Back to Ruku Indexٱ لۡأَوَّلُونَٱ لۡمُهَـٰ جِرِينَٱ تَّبَعُوهُم ب ِإِحۡسَـٰ نٍ ر َّضِىَٱ للَّهُت َجۡ رِىٱ لۡأَنۡهَـٰ رُذ ٰ لِكَٱ لۡفَوۡزُٱ لۡعَظِي مُ١٠٠م ِّنَٱ لۡأَعۡرَابِٱ لۡمَدِينَةِۖٱ ل نّ ِفَاقِم َّرَّتَيۡنِٱ عۡتَرَفُواۡ ص َـٰ لِحًا و َءَاخَرَٱ للَّهُي َتُوبَٱ للَّهَر َّحِي مٌ١٠٢ت ُطَهِّرُهُمۡب ِهَال َّهُمۡۗٱ للَّهَٱ ل تَّوۡبَةَٱ ل صَّدَقَـٰ تِٱ للَّهَٱ ل تَّوَّابُٱ ل رَّحِي مُ١٠٤ٱ عۡمَلُواۡ ٱ للَّهُٱ لۡغَيۡبِب ِمَاٱ للَّهِٱ تَّخَذُواۡ ض ِرَارًا و َكُفۡرًا و َتَفۡرِيقَۢا ب َيۡنَٱ لۡمُؤۡمِنِينَل ِّمَنۡٱ للَّهَق َبۡ لُۚٱ لۡحُسۡنَىٰۖل َّمَسۡجِدٌٱ ل تَّقۡ وَىٰت َقُومَي ُحِبُّونَي َتَطَهَّرُواۡۚ ٱ لۡمُطَّهِّرِي نَ١٠٨ٱ للَّهِم َّنۡف َٱ نۡهَارَٱ لۡقَوۡمَٱ ل ظَّـٰ لِمِي نَ١٠٩ٱ لَّذِىف ِىت َقَطَّعَ
Ruku 168
1 Surahs11 Versesركوع 168
9:100
وَٱ ل سَّـٰ بِقُونَ
اور آگے جانے والے۔ سبقت لے جانے والے
پہلے
مِنَ
میں سے
مہاجرین
وَٱ لۡأَنص َارِ
اور انصار میں سے
وَٱ لَّذِينَ
اور وہ لوگ
جنہوں نے پیروی کی ان کی
ساتھ احسان کے
راضی ہوگیا
اللہ
عَنۡهُمۡ
ان سے
وَرَضُواۡ
اور وہ راضی ہوگئے
عَنۡهُ
اس سے
وَأَعَدَّ
اور اس نے تیار کیا
لَهُمۡ
ان کے لیے
جَنّ َـٰ تٍ
باغات کو
بہتی ہیں
تَحۡتَهَا
ان کے نیچے
نہریں
خَـٰ لِدِينَ
ہمیشہ رہنے والے ہیں
فِيهَآ
ان میں
أَبَدًاۚ
ہمیشہ ہمیشہ
یہ ہے
کامیابی
بڑی
اور پہلے پہل سبقت کرنے والے مہاجرین اور انصار میں سے اور وہ جنہوں نے ان کی پیروی کی نیکوکاری کے ساتھ اللہ ان سے راضی ہوگیا اور وہ اللہ سے راضی ہوگئے اور اس نے ان کے لیے وہ باغات تیار کیے ہیں جن کے نیچے ندیاں بہتی ہوں گی ان میں وہ ہمیشہ ہمیش رہیں گے یہی ہے بہت بڑی کامیابی
9:101
وَمِمّ َنۡ
اور ان میں سے جو
حَوۡلَكُم
تمہارے آس پاس ہیں
میں سے
بدوؤں
مُنَـٰ فِقُونَۖ
منافق ہیں
وَمِنۡ
اور میں سے
أَهۡلِ
رہنے والوں
مدینہ کے
مَرَدُواۡ
ماہر ہوگئے۔ اڑ گئے
عَلَى
پر
منافقت پر
لَا
نہیں
تَعۡلَمُهُمۡۖ
تم جانتے ان کو
نَحۡنُ
ہم
نَعۡلَمُهُمۡۚ
جانتے ہیں انکو
سَنُعَذِّبُهُم
عنقریب ہم عذاب دیں گے ان کو
دوبار
ثُمّ َ
پھر
يُرَدُّونَ
وہ پھیرے جائیں گے
إِلَىٰ
طرف
عَذَابٍ
عذاب کے
عَظِي مٍ
١٠١بڑے
اور جو تمہارے آس پاس کے بادیہ نشین ہیں ان میں منافق بھی ہیں
اعلیٰ ترین مراتب والے اصحاب کے ذکر کے بعد اب بالکل نچلی سطح کے لوگوں کا تذکرہ ہو رہا ہے اور اہل مدینہ میں بھی جو نفاق پر اڑ چکے ہیں آپ ﷺ انہیں نہیں جانتے ہم انہیں جانتے ہیں۔ ہم انہیں دوہرا عذاب دیں گے پھر وہ لوٹا دیے جائیں گے ایک بہت بڑے عذاب کی طرف
9:102
وَءَاخَرُونَ
اور کچھ دوسرے لوگ
جنہوں نے اعتراف کیا
بِذُنُوبِهِمۡ
اپنے گناہوں کا
خَلَطُواۡ
انہوں نے ملے جلے کیے
عَمَلاً
اعمال
نیک
اور کچھ دوسرے
سَيِّئًا
برے
عَسَى
امید ہے کہ
اللہ تعالیٰ
أَن
کہ
مہربان ہو
عَلَيۡهِمۡۚ
ان پر
إِنّ َ
بیشک
اللہ تعالیٰ
غَفُورٌ
غفور
رحیم ہے
اور کچھ دوسرے لوگ ہیں جو اپنے گناہوں کا اعتراف کرتے ہیں انہوں نے اچھے اور برے اعمال کو گڈ مڈ کردیا ہے امید ہے کہ اللہ ان کی توبہ کو قبول فرمائے گا۔ یقیناً اللہ بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے
9:103
خُذۡ
لے لو
مِنۡ
میں سے
أَمۡوٰ لِهِمۡ
ان کے مالوں
صَدَقَةً
صدقہ
تم پاک کرو ان کو
وَتُزَكِّيهِم
اور تزکیہ کرو ان کا
ساتھ ان کے (یعنی صدقے کے)
وَصَلِّ
اور دعائے رحمت کرو
عَلَيۡهِمۡۖ
ان پر
إِنّ َ
بیشک
صَلَو ٰ تَكَ
تمہاری دعا
سَكَنٌ
سکون کا ذریعہ ہے
ان کے لیے
وَٱ للَّهُ
اور اللہ
سَمِيعٌ
سننے والا ہے
عَلِي مٌ
١٠٣جاننے والا ہے
ان کے اموال میں سے صدقات قبول فرما لیجیے اس (صدقے) کے ذریعے سے آپ ﷺ انہیں پاک کریں گے اور ان کا تزکیہ کریں گے اور ان کے لیے دعا کیجئے یقیناً آپ ﷺ کی دعا ان کے حق میں سکون بخش ہے اور اللہ سب کچھ سننے والا جاننے والا ہے
9:104
أَلَمۡ
کیا نہیں
يَعۡلَمُوٓ اۡ
انہوں نے جانا
أَنّ َ
بیشک
اللہ تعالیٰ
هُوَ
وہی
يَقۡ بَلُ
قبول کرتا ہے
توبہ کو
عَنۡ
سے
عِبَادِهِۦ
اپنے بندوں
وَيَأۡخُذُ
اور لیتا ہے
صدقات
وَأَنّ َ
اور بیشک
اللہ تعالیٰ
هُوَ
وہ
توبہ قبول کرنے والا
مہربان ہے
کیا وہ نہیں جانتے کہ اللہ اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے اور ان کے صدقات کو قبولیت عطا فرماتا ہے اور یہ کہ وہ بہت ہی توبہ قبول فرمانے والا بہت رحم فرمانے والا ہے
9:105
وَقُلِ
اور آپ کہہ دیجیے
عمل کرو
فَسَيَرَى
پس عنقریب دیکھے گا
اللہ
عَمَلَكُمۡ
عمل تمہارا
وَرَسُولُهُۥ
اور اس کا رسول
وَٱ لۡمُؤۡمِنُونَۖ
اور مومن بھی
وَسَتُرَدُّونَ
اور عنقریب تم پلٹائے جاؤ گے
إِلَىٰ
طرف
عَـٰ لِمِ
جاننے والے
غیب کے
وَٱ ل شَّهَـٰ دَةِ
اور حاضر کے
فَيُنَبِّئُكُم
پھر وہ بتائے گا تم کو
ساتھ اس کے
كُنت ُمۡ
جو تھے تم
تَعۡمَلُو نَ
١٠٥تم عمل کرتے
اور آپ ﷺ ان سے کہہ دیجیے کہ تم عمل کرو اب اللہ اور اس کا رسول ﷺ اور اہل ایمان تمہارے عمل کو دیکھیں گے اور عنقریب تمہیں لوٹا دیا جائے گا اس کی طرف جو ہر غائب اور حاضر کا جاننے والا ہے پھر وہ تمہیں بتادے گا جو کچھ تم کرتے رہے تھے
9:106
وَءَاخَرُونَ
اور کچھ دوسرے
مُرۡجَوۡنَ
ڈھیل دیے گئے ہیں
لِأَمۡرِ
فیصلے کے لیے
اللہ کے
إِمّ َا
خواہ
يُعَذِّبُهُمۡ
وہ عذاب دے ان کو
وَإِمّ َا
اور خواہ
يَتُوبُ
وہ مہربان ہوجائے
عَلَيۡهِمۡۗ
ان پر
وَٱ للَّهُ
اور اللہ
عَلِيمٌ
علم والا ہے
حَكِي مٌ
١٠٦حکمت والا ہے
اور کچھ دوسرے لوگ ہیں جن کے معاملے کو اللہ کے فیصلے تک مؤخر کردیا گیا ہے چاہے انہیں عذاب دے اور چاہے تو ان کی توبہ قبول فرما لے۔ اور اللہ سب کچھ جاننے والا حکمت والا ہے
9:107
وَٱ لَّذِينَ
اور وہ لوگ
جنہوں نے بنا لی
مَسۡجِدًا
ایک مسجد
ستانے کے لیے۔ اذیت دینے کے لیے
اور کفر کے لیے
اور جدائی ڈالنے کے لیے
درمیان
ایمان والوں کے
وَإِرۡصَادًا
اور بطور پناہ گاہ
اس شخص کے لیے جس نے
حَارَبَ
جنگ کی
اللہ تعالیٰ سے
وَرَسُولَهُۥ
اور اس کے رسول سے
مِن
اس سے
پہلے
وَلَيَحۡلِفُنّ َ
اور البتہ وہ ضرور قسمیں کھائیں گے
إِنۡ
نہیں
أَرَدۡ نَآ
ارادہ کیا تھا ہم نے
إِلَّا
مگر
بھلائی کا
وَٱ للَّهُ
اور اللہ
يَشۡهَدُ
گواہی دیتا ہے
إِنّ َهُمۡ
بیشک وہ
لَكَـٰ ذِبُو نَ
١٠٧البتہ جھوٹے ہیں
اور وہ لوگ جنہوں نے ایک مسجد بنائی ہے ضرر (نقصان) اور کفر کے لیے اور اہل ایمان میں تفریق پیدا کرنے کے لیے اور ان لوگوں کو گھات فراہم کرنے کے لیے جو پہلے سے اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے جنگ کر رہے ہیں اور وہ قسمیں کھا کھا کر کہیں گے کہ ہم نے تو نیکی ہی کا ارادہ کیا تھا مگر اللہ گواہی دیتا ہے کہ یہ بالکل جھوٹے ہیں
9:108
لَا
نہ
تَقُمۡ
تم کھڑے ہونا
فِيهِ
اس میں (مسجد میں)
أَبَدًاۚ
کبھی بھی
البتہ ایک مسجد
أُسِّسَ
جس کی بنیاد رکھی گئی
عَلَى
پر
تقوی
مِنۡ
أَوَّلِ
پہلے
يَوۡمٍ
دن سے
أَحَقُّ
وہ زیادہ حقدار ہے
أَن
کہ
تم کھڑے ہو
فِيهِۚ
اس میں
فِيهِ
اس میں
رِجَالٌ
کچھ لوگ ہیں
جو پسند کرتے ہیں
أَن
کہ
وہ پاکی اختیار کریں
وَٱ للَّهُ
اور اللہ
يُحِبُّ
محبت کرتا ہے
پاک رہنے والوں سے
(اے نبی ﷺ !) آپ اس میں کبھی کھڑے نہ ہوں اس میں وہ لوگ ہیں جو پسند کرتے ہیں کہ وہ بہت پاک رہیں۔ اور اللہ ایسے لوگوں کو پسند کرتا ہے جو بہت زیادہ پاک رہتے ہیں
9:109
أَفَمَنۡ
کیا بھلا جس نے
أَسَّسَ
بنیاد رکھی
بُنۡيَـٰ نَهُۥ
اپنی عمارت کی
عَلَىٰ
پر
تَقۡ وَىٰ
تقوی
مِنَ
سے
اللہ کی
وَرِضۡوٰ نٍ
اور رضا مندی پر
خَيۡرٌ
بہتر ہے
أَم
یا
جس نے
أَسَّسَ
بنیاد رکھی
بُنۡيَـٰ نَهُۥ
اپنی عمارت کی
عَلَىٰ
پر
شَفَا
ایک کنارے
جُرُفٍ
کھائی کے
هَارٍ
گرنے والی کے
پھر لے گری
بِهِۦ
اس کو
فِى
میں
نَارِ
آگ
جَهَنّ َمَۗ
جہنم کی
وَٱ للَّهُ
اور اللہ
لَا
نہیں
يَهۡدِى
ہدایت دیتا
قوم کو
ظالم
تو کیا بھلا جس نے اپنی عمارت کی بنیاد رکھی ہو اللہ کے تقویٰ اور اس کی رضا پر وہ بہتر ہے یا وہ کہ جس نے اپنی تعمیر کی بنیاد رکھی ایک ایسی کھائی کے کنارے پر جو گرا چاہتی ہے تو وہ اس کو لے کر گرگئی جہنم میں ؟ اور اللہ ایسے ظالم لوگوں کو راہ یاب نہیں کرتا
9:110
لَا
يَزَالُ
ہمیشہ رہے گی
بُنۡيَـٰ نُهُمُ
ان کی عمارت
وہ جو
بَنَوۡاۡ
انہوں نے بنائی
رِيبَةً
شک کا سبب
میں
قُلُوبِهِمۡ
ان کے دلوں
إِلَّآ
مگر
أَن
یہ کہ
ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں
قُلُوبُهُمۡۗ
ان کے دل
وَٱ للَّهُ
اور اللہ
عَلِيمٌ
جاننے والا ہے
حَكِي مٌ
١١٠حکمت والا ہے
یہ عمارت جو انہوں نے بنائی ہے ان کے دلوں میں شکوک و شبہات پیدا کیے رکھے گی اِلایہ کہ ان کے دلوں کے ٹکڑے کردیے جائیں۔ اور اللہ سب کچھ جاننے والا حکمت والا ہے