Back to Ruku Indexٱ ل سَّفِينَةِت َسۡتَطِيعَف َقَتَلَهُۥ ز َكِيَّةَۢ ب ِغَيۡرِل َّقَدۡ ن ُّكۡرًا٧٤ت َسۡتَطِيعَس َأَلۡتُكَش َىۡءِۭ ب َعۡدَهَال َّدُنّ ِىٱ سۡتَطۡ عَمَآ ي ُضَيِّفُوهُمَاي ُرِيدُي َنق َضَّٱ ل سَّفِينَةُٱ لۡبَحۡرِم َّلِكٌ ي َأۡخُذُٱ لۡغُلَـٰ مُي ُرۡهِقَهُمَاو َكُفۡرًا٨٠ي ُبۡ دِلَهُمَام ِّنۡهُو َأَقۡ رَبَٱ لۡجِدَارُٱ لۡمَدِينَةِل َّهُمَاف َأَرَادَي َبۡ لُغَآ م ِّن ر َّبِّكَۚ
Ruku 261
1 Surahs12 Versesركوع 261
18:71
فَٱ نط َلَقَا
تو دونوں چل دیئے
حَتَّىٰٓ
یہاں تک کہ
إِذَا
جب
رَكِبَا
وہ دونوں سوار ہوئے
فِى
میں
کشتی
خَرَقَهَاۖ
تو اس نے پھاڑ دیا اس کو
قَالَ
کہا
أَخَرَقۡ تَهَا
تم نے پھاڑ دیا اس کو
لِتُغۡرِقَ
تاکہ غرق کرے
أَهۡلَهَا
اس کے رہنے والوں کو (سواروں کو)
لَقَدۡ
البتہ تحقیق
جِئۡتَ
لایا تو
شَيۡــًٔا
چیز
إِمۡرًا
٧١بہت بھاری
پھر وہ دونوں چل پڑے یہاں تک کہ جب وہ دونوں سوار ہوئے ایک کشتی میں تو اس نے اس (کشتی) میں شگاف ڈال دیا موسیٰ نے کہا کیا آپ نے اسے پھاڑ ڈالا ہے تاکہ غرق کردیں اس کے تمام سواروں کو ؟ یہ تو آپ نے بہت ہی غلط کام کیا ہے
18:72
قَالَ
اس نے کہا
أَلَمۡ
کیا میں نے
أَقُلۡ
کہا نہ تھا
إِنّ َكَ
بیشک تو
لَن
ہرگز نہ
تو استطاعت رکھے گا
مَعِىَ
میرے ساتھ
صَبۡ رًا
٧٢صبر کی
اس نے کہا : میں نے کہا نہیں تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر نہیں کرسکیں گے
18:73
قَالَ
کہا
لَا
نہ
تُؤَاخِذۡنِى
آپ مؤاخذہ کیجئے میرا/ نہ پکڑئیے مجھ کو
بِمَا
ساتھ اس کے جو
نَسِيتُ
میں بھول جاؤں
وَلَا
اور نہ
تُرۡهِقۡ نِى
آپ مجھ پر چھا جائیے
مِنۡ
میں سے
أَمۡرِى
میرے معاملے
عُسۡرًا
٧٣تنگی کے ساتھ/ سختی کے ساتھ
موسیٰ نے کہا : آپ میرا مؤاخذہ نہ کیجیے میرے بھول جانے پر اور نہ ہی میرے معاملے میں زیادہ سختی کیجیے
18:74
فَٱ نط َلَقَا
تو دونوں چل دیئے
حَتَّىٰٓ
یہاں تک کہ
إِذَا
جب
لَقِيَا
وہ دونوں ملے
غُلَـٰ مًا
ایک بچے کو
تو اس نے قتل کردیا اس کو
قَالَ
کہا
أَقَتَلۡتَ
کیا تو نے قتل کردیا
نَفۡسًا
ایک جان کو/ ایک شخص کو
معصوم/ پاک/ بےگناہ
بغیر
نَفۡسٍ
کسی جان کے
البتہ تحقیق
جِئۡتَ
تو لایا ہے / مرتکب ہوا ہے
شَيۡــًٔا
ایک چیز کا
جو قابل نفرت ہے/ ناپسندیدہ ہے
پھر وہ دونوں چل پڑے یہاں تک کہ ان کی ملاقات ہوئی ایک لڑکے سے تو اس (خضر) نے اس کو قتل کردیا موسیٰ نے کہا کیا آپ نے قتل کردیا ایک معصوم جان کو بغیر کسی جان کے (بدلے کے) یہ تو آپ نے بہت ہی نامعقول حرکت کی ہے
18:75
۞قَالَ
کہا
أَلَمۡ
کیا نہیں
أَقُل
میں نے کہا تھا
لَّكَ
تجھ کو
إِنّ َكَ
بیشک تو
لَن
ہرگز نہیں
تو استطاعت رکھتا
مَعِىَ
میرے ساتھ
صَبۡ رًا
٧٥صبر کی
اس (خضر) نے کہا : کیا میں نے آپ سے کہا نہیں تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر نہیں کرسکیں گے
18:76
قَالَ
کہا
إِن
اگر
میں سوال کروں تجھ سے
عَن
کا
کسی چیز کا
اس کے بعد
فَلَا
تو نہ
تُصَـٰ حِبۡ نِىۖ
تو ساتھ رکھنا مجھ کو
قَدۡ
تحقیق
بَلَغۡتَ
پہنچا تجھ کو
مِن
سے
میری طرف (سے)
عُذۡرًا
٧٦عذر
موسیٰ نے کہا : اگر میں آپ سے سوال کروں کسی چیز کے بارے میں اس کے بعد تو آپ مجھے اپنے ساتھ نہ رکھیے گا آپ پہنچ چکے ہیں میری طرف سے حد عذر کو
18:77
فَٱ نط َلَقَا
تو دونوں چل دیے
حَتَّىٰٓ
یہاں تک کہ
إِذَآ
جب
أَتَيَآ
وہ دونوں آئے
أَهۡلَ
والوں کے
قَرۡيَةٍ
ایک بستی (والوں کے پاس)
تو ان دونوں نے کھانا مانگا
أَهۡلَهَا
اس کے رہنے والوں سے
فَأَبَوۡاۡ
تو انہوں نے انکار کردیا
أَن
کہ
وہ مہمان بنائیں ان کو
فَوَجَدَا
تو ان دونوں نے پائی
فِيهَا
اس میں
جِدَارًا
ایک دیوار
وہ چاہتی تھی
أَن
کہ
ٹوٹ جائے۔ ٹوٹ گرے
فَأَقَامَهُۥ ۖ
تو اس نے قائم کردیا اس کو
قَالَ
اس نے کہا
لَوۡ
اگر
شِئۡتَ
تو چاہتا
لَتَّخَذۡتَ
البتہ تو لے لیتا
عَلَيۡهِ
اس پر
أَجۡ رًا
٧٧اجرت
پھر وہ دونوں چل پڑے یہاں تک کہ جب پہنچے ایک بستی کے لوگوں کے پاس تو انہوں نے کھانا مانگا بستی والوں سے تو انہوں نے انکار کردیا ان دونوں کی مہمان نوازی سے تو ان دونوں نے وہاں ایک دیوار دیکھی جو گرا چاہتی تھی تو اس (خضر) نے اسے سیدھا کردیا موسیٰ نے کہا : اگر آپ چاہتے تو اس پر کچھ اجرت لے لیتے
18:78
قَالَ
کہا
هَـٰ ذَا
یہ ہے
فِرَاقُ
جدائی
بَيۡنِى
میرے درمیان
وَبَيۡنِكَۚ
اور تیرے درمیان
سَأُنَبِّئُكَ
عنقریب میں بتاؤں گا تجھ کو
بِتَأۡوِيلِ
حقیقت
مَا
اس کی جو
لَمۡ
نہیں
تَسۡتَطِع
تو کرسکا
عَّلَيۡهِ
اس پر
صَبۡ رًا
٧٨صبر
اس (خضر) نے کہا بس اب یہ جدائی (کا وقت) ہے میرے اور آپ کے درمیان اب میں آپ کو بتائے دیتا ہوں اصل حقیقت ان چیزوں کی جن پر آپ صبر نہ کرسکے
18:79
أَمّ َا
رہی
کشتی
فَكَانَتۡ
تو وہ تھی
لِمَسَـٰ كِينَ
مسکینوں کی
يَعۡمَلُونَ
جو کام کرتے تھے
فِى
میں
سمندر (میں)
فَأَرَد تُّ
تو میں نے چاہا
أَنۡ
کہ
أَعِيبَهَا
میں عیب دار کردوں اس کو
وَكَانَ
اور تھا
وَرَا ٓءَهُم
ان کے پیچھے
ایک بادشاہ
جو لے رہا تھا
كُلَّ
ہر
سَفِينَةٍ
کشتی کو
غَصۡبًا
٧٩ظلم سے۔ چھین کر۔ غصب کرکے
جہاں تک اس کشتی کا معاملہ ہے تو وہ غریب لوگوں کی (ملکیت) تھی جو محنت کرتے تھے دریا میں تو میں نے چاہا کہ اسے عیب دار کر دوں اور ان کے آگے ایک بادشاہ تھا جو پکڑ رہا تھا ہر کشتی کو زبردستی
18:80
وَأَمّ َا
اور رہا
لڑکا
فَكَانَ
تو تھے
أَبَوَاهُ
اس کے والدین
مُؤۡمِنَيۡنِ
دونوں مومن
فَخَشِينَآ
تو ڈرہوا ہم کو
أَن
کہ
وہ غالب آجائے ان دونوں پر
طُغۡيَـٰ نًا
سرکشی سے
اور کفر کے ساتھ
رہا وہ لڑکا تو اس کے والدین دونوں مؤمن تھے تو ہمیں خدشہ ہوا کہ وہ سرکشی اور ناشکری سے ان پر تعدی کرے گا
18:81
فَأَرَدۡ نَآ
تو ارادہ کیا ہم نے
أَن
کہ
بدل کردے ان کو
رَبُّهُمَا
ان کا رب
خَيۡرًا
بہتر
اس سے
زَكَو ٰ ةً
پاکیزگی میں
اور زیادہ قریب
رُحۡمًا
٨١شفقت میں۔ رحمت میں
پس ہم نے چاہا کہ ان دونوں کو بدلے میں دے ان کا رب اس سے بہتر (اولاد) پاکیزگی میں اور قریب تر شفقت میں
18:82
وَأَمّ َا
اور جہاں تک
دیوار کا تعلق ہے
فَكَانَ
تو تھی
لِغُلَـٰ مَيۡنِ
دو لڑکوں کی
يَتِيمَيۡنِ
دونوں یتیم
فِى
میں
شہر میں
وَكَانَ
اور تھا
تَحۡتَهُۥ
اس کے نیچے
كَنزٌ
ایک خزانہ
ان دونوں کا
وَكَانَ
اور تھا
أَبُوهُمَا
ان کا والد
صَـٰ لِحًا
نیک
تو ارادہ کیا
رَبُّكَ
تیرے رب نے
أَن
کہ
وہ دونوں پہنچیں
أَشُدَّهُمَا
اپنی جوانی کو
وَيَسۡتَخۡرِجَا
اور نکالیں
كَنز َهُمَا
اپنے خزانے کو
رَحۡمَةً
بطور رحمت
سے
تیرے رب کی طرف سے
وَمَا
اور نہیں
فَعَلۡتُهُۥ
میں نے کہا اس کو
عَنۡ
سے
أَمۡرِىۚ
اپنے حکم سے
ذٰ لِكَ
یہ ہے
تَأۡوِيلُ
حقیقت
مَا
جو
لَمۡ
نہیں
تَسۡطِع
تم استطاعت رکھ سکے
عَّلَيۡهِ
اس پر
صَبۡ رًا
٨٢صبر کی
اور رہی وہ دیوار تو وہ شہر کے دو یتیم لڑکوں کی تھی اور اس کے نیچے خزانہ تھا ان دونوں کے لیے اور ان کا باپ نیک آدمی تھا لہٰذا آپ کے رب نے چاہا کہ وہ دونوں اپنی جوانی کو پہنچ جائیں اور نکال لیں اپنا خزانہ (یہ سب امور) آپ کے رب کی رحمت سے (طے ہوئے) تھے اور میں نے اپنی رائے سے انہیں سر انجام نہیں دیا یہ ہے اصل حقیقت ان باتوں کی جن پر آپ صبر نہ کرسکے