Back to Ruku Indexٱ لۡبَحۡرَيۡنِٱ لۡبَحۡرِس َفَرِنَاٱ ل صَّخۡرَةِٱ لۡحُوتَٱ ل شَّيۡطَـٰ نُٱ لۡبَحۡرِم ِّنۡم ِّنۡل َّدُنّ َات ُعَلِّمَنِت َسۡتَطِيعَش َا ٓءَٱ للَّهُو َلَآ ٱ تَّبَعۡتَنِىش َىۡءٍ
Ruku 260
1 Surahs11 Versesركوع 260
18:60
وَإِذۡ
اور جب
قَالَ
کہا
مُوسَىٰ
موسیٰ (علیہ السلام) نے
لِفَتَـٰ هُ
اپنے نوجوان کو/ غلام کو/ خادم کو
لَآ
نہ
أَبۡ رَحُ
میں پلٹوں گا/ نہ میں پھروں گا
حَتَّىٰٓ
یہاں تک کہ
أَبۡ لُغَ
میں پہنچ جاؤں
مَجۡ مَعَ
جمع ہونے کی جگہ
دو دریاؤں کے
أَوۡ
یا
أَمۡضِىَ
میں چلتا رہوں گا
حُقُبًا
٦٠برسوں/ مدتوں
اور یاد کرو جب موسیٰ نے اپنے نوجوان (ساتھی) سے کہا کہ میں (چلنا) نہیں چھوڑوں گا یہاں تک کہ دو دریاؤں کے ملنے کے مقام پر پہنچ جاؤں یا میں برسوں چلتا ہی رہوں گا
18:61
فَلَمّ َا
تو جب
بَلَغَا
وہ دونوں پہنچے
مَجۡ مَعَ
سنگم پر/جمع ہونے کی جگہ پر
بَيۡنِهِمَا
درمیان ان دو دریاؤں کے
نَسِيَا
تو دونوں بھول گئے
حُوتَهُمَا
اپنی مچھلی کو
فَٱ تَّخَذَ
پس اس نے بنا لیا
سَبِيلَهُۥ
اپنا راستہ
فِى
میں
سمندر
سَرَبًا
٦١سرنگ کی طرح
پھر جب وہ دونوں پہنچ گئے دو دریاؤں کے ملنے کے مقام پر تو وہ اپنی مچھلی کو بھول گئے اور اس (مچھلی) نے اپنا راستہ بنا لیا تھا دریا میں سرنگ کی طرح
18:62
فَلَمّ َا
تو جب
جَاوَزَا
وہ آگے بڑھے
قَالَ
کہا
لِفَتَـٰ هُ
اپنے خادم سے
ءَاتِنَا
لائیے ہمارے پاس
غَدَا ٓءَنَا
ہمارا ناشتہ/ دوپہر کا کھانا
لَقَدۡ
البتہ تحقیق
لَقِينَا
ملاقات کی ہم نے
مِن
سے
اس سفر
هَـٰ ذَا
اپنے
نَصَبًا
٦٢تھکاوٹ سے
پھر جب وہ دونوں (وہاں سے) آگے نکل گئے تو موسیٰ نے اپنے ساتھی سے کہا کہ اب ہمارا ناشتہ لے آؤ اپنے اس سفر سے تو ہمیں بہت تکان ہوگئی ہے
18:63
قَالَ
اس نے کہا
أَرَءَيۡتَ
، کیا دیکھا تم نے
إِذۡ
جب
أَوَيۡنَآ
ہم نے پناہ لی تھی
إِلَى
طرف
چٹان کی
فَإِنّ ِى
تو بیشک میں
نَسِيتُ
میں بھول گیا
مچھلی کو
وَمَآ
اور نہیں
أَنۡسَـٰ نِيهُ
بھلایا مجھے اس کو
إِلَّا
مگر
شیطان نے
أَنۡ
کہ
أَذۡكُرَهُۥ ۚ
میں ذکر کروں اس کا
وَٱ تَّخَذَ
اور اس نے بنالیا تھا
سَبِيلَهُۥ
اپنا راستہ
فِى
میں
سمندر
عَجَبًا
٦٣عجیب طریقے سے
اس (نوجوان) نے کہا : دیکھئے جب ہم ٹھہرے تھے چٹان کے پاس تو میں بھول گیا مچھلی کو (نگاہ میں رکھنا) اور نہیں مجھے بھلائے رکھا مگر شیطان نے کہ میں (آپ سے) اس کا ذکر کروں اور اس نے تو بنا لیا تھا اپنا راستہ دریا میں عجیب طرح سے
18:64
قَالَ
(موسیٰ نے) کہا
ذٰ لِكَ
یہی ہے
مَا
جو
كُنّ َا
تھے ہم
نَبۡ غِۚ
ہم چاہتے
فَٱ رۡتَدَّا
تو وہ دونوں پلٹے
عَلَىٰٓ
پر
ءَاثَارِهِمَا
اپنے نشانوں
قَصَصًا
٦٤نشان قدم تلاش کرتے ہوئے
موسیٰ نے کہا : یہی تو تھا جس کی ہمیں تلاش تھی پس وہ دونوں واپس لوٹے اپنے نقوش پا کو دیکھتے ہوئے
18:65
فَوَجَدَا
تو دونوں نے پایا
عَبۡ دًا
ایک بندے کو
میں سے
عِبَادِنَآ
ہمارے بندوں
ءَاتَيۡنَـٰ هُ
دی تھی ہم نے اس کو
رَحۡمَةً
رحمت
سے
عِند ِنَا
اپنے پاس (سے)
وَعَلَّمۡنَـٰ هُ
اور سکھایا تھا ہم نے اس کو
مِن
اپنے پاس سے
عِلۡمًا
٦٥علم
تو پایا انہوں نے (وہاں) ہمارے بندوں میں سے ایک بندے کو جسے ہم نے رحمت عطا کی تھی اپنی طرف سے اور اسے سکھایا تھا ایک علم خاص اپنے پاس سے
18:66
قَالَ
کہا
لَهُۥ
اس کو
مُوسَىٰ
موسیٰ نے
هَلۡ
کیا
أَتَّبِعُكَ
میں پیروی کروں آپ کی
عَلَىٰٓ
اوپر اس بات کے
أَن
کہ
تو سکھائے مجھ کو
مِمّ َا
اس میں سے
عُلِّمۡتَ
جو تو سکھایا گیا
رُشۡدًا
٦٦سمجھ بوجھ
موسیٰ نے اس سے کہا : کیا میں آپ کے ساتھ رہ سکتا ہوں اس شرط پر کہ آپ مجھے سکھائیں اس میں سے جو بھلائی آپ کو سکھائی گئی ہے
18:67
قَالَ
اس نے کہا
إِنّ َكَ
بیشک تو
لَن
ہرگز نہ
تو استطاعت رکھے گا
مَعِىَ
میرے ساتھ
صَبۡ رًا
٦٧صبر کی
اس نے کہا : میرے ساتھ (رہ کر) آپ ہرگز صبر نہیں کرسکیں گے
18:68
وَكَيۡفَ
اور کس طرح
تَصۡبِرُ
تم صبر کرسکتے ہو
عَلَىٰ
اوپر اس کے
مَا
جو
لَمۡ
نہیں
تُحِطۡ
تم نے احاطہ کیا
بِهِۦ
سے
خُبۡ رًا
٦٨اس کا پوری پوری معرفت کے ساتھ/ پوری سمجھ
اور آپ کیسے صبر کریں گے اس چیز پر جس کی آپ کو پوری پوری خبر نہیں
18:69
قَالَ
اس نے کہا
سَتَجِدُنِىٓ
عنقریب تم پاؤ گے مجھ کو
إِن
اگر
چاہا
اللہ نے
صَابِرًا
صبر کرنے والا
اور نہیں
أَعۡصِى
میں نافرمانی کروں گا
لَكَ
تیرے لئے
أَمۡرًا
٦٩کسی حکم میں/ کسی بات میں
موسیٰ نے کہا : آپ مجھے ان شاء اللہ صابر پائیں گے اور میں خلاف ورزی نہیں کروں گا آپ کے کسی حکم کی
18:70
قَالَ
کہا
فَإِنِ
پھر اگر
تم پیروی کرو میری
فَلَا
پس نہ
تَسۡــَٔلۡنِى
تم سوال کرنا مجھ سے
عَن
کسی
چیز کے بارے میں
حَتَّىٰٓ
یہاں تک کہ
أُحۡدِثَ
میں بیان کروں
لَكَ
تمہارے لئے
مِنۡهُ
اس میں سے
ذِكۡرًا
٧٠ذکر کرنا/ بیان کرنا
اس نے کہا : اگر آپ میرے ساتھ چلنا چاہتے ہیں تو کسی چیز کے بارے میں مجھ سے خود نہ پوچھنا یہاں تک کہ میں خود ہی آپ کو اس کے بارے میں بتادوں