہ کرو
أَن
کہ
تم دودھ پلواؤ
أَوۡلَـٰ دَكُمۡ
اپنی اولاد کو
فَلَا
تو نہیں
جُنَاحَ
کوئی گناہ
عَلَيۡكُمۡ
تم پر
إِذَا
جب
سَلَّمۡتُم
سپرد کر دو تم
جو
ءَاتَيۡتُم
دینا۔ کیا تم نے
ساتھ بھلے طریقے کے
وَٱ تَّقُواۡ
اور ڈرو
اللہ سے
وَٱ عۡلَمُوٓ اۡ
اور جان لو
أَنّ َ
بیشک
اللہ تعالیٰ
بِمَا
ساتھ اس کے جو
تَعۡمَلُونَ
تم کرتے ہو
بَصِي رٌ
٢٣٣دیکھنے والا ہے
اور مائیں اپنی اولاد کو دودھ پلائیں پورے دو سال اس شخص کے لیے جو مدت رضاعت پوری کرانا چاہتا ہو اور بچے والے کے ذمے ّ ہے بچوں کی ماؤں کا کھانا اور کپڑا دستور کے مطابق کسی پر ذمہّ داری نہیں ڈالی جاتی مگر اس کی وسعت کے مطابق نہ تو تکلیف پہنچائی جائے کسی والدہ کو اپنے بچے کی وجہ سے اور نہ اس کو جس کا وہ بچہ ہے (یعنی باپ) اس کے بچے کی وجہ سے اور وارث پر بھی اسی طرح کیّ ذمہ داری ہے پھر اگر ماں باپ چاہیں کہ دودھ چھڑا لیں (دو برس کے اندر ہی) باہمی رضامندی اور صلاح سے تو ان دونوں پر کچھ گناہ نہیں اور اگر تم اپنے بچوں کو کسی اور سے دودھ پلواناچاہو تو بھی تم پر کچھ گناہ نہیں جب کہ تم (بچے کی ماں کو) وہ سب کچھ دے دو جس کا کہ تم نے دینا ٹھہرایا تھا دستور کے موافق اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور جان رکھو کہ جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ اسے دیکھ رہا ہے
2:234
وَٱ لَّذِينَ
اور وہ لوگ
يُتَوَفَّوۡنَ
جو فوت کرلیے جاتے ہیں۔ وفات پاجائیں
مِنك ُمۡ
تم میں سے
وَيَذَرُونَ
اور وہ چھوڑ جاتے ہیں
أَزۡوٰ جًا
بیویاں
وہ انتظار کریں۔ وہ روکے رکھیں
بِأَنف ُسِهِنّ َ
اپنے آپ کو۔ کا۔ ساتھ اپنے نفسوں کے
أَرۡبَعَةَ
چار
أَشۡهُرٍ
مہینے
اور دس (دن)
پھر جب
بَلَغۡنَ
وہ پہنچیں
أَجَلَهُنّ َ
اپنی عدت کو
فَلَا
تو نہیں
جُنَاحَ
کوئی گناہ
عَلَيۡكُمۡ
تم پر
فِيمَا
اس میں جو
فَعَلۡنَ
وہ کریں
فِىٓ
میں
أَنف ُسِهِنّ َ
اپنے نفسوں کے بارے
بِٱ لۡمَعۡرُوفِۗ
معروف طریقے سے
وَٱ للَّهُ
اور اللہ
بِمَا
ساتھ اس کے جو
تَعۡمَلُونَ
تم کرتے ہو
خَبِي رٌ
٢٣٤خبر رکھنے والا ہے
اور جو تم میں سے وفات پاجائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں تو وہ عورتیں روکے رکھیں اپنے آپ کو چار ماہ دس دن تک پس جب وہ اپنی اس مدتّ تک پہنچ جائیں (یعنی عدتّ گزار لیں) تو تم پر کوئی گناہ نہیں ہے اس معاملے میں جو کچھ وہ اپنے بارے میں دستور کے مطابق کریں اور جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ اس سے باخب رہے
2:235
وَلَا
اور نہیں
جُنَاحَ
کوئی گناہ
عَلَيۡكُمۡ
تم پر
فِيمَا
اس معاملے میں جو
عَرَّضۡتُم
اشارہ کیا تم نے۔ آگے تم پیش کرتے ہو
ساتھ اس کے
مِنۡ
سے
خِطۡ بَةِ
منگنی کو
عورتوں سے ۔ عورتوں کی منگنی کے بارے میں
أَوۡ
یا
أَكۡنَنت ُمۡ
چھپایا تم نے۔ چھپاتے ہو تم
فِىٓ
میں
أَنف ُسِكُمۡۚ
اپنے نفسوں میں
عَلِمَ
جان لیا۔ معلوم ہے
اللہ نے۔ اللہ کو
أَنّ َكُمۡ
بیشک تم
سَتَذۡكُرُونَهُنّ َ
ضرور تم یاد کرو گے ان کو
وَلَـٰ كِن
اور لیکن
نہ
تُوَاعِدُوهُنّ َ
تم باھم وعدہ کرو ان سے
سِرًّا
چھپ کر۔ پوشیدہ طور پر
إِلَّآ
مگر
أَن
یہ کہ
تم کہو
قَوۡلاً
بات
بھلی
اور نہ
تَعۡزِمُواۡ
تم عزم کرو
عُقۡ دَةَ
گرہ کا
نکاح کی
حَتَّىٰ
یہاں تک کہ
يَبۡ لُغَ
پہنچ جائے
کتاب۔ لکھا ہوا
أَجَلَهُۥ ۚ
اپنی مدت کو
وَٱ عۡلَمُوٓ اۡ
اور جان لو
أَنّ َ
بیشک
اللہ
يَعۡلَمُ
جانتا ہے
مَا
اس کو جو
فِىٓ
میں
أَنف ُسِكُمۡ
تمہارے نفسوں میں ہے
فَٱ حۡذَرُوهُۚ
پس ڈرو اس سے
وَٱ عۡلَمُوٓ اۡ
اور جان لو
أَنّ َ
بیشک
اللہ
غَفُورٌ
بخشنے والا
حَلِي مٌ
٢٣٥بردبار ہے
اور تم پر کچھ گناہ نہیں ہے اس میں کہ کنایہ و اشارہ میں ظاہر کر دو ان عورتوں سے پیغام نکاح یا پوشیدہ رکھو اپنے دلوں میں اللہ کو معلوم ہے کہ تم ان عورتوں کا ذکر کرو گے لیکن ان سے نکاح کا وعدہ نہ کر رکھو چھپ کر سوائے اس کے کہ کوئی بات کہہ دو معروف طریقے سے اور مت باندھو گرہ نکاح کی جب تک کہ قانون شریعت اپنی مدت کو نہ پہنچ جائے اور جان رکھو کہ اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے پس اس سے ڈرتے رہو اور یہ بھی جان رکھو کہ اللہ بخشنے والا اور بردبار ہے