Back to Ruku Indexٱ سۡتَيۡــَٔسُواۡ ق َالَم َّوۡثِقًا م ِّنَٱ للَّهِق َبۡ لُٱ لۡأَرۡضَٱ للَّهُٱ لۡحَـٰ كِمِي نَ٨٠ٱ بۡ نَكَٱ لۡقَرۡيَةَٱ لَّتِىٱ لَّتِىٓ ف َصَبۡ رٌ ج َمِيلٌۖٱ للَّهُي َأۡتِيَنِىٱ لۡعَلِيمُٱ لۡحَكِي مُ٨٣ٱ لۡحُزۡنِٱ لۡهَـٰ لِكِي نَ٨٥ٱ للَّهِٱ للَّهِٱ ذۡهَبُواۡ ي ُوسُفَر َّوۡحِٱ للَّهِۖر َّوۡحِٱ للَّهِٱ لۡقَوۡمُٱ لۡكَـٰ فِرُو نَ٨٧ٱ لۡعَزِيزُٱ ل ضُّرُّم ُّزۡجَـٰ ةٍ ف َأَوۡفِٱ لۡكَيۡلَٱ للَّهَٱ لۡمُتَصَدِّقِي نَ٨٨م َّاب ِيُوسُفَٱ للَّهُي َتَّقِٱ للَّهَٱ لۡمُحۡسِنِي نَ٩٠ٱ للَّهُك ُنّ َاٱ لۡيَوۡمَۖٱ للَّهُٱ ل رّٰ حِمِي نَ٩٢و َأۡتُونِى
Ruku 202
1 Surahs14 Versesركوع 202
12:80
فَلَمّ َا
پھر جب
وہ مایوس ہوگئے
مِنۡهُ
اس سے
خَلَصُواۡ
اکیلے بیٹھے
نَجِيًّاۖ
سرگوشیاں کرنے کو/ مشورہ کرنے کو
کہا
كَبِيرُهُمۡ
ان کے بڑے نے
أَلَمۡ
کیانہیں
تَعۡلَمُوٓ اۡ
تم جانتے ہو
أَنّ َ
کہ
أَبَاكُمۡ
تمہارے والد نے
قَدۡ
تحقیق
أَخَذَ
لیا
عَلَيۡكُم
تم پر
پکا وعدہ
نام سے
اللہ کے
وَمِن
اور اس سے
پہلے
مَا
جو
فَرَّطتُمۡ
کوتاہی کی تم نے
فِى
میں
يُوسُفَۖ
یوسف کے معاملے
فَلَنۡ
تو ہرگز نہ
أَبۡ رَحَ
میں ٹلوں گا
اس زمین سے
حَتَّىٰ
یہاں تک کہ
يَأۡذَنَ
اجازت دے
لِىٓ
مجھ کو
أَبِىٓ
میرا باپ
أَوۡ
یا
يَحۡكُمَ
فیصلہ کردے
اللہ
لِىۖ
میرے لئے
وَهُوَ
اور وہ
خَيۡرُ
بہترین
فیصلہ کرنے والا ہے
پھر جب وہ یو سف سے مایوس ہوگئے تو علیحدگی میں جا کر مشورہ کرنے لگے ان کے بڑے نے کہا : کیا تمہیں معلوم نہیں کہ تمہارے والد نے تم سے اللہ کے نام پر پختہ عہد لیا ہوا ہے اور (کیا تم نہیں جانتے) جو زیادتی اس سے پہلے تم یوسف کے معاملے میں کرچکے ہو اب میں تو اس سر زمین سے نہیں ہلوں گا یہاں تک کہ میرے والد خود مجھے اجازت دے دیں یا پھر اللہ ہی میرے بارے میں کوئی فیصلہ کردے اور یقیناً وہ بہترین فیصلہ کرنے والا ہے
12:81
ٱرۡجِعُوٓ اۡ
لوٹ آؤ
إِلَىٰٓ
طرف
أَبِيكُمۡ
اپنے باپ کی
فَقُولُواۡ
پھر کہو
يَـٰٓ أَبَانَآ
اے ہمارے ابا جان
إِنّ َ
بیشک
تیرے بیٹے نے
سَرَقَ
چوری کی ہے
وَمَا
اور ہم نے
شَهِدۡ نَآ
دیکھا نہیں
إِلَّا
مگر
بِمَا
جو ہم کو
عَلِمۡنَا
معلوم ہوا
وَمَا
اور نہیں
كُنّ َا
ہیں ہم
لِلۡغَيۡبِ
غیب کے لئے
حَـٰ فِظِي نَ
٨١حفاظت کرنے والے
تم لوٹ جاؤ اپنے والد کے پاس اور (جا کر) کہو کہ ابا جان ! آپ کے بیٹے نے چوری کی ہے اور ہم گواہی نہیں دے سکتے مگر اسی چیز کی جس کے بارے میں ہمیں علم ہے اور ہم غیب کے نگہبان نہیں ہیں
12:82
وَسۡــَٔلِ
اور پوچھ لو
بستی والوں سے
وہ جو
كُنّ َا
تھے ہم
فِيهَا
اس میں
وَٱ لۡعِيرَ
اور اہل قافلہ سے
وہ جو
أَقۡ بَلۡنَا
ہم آئے ہیں
فِيهَاۖ
اس میں
وَإِنّ َا
اور بیشک ہم
لَصَـٰ دِقُو نَ
٨٢البتہ سچے ہیں
آپ اس بستی (والوں) سے پوچھ لیں جس میں ہم تھے اور اس قافلے (والوں) سے جن کے ساتھ ہم آئے ہیں۔ اور ہم (اپنے بیان میں) بالکل سچے ہیں
12:83
قَالَ
کہا
بَلۡ
بلکہ
سَوَّلَتۡ
آسان کردیا
لَكُمۡ
تمہارے لئے
أَنف ُسُكُمۡ
تمہارے نفسوں نے
أَمۡرًاۖ
ایک کام کو
تو صبر ہی
اچھا ہے
عَسَى
امید ہے کہ
اللہ
أَن
لے آئے گا میرے پاس
بِهِمۡ
ان کو
جَمِيعًاۚ
سب کے سب کو
إِنّ َهُۥ
کیونکہ وہ
هُوَ
وہ
علم والا
حکمت والا ہے
آپ نے فرمایا : (نہیں !) بلکہ تمہارے لیے تمہارے نفسوں نے ایک کام آسان کردیا ہے پس صبر ہی بہتر ہے ہوسکتا ہے اللہ ان سب کو لے آئے میرے پاس۔ یقیناً وہ سب کچھ جاننے والا حکمت والا ہے
12:84
وَتَوَلَّىٰ
اور اس نے منہ پھیرلیا
عَنۡهُمۡ
ان سے
وَقَالَ
اور بولا
يَـٰٓ أَسَفَىٰ
ہائے افسوس
عَلَىٰ
پر
يُوسُفَ
یوسف
وَٱ بۡ يَضَّتۡ
اور سفید ہوگئیں
عَيۡنَاهُ
اس کی دونوں آنکھیں
مِنَ
سے
غم کی وجہ
فَهُوَ
تو وہ
كَظِي مٌ
٨٤سخت غمگین تھے
اور آپ نے ان سے رخ پھیرلیا اور کہنے لگے ہائے افسوس یوسف پر ! (اور رونا شروع کردیا) اور صدمے سے آپ کی آنکھیں سفید پڑگئی تھیں کیونکہ آپ غم کو (اندر ہی اندر) پیتے رہتے تھے
12:85
قَالُواۡ
انہوں نے کہا
تَٱ للَّهِ
قسم اللہ کی
تَفۡتَؤُاۡ
تو ہمیشہ رہتا ہے
تَذۡكُرُ
ذکر کرتا/ یاد کرتا
يُوسُفَ
یوسف کو
حَتَّىٰ
یہاں تک کہ
تَكُونَ
تو ہوجائے
حَرَضًا
بیمار/ بیکار
أَوۡ
یا
تَكُونَ
تو ہوجائے
مِنَ
میں سے
ہلاک ہونے والوں
انہوں نے کہا : (ابا جان !) اللہ کی قسم آپ تو یوسف ہی کو یاد کرتے رہیں گے یہاں تک کہ آپ یا تو (اسی صدمے میں) گھل جائیں گے یا فوت ہوجائیں گے
12:86
قَالَ
اس نے کہا
إِنّ َمَآ
بیشک
أَشۡكُواۡ
میں شکایت کرتاہوں
بَثِّى
اپنی پریشانی کی
وَحُزۡنِىٓ
اور اپنے غم کی
إِلَى
طرف
اللہ کی
وَأَعۡلَمُ
اور میں جانتا ہوں
مِنَ
سے
اللہ کی طرف (سے)
مَا
جو
لَا
نہیں
تَعۡلَمُو نَ
٨٦تم جانتے
یعقوب نے فرمایا : میں اپنی پریشانی اور اپنے غم کی فریاد اللہ ہی سے کرتا ہوں اور میں اللہ کی طرف سے وہ کچھ جانتا ہوں جو تم لوگ نہیں جانتے ہو
12:87
يَـٰ بَنِىَّ
اے میرے بچو !
جاؤ
فَتَحَسَّسُواۡ
پس ٹوہ لگاؤ
مِن
سے
یوسف کی
وَأَخِيهِ
اور اس کے بھائی کی
وَلَا
اور مت
تَاۡ يۡــَٔسُواۡ
مایوس ہو
مِن
سے
رحمت
اللہ کی
إِنّ َهُۥ
کیونکہ
لَا
نہیں
يَاۡ يۡــَٔسُ
مایوس ہوتے
مِن
سے
رحمت
اللہ کی
إِلَّا
سوائے
قوم کے
کافر
اے میرے بیٹو ! جاؤ اور تلاش کرو یوسف کو بھی اور اس کے بھائی کو بھی اور اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہونا یقیناً اللہ کی رحمت سے مایوس تو بس کافر ہی ہوتے ہیں
12:88
فَلَمّ َا
پھر جب
دَخَلُواۡ
وہ داخل ہوئے
عَلَيۡهِ
اس پر
قَالُواۡ
کہنے لگے
يَـٰٓ أَيُّهَا
اے
عزیز
مَسَّنَا
پہنچی ہم کو
وَأَهۡلَنَا
اور ہمارے گھر والوں کو
تکلیف
وَجِئۡنَا
اور لائے ہیں ہم
بِبِضَـٰ عَةٍ
پونچی
حقیر سی
پس پورا پورا دے دیجئے
لَنَا
ہم کو
پیمانہ
وَتَصَدَّقۡ
اور صدقہ کر
عَلَيۡنَآۖ
ہم پر
إِنّ َ
بیشک
اللہ تعالیٰ
يَجۡ زِى
جزا دیتا ہے
صدقہ کرنے والوں کو
پھر جب وہ لوگ یوسف کے ہاں پہنچے انہوں نے کہا : اے عزیز (صاحب اختیار) ! ہم پر اور ہمارے اہل و عیال پر بڑی سختی آگئی ہے اور ہم بہت حقیر سی پونجی لے کر آئے ہیں لیکن (اس کے باوجود) آپ ہمارے لیے پیمانے پورے بھر کردیجیے اور ہمیں خیرات بھی دیجیے یقیناً اللہ صدقہ دینے والوں کو جزاد یتا ہے
12:89
قَالَ
اس نے کہا
هَلۡ
کیا
عَلِمۡتُم
تم جانتے ہو
کیا
فَعَلۡتُم
کیا تھا تم نے
یوسف کے ساتھ
وَأَخِيهِ
اور اس کے بھائی کے
إِذۡ
جب
أَنت ُمۡ
تھے تم
جَـٰ هِلُو نَ
٨٩لاعلم
آپ نے پوچھا : کیا تم لوگوں کو یاد ہے کہ تم نے کیا کیا تھا یوسف اور اس کے بھائی کے ساتھ جب کہ تم نادان تھے
12:90
قَالُوٓ اۡ
انہوں نے کہا
أَءِنّ َكَ
کیا بیشک تو
لَأَنت َ
التبہ تو ہی
يُوسُفُۖ
یوسف ہے
قَالَ
اس نے کہا
أَنَاۡ
میں
يُوسُفُ
یوسف ہوں
وَهَـٰ ذَآ
اور یہ
أَخِىۖ
میرا بھائی ہے
قَدۡ
تحقیق
مَنّ َ
احسان کیا
اللہ نے
عَلَيۡنَآۖ
ہم پر
إِنّ َهُۥ
بیشک وہ
مَن
جو
تقویٰ اختیار کرے
وَيَصۡبِرۡ
اور صبر کرے
فَإِنّ َ
تو یقیناً
اللہ تعالیٰ
لَا
نہیں
يُضِيعُ
ضائع کرتا
أَجۡ رَ
اجر
محسنین کا
انہوں نے کہا : تو کیا آپ یوسف ہیں ؟ یوسف نے فرمایا : ہاں ! میں یوسف ہوں اور یہ میرا بھائی ہے اللہ نے ہم پر بڑا احسان کیا ہے۔ یقیناً جو شخص تقویٰ کی روش اختیار کرتا ہے اور صبر کرتا ہے تو اللہ ایسے نیکو کاروں کے اجر کو ضائع نہیں کرتا
12:91
قَالُواۡ
انہوں نے کہا
تَٱ للَّهِ
اللہ کی قسم
لَقَدۡ
البتہ تحقیق
ءَاثَرَكَ
ترجیح دی تجھ کو
اللہ نے
عَلَيۡنَا
ہم پر
وَإِن
اور بیشک
تھے ہم
لَخَـٰ طِــِٔي نَ
٩١البتہ خطا کار
انہوں نے کہا : اللہ کی قسم ! اللہ نے آپ کو ہم پر فضیلت بخشی ہے اور یقیناً ہم ہی خطاکار تھے
12:92
قَالَ
اس نے کہا
لَا
نہیں
تَثۡرِيبَ
کوئی الزام
عَلَيۡكُمُ
تم پر
آج
يَغۡفِرُ
معاف کردے
اللہ
لَكُمۡۖ
تم کو
وَهُوَ
اور وہ
أَرۡحَمُ
سب سے بڑھ کر
رحم فرمانے والا ہے
یوسف نے فرمایا : آج کے دن تم لوگوں پر کوئی ملامت نہیں اللہ تمہیں معاف کرے اور وہ تمام رحم کرنے والوں سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے
12:93
ٱذۡهَبُواۡ
لے جاؤ
بِقَمِيصِى
میری قمیص کو
هَـٰ ذَا
اس کو
فَأَلۡقُوهُ
پھر ڈال دو اس کو
عَلَىٰ
پر
وَجۡ هِ
چہرے
أَبِى
میرے باپ کے
يَأۡتِ
آجائے گا
بَصِيرًا
دیکھنے والا
اور لے آؤ میرے پاس
بِأَهۡلِكُمۡ
اپنے گھر والوں کو
أَجۡ مَعِي نَ
٩٣سب کے سب کو
تم میری یہ قمیص لے جاؤ اور (جا کر) اسے میرے والد کے چہرے پر ڈال دو آپ کی بصارت لوٹ آئے گی اور تم لے آؤ میرے پاس اپنے تمام اہل خانہ کو