Back to Ruku Index

Ruku 137

1 Surahs12 Versesركوع 137
7:130
وَلَقَدۡ
اور البتہ تحقیق
أَخَذۡنَآ
پکڑا ہم نے
ءَالَ
آل
فِرۡعَوۡنَ
فرعون کو
بِٱلسِّنِينَ
سالوں کے ساتھ۔ قحط کے ساتھ
وَنَقۡصٍ
اور کمی
مِّنَ
کی
ٱلثَّمَرٰتِ
پھلوں
لَعَلَّهُمۡ
شاید کہ وہ
يَذَّكَّرُونَ
نصیحت پکڑیں
١٣٠
اور ہم نے پکڑا آل فرعون کو لگاتار قحط سالی اور فصلوں کی تباہی سے تاکہ وہ نصیحت پکڑیں۔
7:131
فَإِذَا
پھر جب
جَآءَتۡهُمُ
آئی ان کے پاس
ٱلۡحَسَنَةُ
بھلائی
قَالُواۡ
انہوں نے کہا
لَنَا
ہمارے لیے ہے
هَـٰذِهِۦ‌ۖ
یہ
وَإِن
اور اگر
تُصِبۡهُمۡ
پہنچی ان کو
سَيِّئَةٌ
کوئی برائی
يَطَّيَّرُواۡ
انہوں نے فال بد لی۔ بری فال نکالی
بِمُوسَىٰ
موسیٰ سے
وَمَن
اور جو
مَّعَهُۥٓ‌ۗ
آپ کے ساتھ تھے
أَلَآ
خبردار
إِنَّمَا
بیشک
طَـٰٓئِرُهُمۡ
ان کی فال بد
عِندَ
پاس ہے
ٱللَّهِ
اللہ کے
وَلَـٰكِنَّ
لیکن
أَكۡثَرَهُمۡ
ان میں سے اکثر
لَا
نہیں
يَعۡلَمُونَ
جانتے
١٣١
توجب بھی حالات بہتر ہوجاتے تو وہ لوگ کہتے یہ ہمارے لیے ہے اور جب انہیں کوئی تکلیف پہنچتی تو اسے وہ نحوست سمجھتے موسیٰ ؑ اور آپ ؑ کے ساتھیوں کی) آگاہ ہوجاؤ کہ ان کی شومئ قسمت اللہ کے ہاتھ میں ہے لیکن ان میں سے اکثر لوگ سمجھتے نہیں
7:132
وَقَالُواۡ
اور انہوں نے کہا
مَهۡمَا
جو بھی
تَأۡتِنَا
تو لائے گا ہمارے پاس
بِهِۦ
اس کو
مِنۡ
کوئی بھی
ءَايَةٍ
نشانی
لِّتَسۡحَرَنَا
کہ تو مسحور کردے ہم کو
بِهَا
اس کے ساتھ
فَمَا
تو نہیں
نَحۡنُ
ہیں ہم
لَكَ
تیرے لیے
بِمُؤۡمِنِينَ
ایمان لانے والے
١٣٢
اور وہ کہتے کہ (اے موسیٰ) تم ہمارے اوپر خواہ کوئی بھی نشانی لے آؤ تاکہ اس سے ہم پر جادو کرو مگر ہم تمہاری بات ماننے والے نہیں ہیں
7:133
فَأَرۡسَلۡنَا
تو بھیجا ہم نے
عَلَيۡهِمُ
ان پر
ٱلطُّوفَانَ
طوفان
وَٱلۡجَرَادَ
اور ٹڈی دل۔ ٹڈیاں
وَٱلۡقُمَّلَ
سرسریاں۔ جوئیں
وَٱلضَّفَادِعَ
اور مینڈک
وَٱلدَّمَ
اور خون
ءَايَـٰتٍ
نشانیاں
مُّفَصَّلَـٰتٍ
وقفے وقفے میں۔ کھلی
فَٱسۡتَكۡبَرُواۡ
تو انہوں نے تکبر کیا
وَكَانُواۡ
اور وہ تھے
قَوۡمًا
لوگ
مُّجۡرِمِينَ
مجرم
١٣٣
پھر ہم نے بھیجے ان کے اوپر طوفان اور ٹڈی دَل اور چچڑیاں اور مینڈک اور خون (ہم نے بھیجیں یہ) نشانیاں وقفے وقفے سے (اس کے باوجود) وہ تکبر پر اڑے رہے اور وہ تھے ہی مجرم لوگ
7:134
وَلَمَّا
اور جب
وَقَعَ
واقع ہوا
عَلَيۡهِمُ
ان پر
ٱلرِّجۡزُ
عذاب
قَالُواۡ
کہنے لگے
يَـٰمُوسَى
اے موسیٰ
ٱدۡعُ
دعا کر
لَنَا
ہمارے لیے
رَبَّكَ
اپنے رب سے
بِمَا
ساتھ اس کے جو
عَهِدَ
اس نے عہد لیا
عِندَكَ‌ۖ
تیرے پاس
لَئِن
البتہ اگر
كَشَفۡتَ
تو نے ٹال دیا۔ ہٹا دیا
عَنَّا
ہم سے
ٱلرِّجۡزَ
عذاب
لَنُؤۡمِنَنَّ
البتہ ہم ضرور ایمان لے آئیں گے
لَكَ
تیرے لیے
وَلَنُرۡسِلَنَّ
اور البتہ ہم ضرور بھیجیں گے
مَعَكَ
تیرے ساتھ
بَنِىٓ
بنی
إِسۡرٰٓءِيلَ
اسرائیل کو
١٣٤
اور جب ان پر کوئی عذاب آتا تھا تو وہ کہتے کہ اے موسیٰ ؑ اپنے رب سے دعا کرو اس عہد کے واسطہ سے جو اس نے تم سے کر رکھا ہے اور ہم بنی اسرائیل کو بھی لازماً تمہارے ساتھ بھیج دیں گے۔
7:135
فَلَمَّا
پھر جب
كَشَفۡنَا
ہٹا دیتے ہم
عَنۡهُمُ
ان سے
ٱلرِّجۡزَ
عذاب کو
إِلَىٰٓ
تک
أَجَلٍ
ایک وقت مقرر
هُم
وہ
بَـٰلِغُوهُ
پہنچنے والے تھے اس کو
إِذَا
یکایک
هُمۡ
وہ
يَنكُثُونَ
توڑنے لگتے تھے
١٣٥
لیکن جب ہم ان سے اس مصیبت کو دور کردیتے تھے ایک خاص مدت کے لیے کہ جس تک وہ پہنچنے والے ہوتے تو وہ دفعتہً عہد توڑ دیتے تھے۔
7:136
فَٱنتَقَمۡنَا
پس انتقام لیا ہم نے
مِنۡهُمۡ
ان سے
فَأَغۡرَقۡنَـٰهُمۡ
پھر غرق کردیا ہم نے ان کو
فِى
میں
ٱلۡيَمِّ
سمندر
بِأَنَّهُمۡ
کیونکہ انہوں نے
كَذَّبُواۡ
جھٹلا دیا تھا
بِـَٔـايَـٰتِنَا
ہماری آیات کو
وَكَانُواۡ
اور تھے وہ
عَنۡهَا
ان سے
غَـٰفِلِينَ
غافل
١٣٦
) پس ہم نے ان سے انتقام لیا اور ہم نے انہیں سمندر میں غرق کردیا اس لیے کہ انہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا اور وہ ان (آیات) سے تغافل برتتے رہے۔
7:137
وَأَوۡرَثۡنَا
اور وارث بنادیا ہم نے
ٱلۡقَوۡمَ
اس قوم کو
ٱلَّذِينَ
جو
كَانُواۡ
تھے وہ
يُسۡتَضۡعَفُونَ
کمزور سمجھے جاتے
مَشَـٰرِقَ
مشرقوں کا
ٱلۡأَرۡضِ
زمین کے
وَمَغَـٰرِبَهَا
اور اس کے مغربوں کا
ٱلَّتِى
اس (زمین) کا
بَـٰرَكۡنَا
برکت دی تھی ہم نے
فِيهَا‌ۖ
جس میں
وَتَمَّتۡ
اور پوری ہوگئی
كَلِمَتُ
بات
رَبِّكَ
تیرے رب کی
ٱلۡحُسۡنَىٰ
بھلائی والی
عَلَىٰ
پر
بَنِىٓ
بنی
إِسۡرٰٓءِيلَ
اسرائیل
بِمَا
بوجہ اس کے جو
صَبَرُواۡ‌ۖ
انہوں نے صبر کیا
وَدَمَّرۡنَا
اور برباد کردیا ہم نے
مَا
جو
كَانَ
تھا
يَصۡنَعُ
کیا کرتا۔ بناتا
فِرۡعَوۡنُ
فرعون
وَقَوۡمُهُۥ
اور اس کی قوم
وَمَا
اور جو کچھ
كَانُواۡ
کہ تھے وہ
يَعۡرِشُونَ
چھتوں پر چڑھاتے
١٣٧
اور جن لوگوں کو دبا لیا گیا تھا (اب) ہم نے انہیں وارث بنا دیا اس زمین کے مشرق و مغرب کا جس کو ہم نے بابرکت بنایا تھا اور تیرے رب کا اچھا وعدہ بنی اسرائیل کے حق میں پورا ہوا اس وجہ سے کہ وہ ثابت قدم رہے اور ہم نے تباہ و برباد کر ڈالاوہ سب کچھ جو فرعون اور اس کی قوم (اونچے محلات) بناتے تھے اور (باغات میں انگور کی بیلوں وغیرہ کے لیے چھتریاں) چڑھاتے تھے
7:138
وَجَـٰوَزۡنَا
اور گزار دیا ہم نے
بِبَنِىٓ
بنی
إِسۡرٰٓءِيلَ
اسرائیل کو
ٱلۡبَحۡرَ
سمندر سے
فَأَتَوۡاۡ
تو وہ آئے
عَلَىٰ
پر
قَوۡمٍ
ایک قوم
يَعۡكُفُونَ
جو جھکے ہوئے تھے۔ جنے بیٹھے تھے
عَلَىٰٓ
پر
أَصۡنَامٍ
بتوں (پر)
لَّهُمۡ‌ۚ
اپنے
قَالُواۡ
انہوں نے کہا
يَـٰمُوسَى
اے موسیٰ
ٱجۡعَل
بنا
لَّنَآ
ہمارے لیے
إِلَـٰهًا
کوئی الہ
كَمَا
جیسا کہ
لَهُمۡ
ان لوگوں کے لیے
ءَالِهَةٌ‌ۚ
الہ
قَالَ
کہا
إِنَّكُمۡ
بیشک تم
قَوۡمٌ
ایک قوم ہو
تَجۡهَلُونَ
تم جہالت برت رہے ہو
١٣٨
اور پار اتار دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر کے تو ان کا گزر ہوا ایک ایسی قوم پر جو اعتکاف کر رہی تھی اپنے بتوں کا انہوں نے کہا کہ اے موسیٰ ؑ ہمارے لیے بھی کوئی معبود بنا دو جیسے ان کے معبود ہیں آپ ؑ نے فرمایا کہ تم بڑے ہی جاہل لوگ ہو !
7:139
إِنَّ
بیشک
هَـٰٓؤُلَآءِ
یہ لوگ
مُتَبَّرٌ
برباد ہونے والے ہیں
مَّا
جس میں
هُمۡ
وہ
فِيهِ
(مبتلا) ہیں
وَبَـٰطِلٌ
اور باطل ہونے والے ہیں
مَّا
جو کچھ
كَانُواۡ
ہیں
يَعۡمَلُونَ
وہ عمل کرتے
١٣٩
یہ لوگ جس چیز میں پڑے ہیں وہ سب کچھ بر باد ہونے والا ہے اور جو کچھ یہ لوگ کر رہے ہیں وہ سب باطل ہے۔
7:140
قَالَ
کہا
أَغَيۡرَ
کیا سوا
ٱللَّهِ
اللہ کے
أَبۡغِيكُمۡ
میں تلاش کروں تمہارے لیے
إِلَـٰهًا
کوئی الہ
وَهُوَ
حالانکہ اس نے
فَضَّلَكُمۡ
فضیلت بخشی تم کو
عَلَى
پر
ٱلۡعَـٰلَمِينَ
جہان والوں
١٤٠
(حضرت موسیٰ ؑ نے) فرمایا کہ کیا میں اللہ کے سوا تمہارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں جب کہ اس نے تمہیں فضیلت دی ہے تمام جہان والوں پر !
7:141
وَإِذۡ
اور جب
أَنجَيۡنَـٰكُم
نجات دی ہم نے تم کو
مِّنۡ
سے
ءَالِ
آل
فِرۡعَوۡنَ
فرعون
يَسُومُونَكُمۡ
وہ چکھاتے تھے تم کو
سُوٓءَ
برا
ٱلۡعَذَابِ‌ۖ
عذاب
يُقَتِّلُونَ
قتل کردیتے تھے وہ
أَبۡنَآءَكُمۡ
تمہارے بیٹوں کو
وَيَسۡتَحۡيُونَ
اور زندہ چھوڑ دیتے تھے
نِسَآءَكُمۡ‌ۚ
تمہاری عورتوں کو
وَفِى
اور اس میں
ذٰلِكُم
بَلَآءٌ
آزمائش تھی
مِّن
طرف سے
رَّبِّكُمۡ
تمہارے رب کی
عَظِيمٌ
بہت بڑی
١٤١
اور یاد کرو جب ہم نے تمہیں نجات دی آل فرعون سے جو تمہیں مبتلا کیے ہوئے تھے بد ترین عذاب میں وہ قتل کر ڈالتے تھے تمہارے بیٹوں کو اور زندہ رکھتے تھے تمہاری بیٹیوں کو اور یقیناً اس میں تمہارے رب کی طرف سے بہت بڑی آزمائش تھی