Back to Ruku Index

Ruku 196

1 Surahs6 Versesركوع 196
12:30
۞وَقَالَ
اور کہا
نِسۡوَةٌ
عورتوں نے
فِى
میں
ٱلۡمَدِينَةِ
شہر
ٱمۡرَأَتُ
بیوی۔ عورت
ٱلۡعَزِيزِ
عزیز کی
تُرٰوِدُ
اکساتی ہے۔ پھسلاتی ہے
فَتَـٰهَا
اس کو
عَن
سے
نَّفۡسِهِۦ‌ۖ
اس کے نفس سے
قَدۡ
تحقیق
شَغَفَهَا
بےقابو کررکھا ہے اس کو
حُبًّا‌ۖ
محبت نے
إِنَّا
بیشک ہم
لَنَرَٮٰهَا
البتہ ہم دیکھتے ہیں اس کو
فِى
میں
ضَلَـٰلٍ
گمراہی
مُّبِينٍ
کھلی
٣٠
اور شہر میں عورتوں نے (اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے) کہا کہ عزیز کی بیوی تو اپنے غلام کو پھسلا رہی ہے وہ اس کی محبت میں گرفتار ہوچکی ہے یقیناً ہم دیکھتے ہیں کہ وہ بہت بھٹک گئی ہے
12:31
فَلَمَّا
تو جب
سَمِعَتۡ
اس نے سنا
بِمَكۡرِهِنَّ
ان عورتوں کے مکر کو
أَرۡسَلَتۡ
اس نے بھیجا
إِلَيۡهِنَّ
ان کی طرف (بلا بھیجنا ان کو)
وَأَعۡتَدَتۡ
اور تیار کیں
لَهُنَّ
ان کے لیے
مُتَّكَــًٔا
تکیہ لگانے کی جگہ (مجلس)
وَءَاتَتۡ
اور دی
كُلَّ
ہر
وٰحِدَةٍ
ایک عورت کو
مِّنۡهُنَّ
ان میں سے
سِكِّينًا
ایک چھری
وَقَالَتِ
اور کہنے لگی
ٱخۡرُجۡ
نکل آ
عَلَيۡهِنَّ‌ۖ
ان پر
فَلَمَّا
تو جب
رَأَيۡنَهُۥٓ
ان عورتوں نے دیکھا اس کو
أَكۡبَرۡنَهُۥ
بڑا سمجھا اس کو۔ مرعوب ہوگئیں اس سے
وَقَطَّعۡنَ
اور کاٹ بیٹھیں
أَيۡدِيَهُنَّ
اپنے ہاتھ
وَقُلۡنَ
اور کہنے لگیں
حَـٰشَ
حاش۔پاکی
لِلَّهِ
للہ۔ پاکی ہے اللہ کے لیے
مَا
نہیں
هَـٰذَا
ہے یہ
بَشَرًا
ایک انسان
إِنۡ
نہیں
هَـٰذَآ
یہ
إِلَّا
مگر
مَلَكٌ
ایک فرشتہ
كَرِيمٌ
معزز
٣١
پھر جب اس نے سنیں ان کی مکارانہ باتیں اس نے دعوت دی ان سب کو اور اہتمام کیا ایک تکیہ دار مجلس کا اور ان میں سے ہر عورت کو اس نے ایک چھری دے دی اور (یوسف سے) کہا کہ اب تم ان کے سامنے آؤ پھر جب انہوں نے یوسف کو دیکھا تو اسے بہت عظیم جانا (ششدر رہ گئیں) اور ان سب نے اپنے ہاتھ کاٹ لیے اور وہ پکار اٹھیں کہ حاشا للہ یہ کوئی آدمی تو نہیں ! یہ تو کوئی بہت بزرگ فرشتہ ہے
12:32
قَالَتۡ
وہ کہنے لگی
فَذٰلِكُنَّ
تو یہ ہے
ٱلَّذِى
وہ شخص
لُمۡتُنَّنِى
تم ملامت کرتی تھیں مجھ کو
فِيهِ‌ۖ
اس کے بارے میں
وَلَقَدۡ
اور البتہ تحقیق
رٰوَدتُّهُۥ
میں نے پھسلانا چاہا اس کو
عَن
سے
نَّفۡسِهِۦ
اس کے نفس سے
فَٱسۡتَعۡصَمَ‌ۖ
تو بچا گیا۔ بچ نکلا
وَلَئِن
اور البتہ اگر
لَّمۡ
نہ
يَفۡعَلۡ
کرے
مَآ
جو
ءَامُرُهُۥ
میں حکم دیتی ہوں اس کو
لَيُسۡجَنَنَّ
البتہ ضرور قید کیا جائے گا
وَلَيَكُونًا
اور البتہ ہوجائے گا
مِّنَ
سے
ٱلصَّـٰغِرِينَ
ذلیل ہونے والوں میں سے
٣٢
تو اس عورت نے کہا کہ یہ ہے وہ جس کے بارے میں تم مجھے ملامت کر رہی تھیں اور یقیناً میں نے اسے پھسلانا چاہا تھا لیکن وہ بچا رہا اور اگر اس نے وہ نہ کیا جو میں اسے حکم دے رہی ہوں تو وہ لازماً قید میں پڑے گا اور ضرور ذلیل ہو کر رہے گا
12:33
قَالَ
اس نے کہا
رَبِّ
اے میرے رب
ٱلسِّجۡنُ
قیدخانہ
أَحَبُّ
زیادہ پیارا ہے
إِلَىَّ
میری طرف
مِمَّا
اس سے جو
يَدۡعُونَنِىٓ
وہ بلاتی ہیں مجھ کو
إِلَيۡهِ‌ۖ
اس کی طرف
وَإِلَّا
اور اگر نہیں
تَصۡرِفۡ
تو پھیرے گا
عَنِّى
مجھ سے
كَيۡدَهُنَّ
ان عورتوں کی چال کو
أَصۡبُ
میں مائل ہوجاؤں گا
إِلَيۡهِنَّ
ان کی طرف
وَأَكُن
اور میں ہوجاؤں گا
مِّنَ
سے
ٱلۡجَـٰهِلِينَ
جاہلوں میں سے
٣٣
یوسف نے دعا کی : اے میرے پروردگار ! مجھے قید زیادہ پسند ہے اس چیز سے جس کی طرف یہ مجھے بلا رہی ہیں اور اگر تو نے مجھ سے دور نہ کردیا ان کی چالوں کو تو (ہو سکتا ہے) میں بھی ان کی طرف مائل ہوجاؤں اور جاہلوں میں سے ہوجاؤں
12:34
فَٱسۡتَجَابَ
تو دعا قبول کرلی
لَهُۥ
اس کے لیے
رَبُّهُۥ
اس کے رب نے
فَصَرَفَ
تو دور کردیں۔ پھیر دیں
عَنۡهُ
اس سے
كَيۡدَهُنَّ‌ۚ
ان عورتوں کی چال
إِنَّهُۥ
بیشک وہ
هُوَ
وہ
ٱلسَّمِيعُ
سننے والا ہے
ٱلۡعَلِيمُ
جاننے والا ہے
٣٤
تو آپ کے رب نے آپ کی دعا قبول کرلی اور ان عورتوں کی چالوں کو آپ سے پھیر دیا۔ یقیناً وہی ہے سننے والا جاننے والا
12:35
ثُمَّ
پھر
بَدَا
ظاہر ہوگیا
لَهُم
ان کے لیے
مِّنۢ
کے
بَعۡدِ
اس کے بعد
مَا
جو
رَأَوُاۡ
انہوں نے دیکھیں
ٱلۡأَيَـٰتِ
نشانیاں
لَيَسۡجُنُنَّهُۥ
البتہ ضرور قید کردیں گے اس کو
حَتَّىٰ
تک
حِينٍ
ایک وقت
٣٥
پھر ان لوگوں کو یہ بات سوجھی ساری نشانیاں دیکھ لینے کے بعد کہ اس کو کچھ عرصہ کے لیے جیل میں ڈال دیا جائے