Back to Ruku Indexٱ لۡمَلِكُٱ ئۡتُونِىٱ ل رَّسُولُٱ رۡجِعۡٱ ل نّ ِسۡوَةِٱ لَّـٰ تِىن َّفۡسِهِۦ ۚس ُو ٓءٍۚ ق َالَتِٱ مۡرَأَتُٱ لۡعَزِيزِٱ لۡـَٔـٰ نَٱ لۡحَقُّن َّفۡسِهِۦ ٱ ل صَّـٰ دِقِي نَ٥١ٱ للَّهَٱ لۡخَا ٓئِنِي نَ٥٢ٱ ل نّ َفۡسَب ِٱ ل سُّو ٓءِر َّحِي مٌ٥٣ٱ لۡمَلِكُٱ ئۡتُونِىٱ لۡيَوۡمَٱ جۡ عَلۡنِىٱ لۡأَرۡضِۖٱ لۡأَرۡضِن َّشَا ٓءُۖٱ لۡمُحۡسِنِي نَ٥٦ٱ لۡأَخِرَةِل ِّلَّذِينَ
Ruku 199
1 Surahs8 Versesركوع 199
12:50
وَقَالَ
اور کہا
بادشاہ نے
میرے پاس لے آؤ
بِهِۦ ۖ
اس کو
فَلَمّ َا
تو جب
جَا ٓءَهُ
آیا اس کے پاس
ایلچی۔ پیغام لانے والا
قَالَ
(یوسف نے) کہا
واپس جاؤ
إِلَىٰ
پاس
رَبِّكَ
اپنے آقا کے
فَسۡــَٔلۡهُ
پھر اس سے پوچھو
مَا
کیا
بَالُ
حال ہے
عورتوں کا
جنہوں نے
قَطَّعۡنَ
کاٹ دیے تھے
أَيۡدِيَهُنّ َۚ
اپنے ہاتھ
إِنّ َ
بے شک
رَبِّى
میرا رب
بِكَيۡدِهِنّ َ
ان کی چال سے
عَلِي مٌ
٥٠واقف ہے
(یہ سن کر) بادشاہ نے کہا کہ اس شخص کو میرے پاس لے آؤ پھر جب آیا آپ کے پاس ایلچی تو آپ نے فرمایا کہ تم واپس چلے جاؤ اپنے آقا کے پاس اور اس سے پوچھو کہ ان عورتوں کا کیا معاملہ تھا جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لیے تھے یقیناً میرا رب ان کی چالوں سے خوب واقف ہے
12:51
قَالَ
کہا (بادشاہ نے (
مَا
کیا
خَطۡ بُكُنّ َ
معاملہ ہے تمہارا
إِذۡ
جب
رٰ وَد تُّنّ َ
تم سب نے پھسلانا چاہا تھا
يُوسُفَ
یوسف کو
عَن
سے
اس کے نفس سے
قُلۡنَ
کہنے لگیں
حَـٰ شَ
حاش۔پاکی
لِلَّهِ
اللہ۔ پاکی اللہ کے لیے ہے
مَا
نہیں
عَلِمۡنَا
جانا ہم نے
عَلَيۡهِ
اس پر
مِن
کسی
برائی کو
کہنے لگی
بیوی
عزیز کی
اب
حَصۡحَصَ
واضح ہوگیا
حق
أَنَاۡ
میں نے
رٰ وَد تُّهُۥ
پھسلانا چاہا تھا اس کو
عَن
سے
اس کے نفس سے
وَإِنّ َهُۥ
اور بیشک وہ
لَمِنَ
البتہ
سچوں میں سے ہے
اس نے پوچھا کہ کیا معاملہ تھا تمہارا جب تم سب نے پھسلانا چاہا تھا یوسف کو انہوں نے کہا کہ اللہ گواہ ہے ہمارے علم میں اس کے بارے میں کوئی بھی برائی نہیں ہے (اس پر) عزیز کی بیوی بھی بول اٹھی کہ اب حقیقت تو واضح ہو ہی گئی ہے میں نے ہی اس کو پھسلانے کی کوشش کی تھی اور وہ بالکل سچا ہے
12:52
ذٰ لِكَ
یہ
لِيَعۡلَمَ
تاکہ وہ جان لے
أَنّ ِى
بیشک میں
لَمۡ
نہیں
أَخُنۡهُ
میں نے خیانت کی اس کی
بِٱ لۡغَيۡبِ
غائبانہ طور پر
وَأَنّ َ
اور بیشک
اللہ تعالیٰ
لَا
نہیں
يَهۡدِى
رہنمائی کرتا
كَيۡدَ
چال کو
خیانت کاروں کی
یہ اس لیے کہ وہ جان لے کہ میں نے اس کی غیرموجودگی میں اس کی خیانت نہیں کی اور یہ کہ یقیناً اللہ خیانت کرنے والوں کی چال کو کامیاب نہیں کرتا
12:53
۞وَمَآ
اور نہیں
أُبَرِّئُ
میں بری الذمہ کرتا
نَفۡسِىٓۚ
اپنے نفس کو
إِنّ َ
بیشک
نفس
لَأَمّ َارَةُۢ
البتہ بہت حکم دینے والا ہے
برائی کا
إِلَّا
مگر
مَا
اس کے جو
رَحِمَ
رحم کرے
رَبِّىٓۚ
میرا رب
إِنّ َ
رَبِّى
میرا رب
غَفُورٌ
غفور،
رحیم ہے
اور میں اپنے نفس کو بری قرار نہیں دیتی یقیناً (انسان کا) نفس تو برائی ہی کا حکم دیتا ہے سوائے اس کے جس پر میرا رب رحم فرمائے۔ یقیناً میرا رب بہت بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے۔
12:54
وَقَالَ
اور کہا
بادشاہ نے
میرے پاس لاؤ
بِهِۦٓ
اس کو
أَسۡتَخۡلِصۡهُ
میں خالص کرلوں اس کو
لِنَفۡسِىۖ
اپنی ذات کے لئے
فَلَمّ َا
تو جب
كَلَّمَهُۥ
اس نے کلام کیا اس سے
قَالَ
کہا
إِنّ َكَ
بیشک تو
آج کے دن (سے)
لَدَيۡنَا
ہمارے پاس
مَكِينٌ
رتبے والا ہے
أَمِي نٌ
٥٤امانت دار ہے
اور بادشاہ نے (اب فیصلہ کن انداز میں) کہا کہ اس کو میرے پاس لے آؤ میں اسے اپنا مصاحب خاص بناؤں گا تو جب بادشاہ نے آپ سے بات چیت کی تو کہا کہ آج کے دن سے آپ ہمارے نزدیک بڑے با عزت اور معتبر انسان ہیں
12:55
قَالَ
اس نے کہا
مقدر کر دیجئے مجھ کو
عَلَىٰ
اوپر
خَزَا ٓئِنِ
خزانوں کے
زمین کے
إِنّ ِى
بیشک میں
حَفِيظٌ
حفاظت کرنے والا ہوں
عَلِي مٌ
٥٥علم رکھنے والا ہوں
آپ نے فرمایا کہ مجھے ملک کے خزانوں پر مقرر کردیں میں حفاظت کرنے والا بھی ہوں اور جاننے والا بھی ہوں
12:56
وَكَذٰ لِكَ
اور اسی طرح
مَكَّنّ َا
اقتدار دیا ہم نے
لِيُوسُفَ
یوسف کو
فِى
میں
زمین
يَتَبَوَّأُ
جگہ بنائے
مِنۡهَا
اس میں سے
حَيۡثُ
جہاں
يَشَا ٓءُۚ
چاہے
نُصِيبُ
ہم پہنچاتے ہیں
بِرَحۡمَتِنَا
اپنی رحمت کو
مَن
جس کو
ہم چاہتے ہیں
وَلَا
اور نہیں
نُضِيعُ
ہم ضائع کرتے
أَجۡ رَ
اجر
محسنین کا
اور اس طرح ہم نے یوسف کو تمکن عطا کیا (مصر کی) زمین میں کہ وہ اس میں جہاں چاہے اپنا ٹھکانہ بنا لے ہم اپنی رحمت سے نوازتے ہیں جس کو چاہتے ہیں اور ہم نیکو کاروں کا اجرضائع نہیں کرتے
12:57
وَلَأَجۡ رُ
اور البتہ اجر
آخرت کا
خَيۡرٌ
بہتر ہے
ان لوگوں کے لئے
ءَامَنُواۡ
جو ایمان لائے
وَكَانُواۡ
اور وہ
يَتَّقُو نَ
٥٧تقویٰ اختیار کرتے ہیں
اور آخرت کا اجر تو بہت ہی بہتر ہے ان کے لیے جو ایمان لائیں اور تقویٰ کی روش اختیار کیے رکھیں