Back to Ruku Indexق َبۡ لُب ِهِۦ ۖٱ ل رَّحۡمَـٰ نُن َّبۡ رَحَت َقُولَم ِّنۡٱ ل رَّسُولِٱ لۡحَيَو ٰ ةِت َقُولَل َّن ت ُخۡلَفَهُۥ ۖٱ لَّذِىل َّنُحَرِّقَنّ َهُۥ ٱ لۡيَمّ ِٱ للَّهُٱ لَّذِىل َّدُنّ َاٱ لۡقِيَـٰ مَةِٱ لۡقِيَـٰ مَةِٱ ل صُّورِۚٱ لۡمُجۡ رِمِينَز ُرۡقًا١٠٢ل َّبِثۡتُمۡل َّبِثۡتُمۡ
Ruku 274
1 Surahs15 Versesركوع 274
20:90
وَلَقَدۡ
اور البتہ تحقیق
قَالَ
کہا تھا
لَهُمۡ
ان کو
هَـٰ رُونُ
ہارون نے
مِن
سے
اس سے پہلے
يَـٰ قَوۡمِ
اے میری قوم
إِنّ َمَا
بیشک
فُتِنت ُم
آزمائش میں ڈالے گئے تم
اس کے ذریعے
وَإِنّ َ
اور بیشک
رَبَّكُمُ
رب تمہارا
رحمن ہے
فَٱ تَّبِعُونِى
پس پیروی کرو میری
وَأَطِيعُوٓ اۡ
اور اطاعت کرو
أَمۡرِى
٩٠میرے حکم کی
اور ہارون ؑ انہیں پہلے ہی کہہ چکا تھا اے میری قوم کے لوگو ! تمہیں تو اس (بچھڑے) کے ذریعے سے فتنے میں ڈالا گیا ہے اور یقیناً تمہارا رب (یہ بچھڑا نہیں بلکہ) رحمن ہے چناچہ تم لوگ میری پیروی کرو اور میری بات مانو
20:91
قَالُواۡ
انہوں نے کہا
لَن
ہرگز نہ
ہم ٹلیں گے۔ ہم ہمیشہ رہیں گے
عَلَيۡهِ
اس پر
عَـٰ كِفِينَ
جم کر رہنے والے
حَتَّىٰ
یہاں تک کہ
يَرۡجِعَ
لوٹ آئے
إِلَيۡنَا
ہماری طرف
مُوسَىٰ
٩١موسیٰ
انہوں نے کہا : ہم تو اسی پر اعتکاف کرتے رہیں گے یہاں تک کہ موسیٰ ؑ خود ہمارے پاس واپس آجائیں
20:92
قَالَ
کہا
يَـٰ هَـٰ رُونُ
اے ہارون
مَا
کس چیز نے
مَنَعَكَ
روکا تجھ کو
إِذۡ
جب
رَأَيۡتَهُمۡ
تم نے دیکھا تھا ان کو
ضَلُّوٓاۡ
٩٢کہ وہ بھٹک گئے ہیں
موسیٰ ؑ ٰ نے کہا : اے ہارون ! آپ ؑ کو کس چیز نے روکا تھا جب آپ ؑ نے انہیں دیکھا کہ وہ گمراہ ہوگئے ہیں
20:93
أَلَّا
کیوں نہ
تَتَّبِعَنِۖ
پیروی کی تم نے میری
أَفَعَصَيۡتَ
کیا پھر نافرمانی کی تم نے
أَمۡرِى
٩٣میرے حکم کی
کہ آپ ؑ نے میری پیروی نہ کی یا پھر آپ ؑ نے نافرمانی کی میرے حکم کی
20:94
قَالَ
کہا
يَبۡ نَؤُمّ َ
اے میری ماں کے بیٹے
لَا
نہ
تَأۡخُذۡ
تم پکڑو
بِلِحۡيَتِى
میری داڑھی کو
وَلَا
اور نہ
بِرَأۡسِىٓۖ
میرے سر کو
إِنّ ِى
بیشک میں
خَشِيتُ
ڈر گیا تھا
أَن
کہ
تم کہو گے
فَرَّقۡ تَ
تو نے جدائی ڈال دی۔ تفرقہ ڈال دیا
بَيۡنَ
درمیان
بَنِىٓ
بنی
إِسۡرٰ ٓءِيلَ
اسرائیل کے
وَلَمۡ
اور نہ
تَرۡقُبۡ
تم نے انتظار کیا
قَوۡلِى
٩٤میری بات کا
ہارون ؑ نے کہا : اے میری ماں کے بیٹے ! آپ ؑ (اس طرح) میری ڈاڑھی اور میرے سر (کے بالوں) کو مت کھینچیں مجھے تو یہ اندیشہ تھا کہ آپ ؑ یہ نہ کہیں کہ تم نے بنی اسرائیل میں تفریق پیدا کردی اور میری بات یاد نہ رکھی
20:95
قَالَ
کہا
فَمَا
تو کیا ہے
خَطۡ بُكَ
تیرا ماجرا
يَـٰ سَـٰ مِرِىُّ
٩٥اے سامری
موسیٰ ؑ ٰ نے کہا : اے سامری ! تمہارا کیا معاملہ ہے
20:96
قَالَ
کہا اس نے
بَصُرۡتُ
میں نے دیکھا
بِمَا
ساتھ اس کے جو
لَمۡ
نہیں
يَبۡ صُرُواۡ
انہوں نے دیکھا
بِهِۦ
جس کو
فَقَبَضۡتُ
تو میں نے اٹھا لی
قَبۡ ضَةً
ایک مٹھی
سے
أَثَرِ
نقش قدم سے
رسول کے
فَنَبَذۡتُهَا
تو نے ڈال دیا اس کو۔ پھینک دیا اس کو
وَكَذٰ لِكَ
اور اسی طرح
سَوَّلَتۡ
آسان کردیا تھا - اچھا کر کے دکھایا تھا
لِى
میرے لیے
نَفۡسِى
٩٦میرے نفس نے
اس نے کہا کہ میں نے (ایک ایسی چیز) دیکھی تھی جو انہوں نے نہیں دیکھی تو میں نے لے لی ایک مٹھیّ (مٹی کی) رسول کے نقش پا سے تو وہ میں نے (اس میں) پھینک دی اور اسی طرح میرے نفس نے یہ راستہ مجھے بتایا
20:97
قَالَ
کہا
فَٱ ذۡهَبۡ
پس جاؤ
فَإِنّ َ
تو بیشک
لَكَ
تیرے لیے
فِى
میں
زندگی میں ہے
أَن
کہ
تو کہے
لَا
نہ
مِسَاسَۖ
چھونا
وَإِنّ َ
اور بیشک
لَكَ
تیرے لیے
مَوۡعِدًا
ایک وعدے کا وقت مقرر ہے
ہرگز نہ
تو پیچھے چھوڑا جائے گا اس سے
وَٱ نظ ُرۡ
اور دیکھ
إِلَىٰٓ
طرف
إِلَـٰ هِكَ
اپنے الہ کے
وہ جو
ظَلۡتَ
رہا تو
عَلَيۡهِ
اس پر
عَاكِفًاۖ
معتکف
البتہ ہم ضرور جلا ڈالیں گے اس کو
ثُمّ َ
پھر
لَنَنس ِفَنّ َهُۥ
البتہ ہم ضرور گرا دیں گے اس کو۔ پھینک دیں گے اس کو
فِى
میں
سمندر میں
نَسۡفًا
٩٧گرا دینا۔ پھینک دینا
موسیٰ ؑ ٰ نے کہا : دفع ہوجاؤ ! اب تمہارے لیے زندگی میں یہی (سزا) ہے کہ تم کہتے رہوگے کہ مجھے کوئی نہ چھوئے اور تمہارے لیے ایک وعدہ ہے جس کی ہرگز خلاف ورزی نہیں کی جائے گی اور دیکھو اپنے اس معبود کو جس کا تم اعتکاف کرتے رہے ہو (ہم اس کے ساتھ کیا معاملہ کرتے ہیں) ہم اسے جلا (کر راکھ کر) دیں گے پھر اس (کی راکھ) کو سمندر میں بکھیر دیں گے
20:98
إِنّ َمَآ
بیشک
إِلَـٰ هُكُمُ
الہ تمہارا
اللہ ہے
وہ ذات
لَآ
نہیں
إِلَـٰ هَ
کوئی الہ برحق
إِلَّا
مگر
هُوَۚ
وہی
وَسِعَ
وسیع ہے۔ چھایا ہوا ہے
كُلَّ
ہر
شَىۡءٍ
چیز پر
عِلۡمًا
٩٨علم کے اعتبار سے
حقیقت میں تمہارا معبود تو صرف اللہ ہے جس کے سوا کوئی اور معبود ہے ہی نہیں اسے ہرچیز کا علم حاصل ہے
20:99
كَذٰ لِكَ
اسی طرح
نَقُصُّ
ہم بیان کرتے ہیں
عَلَيۡكَ
تجھ پر
مِنۡ
سے
أَنۢب َا ٓءِ
خبروں میں سے
مَا
جو
قَدۡ
تحقیق
سَبَقَۚ
گزر چکیں
وَقَدۡ
اور تحقیق
ءَاتَيۡنَـٰ كَ
دیا ہم نے تجھ کو
مِن
سے
اپنے پاس سے
ذِكۡرًا
٩٩ایک ذکر
(تواے نبی ﷺ !) اس طرح ہم سنا رہے ہیں آپ کو حالات اس (زمانے) کے جو گزر چکا ہے اور ہم نے آپ ﷺ کو خاص اپنے پاس سے ذکرعطا کیا ہے
20:100
مَّنۡ
جس نے
أَعۡرَضَ
منہ موڑا
عَنۡهُ
اس سے
فَإِنّ َهُۥ
تو بیشک وہ
يَحۡمِلُ
اٹھائے گا
يَوۡمَ
دن
قیامت کے
وِزۡرًا
١٠٠ایک بوجھ
جس کسی نے اس (قرآن) سے اعراض کیا تو وہ قیامت کے دن ایک بھاری بوجھ اٹھائے گا
20:101
خَـٰ لِدِينَ
ہمیشہ رہنے والے ہیں
فِيهِۖ
اس میں
وَسَا ٓءَ
اور برا ہے
لَهُمۡ
ان کے لیے
يَوۡمَ
دن
قیامت کے
حِمۡلاً
١٠١بوجھ اٹھانا
یہ لوگ اس (کیفیت) میں ہمیشہ رہیں گے اور ان کے لیے بہت برا ہوگا قیامت کے دن کا وہ بوجھ
20:102
يَوۡمَ
جس دن
يُنف َخُ
پھونک ماری جائے گی
فِى
میں
صور (میں )
وَنَحۡشُرُ
اور ہم اکٹھا کریں گے
مجرموں کو
يَوۡمَئِذٍ
اس دن
نیلی آنکھوں والے
جس دن صور پھونکا جائے گا اور ہم مجرموں کو اس دن اکٹھا کریں گے (اس حالت میں) کہ ان کی آنکھیں نیلی پڑی ہوں گی
20:103
يَتَخَـٰ فَتُونَ
سرگوشیاں کریں گے
بَيۡنَهُمۡ
آپس میں
إِن
نہیں
ٹھہرے تم
إِلَّا
مگر
عَشۡرًا
١٠٣دس دن
چپکے چپکے وہ ایک دوسرے سے کہہ رہے ہوں گے کہ تم نہیں رہے ہو (دنیا میں) مگر صرف دس دن
20:104
نَّحۡنُ
ہم
أَعۡلَمُ
زیادہ جانتے ہیں
بِمَا
اس کو جو
يَقُولُونَ
وہ کہیں گے
إِذۡ
جب
يَقُولُ
کہے گا
أَمۡثَلُهُمۡ
سب سے مثالی ان میں سے
طَرِيقَةً
رائے کے اعتبار سے
إِن
نہیں
ٹھہرے تم
إِلَّا
مگر
يَوۡمًا
١٠٤ایک دن
ہم خوب جانتے ہیں جو کچھ وہ کہیں گے جب ان میں سے بہترین سمجھ بوجھ والا شخص کہے گا کہ تم نہیں رہے ہو مگر (زیادہ سے زیادہ) ایک دن