Back to Pagesٱ للَّهِن َّأۡخُذَو َجَدۡ نَال َّظَـٰ لِمُو نَ٧٩ٱ سۡتَيۡــَٔسُواۡ ق َالَم َّوۡثِقًا م ِّنَٱ للَّهِق َبۡ لُٱ لۡأَرۡضَٱ للَّهُٱ لۡحَـٰ كِمِي نَ٨٠ٱ بۡ نَكَٱ لۡقَرۡيَةَٱ لَّتِىٱ لَّتِىٓ ف َصَبۡ رٌ ج َمِيلٌۖٱ للَّهُي َأۡتِيَنِىٱ لۡعَلِيمُٱ لۡحَكِي مُ٨٣ٱ لۡحُزۡنِٱ لۡهَـٰ لِكِي نَ٨٥ٱ للَّهِٱ للَّهِ
Page 245
8 Versesصفحة 245
12:79
قَالَ
اس نے کہا
مَعَاذَ
پناہ
اللہ کی
أَن
کہ ہم
لیں
إِلَّا
مگر
مَن
اسے
جس کو پایا ہم نے
مَتَـٰ عَنَا
اپنا سامان
عِند َهُۥٓ
اس کے پاس
إِنّ َآ
بیشک ہم
إِذًا
تب البتہ
ظالم ہوں گے
12:80
فَلَمّ َا
پھر جب
وہ مایوس ہوگئے
مِنۡهُ
اس سے
خَلَصُواۡ
اکیلے بیٹھے
نَجِيًّاۖ
سرگوشیاں کرنے کو/ مشورہ کرنے کو
کہا
كَبِيرُهُمۡ
ان کے بڑے نے
أَلَمۡ
کیانہیں
تَعۡلَمُوٓ اۡ
تم جانتے ہو
أَنّ َ
کہ
أَبَاكُمۡ
تمہارے والد نے
قَدۡ
تحقیق
أَخَذَ
لیا
عَلَيۡكُم
تم پر
پکا وعدہ
نام سے
اللہ کے
وَمِن
اور اس سے
پہلے
مَا
جو
فَرَّطتُمۡ
کوتاہی کی تم نے
فِى
میں
يُوسُفَۖ
یوسف کے معاملے
فَلَنۡ
تو ہرگز نہ
أَبۡ رَحَ
میں ٹلوں گا
اس زمین سے
حَتَّىٰ
یہاں تک کہ
يَأۡذَنَ
اجازت دے
لِىٓ
مجھ کو
أَبِىٓ
میرا باپ
أَوۡ
یا
يَحۡكُمَ
فیصلہ کردے
اللہ
لِىۖ
میرے لئے
وَهُوَ
اور وہ
خَيۡرُ
بہترین
فیصلہ کرنے والا ہے
12:81
ٱرۡجِعُوٓ اۡ
لوٹ آؤ
إِلَىٰٓ
طرف
أَبِيكُمۡ
اپنے باپ کی
فَقُولُواۡ
پھر کہو
يَـٰٓ أَبَانَآ
اے ہمارے ابا جان
إِنّ َ
بیشک
تیرے بیٹے نے
سَرَقَ
چوری کی ہے
وَمَا
اور ہم نے
شَهِدۡ نَآ
دیکھا نہیں
إِلَّا
مگر
بِمَا
جو ہم کو
عَلِمۡنَا
معلوم ہوا
وَمَا
اور نہیں
كُنّ َا
ہیں ہم
لِلۡغَيۡبِ
غیب کے لئے
حَـٰ فِظِي نَ
٨١حفاظت کرنے والے
12:82
وَسۡــَٔلِ
اور پوچھ لو
بستی والوں سے
وہ جو
كُنّ َا
تھے ہم
فِيهَا
اس میں
وَٱ لۡعِيرَ
اور اہل قافلہ سے
وہ جو
أَقۡ بَلۡنَا
ہم آئے ہیں
فِيهَاۖ
اس میں
وَإِنّ َا
اور بیشک ہم
لَصَـٰ دِقُو نَ
٨٢البتہ سچے ہیں
12:83
قَالَ
کہا
بَلۡ
بلکہ
سَوَّلَتۡ
آسان کردیا
لَكُمۡ
تمہارے لئے
أَنف ُسُكُمۡ
تمہارے نفسوں نے
أَمۡرًاۖ
ایک کام کو
تو صبر ہی
اچھا ہے
عَسَى
امید ہے کہ
اللہ
أَن
لے آئے گا میرے پاس
بِهِمۡ
ان کو
جَمِيعًاۚ
سب کے سب کو
إِنّ َهُۥ
کیونکہ وہ
هُوَ
وہ
علم والا
حکمت والا ہے
12:84
وَتَوَلَّىٰ
اور اس نے منہ پھیرلیا
عَنۡهُمۡ
ان سے
وَقَالَ
اور بولا
يَـٰٓ أَسَفَىٰ
ہائے افسوس
عَلَىٰ
پر
يُوسُفَ
یوسف
وَٱ بۡ يَضَّتۡ
اور سفید ہوگئیں
عَيۡنَاهُ
اس کی دونوں آنکھیں
مِنَ
سے
غم کی وجہ
فَهُوَ
تو وہ
كَظِي مٌ
٨٤سخت غمگین تھے
12:85
قَالُواۡ
انہوں نے کہا
تَٱ للَّهِ
قسم اللہ کی
تَفۡتَؤُاۡ
تو ہمیشہ رہتا ہے
تَذۡكُرُ
ذکر کرتا/ یاد کرتا
يُوسُفَ
یوسف کو
حَتَّىٰ
یہاں تک کہ
تَكُونَ
تو ہوجائے
حَرَضًا
بیمار/ بیکار
أَوۡ
یا
تَكُونَ
تو ہوجائے
مِنَ
میں سے
ہلاک ہونے والوں
12:86
قَالَ
اس نے کہا
إِنّ َمَآ
بیشک
أَشۡكُواۡ
میں شکایت کرتاہوں
بَثِّى
اپنی پریشانی کی
وَحُزۡنِىٓ
اور اپنے غم کی
إِلَى
طرف
اللہ کی
وَأَعۡلَمُ
اور میں جانتا ہوں
مِنَ
سے
اللہ کی طرف (سے)
مَا
جو
لَا
نہیں
تَعۡلَمُو نَ
٨٦تم جانتے