Back to Ruku Index

Ruku 245

1 Surahs8 Versesركوع 245
17:53
وَقُل
اور کہہ دیجئے
لِّعِبَادِى
میرے بندوں کو
يَقُولُواۡ
وہ کہیں
ٱلَّتِى
وہ بات
هِىَ
جو
أَحۡسَنُ‌ۚ
زیادہ اچھی ہو
إِنَّ
کیونکہ
ٱلشَّيۡطَـٰنَ
شیطان
يَنزَغُ
فساد ڈلواتا ہے
بَيۡنَهُمۡ‌ۚ
ان کے درمیان
إِنَّ
بیشک
ٱلشَّيۡطَـٰنَ
شیطان
كَانَ
ہے
لِلۡإِنسَـٰنِ
انسان کے لئے
عَدُوًّا
دشمن
مُّبِينًا
کھلا
٥٣
اور آپ میرے بندوں سے کہہ دیجیے کہ وہی بات کہیں جو بہت اچھی ہو یقیناً شیطان ان کے درمیان جھگڑا ڈالے گا یقیناً شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے
17:54
رَّبُّكُمۡ
تمہارا رب
أَعۡلَمُ
خوب جانتا ہے
بِكُمۡ‌ۖ
تم کو
إِن
اگر
يَشَأۡ
وہ چاہے
يَرۡحَمۡكُمۡ
رحم کرے تم پر
أَوۡ
یا
إِن
اگر
يَشَأۡ
چاہے
يُعَذِّبۡكُمۡ‌ۚ
عذاب دے تم کو
وَمَآ
اور نہیں
أَرۡسَلۡنَـٰكَ
بھیجا ہم نے آپ کو
عَلَيۡهِمۡ
ان پر
وَكِيلاً
کار ساز
٥٤
تمہارا رب تم سے خوب واقف ہے۔ اگر وہ چاہے گا تو تم پر رحم فرمائے گا یا اگر چاہے گا تو تمہیں عذاب دے گا اور (اے نبی !) ہم نے آپ کو ان پر داروغہ بنا کر نہیں بھیجا
17:55
وَرَبُّكَ
اور تیرا رب
أَعۡلَمُ
خوب جانتا ہے
بِمَن
اس کو جو
فِى
میں ہے
ٱلسَّمَـٰوٰتِ
آسمانوں
وَٱلۡأَرۡضِ‌ۗ
اور زمین میں
وَلَقَدۡ
اور البتہ تحقیق
فَضَّلۡنَا
فضیلت دی ہم نے
بَعۡضَ
بعض
ٱلنَّبِيِّــۧنَ
نبیوں کو
عَلَىٰ
پر
بَعۡضٍ‌ۖ
بعض
وَءَاتَيۡنَا
اور دی ہم نے
دَاوُۥدَ
داؤد کو
زَبُورًا
زبور
٥٥
اور آپ کا رب خوب جانتا ہے اس کو جو کوئی ہے آسمانوں اور زمین میں اور ہم نے بعض انبیاء کو بعض پر فضیلت بخشی ہے اور ہم نے داؤد کو زبور عطا کی تھی
17:56
قُلِ
کہہ دیجئے
ٱدۡعُواۡ
کہ پکارو
ٱلَّذِينَ
ان لوگوں کو
زَعَمۡتُم
تم گمان رکھتے ہو
مِّن
سے
دُونِهِۦ
اس کے سوا تو
فَلَا
نہیں
يَمۡلِكُونَ
وہ مالک ہوسکتے
كَشۡفَ
ہٹانے کے
ٱلضُّرِّ
تکلیف
عَنكُمۡ
تم سے
وَلَا
اور نہ
تَحۡوِيلاً
بدلنے کے
٥٦
آپ کہیے کہ ان کو پکار دیکھو جن کو تم نے اس کے سوا (معبود) گمان کر رکھا ہے تو نہ انہیں کچھ اختیار حاصل ہے تم سے کوئی تکلیف دور کرنے کا اور نہ ہی (تمہاری حالت) بدلنے کا
17:57
أُوۡلَـٰٓئِكَ
یہ
ٱلَّذِينَ
وہ لوگ ہیں
يَدۡعُونَ
جن کو وہ پکارتے ہیں
يَبۡتَغُونَ
وہ (خود) تلاش کرتے ہیں
إِلَىٰ
طرف
رَبِّهِمُ
اپنے رب کی
ٱلۡوَسِيلَةَ
کوئی ذریعہ
أَيُّهُمۡ
کون سا ان میں سے
أَقۡرَبُ
قریب تر
وَيَرۡجُونَ
اور وہ امید رکھتے ہیں
رَحۡمَتَهُۥ
اس کی رحمت کی
وَيَخَافُونَ
اورر وہ ڈرتے ہیں
عَذَابَهُۥٓ‌ۚ
اس کے عذاب سے
إِنَّ
بیشک
عَذَابَ
عذاب
رَبِّكَ
تیرے رب کا
كَانَ
ہے
مَحۡذُورًا
ڈرنے کے لائق
٥٧
وہ لوگ جنہیں یہ پکارتے ہیں وہ تو خود اپنے رب کے قرب کے متلاشی ہیں کہ ان میں سے کون (اس کے) زیادہ قریب ہے اور وہ امیدوار ہیں اس کی رحمت کے اور ڈرتے رہتے ہیں اس کے عذاب سے واقعتا آپ کے رب کا عذاب چیز ہی ڈرنے کی ہے
17:58
وَإِن
اور نہیں
مِّن
سے
قَرۡيَةٍ
کوئی بستی
إِلَّا
مگر
نَحۡنُ
ہم
مُهۡلِكُوهَا
ہلاک کرنے والے ہیں اس کو
قَبۡلَ
پہلے
يَوۡمِ
دن سے
ٱلۡقِيَـٰمَةِ
قیامت کے
أَوۡ
یا
مُعَذِّبُوهَا
عذاب دینے والے ہیں اس کو
عَذَابًا
عذاب
شَدِيدًا‌ۚ
سخت
كَانَ
ہے
ذٰلِكَ
یہ
فِى
میں
ٱلۡكِتَـٰبِ
کتاب
مَسۡطُورًا
لکھا ہوا
٥٨
اور نہیں ہے کوئی بستی مگر ہم اسے ہلاک کر کے رہیں گے روز قیامت سے قبل یا ہم عذاب دیں گے اسے بہت ہی شدید عذاب یہ (اللہ کی) کتاب میں لکھا ہوا ہے
17:59
وَمَا
اور نہیں
مَنَعَنَآ
روکا ہم کو
أَن
کہ
نُّرۡسِلَ
ہم بھیجیں
بِٱلۡأَيَـٰتِ
نشانیاں
إِلَّآ
مگر
أَن
یہ کہ
كَذَّبَ
جھٹلایا
بِهَا
ان کو
ٱلۡأَوَّلُونَ‌ۚ
پہلوں میں
وَءَاتَيۡنَا
اور دی ہم نے
ثَمُودَ
ثمود کو
ٱلنَّاقَةَ
اونٹنی
مُبۡصِرَةً
واضح/ روشن کرنے والی
فَظَلَمُواۡ
تو انہوں نے ظلم کیا
بِهَا‌ۚ
اس کے ساتھ
وَمَا
اور نہیں
نُرۡسِلُ
ہم بھیجتے
بِٱلۡأَيَـٰتِ
نشانیاں
إِلَّا
مگر
تَخۡوِيفًا
ڈرانے کے لئے
٥٩
اور ہمیں نہیں روکا (کسی اور بات نے) کہ ہم نشانیاں بھیجیں سوائے اس کے کہ ان کو جھٹلا دیا تھا پہلے لوگوں نے اور ہم نے قوم ثمود کو اونٹنی دی آنکھیں کھول دینے والی نشانی (کے طو رپر) تو انہوں نے اس کے ساتھ بھی ظلم کیا اور ہم نہیں بھیجتے نشانیاں مگر صرف ڈرانے کے لیے
17:60
وَإِذۡ
اور جب
قُلۡنَا
کہا ہم نے
لَكَ
تیرے لئے
إِنَّ
بیشک
رَبَّكَ
تیرے رب نے
أَحَاطَ
گھیر لیا ہے
بِٱلنَّاسِ‌ۚ
لوگوں کو
وَمَا
اور نہیں
جَعَلۡنَا
بنایا ہم نے
ٱلرُّءۡيَا
منظر کو
ٱلَّتِىٓ
وہ جو
أَرَيۡنَـٰكَ
دکھایا ہم نے تجھ کو
إِلَّا
مگر
فِتۡنَةً
فتنہ
لِّلنَّاسِ
لوگوں کے لئے
وَٱلشَّجَرَةَ
اور وہ درخت
ٱلۡمَلۡعُونَةَ
جو لعنت کیا گیا
فِى
میں
ٱلۡقُرۡءَانِ‌ۚ
قرآن
وَنُخَوِّفُهُمۡ
اور ہم ڈراتے ہیں ان کو
فَمَا
تو نہیں
يَزِيدُهُمۡ
بڑھاتا/ زیادہ کرتا ان کو
إِلَّا
مگر
طُغۡيَـٰنًا
سرکشی
كَبِيرًا
بڑی (میں)
٦٠
اور جب ہم آپ سے کہتے ہیں کہ آپ کے رب نے لوگوں کا احاطہ کیا ہوا ہے اور نہیں بنایا ہم نے اس مشاہدے کو جو ہم نے آپ کو دکھایا تھا مگر ایک فتنہ لوگوں کے لیے اور اس درخت کو بھی جس پر قرآن میں لعنت وارد ہوئی ہے اور (ان باتوں سے) ہم تو انہیں تنبیہہ کرتے ہیں مگر یہ تنبیہہ ان کی سرکشی ہی میں اضافہ کیے جا رہی ہے