Back to Ruku Index

Ruku 200

1 Surahs11 Versesركوع 200
12:58
وَجَآءَ
اور آئے
إِخۡوَةُ
بھائی
يُوسُفَ
یوسف کے
فَدَخَلُواۡ
پھر وہ داخل ہوئے
عَلَيۡهِ
اس پر
فَعَرَفَهُمۡ
پس اس نے پہچان لیا انہیں
وَهُمۡ
اور وہ
لَهُۥ
اس کے لئے
مُنكِرُونَ
انکار کرنے والے تھے
٥٨
اور آئے یوسف کے بھائی اور آپ کے سامنے پیش ہوئے تو آپ نے انہیں پہچان لیا مگر وہ آپ کو نہیں پہچان پائے
12:59
وَلَمَّا
پھر جب
جَهَّزَهُم
اس نے تیار کیا ان کو
بِجَهَازِهِمۡ
ساتھ ان کے سامان کے
قَالَ
بولے
ٱئۡتُونِى
لانا میرے پاس
بِأَخٍ
بھائی کو
لَّكُم
اپنے
مِّنۡ
سے
أَبِيكُمۡ‌ۚ
جو تمہارے باپ سے ہے
أَلَا
کیا نہیں
تَرَوۡنَ
تم دیکھتے ہو
أَنِّىٓ
بیشک میں
أُوفِى
پورا پورا دیتا ہوں
ٱلۡكَيۡلَ
پیمانہ
وَأَنَاۡ
اور میں
خَيۡرُ
بہترین
ٱلۡمُنزِلِينَ
مہمان نواز ہوں
٥٩
پھر جب آپ نے ان کا سامان تیار کروا دیا تو فرمایا کہ (آئندہ) اپنے اس بھائی کو بھی میرے پاس لے کر آنا جو تمہارے والد سے (تمہارا بھائی) ہے کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ میں پیمانہ پورا بھر کردیتا ہوں اور بہترین مہمان نوازی کرنے والا بھی ہوں
12:60
فَإِن
پھر
لَّمۡ
اگر نہ
تَأۡتُونِى
تم لائے اس کو
بِهِۦ
میرے پاس
فَلَا
تو نہیں
كَيۡلَ
کوئی پیمانہ / غلہ
لَكُمۡ
تمہارے لئے
عِندِى
میرے پاس
وَلَا
اور نہ
تَقۡرَبُونِ
تم قریب آنا میرے
٦٠
اور اگر تم اسے میرے پاس لے کر نہیں آؤ گے تو میرے پاس تمہارے لیے کوئی غلہ نہیں ہے اور تم میرے قریب بھی نہ پھٹکنا
12:61
قَالُواۡ
انہوں نے کہا
سَنُرٰوِدُ
عنقریب ہم قائل کریں گے
عَنۡهُ
اس کے بارے میں
أَبَاهُ
اس کے باپ کو
وَإِنَّا
اور بیشک ہم
لَفَـٰعِلُونَ
البتہ کرنے والے ہیں
٦١
انہوں نے کہا کہ ہم اس کے بارے میں اس کے والد کو آمادہ کرنے کی کوشش کریں گے اور ہم یہ ضرور کر کے رہیں گے
12:62
وَقَالَ
اور کہا
لِفِتۡيَـٰنِهِ
اپنے غلاموں کو
ٱجۡعَلُواۡ
رکھ دو
بِضَـٰعَتَهُمۡ
ان کی پونجی کو/ سامان کو
فِى
میں
رِحَالِهِمۡ
ان کی خُرجیوں
لَعَلَّهُمۡ
شاید کہ وہ
يَعۡرِفُونَهَآ
اس کو پہچان جائیں
إِذَا
جب وہ
ٱنقَلَبُوٓاۡ
پلٹیں
إِلَىٰٓ
اپنے
أَهۡلِهِمۡ
گھر والوں کی طرف
لَعَلَّهُمۡ
شاید کہ وہ
يَرۡجِعُونَ
لوٹ آئیں
٦٢
اور یوسف نے اپنے نوجوانوں سے کہا کہ ان کی پونجی (بھی واپس) ان کے کجاو وں میں رکھ دو تاکہ وہ پہچانیں ان کو جب لوٹیں اپنے اہل و عیال کی طرف شاید کہ (اس طرح) وہ دوبارہ آئیں
12:63
فَلَمَّا
تو جب
رَجَعُوٓاۡ
وہ لوٹے
إِلَىٰٓ
طرف
أَبِيهِمۡ
اپنے باپ کی
قَالُواۡ
انہوں نے کہا
يَـٰٓأَبَانَا
اے ہمارے ابا جان
مُنِعَ
روکا گیا
مِنَّا
ہم سے
ٱلۡكَيۡلُ
غلہ
فَأَرۡسِلۡ
تو بھیج دیجئے
مَعَنَآ
ہمارے ساتھ
أَخَانَا
ہمارے بھائی کو
نَكۡتَلۡ
ہم غلہ لائیں
وَإِنَّا
اور بیشک ہم
لَهُۥ
اس کے لئے
لَحَـٰفِظُونَ
البتہ حفاظت کرنے والے ہیں
٦٣
پھر جب وہ لوٹے اپنے والد کے پاس تو کہنے لگے : ابا جان ! ہم سے (ایک) پیمانہ روک لیا گیا ہے تو (آئندہ) ہمارے بھائی کو ہمارے ساتھ بھیجئے گا تاکہ ہم (اس کے حصے کا بھی) غلہ لے کر آئیں اور ہم اس کی پوری حفاظت کریں گے
12:64
قَالَ
کہا
هَلۡ
کیا
ءَامَنُكُمۡ
میں بھروسہ کرلوں تم پر
عَلَيۡهِ
اس کے معاملے میں
إِلَّا
مگر
كَمَآ
جیسا کہ
أَمِنتُكُمۡ
میں نے بھروسہ کیا تم پر
عَلَىٰٓ
معاملے میں
أَخِيهِ
اس کے بھائی کے
مِن
اس سے
قَبۡلُ‌ۖ
قبل
فَٱللَّهُ
پس اللہ
خَيۡرٌ
بہترین
حَـٰفِظًا‌ۖ
حفاظت کرنے والا ہے
وَهُوَ
اور وہ
أَرۡحَمُ
سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے
ٱلرّٰحِمِينَ
سب رحم کرنے والوں (سے)
٦٤
یعقوب نے فرمایا کہ کیا میں اس کے بارے میں اسی طرح تم پر اعتبار کرلوں جیسے میں نے اس کے بھائی (یوسف) کے بارے میں پہلے تم پر اعتبار کیا تھا (ویسے تو) اللہ ہی بہترین محافظ ہے اور وہی تمام رحم کرنے والوں میں سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے
12:65
وَلَمَّا
اور جب
فَتَحُواۡ
انہوں نے کھولا
مَتَـٰعَهُمۡ
اپنے سامان کو
وَجَدُواۡ
انہوں نے پایا
بِضَـٰعَتَهُمۡ
اپنا سرمایہ
رُدَّتۡ
لوٹادیا گیا تھا
إِلَيۡهِمۡ‌ۖ
ان کی طرف
قَالُواۡ
انہوں نے کہا
يَـٰٓأَبَانَا
اے ہمارے ابا جان
مَا
کیا
نَبۡغِى‌ۖ
ہم (اور) چاہتے ہیں
هَـٰذِهِۦ
یہ ہماری
بِضَـٰعَتُنَا
پونچی ہے
رُدَّتۡ
لوٹائی گئی ہے
إِلَيۡنَا‌ۖ
ہماری طرف
وَنَمِيرُ
اور ہم غلہ لائیں گے
أَهۡلَنَا
اپنے گھر والوں کے لئے
وَنَحۡفَظُ
اور ہم حفاظت کریں گے
أَخَانَا
اپنے بھائی کی
وَنَزۡدَادُ
اور ہم زیادہ لائیں گے
كَيۡلَ
بھر غلہ
بَعِيرٍ‌ۖ
اونٹ
ذٰلِكَ
یہ
كَيۡلٌ
غلہ ہے
يَسِيرٌ
آسان
٦٥
اور جب انہوں نے کھولا اپنا سامان تو انہوں نے دیکھا کہ ان کی پونچی انہیں لوٹا دی گئی ہے وہ پکار اٹھے : ابا جان ! ہمیں اور کیا چاہیے ؟ یہ ہماری پونجی بھی ہمیں لوٹا دی گئی ہے (اب ہم جائیں گے) اور اپنے اہل و عیال کے لیے غلہ لائیں گے اور اپنے بھائی کی حفاظت کریں گے اور ایک اونٹ کا بوجھ زیادہ لائیں گے۔ یہ (ایک اضافی) بوجھ (لانا تو اب) بہت آسان ہے
12:66
قَالَ
کہا
لَنۡ
ہرگز نہ
أُرۡسِلَهُۥ
میں بھیجوں گا اس کو
مَعَكُمۡ
تمہارے ساتھ
حَتَّىٰ
یہاں تک کہ
تُؤۡتُونِ
تم دو مجھ کو
مَوۡثِقًا
پختہ وعدہ اپنا
مِّنَ
طرف سے
ٱللَّهِ
اللہ کی
لَتَأۡتُنَّنِى
البتہ تم ضرور لاؤ گے میرے پاس
بِهِۦٓ
اس کو
إِلَّآ
مگر
أَن
یہ کہ
يُحَاطَ
گھیر لیا جائے
بِكُمۡ‌ۖ
تمہیں
فَلَمَّآ
پھر جب
ءَاتَوۡهُ
انہوں نے دیا اس کو
مَوۡثِقَهُمۡ
پختہ وعدہ اپنا
قَالَ
اس نے کہا
ٱللَّهُ
اللہ
عَلَىٰ
اس پر
مَا
جو
نَقُولُ
ہم کہتے ہیں
وَكِيلٌ
کار ساز ہے/ نگہبان ہے
٦٦
یعقوب نے فرمایا : میں اسے (واپس) ہرگز نہیں بھیجوں گا تمہارے ساتھ یہاں تک کہ تم میرے سامنے پختہ قسم کھاؤ اللہ کی کہ تم لازماً اسے لے کر آؤ گے میرے پاس سوائے اس کے کہ تم سب کو گھیرے میں لے لیاجائے پھر جب انہوں نے آپ کو اپنا پختہ قول وقرار دے دیا تو یعقوب نے فرمایا کہ جو کچھ ہم کہہ رہے ہیں اللہ اس پر نگہبان ہے
12:67
وَقَالَ
اور اس نے کہا
يَـٰبَنِىَّ
اے میرے بچو
لَا
نہ
تَدۡخُلُواۡ
تم داخل ہونا
مِنۢ
سے
بَابٍ
دروازے
وٰحِدٍ
ایک
وَٱدۡخُلُواۡ
بلکہ داخل ہونا
مِنۡ
سے
أَبۡوٰبٍ
دروازوں
مُّتَفَرِّقَةٍ‌ۖ
مختلف
وَمَآ
اور نہیں
أُغۡنِى
میں بچا سکتا
عَنكُم
تم کو
مِّنَ
سے
ٱللَّهِ
اللہ
مِن
کسی
شَىۡءٍ‌ۖ
چیز سے
إِنِ
نہیں
ٱلۡحُكۡمُ
فیصلہ
إِلَّا
مگر
لِلَّهِ‌ۖ
اللہ کے لئے
عَلَيۡهِ
اسی پر
تَوَكَّلۡتُ‌ۖ
میں نے توکل کیا
وَعَلَيۡهِ
اور اسی پر
فَلۡيَتَوَكَّلِ
پس چاہیے کہ توکل کیا کریں
ٱلۡمُتَوَكِّلُونَ
توکل کرنے والے
٦٧
اور آپ نے کہا : اے میرے بیٹو ! تم لوگ ایک دروازے سے (شہر میں) داخل نہ ہونا بلکہ متفرق دروازوں سے داخل ہونا اور میں تم کو بچا نہیں سکتا اللہ (کے فیصلے) سے کچھ بھی اختیار مطلق تو صرف اللہ ہی کا ہے اسی پر میں نے توکلّ کیا ہے اور تمام توکل کرنے والوں کو اسی پر توکل کرنا چاہیے
12:68
وَلَمَّا
اور جب
دَخَلُواۡ
وہ داخل ہوئے
مِنۡ
سے
حَيۡثُ
جہاں
أَمَرَهُمۡ
حکم دیا تھا ان کو
أَبُوهُم
ان کے باپ نے
مَّا
نہ
كَانَ
تھا کہ
يُغۡنِى
کام آتا
عَنۡهُم
ان کو
مِّنَ
سے
ٱللَّهِ
اللہ
مِن
شَىۡءٍ
کچھ بھی
إِلَّا
مگر
حَاجَةً
ایک حاجت تھی
فِى
میں
نَفۡسِ
دل (میں)
يَعۡقُوبَ
یعقوب کے
قَضَـٰهَا‌ۚ
اس نے پورا کیا اس کو
وَإِنَّهُۥ
اور بیشک وہ
لَذُو
والا تھا
عِلۡمٍ
البتہ علم
لِّمَا
واسطے اس کے جو
عَلَّمۡنَـٰهُ
سکھایا تھا ہم نے اس کو
وَلَـٰكِنَّ
لیکن
أَكۡثَرَ
اکثر
ٱلنَّاسِ
لوگ
لَا
نہیں
يَعۡلَمُونَ
علم رکھتے
٦٨
تو جب وہ داخل ہوئے جہاں سے انہیں حکم دیا تھا ان کے والد نے وہ (یعقوب) بچانے والا نہیں تھا ان کو اللہ (کے فیصلے) سے کچھ بھی سوائے اس کے کہ یعقوب کے دل میں ایک خیال تھا جو اس نے اسے پورا کرلیا اور یقیناً آپ صاحب علم تھے اس علم کے اعتبار سے جو ہم نے آپ کو سکھایا تھا لیکن اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں