Back to Ruku Index

Ruku 139

1 Surahs4 Versesركوع 139
7:148
وَٱتَّخَذَ
اور بنا لیا
قَوۡمُ
قوم نے
مُوسَىٰ
موسیٰ کی
مِنۢ
سے
بَعۡدِهِۦ
ان کے پیچھے
مِنۡ
میں سے
حُلِيِّهِمۡ
اپنے زیورات
عِجۡلاً
ایک بچھڑا
جَسَدًا
جسم والا
لَّهُۥ
اسی کی
خُوَارٌ‌ۚ
آواز تھی
أَلَمۡ
کیا نہیں
يَرَوۡاۡ
انہوں نے دیکھا
أَنَّهُۥ
کہ بیشک وہ
لَا
نہیں
يُكَلِّمُهُمۡ
کلام کرتا ان سے
وَلَا
اور نہیں
يَهۡدِيهِمۡ
وہ راہنمائی کرنا ان کی
سَبِيلاً‌ۘ
راستے کی طرف
ٱتَّخَذُوهُ
انہوں نے بنا لیا اس کو
وَكَانُواۡ
تھے وہ
ظَـٰلِمِينَ
ظالم
١٤٨
اور بنا لیا موسیٰ ؑ کی قوم نے آپ ؑ کے بعد اپنے زیورات سے بچھڑے کا سا ایک جسم جس سے گائے کی سی آواز آتی تھی کیا انہوں نے غور نہ کیا کہ نہ وہ ان سے کوئی بات کرسکتا ہے اور نہ انہیں راستہ بتاسکتا ہے ! اسی کو وہ (معبود) بنا بیٹھے اور وہ تھے بہت ظالم !
7:149
وَلَمَّا
اور جب
سُقِطَ
وہ گرائے گئے
فِىٓ
میں
أَيۡدِيهِمۡ
اپنے ہاتھوں
وَرَأَوۡاۡ
اور انہوں نے دیکھا
أَنَّهُمۡ
کہ بیشک وہ
قَدۡ
تحقیق
ضَلُّواۡ
بھٹک گئے
قَالُواۡ
کہنے لگے
لَئِن
یقینا اگر
لَّمۡ
نہ
يَرۡحَمۡنَا
رحم کیا ہم پر
رَبُّنَا
ہمارے رب نے
وَيَغۡفِرۡ
اور بخشش فرمائی
لَنَا
ہماری
لَنَكُونَنَّ
البتہ ہم ضرور ہوجائیں گے
مِنَ
میں سے
ٱلۡخَـٰسِرِينَ
نقصان اٹھانے والوں
١٤٩
اور جب ان کے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے (ان کو پچھتاوا ہوا) اور انہیں احساس ہوا کہ وہ تو گمراہ ہوگئے ہیں تو انہوں نے کہا کہ اگر ہمارے رب نے ہم پر رحم نہ فرمایا اور ہمیں بخش نہ دیا تو ہم ہوجائیں گے بہت خسارہ پانے والوں میں سے
7:150
وَلَمَّا
اور جب
رَجَعَ
پلٹے
مُوسَىٰٓ
موسیٰ
إِلَىٰ
طرف
قَوۡمِهِۦ
اپنی قوم کی (طرف)
غَضۡبَـٰنَ
بہت غصے میں
أَسِفًا
افسوس کرتے ہوئے
قَالَ
بولے
بِئۡسَمَا
کتنی بری ہے
خَلَفۡتُمُونِى
جو تم نے جانشینی کی میری
مِنۢ
میرے
بَعۡدِىٓ‌ۖ
بعد
أَعَجِلۡتُمۡ
کیا جلدی کی تم نے
أَمۡرَ
حکم کی
رَبِّكُمۡ‌ۖ
اپنے رب کے
وَأَلۡقَى
اور ڈال دیں
ٱلۡأَلۡوَاحَ
تختیاں
وَأَخَذَ
اور پکڑ لیا
بِرَأۡسِ
سر
أَخِيهِ
اپنے بھائی کا
يَجُرُّهُۥٓ
وہ کھینچنے لگے اسے
إِلَيۡهِ‌ۚ
اپنی طرف
قَالَ
کہا
ٱبۡنَ
اے بیٹے
أُمَّ
ماں کے
إِنَّ
بیشک
ٱلۡقَوۡمَ
قوم نے۔ لوگوں نے
ٱسۡتَضۡعَفُونِى
کمزور سمجھا مجھ کو
وَكَادُواۡ
اور قریب تھا کہ
يَقۡتُلُونَنِى
وہ قتل کردیتے مجھ کو
فَلَا
پس نہ
تُشۡمِتۡ
خوش کر
بِىَ
مجھ پر
ٱلۡأَعۡدَآءَ
دشمنوں کو
وَلَا
اور نہ
تَجۡعَلۡنِى
شامل کر مجھ کو۔ ڈال مجھ کو
مَعَ
ساتھ
ٱلۡقَوۡمِ
قوم کے
ٱلظَّـٰلِمِينَ
ظالم (قوم کے ساتھ)
١٥٠
اور جب موسیٰ ؑ لوٹے اپنی قوم کی طرف سخت غضبناک ہو کر افسوس میں آپ ؑ نے فرمایا بہت بری ہے میری نیابت جو تم نے کی ہے میرے بعد کیا تم نے اپنے رب کے معاملے میں جلدی کی ؟ اور آپ ؑ نے وہ تختیاں (ایک طرف) ڈال دیں اور (غصے میں) اپنے بھائی کے سر کے بال پکڑ کر اپنی طرف کھینچنے لگے (ہارون ؑ نے) کہا کہ اے میرے ماں جائے حقیقت میں قوم نے مجھے دبا لیا تھا اور وہ میرے قتل پر آمادہ ہوگئے تھے تو (دیکھیں اب) دشمنوں کو مجھ پر ہنسنے کا موقع نہ دیں اور مجھے ان ظالموں کے ساتھ شامل نہ کیجیے
7:151
قَالَ
کہا
رَبِّ
اے میرے رب
ٱغۡفِرۡ
بخش دے
لِى
مجھ کو
وَلِأَخِى
اور میرے بھائی کو
وَأَدۡخِلۡنَا
اور داخل کردے ہم کو
فِى
میں
رَحۡمَتِكَ‌ۖ
اپنی رحمت میں
وَأَنتَ
اور تو
أَرۡحَمُ
سب سے بڑھ کر
ٱلرّٰحِمِينَ
رحم کرنے والا ہے
١٥١
(تب حضرت موسیٰ ؑ نے دعا کرتے ہوئے) کہا کہ اے میرے پروردگار ! بخش دے مجھے بھی اور میرے بھائی کو بھی اور ہمیں داخل فرما اپنی رحمت میں اور تو تمام رحم کرنے والوں میں سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والا ہے۔