Back to Juz Indexت َسۡتَطِيعَس َأَلۡتُكَش َىۡءِۭ ب َعۡدَهَال َّدُنّ ِىٱ سۡتَطۡ عَمَآ ي ُضَيِّفُوهُمَاي ُرِيدُي َنق َضَّٱ ل سَّفِينَةُٱ لۡبَحۡرِم َّلِكٌ ي َأۡخُذُٱ لۡغُلَـٰ مُي ُرۡهِقَهُمَاو َكُفۡرًا٨٠ي ُبۡ دِلَهُمَام ِّنۡهُو َأَقۡ رَبَٱ لۡجِدَارُٱ لۡمَدِينَةِل َّهُمَاف َأَرَادَي َبۡ لُغَآ م ِّن ر َّبِّكَۚذ ِىٱ لۡقَرۡنَيۡنِۖم ِّنۡهُٱ لۡأَرۡضِك ُلِّس َبَبًا٨٤ٱ ل شَّمۡسِو َوَجَدَق ُلۡنَاٱ لۡقَرۡنَيۡنِت ُعَذِّبَت َتَّخِذَظ َلَمَن ُّكۡرًا٨٧ف َلَهُۥ ٱ لۡحُسۡنَىٰۖٱ ل شَّمۡسِل َّمۡم ِّن د ُونِهَاٱ ل سَّدَّيۡنِد ُونِهِمَال َّاٱ لۡقَرۡنَيۡنِٱ لۡأَرۡضِت َجۡ عَلَف َأَعِينُونِىٱ لۡحَدِيدِۖٱ ل صَّدَفَيۡنِٱ نف ُخُواۡۖ ق َالَٱ سۡطَـٰ عُوٓ اۡ ي َظۡهَرُوهُٱ سۡتَطَـٰ عُواۡ م ِّن ر َّبِّىۖي َمُوجُو َنُفِخَٱ ل صُّورِل ِّلۡكَـٰ فِرِينَذ ِكۡرِىٱ لَّذِينَي َتَّخِذُواۡ د ُونِىٓ ب ِٱ لۡأَخۡسَرِينَٱ لۡحَيَو ٰ ةِٱ ل دُّنۡيَاٱ لَّذِينَٱ لۡقِيَـٰ مَةِٱ لَّذِينَٱ ل صَّـٰ لِحَـٰ تِٱ لۡفِرۡدَوۡسِٱ لۡبَحۡرُل ِّكَلِمَـٰ تِٱ لۡبَحۡرُت َنف َدَم ِّثۡلُكُمۡو ٰ حِدٌۖ ف َمَن ك َانَص َـٰ لِحًا و َلَاكٓ هيعٓ صٓ ١ٱ لۡعَظۡمُٱ ل رَّأۡسُو َلَمۡب ِدُعَا ٓئِكَٱ لۡمَوٰ لِىَو َرَا ٓءِىٱ مۡرَأَتِىف َهَبۡ ل َّدُنك َٱ سۡمُهُۥ ق َبۡ لُو َكَانَتِٱ مۡرَأَتِىو َقَدۡ ٱ لۡكِبَرِو َقَدۡ ق َبۡ لُٱ جۡ عَلق َالَٱ ل نّ َاسَس َوِيًّا١٠ٱ لۡمِحۡرَابِس َبِّحُواۡ و َعَشِيًّا١١ٱ لۡكِتَـٰ بَو َءَاتَيۡنَـٰ هُٱ لۡحُكۡمَم ِّن ل َّدُنّ َاو َكَانَب ِوٰ لِدَيۡهِج َبَّارًاٱ لۡكِتَـٰ بِٱ نت َبَذَتۡش َرۡقِيًّا١٦د ُونِهِمۡف َأَرۡسَلۡنَآ س َوِيًّا١٧ك ُنت َز َكِيًّا١٩و َلَمۡو َلَمۡو َلِنَجۡ عَلَهُۥٓ ل ِّلنّ َاسِم ِّنّ َاۚم َّقۡ ضِيًّا٢١ق َصِيًّا٢٢ٱ لۡمَخَاضُٱ ل نّ َخۡلَةِم َّنس ِيًّا٢٣ت َحۡتِهَآ ٱ ل نّ َخۡلَةِج َنِيًّا٢٥ف َإِمّ َاٱ لۡبَشَرِف َقُولِىٓ ف َلَنۡٱ لۡيَوۡمَف َرِيًّا٢٧ٱ مۡرَأَو َمَاك َانَٱ لۡمَهۡدِٱ للَّهِٱ لۡكِتَـٰ بَب ِوٰ لِدَتِىش َقِيًّا٣٢ٱ بۡ نُٱ لۡحَقِّٱ لَّذِىي َتَّخِذَو َلَدٍۖ س ُبۡ حَـٰ نَهُۥٓۚ ف َإِنّ َمَاف َيَكُو نُ٣٥ٱ للَّهَم ُّسۡتَقِي مٌ٣٦ٱ لۡأَحۡزَابُب َيۡنِهِمۡۖل ِّلَّذِينَم َّشۡهَدِٱ ل ظَّـٰ لِمُونَٱ لۡيَوۡمَم ُّبِي نٍ٣٨ٱ لۡحَسۡرَةِٱ لۡأَمۡرُو َهُمۡٱ لۡأَرۡضَٱ لۡكِتَـٰ بِن َّبِيًّا٤١ٱ لۡعِلۡمِس َوِيًّا٤٣ٱ ل شَّيۡطَـٰ نَۖٱ ل شَّيۡطَـٰ نَي َمَسَّكَم ِّنَٱ ل رَّحۡمَـٰ نِل َّمۡد ُونِٱ للَّهِٱ عۡتَزَلَهُمۡد ُونِٱ للَّهِج َعَلۡنَام ِّن ر َّحۡمَتِنَاٱ لۡكِتَـٰ بِو َكَانَن َّبِيًّا٥١ج َانِبِٱ ل طُّورِٱ لۡأَيۡمَنِر َّحۡمَتِنَآ ٱ لۡكِتَـٰ بِٱ لۡوَعۡدِن َّبِيًّا٥٤ٱ لۡكِتَـٰ بِن َّبِيًّا٥٦ٱ لَّذِينَٱ للَّهُم ِّنَٱ ل نّ َبِيِّــۧ نَذ ُرِّيَّةِو َمِن ذ ُرِّيَّةِٱ ل رَّحۡمَـٰ نِو َبُكِيًّا۩ب َعۡدِهِمۡٱ ل صَّلَو ٰ ةَٱ ل شَّهَوٰ تِۖت َابَف َأُوۡ لَـٰٓ ئِكَٱ لۡجَنّ َةَٱ لَّتِىٱ ل رَّحۡمَـٰ نُو َلَهُمۡو َعَشِيًّا٦٢ٱ لۡجَنّ َةُٱ لَّتِىك َانَٱ ل سَّمَـٰ وٰ تِٱ لۡإِنس َـٰ نُٱ لۡإِنس َـٰ نُق َبۡ لُك ُلِّٱ ل رَّحۡمَـٰ نِم ِّنك ُمۡم َّقۡ ضِيًّا٧١ٱ لَّذِينَٱ تَّقَواۡ ٱ ل ظَّـٰ لِمِينَق َالَٱ لَّذِينَٱ لۡفَرِيقَيۡنِم َّقَامًا و َأَحۡسَنُم ِّن ق َرۡنٍو َرِءۡيًا٧٤ك َانَٱ ل ضَّلَـٰ لَةِٱ ل رَّحۡمَـٰ نُٱ لۡعَذَابَٱ ل سَّاعَةَم َّكَانًا و َأَضۡعَفُٱ للَّهُٱ لَّذِينَٱ هۡتَدَوۡاۡ و َٱ لۡبَـٰ قِيَـٰ تُٱ ل صَّـٰ لِحَـٰ تُو َخَيۡرٌ م َّرَدًّا٧٦ٱ لَّذِىو َوَلَدًا٧٧ٱ لۡغَيۡبَٱ تَّخَذَٱ ل رَّحۡمَـٰ نِٱ لۡعَذَابِد ُونِٱ للَّهِل ِّيَكُونُواۡ ٱ ل شَّيَـٰ طِينَٱ لۡكَـٰ فِرِينَٱ لۡمُتَّقِينَٱ ل رَّحۡمَـٰ نِٱ لۡمُجۡ رِمِينَٱ ل شَّفَـٰ عَةَٱ تَّخَذَٱ ل رَّحۡمَـٰ نِٱ تَّخَذَٱ ل رَّحۡمَـٰ نُٱ ل سَّمَـٰ وٰ تُٱ لۡأَرۡضُٱ لۡجِبَالُد َعَوۡاۡ ي َتَّخِذَك ُلُّف ِىٱ ل سَّمَـٰ وٰ تِٱ ل رَّحۡمَـٰ نِٱ لۡقِيَـٰ مَةِٱ لَّذِينَٱ ل صَّـٰ لِحَـٰ تِٱ ل رَّحۡمَـٰ نُٱ لۡمُتَّقِينَل ُّدًّا٩٧م ِّن ق َرۡنٍم ِّنۡٱ لۡقُرۡءَانَل ِّمَن ي َخۡشَىٰ٣م ِّمّ َنۡٱ لۡأَرۡضَٱ لۡعُلَى٤ٱ لۡعَرۡشِٱ سۡتَوَىٰ٥ٱ ل سَّمَـٰ وٰ تِٱ لۡأَرۡضِٱ ل ثَّرَىٰ٦ت َجۡ هَرۡٱ ل سِّرَّٱ لۡأَسۡمَا ٓءُٱ لۡحُسۡنَىٰ٨ف َقَالَٱ مۡكُثُوٓ اۡ ل َّعَلِّىٓ م ِّنۡهَاٱ ل نّ َارِٱ لۡمُقَدَّسِٱ خۡتَرۡتُكَٱ للَّهُٱ ل صَّلَو ٰ ةَٱ ل سَّاعَةَب ِمَال َّات َسۡعَىٰ٢٠ٱ لۡأُولَىٰ٢١ٱ لۡكُبۡ رَى٢٣ٱ شۡرَحۡم ِّن ل ِّسَانِى٢٧م ِّنۡٱ قۡ ذِفِيهِٱ ل تَّابُوتِٱ لۡيَمّ ِٱ لۡيَمّ ُل ِّىل َّهُۥ ۚم ِّنّ ِىي َكۡفُلُهُۥ ۖف َنَجَّيۡنَـٰ كَٱ لۡغَمّ ِف َلَبِثۡتَي َـٰ مُوسَىٰ٤٠ل َّيِّنًا ل َّعَلَّهُۥ ي َفۡرُطَي َطۡ غَىٰ٤٥م ِّن ر َّبِّكَۖٱ تَّبَعَٱ لۡهُدَىٰٓ٤٧ٱ لۡعَذَابَك َذَّبَر َّبُّكُمَاٱ لَّذِىٓ ٱ لۡقُرُونِٱ لۡأُولَىٰ٥١ل َّاٱ لۡأَرۡضَو َسَلَكَو َأَنز َلَٱ ل سَّمَا ٓءِف َأَخۡرَجۡ نَام ِّن ن َّبَاتٍ ش َتَّىٰ٥٣ل ِّأُوۡ لِىٱ ل نّ ُهَىٰ٥٤م ِّثۡلِهِۦ ل َّاسُ وًى٥٨ٱ ل زِّينَةِي ُحۡشَرَٱ ل نّ َاسُم ُّوسَىٰٱ للَّهِف َيُسۡحِتَكُم ب ِعَذَابٍۖ و َقَدۡ ٱ فۡتَرَىٰ٦١ب َيۡنَهُمۡٱ ل نّ َجۡ وَىٰ٦٢ي ُخۡرِجَاكُم م ِّنۡب ِسِحۡرِهِمَاٱ لۡمُثۡلَىٰ٦٣ٱ ئۡتُواۡ و َقَدۡ ٱ لۡيَوۡمَٱ سۡتَعۡلَىٰ٦٤ت ُلۡقِىَن َّكُونَس ِحۡرِهِمۡم ُّوسَىٰ٦٧ٱ لۡأَعۡلَىٰ٦٨و َلَاٱ ل سَّاحِرُٱ ل سَّحَرَةُق َالُوٓ اۡ ٱ لَّذِىٱ ل سِّحۡرَۖم ِّنۡو َلَأُصَلِّبَنّ َكُمۡٱ ل نّ َخۡلِو َأَبۡ قَىٰ٧١ن ُّؤۡثِرَكَٱ لۡبَيِّنَـٰ تِٱ لۡحَيَو ٰ ةَٱ ل دُّنۡيَآ٧٢ٱ ل سِّحۡرِۗو َأَبۡ قَىٰٓ٧٣ي َأۡتِف َإِنّ َي َأۡتِهِۦ ق َدۡ ٱ ل صَّـٰ لِحَـٰ تِٱ ل دَّرَجَـٰ تُٱ لۡعُلَىٰ٧٥ت َجۡ رِىت َحۡتِهَاٱ لۡأَنۡهَـٰ رُت َزَكَّىٰ٧٦ف ِىٱ لۡبَحۡرِل َّاو َلَام ِّنَٱ لۡيَمّ ِم ِّنۡٱ ل طُّورِٱ لۡأَيۡمَنَٱ لۡمَنّ َط َيِّبَـٰ تِي َحۡلِلۡل ِّمَن ت َابَث ُمّ َٱ هۡتَدَىٰ٨٢ق َوۡمِكَب َعۡدِكَٱ ل سَّامِرِىُّ٨٥ق َالَٱ لۡعَهۡدُي َحِلَّم ِّن ر َّبِّكُمۡم َّوۡعِدِى٨٦م ِّن ز ِينَةِٱ لۡقَوۡمِٱ ل سَّامِرِىُّ٨٧ج َسَدًا ل َّهُۥ ف َقَالُواۡ و َلَاو َلَاق َبۡ لُب ِهِۦ ۖٱ ل رَّحۡمَـٰ نُن َّبۡ رَحَت َقُولَم ِّنۡٱ ل رَّسُولِٱ لۡحَيَو ٰ ةِت َقُولَل َّن ت ُخۡلَفَهُۥ ۖٱ لَّذِىل َّنُحَرِّقَنّ َهُۥ ٱ لۡيَمّ ِٱ للَّهُٱ لَّذِىل َّدُنّ َاٱ لۡقِيَـٰ مَةِٱ لۡقِيَـٰ مَةِٱ ل صُّورِۚٱ لۡمُجۡ رِمِينَز ُرۡقًا١٠٢ل َّبِثۡتُمۡل َّبِثۡتُمۡٱ لۡجِبَالِص َفۡصَفًا١٠٦و َلَآ ي َتَّبِعُونَٱ ل دَّاعِىَٱ لۡأَصۡوَاتُل َّاٱ ل شَّفَـٰ عَةُٱ ل رَّحۡمَـٰ نُٱ لۡوُجُوهُٱ لۡقَيُّومِۖي َعۡمَلۡٱ ل صَّـٰ لِحَـٰ تِف َلَاو َلَاو َصَرَّفۡنَاٱ لۡوَعِيدِٱ للَّهُٱ لۡمَلِكُٱ لۡحَقُّۗق َبۡ لِي ُقۡ ضَىٰٓ ق َبۡ لُٱ سۡجُدُواۡ ل َّكَٱ لۡجَنّ َةِٱ ل شَّيۡطَـٰ نُٱ لۡخُلۡدِل َّاو َرَقِٱ لۡجَنّ َةِۚٱ جۡ تَبَـٰ هُٱ هۡبِطَاب َعۡضُكُمۡف َإِمّ َام ِّنّ ِىف َمَنِٱ تَّبَعَذ ِكۡرِىض َنكًا و َنَحۡشُرُهُۥ ٱ لۡقِيَـٰ مَةِٱ لۡيَوۡمَب ِـَٔـايَـٰ تِٱ لۡأَخِرَةِم ِّنَٱ لۡقُرُونِل ِّأُوۡ لِىٱ ل نّ ُهَىٰ١٢٨س َبَقَتۡر َّبِّكَو َأَجَلٌ م ُّسَمّ ًى١٢٩ٱ ل شَّمۡسِٱ لَّيۡلِٱ ل نّ َهَارِم ِّنۡهُمۡٱ لۡحَيَو ٰ ةِٱ ل دُّنۡيَاو َأَبۡ قَىٰ١٣١ن َّحۡنُم ِّن ر َّبِّهِۦٓۚ ب َيِّنَةُٱ ل صُّحُفِٱ لۡأُولَىٰ١٣٣ب ِعَذَابٍ م ِّن ق َبۡ لِهِۦ ف َنَتَّبِعَق َبۡ لِن َّذِلَّم ُّتَرَبِّصٌ ف َتَرَبَّصُواۡۖ ٱ ل صِّرٰ طِٱ ل سَّوِىِّٱ هۡتَدَىٰ١٣٥
جزء 16
3 Surahs269 Versesجزء 16
18:75
۞قَالَ
کہا
أَلَمۡ
کیا نہیں
أَقُل
میں نے کہا تھا
لَّكَ
تجھ کو
إِنّ َكَ
بیشک تو
لَن
ہرگز نہیں
تو استطاعت رکھتا
مَعِىَ
میرے ساتھ
صَبۡ رًا
٧٥صبر کی
اس (خضر) نے کہا : کیا میں نے آپ سے کہا نہیں تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر نہیں کرسکیں گے
18:76
قَالَ
کہا
إِن
اگر
میں سوال کروں تجھ سے
عَن
کا
کسی چیز کا
اس کے بعد
فَلَا
تو نہ
تُصَـٰ حِبۡ نِىۖ
تو ساتھ رکھنا مجھ کو
قَدۡ
تحقیق
بَلَغۡتَ
پہنچا تجھ کو
مِن
سے
میری طرف (سے)
عُذۡرًا
٧٦عذر
موسیٰ نے کہا : اگر میں آپ سے سوال کروں کسی چیز کے بارے میں اس کے بعد تو آپ مجھے اپنے ساتھ نہ رکھیے گا آپ پہنچ چکے ہیں میری طرف سے حد عذر کو
18:77
فَٱ نط َلَقَا
تو دونوں چل دیے
حَتَّىٰٓ
یہاں تک کہ
إِذَآ
جب
أَتَيَآ
وہ دونوں آئے
أَهۡلَ
والوں کے
قَرۡيَةٍ
ایک بستی (والوں کے پاس)
تو ان دونوں نے کھانا مانگا
أَهۡلَهَا
اس کے رہنے والوں سے
فَأَبَوۡاۡ
تو انہوں نے انکار کردیا
أَن
کہ
وہ مہمان بنائیں ان کو
فَوَجَدَا
تو ان دونوں نے پائی
فِيهَا
اس میں
جِدَارًا
ایک دیوار
وہ چاہتی تھی
أَن
کہ
ٹوٹ جائے۔ ٹوٹ گرے
فَأَقَامَهُۥ ۖ
تو اس نے قائم کردیا اس کو
قَالَ
اس نے کہا
لَوۡ
اگر
شِئۡتَ
تو چاہتا
لَتَّخَذۡتَ
البتہ تو لے لیتا
عَلَيۡهِ
اس پر
أَجۡ رًا
٧٧اجرت
پھر وہ دونوں چل پڑے یہاں تک کہ جب پہنچے ایک بستی کے لوگوں کے پاس تو انہوں نے کھانا مانگا بستی والوں سے تو انہوں نے انکار کردیا ان دونوں کی مہمان نوازی سے تو ان دونوں نے وہاں ایک دیوار دیکھی جو گرا چاہتی تھی تو اس (خضر) نے اسے سیدھا کردیا موسیٰ نے کہا : اگر آپ چاہتے تو اس پر کچھ اجرت لے لیتے
18:78
قَالَ
کہا
هَـٰ ذَا
یہ ہے
فِرَاقُ
جدائی
بَيۡنِى
میرے درمیان
وَبَيۡنِكَۚ
اور تیرے درمیان
سَأُنَبِّئُكَ
عنقریب میں بتاؤں گا تجھ کو
بِتَأۡوِيلِ
حقیقت
مَا
اس کی جو
لَمۡ
نہیں
تَسۡتَطِع
تو کرسکا
عَّلَيۡهِ
اس پر
صَبۡ رًا
٧٨صبر
اس (خضر) نے کہا بس اب یہ جدائی (کا وقت) ہے میرے اور آپ کے درمیان اب میں آپ کو بتائے دیتا ہوں اصل حقیقت ان چیزوں کی جن پر آپ صبر نہ کرسکے
18:79
أَمّ َا
رہی
کشتی
فَكَانَتۡ
تو وہ تھی
لِمَسَـٰ كِينَ
مسکینوں کی
يَعۡمَلُونَ
جو کام کرتے تھے
فِى
میں
سمندر (میں)
فَأَرَد تُّ
تو میں نے چاہا
أَنۡ
کہ
أَعِيبَهَا
میں عیب دار کردوں اس کو
وَكَانَ
اور تھا
وَرَا ٓءَهُم
ان کے پیچھے
ایک بادشاہ
جو لے رہا تھا
كُلَّ
ہر
سَفِينَةٍ
کشتی کو
غَصۡبًا
٧٩ظلم سے۔ چھین کر۔ غصب کرکے
جہاں تک اس کشتی کا معاملہ ہے تو وہ غریب لوگوں کی (ملکیت) تھی جو محنت کرتے تھے دریا میں تو میں نے چاہا کہ اسے عیب دار کر دوں اور ان کے آگے ایک بادشاہ تھا جو پکڑ رہا تھا ہر کشتی کو زبردستی
18:80
وَأَمّ َا
اور رہا
لڑکا
فَكَانَ
تو تھے
أَبَوَاهُ
اس کے والدین
مُؤۡمِنَيۡنِ
دونوں مومن
فَخَشِينَآ
تو ڈرہوا ہم کو
أَن
کہ
وہ غالب آجائے ان دونوں پر
طُغۡيَـٰ نًا
سرکشی سے
اور کفر کے ساتھ
رہا وہ لڑکا تو اس کے والدین دونوں مؤمن تھے تو ہمیں خدشہ ہوا کہ وہ سرکشی اور ناشکری سے ان پر تعدی کرے گا
18:81
فَأَرَدۡ نَآ
تو ارادہ کیا ہم نے
أَن
کہ
بدل کردے ان کو
رَبُّهُمَا
ان کا رب
خَيۡرًا
بہتر
اس سے
زَكَو ٰ ةً
پاکیزگی میں
اور زیادہ قریب
رُحۡمًا
٨١شفقت میں۔ رحمت میں
پس ہم نے چاہا کہ ان دونوں کو بدلے میں دے ان کا رب اس سے بہتر (اولاد) پاکیزگی میں اور قریب تر شفقت میں
18:82
وَأَمّ َا
اور جہاں تک
دیوار کا تعلق ہے
فَكَانَ
تو تھی
لِغُلَـٰ مَيۡنِ
دو لڑکوں کی
يَتِيمَيۡنِ
دونوں یتیم
فِى
میں
شہر میں
وَكَانَ
اور تھا
تَحۡتَهُۥ
اس کے نیچے
كَنزٌ
ایک خزانہ
ان دونوں کا
وَكَانَ
اور تھا
أَبُوهُمَا
ان کا والد
صَـٰ لِحًا
نیک
تو ارادہ کیا
رَبُّكَ
تیرے رب نے
أَن
کہ
وہ دونوں پہنچیں
أَشُدَّهُمَا
اپنی جوانی کو
وَيَسۡتَخۡرِجَا
اور نکالیں
كَنز َهُمَا
اپنے خزانے کو
رَحۡمَةً
بطور رحمت
سے
تیرے رب کی طرف سے
وَمَا
اور نہیں
فَعَلۡتُهُۥ
میں نے کہا اس کو
عَنۡ
سے
أَمۡرِىۚ
اپنے حکم سے
ذٰ لِكَ
یہ ہے
تَأۡوِيلُ
حقیقت
مَا
جو
لَمۡ
نہیں
تَسۡطِع
تم استطاعت رکھ سکے
عَّلَيۡهِ
اس پر
صَبۡ رًا
٨٢صبر کی
اور رہی وہ دیوار تو وہ شہر کے دو یتیم لڑکوں کی تھی اور اس کے نیچے خزانہ تھا ان دونوں کے لیے اور ان کا باپ نیک آدمی تھا لہٰذا آپ کے رب نے چاہا کہ وہ دونوں اپنی جوانی کو پہنچ جائیں اور نکال لیں اپنا خزانہ (یہ سب امور) آپ کے رب کی رحمت سے (طے ہوئے) تھے اور میں نے اپنی رائے سے انہیں سر انجام نہیں دیا یہ ہے اصل حقیقت ان باتوں کی جن پر آپ صبر نہ کرسکے
18:83
وَيَسۡــَٔلُونَكَ
اور وہ سوال کرتے ہیں آپ سے
عَن
کے
ذوالقرنین
ذوالقرنین کے بارے میں
قُلۡ
کہہ دیجیے
سَأَتۡلُواۡ
عنقریب میں پڑھوں گا
عَلَيۡكُم
تم پر
اس میں سے
ذِكۡرًا
٨٣کچھ ذکر۔ کچھ حال
اور یہ لوگ آپ سے ذوالقرنین کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ آپ کہیے کہ ابھی میں آپ لوگوں کو اس کا حال بتاتا ہوں
18:84
إِنّ َا
بیشک ہم نے
مَكَّنّ َا
اقتدار دیا تھا ہم نے
لَهُۥ
اس کو
فِى
میں
زمین (میں)
وَءَاتَيۡنَـٰ هُ
اور دئیے تھے ہم نے اس کو
مِن
سے
ہر
شَىۡءٍ
چیز میں سے
اسباب
ہم نے اسے زمین میں تمکن عطا کیا تھا اور اسے ہر طرح کے اسباب و وسائل مہیا کیے تھے
18:85
فَأَتۡبَعَ
تو اس نے پیروی کی
سَبَبًا
٨٥اسباب کی
تو اس نے ایک (مہم کا) سروسامان کیا
18:86
حَتَّىٰٓ
یہاں تک کہ
إِذَا
جب
بَلَغَ
وہ پہنچ گیا
مَغۡرِبَ
غروب ہونے کی جگہ
سورج
وَجَدَهَا
پایا اس کو
تَغۡرُبُ
غروب ہورہا ہے
فِى
میں
عَيۡنٍ
ایک چشمے (میں)
حَمِئَةٍ
گدلے۔ کیچڑ والے
اور پایا
عِند َهَا
اس کے پاس
قَوۡمًاۗ
ایک قوم کو
کہا ہم نے
يَـٰ ذَا
اے
ذوالقرنین
إِمّ َآ
خواہ
أَن
یہ
تو عذاب دے۔ سزا دے
وَإِمّ َآ
اور خواہ یہ
أَن
کہ
تو اختیار کرے
فِيهِمۡ
ان کے معاملے میں
حُسۡنًا
٨٦بھلائی
یہاں تک کہ جب وہ سورج کے غروب ہونے کی جگہ تک پہنچا اس نے اسے غروب ہوتے ہوئے پایا ایک گدلے چشمے میں اور اس نے پایا وہاں ایک قوم کو ہم نے کہا : اے ذوالقرنین ! تم چاہو تو انہیں سزا دو اور چاہو تو ان (کے بارے) میں حسن سلوک کا معاملہ کرو
18:87
قَالَ
اس نے کہا
أَمّ َا
رہا وہ
مَن
جو
ظلم کرتا ہے
فَسَوۡفَ
تو عنقریب
نُعَذِّبُهُۥ
ہم عذاب دیں گے اس کو
ثُمّ َ
پھر
يُرَدُّ
وہ لوٹایاجائے گا
إِلَىٰ
طرف
رَبِّهِۦ
اپنے رب کی (طرف)
فَيُعَذِّبُهُۥ
تو وہ عذاب دے گا اس کو
عَذَابًا
عذاب
سخت
اس نے کہا جس نے ظلم کیا ہم اسے سزا دیں گے پھر وہ لوٹایا جائے گا اپنے رب کی طرف اور وہ اسے بہت سخت عذاب دے گا
18:88
وَأَمّ َا
اور رہا
مَنۡ
جو
ءَامَنَ
ایمان لایا
وَعَمِلَ
اور عمل کیے
صَـٰ لِحًا
اچھے
تو اس کے لیے
جَزَا ٓءً
جزا ہے ۔ بدلہ ہے
اچھی (جزا ہے ۔ اچھا بدلہ ہے)
وَسَنَقُولُ
اور عنقریب ہم کہیں گے
لَهُۥ
اس سے
مِنۡ
سے
أَمۡرِنَا
اپنے حکم میں (سے)
يُسۡرًا
٨٨آسان
اور جو کوئی ایمان لایا اور اس نے نیک اعمال کیے تو اس کے لیے ہے اچھی جزا اور اس سے ہم بات کریں گے اپنے معاملے میں نرمی سے
18:89
ثُمّ َ
پھر
أَتۡبَعَ
اس نے پیروی کی
سَبَبًا
٨٩اسباب کی
پھر اس نے ایک (اور مہم کا) سروسامان کیا
18:90
حَتَّىٰٓ
یہاں تک کہ
إِذَا
جب
بَلَغَ
وہ پہنچا
مَطۡ لِعَ
طلوع ہونے کی جگہ
سورج کے
وَجَدَهَا
پایا اس کو
تَطۡ لُعُ
کہ طلوع ہو رہا ہے
عَلَىٰ
پر
قَوۡمٍ
ایک قوم (پر)
نہیں
نَجۡ عَل
بنایا ہم نے
لَّهُم
ان کے لیے
کے
اس کے ادھر
سِتۡرًا
٩٠کوئی پردہ۔ اوٹ
یہاں تک کہ وہ سورج کے طلوع ہونے کی جگہ پر پہنچ گیا اس نے اس کو طلوع ہوتے پایا ایک ایسی قوم پر جس کے لیے ہم نے اس (سور ج) کے مقابل کوئی اوٹ نہیں رکھی تھی
18:91
كَذٰ لِكَ
اسی طرح
وَقَدۡ
اور تحقیق
أَحَطۡ نَا
گھیر رکھا تھا ہم نے
بِمَا
جو
لَدَيۡهِ
اس کے پاس تھا
خُبۡ رًا
٩١خبر میں سے
(پھر) ایسا ہی ہوا اور ہم پوری طرح باخبر تھے اس کے احوال سے
18:92
ثُمّ َ
پھر
أَتۡبَعَ
اس نے پیروی کی
سَبَبًا
٩٢اسباب کی
پھر اس نے ایک (اور مہم کا) سروسامان کیا
18:93
حَتَّىٰٓ
یہاں تک کہ
إِذَا
جب
بَلَغَ
وہ پہنچا
بَيۡنَ
درمیان
دو پہاڑوں کے
وَجَدَ
اس نے پایا
مِن
سے
ان کے علاوہ
قَوۡمًا
ایک قوم کو
نہ
يَكَادُونَ
قریب تھے
يَفۡقَهُونَ
کہ سمجھتے
قَوۡلاً
٩٣بات کو
یہاں تک کہ جب وہ دو دیواروں کے درمیان پہنچا اس نے پایا ان دونوں سے ورے ایک قوم (کے افراد) کو جو کوئی بات سمجھ نہیں سکتے تھے
18:94
قَالُواۡ
انہوں نے کہا
يَـٰ ذَا
اے
اے ذوالقرنین
إِنّ َ
بیشک
يَأۡجُوجَ
یاجوج
وَمَأۡجُوجَ
اور ماجوج
مُفۡسِدُونَ
فساد کرنے والے ہیں
فِى
میں
زمین (میں)
فَهَلۡ
تو کیا
نَجۡ عَلُ
ہم بنائیں
لَكَ
تیرے لیے
خَرۡجًا
خراج۔ ٹیکس
عَلَىٰٓ
اس بات پر
أَن
کہ
تو بنائے
بَيۡنَنَا
ہمارے درمیان
وَبَيۡنَهُمۡ
اور ان کے درمیان
سَدًّا
٩٤ایک بند۔ روک
انہوں نے کہا اے ذوالقرنین ! یا جوج اور ماجوج زمین میں بہت فساد مچانے والے لوگ ہیں تو کیا ہم آپ کو کچھ خراج ادا کریں کہ اس کے عوض آپ ہمارے اور ان کے درمیان ایک دیوار بنا دیں
18:95
قَالَ
اس نے کہا
مَا
جو
مَكَّنّ ِى
قدرت دی ہے مجھ کو
فِيهِ
اس میں
رَبِّى
میرے رب نے
خَيۡرٌ
بہتر ہے
پس تم سب مدد کرو میری
بِقُوَّةٍ
ساتھ قوت کے
أَجۡ عَلۡ
میں بناؤں
بَيۡنَكُمۡ
تمہارے درمیان
وَبَيۡنَهُمۡ
اور ان کے درمیان
رَدۡ مًا
٩٥ایک مضبوط دیوار
اس نے کہا جو کچھ مجھے دے رکھا ہے اس میں میرے رب نے وہ بہت بہتر ہے البتہ تم لوگ میری مدد کرو قوت (محنت) کے ذریعے سے میں تمہارے اور ان کے درمیان ایک مضبوط دیوار بنا دوں گا
18:96
ءَاتُونِى
دو مجھ کو
زُبَرَ
چادریں
لوہے کی (چادریں)۔ (لوہے کے) ٹکڑے
حَتَّىٰٓ
یہاں تک کہ
إِذَا
جب
سَاوَىٰ
برابر کردیا
بَيۡنَ
درمیان
دو کناروں کے
قَالَ
کہا
پھونکو
حَتَّىٰٓ
یہاں تک کہ
إِذَا
جب
جَعَلَهُۥ
کردیا اس کو
نَارًا
آگ
کہا
ءَاتُونِىٓ
دو مجھ کو
أُفۡرِغۡ
میں انڈیلوں
عَلَيۡهِ
اس پر
قِطۡ رًا
٩٦پگھلا ہوا تانبا
لاؤ میرے پاس تختے لوہے کے یہاں تک کہ جب اس نے برابر کردیا دونوں اونچائیوں کے درمیان (کی جگہ) کو اس نے کہا : اب آگ دہکاؤ یہاں تک کہ جب بنا دیا اس نے اس کو آگ (کی مانند) ُ س نے کہا : لاؤ میرے پاس میں ڈال دوں اس پر پگھلا ہوا تانبا
18:97
فَمَا
تو نہ
ہمت ہوئی
أَن
کہ
وہ چڑھ سکیں اس پر
وَمَا
اور نہ
وہ طاقت رکھتے تھے
لَهُۥ
اس کے لیے
نَقۡ بًا
٩٧نقب لگانے کی
اب نہ تو وہ (یاجوج ماجوج) اس کے اوپر چڑ ھ سکیں گے اور نہ ہی اس میں نقب لگا سکیں گے
18:98
قَالَ
کہا
هَـٰ ذَا
یہ
رَحۡمَةٌ
رحمت ہے
کی
میرے رب (کی)
فَإِذَا
پھر جب
جَا ٓءَ
آجائے گا
وَعۡدُ
وعدہ
رَبِّى
میرے رب
جَعَلَهُۥ
مقررہ وقت کردے گا اس کو
دَكَّا ٓءَۖ
برابر۔ ریزہ ریزہ
وَكَانَ
اور ہے
وَعۡدُ
وعدہ
رَبِّى
میرے رب کا
حَقًّا
٩٨سچ۔ برحق
اس نے کہا کہ یہ رحمت ہے میرے رب کی اور جب آجائے گا وعدہ میرے رب کا تو وہ کر دے گا اس کو ریزہ ریزہ اور میرے رب کا وعدہ سچا ہے
18:99
۞وَتَرَكۡنَا
اور ہم چھوڑ دیں گے
بَعۡضَهُمۡ
ان میں سے بعض کو
يَوۡمَئِذٍ
اس دن
مل جل جائیں گے۔ لہریں ماریں گے
فِى
میں
بَعۡضٍۖ
بعض
اور پھونک ماری جائے گی
فِى
میں
صور (میں)
فَجَمَعۡنَـٰ هُمۡ
تو ہم جمع کرلیں گے ان کو
جَمۡعًا
٩٩جمع کرنا
اور ہم چھوڑ دیں گے ان کو اس دن وہ ایک دوسرے میں گتھم گتھا ہوجائیں گے اور صور میں پھونکا جائے گا پس ہم ان سب کو جمع کرلیں گے
18:100
وَعَرَضۡنَا
اور ہم پیش کریں گے
جَهَنّ َمَ
جہنم کو
يَوۡمَئِذٍ
اس دن
کافروں کے لیے
عَرۡضًا
١٠٠پیش کرنا
اور اس روز ہم جہنم کو کافروں کے سامنے لے آئیں گے
18:101
ٱلَّذِينَ
وہ لوگ
كَانَتۡ
تھیں
أَعۡيُنُهُمۡ
ان کی آنکھیں
فِى
میں
غِطَا ٓءٍ
پردے (میں)
عَن
سے
میرے ذکر (سے)
وَكَانُواۡ
اور تھے وہ
لَا
نہ
يَسۡتَطِيعُونَ
استطاعت رکھتے
سَمۡعًا
١٠١سننے کی
وہ لوگ جن کی نگاہیں پردے میں تھیں میرے ذکر سے اور وہ سن بھی نہیں سکتے تھے
18:102
أَفَحَسِبَ
کیا بھلا گمان رکھتے ہیں
وہ لوگ
كَفَرُوٓ اۡ
جنہوں نے کفر کیا
أَن
کہ
وہ بنالیں گے
عِبَادِى
میرے بندوں کو
مِن
میرے سوا
أَوۡلِيَا ٓءَۚ
دوست مددگار
إِنّ َآ
بیشک ہم نے
أَعۡتَدۡ نَا
تیار کی ہم نے
جَهَنّ َمَ
جہنم
لِلۡكَـٰ فِرِينَ
کافروں کے لیے
نُزُلاً
١٠٢بطور مہمان کے
کیا کافروں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ وہ میرے ہی بندوں کو میرے مقابلے میں اپنے حمایتی بنا لیں گے یقیناً ہم نے تیار کر رکھا ہے جہنم کو ایسے کافروں کی مہمانی کے لیے
18:103
قُلۡ
کہہ دیجئے
هَلۡ
کیا
نُنَبِّئُكُم
ہم بتائیں تم کو
سب سے زیادہ خسارے والے۔ سب سے زیادہ ظالم لوگ
أَعۡمَـٰ لاً
١٠٣اعمال میں۔ اعمال کے اعتبار سے
آپ کہیے : کیا ہم تمہیں بتائیں کہ اپنے اعمال کے اعتبار سے سب سے زیادہ خسارے میں کون ہیں
18:104
ٱلَّذِينَ
وہ لوگ
ضَلَّ
گم ہوگئی
سَعۡيُهُمۡ
ان کی کوشش
فِى
میں
زندگی
دنیا کی
وَهُمۡ
اور وہ
يَحۡسَبُونَ
سمجھتے ہیں
أَنّ َهُمۡ
بیشک وہ
يُحۡسِنُونَ
اچھے کررہے ہیں
صُنۡعًا
١٠٤کام
وہ لوگ جن کی سعی و جہد دنیا ہی کی زندگی میں گم ہو کر رہ گئی اور وہ سمجھتے ہیں کہ وہ بہت اچھا کام کر رہے ہیں
18:105
أُوۡ لَـٰٓ ئِكَ
یہی
وہ لوگ ہیں
كَفَرُواۡ
جنہوں نے کفر کیا
بِـَٔـايَـٰ تِ
آیات سے
رَبِّهِمۡ
اپنے رب کی
وَلِقَا ٓئِهِۦ
اور اس کی ملاقات سے
فَحَبِطَتۡ
تو ضائع ہوگئے
أَعۡمَـٰ لُهُمۡ
ان کے اعمال
فَلَا
تو نہیں
نُقِيمُ
ہم قائم کریں گے۔ ہم دیکھیں گے
لَهُمۡ
ان کے لیے
يَوۡمَ
دن
قیامت کے
وَزۡنًا
١٠٥کوئی وزن
یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے انکار کیا اپنے رب کی آیات اور اس کی ملاقات کا تو برباد ہوگئے ان کے اعمال اور ہم قائم نہیں کریں گے ان کے لیے قیامت کے دن کوئی وزن
18:106
ذٰ لِكَ
یہ
جَزَا ٓؤُهُمۡ
ان کی جزا
جَهَنّ َمُ
جہنم ہے
بِمَا
بوجہ اس کے
كَفَرُواۡ
جو انہوں نے کفر کیا
وَٱ تَّخَذُوٓ اۡ
اور بنالیا
ءَايَـٰ تِى
میری آیات کو
وَرُسُلِى
اور میرے رسولوں کو
هُزُوًا
١٠٦مذاق
ان کا بدلہ جہنم ہے بسبب اس کے کہ انہوں نے کفر کیا اور میری آیات اور میرے رسولوں کا مذاق اڑایا
18:107
إِنّ َ
بیشک
وہ لوگ
ءَامَنُواۡ
جو ایمان لائے
وَعَمِلُواۡ
اور انہوں نے کام کیے
اچھے
كَانَتۡ
ہیں
لَهُمۡ
ان کے لیے
جَنّ َـٰ تُ
باغ
فردوس کے
نُزُلاً
١٠٧مہمانی کے طور پر
اس کے برعکس) وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کیے ان کی مہمانی کے لیے فردوس کے باغات ہوں گے
18:108
خَـٰ لِدِينَ
ہمیشہ رہنے والے ہیں
فِيهَا
ان میں
لَا
نہ
يَبۡ غُونَ
چاہیں گے
عَنۡهَا
ان سے
حِوَلاً
١٠٨بدلنا۔ ٹلنا
وہ اس میں ہمیشہ ہمیش رہیں گے وہاں سے وہ جگہ بدلنا نہیں چاہیں گے
18:109
قُل
کہہ دیجئے
لَّوۡ
اگر
كَانَ
ہوجائیں
سمندر
مِدَادًا
روشنائی
باتوں کے لیے
رَبِّى
میرے رب کی
لَنَفِدَ
البتہ ختم ہوجائیں
سمندر
قَبۡ لَ
اس سے پہلے
أَن
کہ
ختم ہوں
كَلِمَـٰ تُ
باتیں
رَبِّى
میرے رب کی
وَلَوۡ
اور اگرچہ
جِئۡنَا
لائیں ہم
بِمِثۡلِهِۦ
اس کی مانند
مَدَدًا
١٠٩مدد۔ اضافہ۔ زیادتی
(اے نبی) آپ کہیے کہ اگر سمندر روشنائی بن جائے میرے رب (کے کلمات کو لکھنے) کے لیے تو یقیناً سمندر ختم ہوجائے گا اس سے پہلے کہ میرے رب کے کلمات ختم ہوں اگرچہ اسی کی طرح اور (سمندر) بھی ہم (اس کی) مدد کے لیے لے آئیں
18:110
قُلۡ
کہہ دیجیے
إِنّ َمَآ
بیشک
أَنَاۡ
میں
بَشَرٌ
ایک انسان ہوں
تم جیسا
يُوحَىٰٓ
وحی کی جاتی ہے
إِلَىَّ
میری طرف
أَنّ َمَآ
بیشک
إِلَـٰ هُكُمۡ
الہ تمہارا
إِلَـٰ هٌ
اللہ ہے
ایک ہی
تو جو کوئی
ہو
يَرۡجُواۡ
امید رکھتا
لِقَا ٓءَ
ملاقات کی
رَبِّهِۦ
اپنے رب کی
فَلۡيَعۡمَلۡ
پس چاہیے کہ عمل کرے
عَمَلاً
عمل
نیک
اور نہ
يُشۡرِكۡ
شریک ٹھہرائے
بِعِبَادَةِ
عبادت میں
رَبِّهِۦٓ
اپنے رب کی
أَحَدَۢا
١١٠کسی ایک کو
(اے نبی) آپ کہہ دیجیے کہ میں تو بس تمہاری ہی طرح کا ایک انسان ہوں مجھ پر وحی کی جاتی ہے کہ تمہارا معبود بس ایک ہی معبود ہے پس جو کوئی بھی امید رکھتا ہو اپنے رب سے ملاقات کی تو اسے چاہیے کہ نیک اعمال کرے اور اپنے رب کی عبادت میں کسی کو بھی شریک نہ کرے
19:1
ک، ہ، ی، ع، ص
كۗهٰيٰعۗصۗ
19:2
ذِكۡرُ
ذکر ہے
رَحۡمَتِ
رحمت کا
رَبِّكَ
تیرے رب کی
عَبۡ دَهُۥ
جو اس کے بندے
زَكَرِيَّآ
٢زکریا پر تھی
یہ ذکر ہے آپ کے رب کی رحمت کا جو اس نے اپنے بندے زکریا پر کی
19:3
إِذۡ
جب
نَادَىٰ
اس نے پکارا
رَبَّهُۥ
اپنے رب کو
نِدَا ٓءً
پکارنا
خَفِيًّا
٣خفیہ۔ چپکے چپکے
جب اس نے پکارا اپنے رب کو چپکے چپکے
19:4
قَالَ
کہا
رَبِّ
اے میرے رب
إِنّ ِى
بیشک میں
وَهَنَ
کمزور ہوگئیں
ہڈیاں میری
مِنّ ِى
مجھ سے
وَٱ شۡتَعَلَ
اور بھڑک اٹھا
سر
شَيۡبًا
بڑھاپے سے
اور نہیں
أَكُنۢ
ہوں میں
ساتھ تیری دعا کے
رَبِّ
اے میرے رب
شَقِيًّا
٤نامراد
اس نے عرض کیا اے میرے پروردگار بلا شبہ میری ہڈیاں کمزور ہوگئی ہیں اور میرا سر بھڑک اٹھا ہے بڑھاپے سے اور اے میرے پروردگار میں تجھے پکار کر کبھی بھی نامراد نہیں رہا
19:5
وَإِنّ ِى
اور بیشک میں
خِفۡتُ
میں ڈرتا ہوں
اپنے بھائی بندوں سے۔ قرابت داروں سے
مِن
سے
اپنے پیچھے
وَكَانَتِ
اور ہے
میری بیوی
عَاقِرًا
بانجھ
پس عطا کر
لِى
مجھ کو
مِن
سے
اپنے پا س سے
وَلِيًّا
٥ایک وارث
اور مجھے اندیشہ ہے اپنے بھائی بندوں سے اپنے بعد اور میری بیوی بانجھ ہے تو تو مجھے خاص اپنے پاس سے ایک ولی عطا کر
19:6
يَرِثُنِى
جو وارث ہو میرا
وَيَرِثُ
اور وارث ہو
مِنۡ
سے
ءَالِ
آل
يَعۡقُوبَۖ
یعقوب میں سے
وَٱ جۡ عَلۡهُ
اور بنادے اس کو
رَبِّ
اے میرے رب
رَضِيًّا
٦پسندیدہ
جو وارث ہو میرا اور آل یعقوب کا اور اے میرے پروردگار ! اس کو بنائیو پسندیدہ
19:7
يَـٰ زَكَرِيَّآ
اے زکریا
إِنّ َا
بیشک
نُبَشِّرُكَ
ہم خوش خبری دیتے ہیں تجھ کو
بِغُلَـٰ مٍ
ایک بیٹے کی
اس کا نام
يَحۡيَىٰ
یحییٰ ہے
لَمۡ
نہیں
نَجۡ عَل
ہم نے بنایا
لَّهُۥ
اس کے لیے
مِن
سے
اس سے پہلے
سَمِيًّا
٧ہم نام
اے زکریا ؑ ! ہم تمہیں بشارت دیتے ہیں ایک لڑکے کی جس کا نام یحییٰ ہوگا ہم نے اس سے پہلے اس کا کوئی ہم نام نہیں بنایا
19:8
قَالَ
کہا
رَبِّ
اے میرے رب
أَنّ َىٰ
کیونکر۔ کہاں سے۔ کیسے
يَكُونُ
ہوسکتا ہے
لِى
میرے لیے
غُلَـٰ مٌ
بیٹا
جبکہ ہے
میری بیوی
عَاقِرًا
بانجھ
اور تحقیق
بَلَغۡتُ
میں پہنچا ہوا ہوں
مِنَ
سے
بڑھاپے میں
عِتِيًّا
٨حد سے باہر
اس نے کہا : اے میرے پروردگار ! میرے ہاں بیٹا کیسے ہوجائے گا جبکہ میری بیوی بانجھ ہے اور میں پہنچ چکا ہوں بڑھاپے کے باعث سوکھ جانے کی حالت کو
19:9
قَالَ
فرمایا
كَذٰ لِكَ
اسی طرح
قَالَ
کہا
رَبُّكَ
تیرے رب نے
هُوَ
وہ
عَلَىَّ
مجھ پر
هَيِّنٌ
بہت آسان ہے
اور تحقیق
خَلَقۡ تُكَ
میں نے پیدا کیا تھا تجھ کو
مِن
سے
اس سے پہلے
وَلَمۡ
اور نہ
تَكُ
تھا تو
شَيۡــًٔا
٩کچھ بھی
فرمایا : ایسے ہی ہوگا ! تمہارے پروردگار نے فرمایا ہے کہ یہ مجھ پر آسان ہے اور تمہیں بھی تو میں نے پیدا کیا اس سے پہلے جبکہ تم کچھ بھی نہیں تھے
19:10
قَالَ
کہا
رَبِّ
اے میرے رب
بنا
لِّىٓ
میرے لیے
ءَايَةًۚ
ایک نشانی
کہا
ءَايَتُكَ
نشانی تیری
أَلَّا
کہ نہ
تُكَلِّمَ
تو کلام کرے گا
لوگوں سے
ثَلَـٰ ثَ
تین
لَيَالٍ
رات
اچھا بھلا ہوئے بھی
عرض کیا : اے میرے پروردگار ! میرے لیے کوئی نشانی مقرر فرمادے فرمایا : تمہارے لیے نشانی یہ ہے کہ تم گفتگو نہیں کرسکو گے لوگوں سے تین راتیں متواتر
19:11
فَخَرَجَ
تو نکلو
عَلَىٰ
پر
قَوۡمِهِۦ
اپنی قوم
مِنَ
سے
محراب (سے)
فَأَوۡحَىٰٓ
تو اشارہ کیا
إِلَيۡهِمۡ
ان کی طرف
أَن
کہ
تسبیح کرو
بُكۡرَةً
صبح
اور شام
پھر وہ حجرے سے نکل کر اپنی قوم کی طرف آیا اور انہیں اشارے سے کہا کہ تم لوگ تسبیح بیان کرو صبح وشام
19:12
يَـٰ يَحۡيَىٰ
اے یحییٰ
خُذِ
لے لو
کتاب
بِقُوَّةٍۖ
مضبوطی کے ساتھ
اور دی تھی ہم نے اس کو
حکم۔ دانائی۔ قوت فیصلہ
صَبِيًّا
١٢بچپن میں ہی
اے یحییٰ کتاب کو مضبوطی سے تھام لو اور ہم نے اس کو عطا کردی حکمت و دانائی بچپن ہی میں
19:13
وَحَنَانًا
اور نرم دلی
سے
اپنے پاس سے
وَزَكَو ٰ ةًۖ
اور پاکیزگی
اور تھا وہ
تَقِيًّا
١٣پرہیزگار
اور ہماری طرف سے سوزو گداز والی محبت اور پاکیزگی (اسے عطا ہوئی) اور وہ بہت متقی تھا
19:14
وَبَرَّۢا
اور نیکوکار
اپنے والدین کے ساتھ
وَلَمۡ
اور نہ
يَكُن
تھا
متکبر
عَصِيًّا
١٤نافرمان
اور وہ اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنے والا تھا اور خود سر و نافرمان نہیں تھا
19:15
وَسَلَـٰ مٌ
اور سلام
عَلَيۡهِ
اس پر
يَوۡمَ
جس دن
وُلِدَ
وہ پیدا ہوا
وَيَوۡمَ
اور جس دن
يَمُوتُ
وہ فوت ہوگا
وَيَوۡمَ
اور جس دن
يُبۡ عَثُ
اٹھایا جائے گا
حَيًّا
١٥زندہ کرکے
اور سلام اس پر جس دن اس کی ولادت ہوئی جس دن اسے موت آئے اور جس دن وہ اٹھایا جائے زندہ کر کے
19:16
وَٱ ذۡكُرۡ
اور ذکر کرو
فِى
میں
کتاب (میں)
مَرۡيَمَ
مریم کا
إِذِ
جب
وہ تنہا ہوگئی
مِنۡ
سے
أَهۡلِهَا
اپنے گھروالوں (سے)
مَكَانًا
ایک جگہ پر
مشرق کی جانب
اور (اب) ذکر کیجیے اس کتاب (قرآن) میں مریم کا جبکہ وہ اپنے لوگوں سے الگ ہو کر ایک شرقی گوشے میں جا بیٹھی
19:17
فَٱ تَّخَذَتۡ
پھر بنا لیا
مِن
سے
ان سے ورے۔ ان کے اور اپنے درمیان
حِجَابًا
ایک اوٹ۔ پردہ
تو بھیجا ہم نے
إِلَيۡهَا
اس کی طرف
رُوحَنَا
اپنی روح کو
فَتَمَثَّلَ
تو اس نے شکل اختیار کی
لَهَا
اس کے لیے
بَشَرًا
ایک انسان کی
ٹھیک ٹھاک۔ تندرست
تو اس نے اپنے آپ کو ان سے پردے میں کرلیا پس ہم نے بھیجا اس کی طرف اپنا ایک فرشتہ تو اس نے صورت اختیار کی اس (مریم) کے سامنے ایک مکمل انسان کی
19:18
قَالَتۡ
بولیں
إِنّ ِىٓ
بیشک میں
أَعُوذُ
میں پناہ چاہتی ہوں
بِٱ ل رَّحۡمَـٰ نِ
رحمن کی
مِنك َ
تجھ سے
إِن
اگر
ہے تو
تَقِيًّا
١٨متقی انسان
مریم نے کہا : میں رحمن کی پناہ مانگتی ہوں تم سے اگر تم کوئی متقی شخص ہو
19:19
قَالَ
کہا
إِنّ َمَآ
بیشک
أَنَاۡ
میں
رَسُولُ
بھیجا ہوا ہوں
رَبِّكِ
تیرے رب کا
لِأَهَبَ
کہ عطا کروں
لَكِ
تجھ کو
غُلَـٰ مًا
ایک لڑکا
پاکیزہ
اس نے کہا : میں تو آپ کے رب کا فرستادہ ہوں تاکہ میں آپ کو ایک پاکیزہ بیٹا عطا کروں
19:20
قَالَتۡ
بولیں
أَنّ َىٰ
کہاں سے
يَكُونُ
ہوسکتا ہے
لِى
میرا
غُلَـٰ مٌ
لڑکا
اور نہیں
يَمۡسَسۡنِى
چھوا مجھ کو۔ نہیں ہاتھ لگایا مجھ کو
بَشَرٌ
کسی انسان نے
اور نہیں
أَكُ
میں ہو
بَغِيًّا
٢٠بدکار
مریم نے کہا : میرے ہاں بیٹا کیسے ہوگا ؟ جبکہ مجھے کسی بشر نے چھوا تک نہیں اور نہ ہی میں کوئی بدچلن عورت ہوں
19:21
قَالَ
کہا
كَذٰ لِكِ
اسی طرح
قَالَ
کہا
رَبُّكِ
تیرے رب نے
هُوَ
وہ
عَلَىَّ
مجھ پر
هَيِّنٌۖ
بہت آسان ہے
اور تاکہ ہم کردیں اس کو
ءَايَةً
ایک نشانی
لوگوں کے لیے
وَرَحۡمَةً
اور رحمت
ہماری طرف سے
وَكَانَ
اور ہے
أَمۡرًا
ایک کام
پورا ہونے والا
اس (فرشتے) نے کہا : ایسے ہی ہوگا آپ کا رب فرماتا ہے کہ یہ مجھ پر آسان ہے تاکہ ہم اسے بنائیں ایک نشانی لوگوں کے لیے اور رحمت اپنی طرف سے اور یہ ایک طے شدہ امر ہے
19:22
۞فَحَمَلَتۡهُ
تو اٹھا لیا اس کو
فَٱ نت َبَذَتۡ
پھر الگ ہوئی
بِهِۦ
ساتھ اس کے
مَكَانًا
جگہ پر
دور کی
تو اسے اس (بچے) کا حمل ٹھہر گیا چناچہ وہ اسے لے کر ایک دور جگہ پر چلی گئی
19:23
فَأَجَا ٓءَهَا
تو لے آئی اس کو
دردزہ
إِلَىٰ
طرف
جِذۡعِ
تنے کی (طرف)
کھجور کے
قَالَتۡ
بولی۔ کہنے لگی
يَـٰ لَيۡتَنِى
اے کاش کہ میں
مِتُّ
میں مرجاتی
قَبۡ لَ
پہلے
هَـٰ ذَا
اس سے
وَكُنت ُ
اور میں ہوتی
نَسۡيًا
بھولی بسری چیز
بھولی بھلائی
پھر لے آیا اسے درد زہ ایک کھجور کے تنے کے پاس۔ (اس کیفیت میں) اس نے کہا : کاش میں اس سے پہلے مرچکی ہوتی اور ایک بھولی بسری چیز ہوچکی ہوتی
19:24
فَنَادَٮٰ هَا
تو پکارا اس کو
مِن
سے
اس کے نیچے سے
أَلَّا
کہ نہ
تَحۡزَنِى
تو غمگین ہو
قَدۡ
تحقیق
جَعَلَ
بنادیا
رَبُّكِ
تیرے رب نے
تَحۡتَكِ
تیرے نیچے
سَرِيًّا
٢٤ایک چشمہ
تو اس نے پکارا اسے اس کے نیچے سے کہ آپ غمگین نہ ہوں (دیکھئے) آپ کے رب نے آپ کے (قدموں کے) نیچے ایک چشمہ رواں کردیا ہے
19:25
وَهُزِّىٓ
اور ہلالے
إِلَيۡكِ
اپنی طرف
بِجِذۡعِ
تنے کو
درخت کے
تُسَـٰ قِطۡ
گرائے گی
عَلَيۡكِ
تجھ پر
رُطَبًا
پکی ہوئی کھجور
تروتازہ۔ چنی ہوئی تروتازہ۔ چنی ہوئی
اور آپ اس کھجور کے تنے کو اپنی طرف ہلایئے آپ پر تازہ پکی ہوئی کھجوریں جھڑ پڑیں گی
19:26
فَكُلِى
پھر کھا
وَٱ شۡرَبِى
اور پی
وَقَرِّى
اور ٹھنڈی کر
عَيۡنًاۖ
آنکھیں
پھر اگر
تَرَيِنّ َ
تم دیکھو
مِنَ
سے
انسان میں
أَحَدًا
کسی ایک کو
تو کہہ دے
إِنّ ِى
بیشک میں
نَذَرۡتُ
میں نے نذر مانی ہے
لِلرَّحۡمَـٰ نِ
رحمن کے لیے
صَوۡمًا
روزے کی
تو ہرگز نہیں
أُكَلِّمَ
میں کلام کروں گی
آج
إِنس ِيًّا
٢٦کسی انسان سے
پس آپ کھایئے اور پیجئے اور (اپنی) آنکھیں ٹھنڈی کیجیے اور اگر آپ دیکھیں کسی آدمی کو (اور وہ آپ سے پوچھے) تو اس سے (اشارے سے) کہہ دیں کہ میں نے نذر مانی ہے رحمن کے لیے روزے کی لہٰذا میں بات نہیں کروں گی آج کسی انسان سے
19:27
فَأَتَتۡ
تو لے آئی
بِهِۦ
اس کو
قَوۡمَهَا
اپنی قوم کے پاس
تَحۡمِلُهُۥ ۖ
اٹھائے تھی اس کو
قَالُواۡ
لوگ کہنے لگے
يَـٰ مَرۡيَمُ
اے مریم
لَقَدۡ
البتہ تحقیق
جِئۡتِ
لائی تو
شَيۡــًٔا
ایک چیز
بہت بری عجیب
پھر وہ لے آئی اس کو اٹھائے ہوئے اپنی قوم کے پاس لوگوں نے کہا : اے مریم ! یقیناً تم ایک طوفان گھڑ لائی ہو
19:28
يَـٰٓ أُخۡتَ
اے بہن
هَـٰ رُونَ
ہارون کی
مَا
نہ
كَانَ
تھا
أَبُوكِ
باپ تیرا
انسان
سَوۡءٍ
برا
اور نہ
كَانَتۡ
تھی
أُمّ ُكِ
ماں تیری
بَغِيًّا
٢٨بدکار
اے ہارون کی بہن ! نہ تو تمہارا والد برا آدمی تھا اور نہ ہی تمہاری والدہ بدکار تھی
19:29
فَأَشَارَتۡ
تو اس نے اشارہ کردیا
إِلَيۡهِۖ
اس کی طرف
قَالُواۡ
انہوں نے کہا
كَيۡفَ
کس طرح
نُكَلِّمُ
ہم کلام کریں
مَن
جو
ہے
فِى
میں
پن گھوڑے میں
صَبِيًّا
٢٩ایک بچہ سا
تو اس نے اس (بچے) کی طرف اشارہ کردیا۔ لوگوں نے کہا کہ ہم اس سے کیسے بات کریں جو گود میں پڑابچہ ہے
19:30
قَالَ
بچہ بول اٹھا۔ کہنے لگا
إِنّ ِى
بیشک میں
عَبۡ دُ
بندہ ہوں
اللہ کا
ءَاتَـٰ نِىَ
اس نے دی مجھ کو
کتاب
وَجَعَلَنِى
اور بنایا مجھ کو
نَبِيًّا
٣٠نبی
اس (بچے) نے کہا : میں اللہ کا بندہ ہوں اس نے مجھے کتاب عطا کی ہے اور مجھے نبی بنایا ہے
19:31
وَجَعَلَنِى
اور بنایا مجھ کو
مُبَارَكًا
مبارک
أَيۡنَ
جہاں کہیں
مَا
جہاں کہیں
كُنت ُ
میں ہوں
وَأَوۡصَـٰ نِى
اور تاکید کی مجھے
بِٱ ل صَّلَو ٰ ةِ
نماز کی
وَٱ ل زَّكَو ٰ ةِ
اور زکوۃ کی
مَا
جب تک
دُمۡتُ
میں رہوں
حَيًّا
٣١زندہ
اور مجھے بابرکت بنایا ہے جہاں کہیں بھی میں ہوں گا اور مجھے اس نے تاکید کی ہے نماز کی اور زکوٰۃ کی جب تک میں زندہ رہوں
19:32
وَبَرَّۢا
اور نیک سلوک کرنے والا
اپنی والدہ کے ساتھ
وَلَمۡ
اور نہیں
يَجۡ عَلۡنِى
بنایا مجھ کو
جَبَّارًا
متکبر
بدبخت
اور (اس نے مجھے بنایا) بھلائی کرنے والا اپنی والدہ کے ساتھ اور اس نے مجھے ُ تند خو بدبخت نہیں بنایا
19:33
وَٱ ل سَّلَـٰ مُ
اور سلام ہو
عَلَىَّ
مجھ پر
يَوۡمَ
جس دن
وُلِد تُّ
میں پیدا ہوا
وَيَوۡمَ
اور جس دن
أَمُوتُ
میں مروں گا
وَيَوۡمَ
اور جس دن
أُبۡ عَثُ
میں اٹھایا جاؤں گا
حَيًّا
٣٣زندہ کرکے
اور سلام ہے مجھ پر جس دن میں جنا گیا اور جس دن میں مروں گا اور جس دن مجھے اٹھایا جائے گا زندہ کر کے
19:34
ذٰ لِكَ
یہ
عِيسَى
عیسیٰ
ابن
مَرۡيَمَۚ
مریم
قَوۡلَ
بات ہے
سچی
یہ جو
فِيهِ
اس میں
يَمۡتَرُو نَ
٣٤وہ شک کرتے ہیں
یہ ہیں عیسیٰ ؑ ٰ ابن مریم ! یہ ہے حق کی بات جس کے بارے میں یہ لوگ شک کرتے ہیں
19:35
مَا
نہیں
كَانَ
ہے
لِلَّهِ
لائق اللہ کے لیے
أَن
کہ
بنائے
مِن
سے
کوئی بچہ۔ کوئی بیٹا
پاک ہے وہ
إِذَا
جب
قَضَىٰٓ
فیصلہ کرتا ہے
أَمۡرًا
کسی کام کا
تو بیشک
يَقُولُ
کہتا ہے
لَهُۥ
اس کو
كُن
ہوجا
تو وہ ہوجاتا ہے
اللہ کے شایان شان نہیں کہ وہ کسی کو بیٹا بنائے وہ (اس سے) پاک ہے۔ جب وہ کسی کام کا فیصلہ کرتا ہے تو اسے کہتا ہے ہوجا تو وہ ہوجاتا ہے
19:36
وَإِنّ َ
اور بیشک
اللہ
رَبِّى
میرا رب ہے
وَرَبُّكُمۡ
اور تمہارا رب ہے
فَٱ عۡبُدُوهُۚ
پس عبادت کرو اس کی
هَـٰ ذَا
یہ ہے
صِرٰ طٌ
راستہ
سیدھا
اور یقیناً اللہ ہی ہے میرا رب بھی اور تمہارا رب بھی تو تم اسی کی بندگی کرو۔ یہی سیدھا راستہ ہے
19:37
فَٱ خۡتَلَفَ
تو اختلاف کیا
گروہوں
مِنۢ
نے
آپس میں
فَوَيۡلٌ
تو ہلاکت ہے
ان لوگوں کے لیے
كَفَرُواۡ
جنہوں نے کفر کیا
مِن
سے
دیکھنے میں۔ حاضری سے
يَوۡمٍ
اس دن
عَظِي مٍ
٣٧بڑے (دن کے۔ کی)
پھر اختلافات پیدا کرلیے (مختلف) گروہوں نے آپس میں۔ تو بربادی ہے ان کافروں کے لیے اس بڑے دن کی پیشی سے
19:38
أَسۡمِعۡ
خوب سننے والے ہوں مگر
بِهِمۡ
ساتھ ان کے
وَأَبۡ صِرۡ
اور خوب دیکھنے والے
يَوۡمَ
جس دن
يَأۡتُونَنَاۖ
وہ آئیں گے ہمارے پاس
لَـٰ كِنِ
لیکن
ظالم لوگ
آج
فِى
میں
ضَلَـٰ لٍ
گمراہی میں ہیں
کھلی
کیا ہی اچھا وہ سن رہے ہوں گے اور کیا ہی اچھا وہ دیکھ رہے ہوں گے جس دن وہ ہمارے پاس آئیں گے لیکن آج یہ ظالم کھلی گمراہی میں مبتلا ہیں
19:39
وَأَنذ ِرۡهُمۡ
اور خبردار کرو ان کو
يَوۡمَ
دن سے
حسرت کے
إِذۡ
جب
قُضِىَ
فیصلہ کیا جائے گا
اس معاملے کا
وَهُمۡ
اور وہ
فِى
میں
غَفۡلَةٍ
غفلت میں ہوں گے
اور وہ
لَا
نہ
يُؤۡمِنُو نَ
٣٩ایمان لائیں گے
اور (اے نبی ﷺ !) آپ انہیں خبر دار کردیجیے اس یوم حسرت سے جب ہر معاملے کا فیصلہ کردیا جائے گا۔ البتہ (اب) یہ لوگ غفلت میں مبتلا ہیں لہٰذا یہ ایمان نہیں لائیں گے
19:40
إِنّ َا
بیشک ہم
نَحۡنُ
ہم ہی
نَرِثُ
وارث ہوں گے
زمین کے
وَمَنۡ
اور جو
عَلَيۡهَا
اس پر ہے
وَإِلَيۡنَا
اور ہماری طرف
يُرۡجَعُو نَ
٤٠وہ لوٹائے جائیں گے
یقیناً ہم ہی وارث ہوں گے زمین کے اور جو کوئی اس پر موجود ہے (اس کے بھی) اور یہ سب لوگ ہماری ہی طرف لوٹائے جائیں گے
19:41
وَٱ ذۡكُرۡ
اور ذکر کیجئے
فِى
میں
کتاب (میں)
إِبۡ رٰ هِيمَۚ
ابراہیم کا
إِنّ َهُۥ
بیشک وہ
كَانَ
تھے
صِدِّيقًا
بہت سچے
نبی
اور تذکرہ کیجیے اس کتاب میں ابراہیم ؑ کا۔ یقیناً وہ صدیقّ نبی تھے
19:42
إِذۡ
جب
قَالَ
اس نے کہا
لِأَبِيهِ
اپنے باپ سے
يَـٰٓ أَبَتِ
اے اباجان
لِمَ
کیوں
تَعۡبُدُ
آپ عبادت کرتے ہیں
مَا
جو
لَا
نہیں
يَسۡمَعُ
سنتے
وَلَا
اور نہ
يُبۡ صِرُ
دیکھتے ہیں
وَلَا
اور نہ
يُغۡنِى
کام آتے ہیں
عَنك َ
آپ کو
شَيۡــًٔا
٤٢کچھ بھی
یاد کیجئے جب ابراہیم نے اپنے والد سے کہا : ابا جان ! آپ کیوں بندگی کرتے ہیں ایسی چیزوں کی جو نہ سن سکتی ہیں اور نہ دیکھ سکتی ہیں اور نہ ہی آپ کے کچھ کام آسکتی ہیں
19:43
يَـٰٓ أَبَتِ
اے میرے اباجان
إِنّ ِى
بیشک میں
قَدۡ
تحقیق
جَا ٓءَنِى
آیا ہے میرے پاس
مِنَ
سے
علم میں
مَا
جو
لَمۡ
نہیں
يَأۡتِكَ
آیا آپ کے پاس
فَٱ تَّبِعۡنِىٓ
پس پیروی کیجیے میری
أَهۡدِكَ
میں رہنمائی کروں گا آپ کی
صِرٰ طًا
راستے کی طرف
سیدھے
ابا جان ! یقیناً میرے پاس وہ علم آیا ہے جو آپ کے پاس نہیں آیا پس آپ میری پیروی کیجیے میں آپ کو دکھاؤں گا سیدھاراستہ
19:44
يَـٰٓ أَبَتِ
اے میرے اباجان
لَا
نہ
تَعۡبُدِ
عبادت کیجئے
شیطان کی
إِنّ َ
کیونکہ
شیطان
كَانَ
ہے
لِلرَّحۡمَـٰ نِ
رحمن کے لیے
عَصِيًّا
٤٤نافرمان
ابا جان ! آپ شیطان کی بندگی نہ کیجیے شیطان یقیناً رحمن کا نافرمان تھا
19:45
يَـٰٓ أَبَتِ
اے اباجان
إِنّ ِىٓ
بیشک میں
أَخَافُ
ڈرتا ہوں
أَن
کہ
چھولے گا آپ کو۔ پکڑلے گا آپ کو
عَذَابٌ
ایک عذاب
سے
رحمن کی طرف (سے)
فَتَكُونَ
تو آپ ہوجائیں گے
لِلشَّيۡطَـٰ نِ
شیطان کے لیے
وَلِيًّا
٤٥ساتھی۔ مددگار
اباجان ! مجھے اندیشہ ہے کہ رحمن کی طرف سے کوئی عذاب آپ کو آپکڑے اور پھر آپ شیطان ہی کے ساتھی بن کر رہ جائیں
19:46
قَالَ
کہا
أَرَاغِبٌ
کیا پھرنے والا ہے
أَنت َ
تو
عَنۡ
سے
ءَالِهَتِى
میرے الٰہوں (سے)
يَـٰٓ إِبۡ رٰ هِيمُۖ
اے ابراہیم
لَئِن
البتہ اگر
نہ
تَنت َهِ
تو باز آیا
لَأَرۡجُمَنّ َكَۖ
البتہ میں ضرور سنگسار کردوں گا تجھ کو
وَٱ هۡجُرۡنِى
اور چھوڑ دو مجھ کو
مَلِيًّا
٤٦عرصہ دراز تک۔ لمبی مدت تک
اس نے کہا : اے ابراہیم ! کیا تم کنارہ کشی کر رہے ہو میرے معبودوں سے اگر تم اس سے باز نہ آئے تو میں تمہیں سنگسار کر دوں گا اور تم مجھے چھوڑ (کر چلے) جاؤ ایک مدت تک
19:47
قَالَ
بولے
سَلَـٰ مٌ
سلام ہو
عَلَيۡكَۖ
آپ پر
سَأَسۡتَغۡفِرُ
عنقریب میں بخشش مانگوں گا
لَكَ
آپ کے لیے
رَبِّىٓۖ
اپنے رب سے
إِنّ َهُۥ
بیشک وہ
كَانَ
ہے
بِى
میرے ساتھ
حَفِيًّا
٤٧بڑا مہربان
ابراہیم ؑ نے کہا : آپ پر سلام ! میں اپنے رب سے آپ کے لیے استغفار کرتا رہوں گا وہ مجھ پر بڑا مہربان ہے
19:48
وَأَعۡتَزِلُكُمۡ
اور میں چھوڑتا ہوں آپ کو
وَمَا
اور جن کو
تَدۡ عُونَ
آپ پکارتے ہیں
مِن
کے
سوائے
اللہ کے
وَأَدۡ عُواۡ
اور میں پکارتا ہوں
رَبِّى
اپنے رب کو
عَسَىٰٓ
امید ہے
أَلَّآ
کہ نہ
أَكُونَ
میں ہوں گا
بِدُعَا ٓءِ
دعا کے ساتھ
رَبِّى
اپنے رب کی (اپنے رب کو پکار کر)
شَقِيًّا
٤٨نامراد
اور میں کنارہ کشی کرتا ہوں آپ سے بھی اور ان (تمام معبودوں) سے بھی جنہیں آپ لوگ اللہ کے سوا پوجتے ہیں اور میں تو اپنے رب ہی کو پکاروں گا مجھے یقین ہے کہ میں اپنے رب کو پکار کرنا مراد نہیں رہوں گا
19:49
فَلَمّ َا
تو جب
جدا ہوا ان سے
وَمَا
اور جن کی
يَعۡبُدُونَ
وہ عبادت کرتے تھے
مِن
کے
سوائے
اللہ کے
وَهَبۡ نَا
عطا کیا ہم نے
لَهُۥٓ
اس کے لیے
إِسۡحَـٰ قَ
اسحاق کو
وَيَعۡقُوبَۖ
اور یعقوب کو
وَكُلاًّ
اور ہر ایک کو
بنایا ہم نے
نَبِيًّا
٤٩نبی
پھر جب ابراہیم ؑ نے ان سب سے کنارہ کشی کرلی اور ان سے بھی جن کی وہ اللہ کے سوا عبادت کرتے تھے تو ہم نے آپ ؑ کو عطا کیا اسحاق (جیسا بیٹا) اور یعقوب (جیسا پوتا) اور ہر ایک کو نبی بنایا
19:50
وَوَهَبۡ نَا
اور عطا کیا ہم نے
لَهُم
ان کو
سے
اپنی رحمت میں سے
وَجَعَلۡنَا
اور بنائی ہم نے
لَهُمۡ
ان کے لیے
لِسَانَ
زبان
صِدۡ قٍ
سچی
عَلِيًّا
٥٠بلند مرتبہ
اور ہم نے ان سب کو اپنی خصوصی رحمت سے حصہ عطا فرمایا اور ان کو اعلیٰ درجے کی سچی شہرت عطا فرمائی
19:51
وَٱ ذۡكُرۡ
اور ذکر کیجئے
فِى
میں
کتاب (میں)
مُوسَىٰٓۚ
موسیٰ کا
إِنّ َهُۥ
بیشک وہ
كَانَ
تھے
مُخۡلَصًا
چنے ہوئے
اور تھے
رَسُولاً
ایک رسول
نبی
اور کتاب میں تذکرہ کیجیے موسیٰ ؑ کا یقیناً وہ تھے خاص کیے گئے اور وہ تھے رسول نبی
19:52
وَنَـٰ دَيۡنَـٰ هُ
اور پکارا ہم نے اس کو
مِن
سے
جانب (سے)
طور کی
دائیں (جانب سے)
وَقَرَّبۡ نَـٰ هُ
اور قریب کرلیا ہم نے اس کو
نَجِيًّا
٥٢سرگوشیوں کے لیے
اور ہم نے انہیں پکارا طور کی دائیں جانب سے اور انہیں اپنے قریب کیا سرگوشی کے لیے
19:53
وَوَهَبۡ نَا
اور عطا کیا ہم نے
لَهُۥ
اس کو
مِن
سے
اپنی رحمت (سے)
أَخَاهُ
اس کے بھائی
هَـٰ رُونَ
ہارون کو
نَبِيًّا
٥٣نبی بنا کر
اور ہم نے انہیں عطا کیا اپنی رحمت سے ان کے بھائی ہارون کو نبی بنا کر
19:54
وَٱ ذۡكُرۡ
اور ذکر کیجیے
فِى
میں
کتاب (میں)
إِسۡمَـٰ عِيلَۚ
اسماعیل کا
إِنّ َهُۥ
کیونکہ وہ
كَانَ
تھے
صَادِقَ
سچے
وعدے کے
وَكَانَ
اور وہ تھے
رَسُولاً
ایک رسول
نبی
اور تذکرہ کیجیے اس کتاب میں اسماعیل ؑ کا (بھی) یقیناً وہ وعدے کے سچے تھے اور وہ (بھی) رسول نبی تھے
19:55
وَكَانَ
اور وہ تھے
يَأۡمُرُ
حکم دیتے
أَهۡلَهُۥ
اپنے گھروالوں کو
بِٱ ل صَّلَو ٰ ةِ
نماز کا
وَٱ ل زَّكَو ٰ ةِ
اور زکوۃ کا
وَكَانَ
اور وہ تھے
عِند َ
کے ہاں
رَبِّهِۦ
اپنے رب (کے ہاں)
مَرۡضِيًّا
٥٥پسندیدہ
اور وہ حکم دیتے تھے اپنے گھر والوں کو نماز اور زکوٰۃ کا اور وہ اپنے رب کے نزدیک پسندیدہ تھے
19:56
وَٱ ذۡكُرۡ
اور ذکر کیجئے
فِى
میں
کتاب (میں)
إِدۡ رِيسَۚ
ادریس کا
إِنّ َهُۥ
بلاشبہ وہ
كَانَ
تھے
صِدِّيقًا
بہت سچے
نبی
اور تذکرہ کیجیے کتاب میں ادریس ؑ کا (بھی) یقیناً وہ صدیقّ نبی تھے
19:57
وَرَفَعۡنَـٰ هُ
اور بلند کیا ہم نے اس کو
مَكَانًا
جگہ پر۔ مقام پر
عَلِيًّا
٥٧بلند (جگہ پر۔ مقام پر)
اور ہم نے انہیں اٹھایا بلند مقام پر
19:58
أُوۡ لَـٰٓ ئِكَ
یہ
وہ لوگ ہیں
أَنۡعَمَ
انعام کیا
اللہ نے
عَلَيۡهِم
ان پر
سے
نبیوں میں سے
مِن
سے
اولاد (سے)
ءَادَمَ
آدم کی (اولاد سے)
وَمِمّ َنۡ
ان میں سے
حَمَلۡنَا
جن کو سوار کیا ہم نے
مَعَ
ساتھ
نُوحٍ
نوح کے
اور سے
اولاد میں
إِبۡ رٰ هِيمَ
اور ابراہیم کی
وَإِسۡرٰ ٓءِيلَ
اور اسرائیل (یعقوب) کی اولاد میں سے
وَمِمّ َنۡ
اور ان میں سے
هَدَيۡنَا
جن کو ہدایت دی ہم نے
وَٱ جۡ تَبَيۡنَآۚ
اور چن لیا ہم نے
إِذَا
جب
تُتۡلَىٰ
پڑھی جاتی ہیں
عَلَيۡهِمۡ
ان پر
ءَايَـٰ تُ
آیات
رحمن کی
خَرُّواۡ
گرپڑتے ہیں
سُجَّدًا
سجدہ کرتے ہوئے
اور روتے ہوئے
یہ ہیں وہ لوگ جن پر انعام فرمایا اللہ نے انبیاء میں سے اولادِآدم ؑ میں سے اور ان لوگوں (کی نسل) میں سے جنہیں سوار کرایا ہم نے (کشتی میں) نوح ؑ کے ساتھ اور ابراہیم ؑ اور یعقوب ؑ کی نسل میں سے اور ان میں سے جنہیں ہم نے ہدایت دی اور جنہیں ہم نے ُ چن لیا جب تلاوت کی جاتیں ان پر رحمن کی آیات تو وہ گرپڑتے تھے (اللہ کی جناب میں) سجدہ کرتے ہوئے اور روتے ہوئے
19:59
۞فَخَلَفَ
تو پیچھے آئے
مِنۢ
کے
ان کے بعد
خَلۡفٌ
ناخلف جانشین
أَضَاعُواۡ
جنہوں نے ضائع کردی
نماز
وَٱ تَّبَعُواۡ
اور انہوں نے پیروی کی
خواہشات کی
فَسَوۡفَ
تو عنقریب
يَلۡقَوۡنَ
وہ جاملیں گے
غَيًّا
٥٩عذاب کو۔ گمراہی میں
پھر جانشین ہوئے ان کے بعد نا خلف لوگ انہوں نے نماز کو ضائع کردیا اور خواہشات کی پیروی کی تو عنقریب وہ ملیں گے گمراہی سے
19:60
إِلَّا
مگر
مَن
جو
توبہ کرلے
وَءَامَنَ
اور ایمان لے آئے
وَعَمِلَ
اورعمل کرے
صَـٰ لِحًا
نیک
تو یہی لوگ
يَدۡ خُلُونَ
داخل ہوں گے
جنت میں
وَلَا
اور نہ
يُظۡلَمُونَ
ظلم کیے جائیں گے
شَيۡــًٔا
٦٠کچھ بھی
سوائے ان کے جنہوں نے توبہ کی اور وہ ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کیے تو وہی لوگ جنت میں داخل ہوں گے اور ان پر قطعاً کوئی ظلم نہیں کیا جائے گا
19:61
جَنّ َـٰ تِ
باغات
عَدۡ نٍ
ہمیشگی کے
وہ جو
وَعَدَ
وعدہ کیا
رحمن نے
عِبَادَهُۥ
اپنے بندوں سے
بِٱ لۡغَيۡبِۚ
ساتھ غیب کے
إِنّ َهُۥ
بیشک وہ
كَانَ
ہے
وَعۡدُهُۥ
اس کا عدہ
مَأۡتِيًّا
٦١آنے والا
(انہیں ملیں گے) عیش دوام کے باغات جن کا وعدہ کیا تھا رحمن نے اپنے بندوں سے غیب میں یقیناً اس کا وعدہ تو پورا ہونے والا ہی ہے
19:62
لَّا
نہ
يَسۡمَعُونَ
وہ سنیں گے
فِيهَا
اس میں
لَغۡوًا
کوئی لغو بات
إِلَّا
مگر
سَلَـٰ مًاۖ
سلام
اور ان کے لیے ہوگا
رِزۡقُهُمۡ
ان کا رزق
فِيهَا
اس میں
بُكۡرَةً
صبح
اور شام
وہ نہیں سنیں گے اس میں کوئی لغوبات مگر صرف سلام اور ان کے لیے ان کا رزق ہوگا اس میں صبح اور شام
19:63
تِلۡكَ
یہ
جنت
وہ جو
نُورِثُ
ہم وارث بنائیں گے
مِنۡ
سے
عِبَادِنَا
اپنے بندوں میں (سے)
مَن
اسے جو
ہوگا
تَقِيًّا
٦٣متقی
یہ ہے وہّ جنت جس کا ہم وارث بنائیں گے اپنے بندوں میں سے ان کو جو متقی ہوں گے
19:64
وَمَا
اور نہیں
نَتَنَزَّلُ
ہم اترا کرتے
إِلَّا
مگر
بِأَمۡرِ
حکم کے ساتھ
رَبِّكَۖ
تیرے رب کے
لَهُۥ
اس کے لیے
مَا
جو
بَيۡنَ
أَيۡدِينَا
ہمارے آگے ہے
وَمَا
اور جو
خَلۡفَنَا
ہمارے پیچھے
وَمَا
اور جو
بَيۡنَ
درمیان
ذٰ لِكَۚ
اس کے
وَمَا
اور نہیں
كَانَ
ہے
رَبُّكَ
رب تیرا
نَسِيًّا
٦٤بھولنے والا
اور (اے نبی ﷺ !) ہم (فرشتے) نہیں نازل ہوتے مگر آپ کے رب کے حکم سے اسی کے اختیار میں ہے جو ہمارے آگے ہے اور جو ہمارے پیچھے ہے اور جو کچھ اس کے درمیان ہے اور آپ ﷺ کا رب بھولنے والا نہیں ہے
19:65
رَّبُّ
رب
آسمانوں
وَٱ لۡأَرۡضِ
اور زمین کا
وَمَا
اور جو
بَيۡنَهُمَا
ان دونوں کے درمیان ہے
فَٱ عۡبُدۡ هُ
پس عبادت کرو اس کی
وَٱ صۡطَبِرۡ
اور جمے رہو
لِعِبَـٰ دَتِهِۦ ۚ
اس کی عبادت پر
هَلۡ
کیا
تَعۡلَمُ
تم جانتے ہو
لَهُۥ
اس کے لیے
سَمِيًّا
٦٥کوئی ہم نام
وہ رب ہے آسمانوں کا اور زمین کا اور اس کا جو ان دونوں کے مابین ہے پس آپ ﷺ اسی کی عبادت کریں اور جمے رہیں اس کی عبادت پر۔ کیا آپ جانتے ہیں کوئی اس کا ہم نام
19:66
وَيَقُولُ
اور کہتا ہے
انسان
أَءِذَا
کیا جب
مَا
جب
مِتُّ
میں مرجاؤں گا
لَسَوۡفَ
البتہ عنقریب
أُخۡرَجُ
میں نکالاجاؤں گا
حَيًّا
٦٦زندہ کرکے
اور انسان کہتا ہے کہ جب میں مرجاؤں گا تو پھر مجھے زندہ کر کے نکال لیا جائے گا
19:67
أَوَلَا
کیا بھلا نہیں
يَذۡكُرُ
یاد کرتا
انسان
أَنّ َا
تو بیشک
خَلَقۡ نَـٰ هُ
ہم نے پیدا کیا اس کو
مِن
سے
اس سے پہلے
وَلَمۡ
اور نہ
يَكُ
تھا وہ
شَيۡــًٔا
٦٧کوئی چیز
کیا انسان یہ بات یاد نہیں کرتا کہ ہم نے ہی اسے پیدا کیا تھا اس سے پہلے جبکہ وہ کچھ بھی نہیں تھا
19:68
فَوَرَبِّكَ
پس قسم ہے تیرے رب کی
لَنَحۡشُرَنّ َهُمۡ
البتہ ہم ضرور جمع کریں گے ان کو
وَٱ ل شَّيَـٰ طِينَ
اور شیاطین کو
ثُمّ َ
پھر
لَنُحۡضِرَنّ َهُمۡ
البتہ ہم ضرور حاضر کریں گے ان کو
حَوۡلَ
آس پاس
جَهَنّ َمَ
جہنم کے
جِثِيًّا
٦٨گھٹنوں کے بل
تو آپ ﷺ کے رب کی قسم ! ہم ضرور جمع کریں گے انہیں اور تمام شیطانوں کو بھی پھر ہم ضرور حاضر کریں گے انہیں جہنم کے گرد گھٹنوں کے بل گرے ہوئے
19:69
ثُمّ َ
پھر
لَنَنز ِعَنّ َ
البتہ ہم ضرور کھینچ لیں گے ۔ الگ کرلیں گے
مِن
سے
ہر
شِيعَةٍ
گروہ میں سے
أَيُّهُمۡ
جو ان میں سے
أَشَدُّ
زیادہ سخت
عَلَى
پر
رحمن کے مقابلے (پر)
عِتِيًّا
٦٩سرکشی میں
پھر ہم ضرور چھانٹ کر نکال لیں گے ہر گروہ میں سے ہر اس شخص کو جو ان میں سب سے زیادہ سخت تھا رحمن کے خلاف سرکشی میں
19:70
ثُمّ َ
پھر
لَنَحۡنُ
البتہ ہم
أَعۡلَمُ
زیادہ جاننے والے ہیں
بِٱ لَّذِينَ
ان لوگوں کو
هُمۡ
وہ
أَوۡلَىٰ
زیادہ مستحق ہیں
بِهَا
اس میں
صِلِيًّا
٧٠داخل ہونے کے
پھر ہم خوب جانتے ہیں ان لوگوں کو جو اس میں پہلے داخل ہونے کے لائق ہوں گے
19:71
وَإِن
اور نہیں
کوئی تم میں سے
إِلَّا
مگر
وَارِدُهَاۚ
اس میں داخل ہونے والا
كَانَ
ہے
عَلَىٰ
اوپر
رَبِّكَ
تیرے رب کے
حَتۡمًا
ہو کر رہنے والا۔ طے شدہ
ایک فیصلہ
اور تم میں سے کوئی بھی ایسا نہیں جو اس پر وارد نہ ہو۔ یہ آپ کے رب کا حتمی فیصلہ ہے
19:72
ثُمّ َ
پھر
نُنَجِّى
ہم بچالیں گے
ان لوگوں کو
جنہوں نے تقوی اختیار کرلیا
وَّنَذَرُ
اور ہم چھوڑ دیں گے
ظالموں کو
فِيهَا
اس میں
جِثِيًّا
٧٢گھٹنوں کے بل
پھر ہم بچا لے جائیں گے انہیں جنہوں نے تقویٰ کی روش اختیار کی تھی اور چھوڑ دیں گے ظالموں کو اسی میں گھٹنوں کے بل گرے ہوئے
19:73
وَإِذَا
اور جب
تُتۡلَىٰ
پڑھی جاتی ہیں
عَلَيۡهِمۡ
ان پر
ءَايَـٰ تُنَا
ہماری آیات
بَيِّنَـٰ تٍ
واضح
کہتے ہیں
وہ لوگ
كَفَرُواۡ
جنہوں نے کفر کیا
لِلَّذِينَ
ان لوگوں سے
ءَامَنُوٓ اۡ
جو ایمان لائے
أَىُّ
کونسا
دو گروہوں میں سے
خَيۡرٌ
بہتر ہے
مقام کے اعتبار سے۔ مرتبے کے اعتبار
اور خوب تر
نَدِيًّا
٧٣مجلس کے اعتبار سے
اور جب انہیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں ہماری روشن آیات تو یہ کافر اہل ایمان سے کہتے ہیں کہ (دیکھو !) دونوں گروہوں میں سے کس کا مقام بہتر ہے اور کس کی مجلس اچھی ہے
19:74
وَكَمۡ
اور کتنی ہی
أَهۡلَكۡنَا
ہلاک کردیں ہم نے
قَبۡ لَهُم
ان سے پہلے
سے
بستیوں میں سے۔ امتوں میں سے
هُمۡ
وہ
أَحۡسَنُ
زیادہ اچھے تھے
أَثَـٰ ثًا
گھر کے سامان کے اعتبار سے
اور منظر کے اعتبار سے
اور ہم کتنی ہی قوموں کو ان سے پہلے ہلاک کرچکے ہیں جو ان سے کہیں بڑھ کر تھیں سازوسامان اور شان و شوکت میں
19:75
قُلۡ
کہہ دیجئے
مَن
جو کوئی
ہے
فِى
میں
گمراہی (میں)
فَلۡيَمۡدُدۡ
پس ضرور ڈھیل دیتا ہے
لَهُ
اس کے لیے
رحمن
مَدًّاۚ
خوب ڈھیل
حَتَّىٰٓ
یہاں تک کہ
إِذَا
جب
رَأَوۡاۡ
وہ دیکھ لیں گے
مَا
جو
يُوعَدُونَ
وہ وعدہ کیے جاتے ہیں
إِمّ َا
خواہ
عذاب
وَإِمّ َا
خواہ
قیامت کی گھڑی
فَسَيَعۡلَمُونَ
تو عنقریب وہ جان لیں گے
مَنۡ
کون ہے
هُوَ
وہ
شَرٌّ
جو بدترین
مقام میں
اور زیادہ کمزور ہے
جُند ًا
٧٥لشکر کے اعتبار سے
(اے نبی ﷺ !) آپ ان کو بتا دیجیے کہ جو کوئی گمراہی میں پڑجاتا ہے تو رحمن اسے بہت زیادہ ڈھیل دے دیتا ہے یہاں تک کہ جب وہ دیکھ لیں گے جس کی انہیں وعید دی جا رہی ہے خواہ عذاب ہو یا قیامت تب انہیں معلوم ہوجائے گا کہ کون ہے مقام و مرتبہ میں بد تر اور (کون ہے) لاؤ لشکر کے اعتبار سے کمزور تر
19:76
وَيَزِيدُ
اور زیادہ دے گا
اللہ
ان لوگوں کو
جنہوں نے ہدایت پائی
هُدًىۗ
ہدایت
اور باقی رہنے والیاں
نیکیاں ہیں
خَيۡرٌ
جو بہتر ہیں
عِند َ
نزدیک
رَبِّكَ
تیرے رب کے
ثَوَابًا
ثواب میں
اور بہتر ہیں
انجام میں
اور اللہ بڑھاتا ہے ان لوگوں کو ہدایت میں جنہوں نے ہدایت اختیار کی اور باقی رہنے والی نیکیاں بہتر ہیں آپ ﷺ کے رب کے نزدیک بدلے کے اعتبار سے بھی اور بہتر ہیں انجام کے اعتبار سے بھی
19:77
أَفَرَءَيۡتَ
کیا پھر دیکھا تم نے
اس شخص کو
كَفَرَ
جس نے کفر کیا
بِـَٔـايَـٰ تِنَا
ہماری آیات کے ساتھ
وَقَالَ
اور کہا
لَأُوتَيَنّ َ
البتہ ضرور دیاجائے گا
مَالاً
مال
اور اولاد
کیا آپ نے اس شخص کو دیکھا جس نے ہماری آیات کا کفر کیا اور کہا کہ مجھے (آخرت میں بھی) مال اور اولاد سے لازماً نوازا جائے گا
19:78
أَطَّلَعَ
کیا اس کو پتہ چل گیا۔ مطلع ہوگیا
غیب کام پر
أَمِ
یا
اس نے بنالیا
عِند َ
پاس
رحمن کے (پاس)
عَهۡدًا
٧٨کوئی عہد
کیا وہ غیب پر مطلعّ ہوچکا ہے ؟ یا اس نے رحمن سے کوئی عہد لے رکھا ہے
19:79
كَلَّاۚ
ہرگز نہیں
سَنَكۡتُبُ
عنقریب ہم لکھ لیں گے
مَا
جو
يَقُولُ
وہ کہتا ہے
وَنَمُدُّ
اور ہم لمبا کریں گے
لَهُۥ
اس کے لیے
مِنَ
سے
عذاب میں (سے)
مَدًّا
٧٩لمبا کرنا
ہر گز نہیں ! ہم لکھ رکھیں گے جو کچھ وہ کہہ رہا ہے اور اس کے لیے عذاب کو ہم بڑھاتے چلے جائیں گے
19:80
وَنَرِثُهُۥ
اور ہم وارث ہوجائیں گے اس کے
مَا
جو
يَقُولُ
وہ کہتا ہے
وَيَأۡتِينَا
وہ آئے گا ہمارے پاس
فَرۡدًا
٨٠اکیلا
اور ہم وارث ہوں گے اس سب کچھ کے جس کا وہ ذکر کر رہا ہے اور وہ آئے گا ہمارے پاس اکیلاہی
19:81
وَٱ تَّخَذُواۡ
اور انہوں نے بنالیے
مِن
کے
سوا
اللہ کے
ءَالِهَةً
کچھ الہ
تاکہ وہ ہوں
لَهُمۡ
ان کے لیے
عِزًّا
٨١عزت کا سبب
اور انہوں نے بنا رکھے ہیں اللہ کے سوا دوسرے معبود تاکہ وہ ان کے لیے مددگار بنیں
19:82
كَلَّاۚ
ہرگز نہیں
سَيَكۡفُرُونَ
عنقریب وہ کفر کریں گے۔ انکار کریں گے
بِعِبَادَتِهِمۡ
ان کی عبادت کا
وَيَكُونُونَ
اور وہ ہوجائیں گے
عَلَيۡهِمۡ
ان کے
ضِدًّا
٨٢خلاف ۔ مخالف
ہر گز نہیں ! وہ تو ان لوگوں کی عبادت کا انکار کردیں گے اور (وہاں) وہ ان لوگوں کے مخالف ہوجائیں گے
19:83
أَلَمۡ
کیا نہیں
تَرَ
تم نے دیکھا
أَنّ َآ
بیشک ہم نے
أَرۡسَلۡنَا
چھوڑ رکھا ہے ہم نے
شیطانوں کو
عَلَى
پر
کافروں (پر)
تَؤُزُّهُمۡ
ابھارتے ہیں ان کو
أَزًّا
٨٣ابھارنا
کیا آپ ﷺ نے دیکھا نہیں کہ ہم کافروں پر شیاطین کو بھیجتے رہتے ہیں اور وہ انہیں خوب خوب اکساتے ہیں
19:84
فَلَا
تو نہ
تَعۡجَلۡ
جلدی کیجئے
عَلَيۡهِمۡۖ
ان پر
إِنّ َمَا
بیشک ہم
نَعُدُّ
ہم گن رہے ہیں
لَهُمۡ
ان کے لیے
عَدًّا
٨٤گننا
تو آپ ﷺ ان کے خلاف (فیصلے کے لیے) جلدی نہ کیجیے ہم ان کی پوری پوری گنتی کر رہے ہیں
19:85
يَوۡمَ
جس دن
نَحۡشُرُ
ہم اکٹھا کریں گے
متقی لوگوں کو
إِلَى
طرف
رحمن کے
وَفۡدًا
٨٥مہمان بنا کر
(ذرا تصور کریں اس دن کا) جس دن اہل تقویٰ کو ہم جمع کر کے لائیں گے رحمن کی طرف وفود کی صورت میں
19:86
وَنَسُوقُ
اور ہم ہانک لے جائیں گے
مجرموں کو
إِلَىٰ
طرف
جَهَنّ َمَ
جہنم کی (طرف)
وِرۡدًا
٨٦وارد ہونے والا۔ سخت پیاسی حالت میں
اور مجرموں کو ہم ہانک کرلے جائیں گے جہنم کی طرف پیاسے
19:87
لَّا
نہ
يَمۡلِكُونَ
مالک ہوں گے
سفارش کے
إِلَّا
مگر
مَنِ
جس نے
بنالیا
عِند َ
نزدیک
رحمن کے
عَهۡدًا
٨٧کوئی عہد
اس دن کسی کو شفاعت کا اختیار نہیں ہوگا سوائے اس کے جس نے رحمن سے کوئی عہد حاصل کرلیا ہو
19:88
وَقَالُواۡ
اور وہ کہتے ہیں
بنالیا
رحمن نے
وَلَدًا
٨٨ایک بچہ۔ اولاد
اور وہ کہتے ہیں کہ رحمن نے (اپنے لیے) اولاد اختیار کی ہے
19:89
لَّقَدۡ
البتہ تحقیق
جِئۡتُمۡ
لائے تم
شَيۡــًٔا
ایک چیز
إِدًّا
٨٩سخت
(دیکھو !) تم یہ ایک بہت بھاری بات لائے ہو
19:90
تَكَادُ
قریب ہے کہ
آسمان
يَتَفَطَّرۡنَ
پھٹ پڑیں
مِنۡهُ
اس سے
وَتَنش َقُّ
اور شق ہوجائے
زمین
وَتَخِرُّ
اور گرپڑیں
پہاڑ
هَدًّا
٩٠ٹوٹ کر۔ بھربھرے ہو کر
قریب ہے کہ آسمان پھٹ پڑیں زمین شق ہوجائے اور پہاڑ دھماکے کے ساتھ گرپڑیں
19:91
أَن
کہ
انہوں نے دعوی کیا
لِلرَّحۡمَـٰ نِ
رحمن کے لیے
وَلَدًا
٩١اولاد کا
کہ انہوں نے رحمن کے لیے اولاد قرار دی
19:92
وَمَا
اور نہیں
يَنۢب َغِى
جائز۔ لائق
لِلرَّحۡمَـٰ نِ
رحمن کے لیے
أَن
کہ
وہ بنا لے
وَلَدًا
٩٢کوئی اولاد
اور یہ بات رحمن کے شایان شان نہیں ہے کہ وہ (کسی کو اپنی) اولاد بنائے
19:93
إِن
نہیں
سب
مَن
جو
میں
آسمانوں میں ہیں
وَٱ لۡأَرۡضِ
اور زمین میں
إِلَّآ
مگر
ءَاتِى
آنے والے ہیں
رحمن کے پاس
عَبۡ دًا
٩٣بندہ بنا کر
نہیں ہے کوئی آسمانوں اور زمین میں مگر وہ آئے گا رحمن کے حضور بندے کی حیثیت سے
19:94
لَّقَدۡ
البتہ تحقیق
أَحۡصَـٰ هُمۡ
اس نے گھیر رکھا ہے ان کو
وَعَدَّهُمۡ
اور گن رکھا ہے ان کو
عَدًّا
٩٤گننا
اس نے ان سب کا احاطہ کر رکھا ہے اور پوری پوری گنتی کر رکھی ہے
19:95
وَكُلُّهُمۡ
اور سارے کے سارے وہ
ءَاتِيهِ
آنے والے ہیں اس کے پاس
يَوۡمَ
دن
قیامت کے
فَرۡدًا
٩٥اکیلے۔ تنہا۔ فردا فردا
اور قیامت کے دن سب کے سب آنے والے ہیں اس کے پاس اکیلے اکیلے
19:96
إِنّ َ
بیشک
وہ لوگ
ءَامَنُواۡ
جو ایمان لائے
وَعَمِلُواۡ
اور انہوں نے کام کیے
اچھے
سَيَجۡ عَلُ
عنقریب پیدا کردے گا
لَهُمُ
ان کے لیے
رحمن
وُدًّا
٩٦محبت
یقیناً جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کیے عنقریب ان کے لیے رحمن (لوگوں کے دلوں میں) محبت پیدا کر دے گا
19:97
فَإِنّ َمَا
تو بیشک
يَسَّرۡنَـٰ هُ
آسان کردیا ہم نے اس کو
بِلِسَانِكَ
ساتھ تیری زبان کے
لِتُبَشِّرَ
تاکہ تو خوش خبری دے
بِهِ
ساتھ اس کے
متقی لوگوں کو
وَتُنذ ِرَ
اور تو ڈرائے
بِهِۦ
ساتھ اس کے
قَوۡمًا
قوم کو
جھگڑالو
تو ہم نے آسان کردیا ہے اس (قرآن) کو آپ ﷺ کی زبان میں تاکہ آپ ﷺ بشارت دیں اس کے ساتھ متقین کو اور خبردار کریں اس کے ساتھ جھگڑالو قوم کو
19:98
وَكَمۡ
اور کتنی ہی
أَهۡلَكۡنَا
ہلاک کیں ہم نے
قَبۡ لَهُم
ان سے پہلے
سے
قوموں میں (سے)
هَلۡ
کیا
تُحِسُّ
تم محسوس کرتے ہو
مِنۡهُم
ان میں
سے
أَحَدٍ
کسی ایک کو بھی
أَوۡ
یا
تَسۡمَعُ
تم سنتے ہو
لَهُمۡ
ان کے لے
رِكۡزَۢا
٩٨کوئی آہستہ آواز۔ کوئی بھنک
اور ان سے پہلے ہم نے کتنی ہی قوموں کو ہلاک کردیا۔ کیا آپ محسوس کرتے ہیں ان میں سے کسی کو بھی یا آپ ﷺ سنتے ہیں ان کی کوئی بھنک بھی
20:1
طه
١ط۔ ہ
طٰهٰ
20:2
مَآ
نہیں
أَنز َلۡنَا
نازل کیا ہم نے
عَلَيۡكَ
آپ پر
قرآن
لِتَشۡقَىٰٓ
٢تاکہ آپ مشکل میں پڑجائیں
ہم نے آپ ﷺ پر قرآن اس لیے نازل نہیں کیا کہ آپ ﷺ مشقت میں پڑیں
20:3
إِلَّا
مگر
تَذۡكِرَةً
ایک نصیحت
اس کے لیے
جو ڈرتا ہو
یہ تو صرف یاد دہانی ہے اس کے لیے جو ڈرتا ہے
20:4
تَنز ِيلاً
نازل کردہ ہے
اس کی طرف سے جس نے
خَلَقَ
بنایا
زمین کو
وَٱ ل سَّمَـٰ وٰ تِ
اور آسمانوں کو
بلند (بلند آسمانوں کو
اس کی تنزیل اس ہستی کی طرف سے ہے جس نے پیدا کیا زمین کو اور بلند آسمانوں کو
20:5
ٱل رَّحۡمَـٰ نُ
جو رحمن ہے
عَلَى
پر
عرش (پر)
وہ مستوی ہے
(یعنی) رحمن ! جو عرش پر متمکنّ ہے
20:6
لَهُۥ
اس کے لیے ہے
مَا
جو
فِى
میں
آسمانوں میں ہے
وَمَا
اور جو
فِى
میں
زمین میں ہے
وَمَا
اور جو
بَيۡنَهُمَا
ان کے درمیان ہے
وَمَا
اور جو
تَحۡتَ
نیچے ہے
زمین کے۔ مٹی کے
اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے جو کچھ زمین میں ہے جو کچھ ان دونوں کے مابین ہے اور جو کچھ زمین کے سب سے نچلے طبقے کے نیچے ہے
20:7
وَإِن
اور اگر
تم پکار کر کہو
بِٱ لۡقَوۡلِ
بات کو
فَإِنّ َهُۥ
تو بیشک وہ
يَعۡلَمُ
جانتا ہے
راز کو
وَأَخۡفَى
٧اور زیادہ خفیہ بات کو
اور اگر تم بلند آواز سے کوئی بات کرو وہ تو یقیناً جانتا ہے چھپی بات کو بھی اور نہایت مخفی بات کو بھی
20:8
ٱللَّهُ
اللہ تعالیٰ
لَآ
نہیں
إِلَـٰ هَ
کوئی الہ برحق
إِلَّا
مگر
هُوَۖ
وہی
لَهُ
اس کے لیے ہیں
نام
اچھے اچھے
وہ اللہ ہے ! اس کے علاوہ کوئی معبود نہیں۔ اسی کے ہیں تمام اچھے نام
20:9
وَهَلۡ
اور کیا
أَتَـٰ كَ
آئی تیرے پاس
حَدِيثُ
بات
مُوسَىٰٓ
٩موسیٰ کی
اور کیا آپ ﷺ تک پہنچی ہے موسیٰ ؑ کی خبر
20:10
إِذۡ
جب
رَءَا
اس نے دیکھا
نَارًا
آگ ہے
تو کہا
لِأَهۡلِهِ
اپنے گھروالوں سے
ٹھہرو
إِنّ ِىٓ
بیشک میں نے
ءَانَسۡتُ
پائی ہے۔ دیکھی ہے۔ میں مانوس ہوا ہوں
نَارًا
ایک آگ سے
شاید کہ میں
ءَاتِيكُم
لاؤں تمہارے پاس
اس میں سے
بِقَبَسٍ
کوئی شعلہ۔ انگارہ
أَوۡ
یا
أَجِدُ
میں پاؤں
عَلَى
پر
آگ پر
هُدًى
١٠کوئی رہنمائی
جب اس نے ایک آگ دیکھی تو اس ؑ نے اپنے گھر والوں سے کہا کہ آپ ذرا (یہاں) ٹھہرئیے مجھے آگ نظر آئی ہے تاکہ میں لے آؤں تمہارے لیے اس میں سے کوئی انگارہ یا میں پاؤں اس آگ (کی جگہ) سے کوئی راہنمائی
20:11
فَلَمّ َآ
پھر جب
أَتَـٰ هَا
وہ آئے اس کے پاس
نُودِىَ
پکارے گئے
يَـٰ مُوسَىٰٓ
١١اے موسیٰ
پھر جب وہ آیا اس (آگ) کے پاس تو ندا دی گئی : اے موسیٰ
20:12
إِنّ ِىٓ
بیشک میں
أَنَاۡ
میں
رَبُّكَ
تیرا رب ہوں
فَٱ خۡلَعۡ
پس اتار دو
نَعۡلَيۡكَۖ
اپنے جوتوں کو
إِنّ َكَ
بیشک تم
بِٱ لۡوَادِ
وادی میں ہو
مقدس
طُوًى
١٢طوی کی (مقدس وادی میں ہو)
یہ تو میں تمہارا پروردگار ہوں چناچہ اپنی جوتیاں اتار دو کیونکہ اس وقت تم مقدس وادی طویٰ میں ہو
20:13
وَأَنَا
اور میں نے
چن لیا تجھ کو
فَٱ سۡتَمِعۡ
پس غور سے سنو
لِمَا
واسطے اس کے جو
يُوحَىٰٓ
١٣وحی کیا جاتا ہے
اور میں نے تم کو چن لیا ہے تو اب ذرا توجہ سے سنو جو وحی تم پر کی جا رہی ہے
20:14
إِنّ َنِىٓ
بیشک میں
أَنَا
میں ہی
اللہ ہوں
لَآ
نہیں
إِلَـٰ هَ
کوئی الہ۔ حق
إِلَّآ
مگر
أَنَاۡ
میں ہی
فَٱ عۡبُدۡ نِى
پس عبادت کرو میری
وَأَقِمِ
اور قائم کرو
نماز
لِذِكۡرِىٓ
١٤میری یاد کے لیے
یقیناً میں ہی اللہ ہوں ! کوئی اور معبود نہیں سوائے میرے پس تم میری ہی بندگی کرو اور نماز قائم رکھو میری یاد کے لیے
20:15
إِنّ َ
بیشک
قیامت
ءَاتِيَةٌ
آنے والی ہے
أَكَادُ
قریب ہے
أُخۡفِيهَا
کہ میں چھپالوں اس کو
لِتُجۡ زَىٰ
تاکہ بدلہ دیاجائے
كُلُّ
ہر
نَفۡسِۭ
شخص
اس کے مطابق جو
تَسۡعَىٰ
١٥اس نے کوشش کی
(اور یہ بات بھی یاد رکھو کہ) بیشک قیامت آکر رہے گی میں اسے مخفی ہی رکھوں گا تاکہ بدلہ دیا جائے ہر جان کو جو اس نے کوشش کی ہو
20:16
فَلَا
پس نہ
يَصُدَّنّ َكَ
روکے تجھے
عَنۡهَا
اس کے بارے میں
مَن
جو
نہیں
يُؤۡمِنُ
مانتا اس کو۔ جو نہیں ایمان رکھتا
بِهَا
اس پر
وَٱ تَّبَعَ
اور پیروی کرتا ہے
هَوَٮٰ هُ
اپنی خواہش نفس کی
فَتَرۡدَىٰ
١٦ورنہ تو ہلاک ہوجائے گا
تو (دیکھنا کہیں) تمہیں اس سے رو گرداں نہ کردے کوئی ایسا شخص جو اس پر ایمان نہیں رکھتا اور جو اپنی خواہشات کی پیروی کرتا ہے (اگر ایسا ہوا) تو تم ہلاک ہوجاؤ گے
20:17
وَمَا
اور کیا ہے
تِلۡكَ
یہ
بِيَمِينِكَ
تیرے دائیں ہاتھ میں
يَـٰ مُوسَىٰ
١٧اے موسیٰ
اور اے موسیٰ ؑ ٰ ! یہ تمہارے داہنے ہاتھ میں کیا ہے
20:18
قَالَ
کہا
هِىَ
یہ
عَصَاىَ
میری لاٹھی ہے
أَتَوَكَّؤُاۡ
میں سہارا لیتا ہوں
عَلَيۡهَا
اس پر
وَأَهُشُّ
اور میں پتے جھاڑتا ہوں
بِهَا
اس کے ساتھ
عَلَىٰ
پر
غَنَمِى
اپنی بکریوں پر
وَلِىَ
اور میرے لیے
فِيهَا
اس میں
مَـَٔـارِبُ
فائدے ہیں
أُخۡرَىٰ
١٨کچھ دوسرے
کہا : یہ میرا عصا ہے میں اس پر ٹیک بھی لگا لیتا ہوں اور اس سے اپنی بکریوں کے لیے (درختوں سے) پتے بھی جھاڑ لیتا ہوں اور اس میں میرے لیے اور بھی کئی کام ہوتے ہیں
20:19
قَالَ
فرمایا
أَلۡقِهَا
ڈال دو اس کو
يَـٰ مُوسَىٰ
١٩اے موسیٰ
فرمایا : اے موسیٰ ؑ اس کو ذرا پھینکو تو سہی
20:20
فَأَلۡقَـٰ هَا
تو اس نے ڈال دیا اس کو
فَإِذَا
تو اچانک ۔ دفعتا
هِىَ
وہ
حَيَّةٌ
ایک سانپ تھا
جو بل کھا رہا تھا۔ دوڑ رہا تھا
تو انہوں نے اسے پھینک دیا تو وہ دفعتاً ایک سانپ بن گیا دوڑتا ہوا
20:21
قَالَ
فرمایا
خُذۡهَا
اس کو پکڑ لو
وَلَا
اور نہ
تَخَفۡۖ
ڈرو
سَنُعِيدُهَا
عنقریب ہم لوٹا دیں گے اس کو
سِيرَتَهَا
اس کی حالت پر
پہلی
فرمایا : اس کو پکڑ لو اور ڈرو نہیں ابھی ہم اس کو لوٹا دیں گے اس کی پہلی حالت پر
20:22
وَٱ ضۡمُمۡ
اور ملالو
يَدَكَ
اپنے ہاتھ کو
إِلَىٰ
طرف
جَنَاحِكَ
اپنے پہلو کے ساتھ۔ اپنے بازو کے ساتھ
تَخۡرُجۡ
نکلے گا
بَيۡضَا ٓءَ
سفید۔ روشن
مِنۡ
سے
غَيۡرِ
بغیر
سُو ٓءٍ
کسی تکلیف کے
ءَايَةً
نشانی
أُخۡرَىٰ
٢٢ایک دوسری
اور ذرا اپنا ہاتھ ملاؤ اپنی بغل کے ساتھ وہ نکلے گا چمکتا ہوا بغیر کسی بیماری کے یہ دوسری نشانی ہے
20:23
لِنُرِيَكَ
تاکہ ہم دکھا دیں
مِنۡ
سے
ءَايَـٰ تِنَا
اپنی نشانیوں میں سے
بڑی بڑی
تا کہ ہم اپنی بڑی نشانیوں میں سے کچھ نشانیاں تمہیں دکھائیں
20:24
ٱذۡهَبۡ
جاؤ
إِلَىٰ
طرف
فِرۡعَوۡنَ
فرعون کی
إِنّ َهُۥ
بیشک اس نے
طَغَىٰ
٢٤سرکشی کی
اب تم جاؤ فرعون کی طرف وہ بڑا سرکش ہوگیا ہے
20:25
قَالَ
کہا
رَبِّ
اے میرے رب
کھول دے
لِى
میرے لیے
صَدۡ رِى
٢٥میرا سینہ
موسیٰ ؑ ٰ نے عرض کیا : اے میرے پروردگار ! میرے لیے میرے سینے کو کھول دے
20:26
وَيَسِّرۡ
اور آسان کردے
لِىٓ
میرے لیے
أَمۡرِى
٢٦کام میرا
اور میرے اس کام کو میرے لیے آسان کر دے
20:27
وَٱ حۡلُلۡ
اور کھول دے
عُقۡ دَةً
گرہ
کی
میری زبان کی
اور میری زبان کی گرہ (لکنت) کو کھول دے
20:28
يَفۡقَهُواۡ
کہ وہ سمجھ جائیں
قَوۡلِى
٢٨میری بات کو
(تاکہ) میری بات کو وہ اچھی طرح سمجھ سکیں
20:29
وَٱ جۡ عَل
اور بنا
لِّى
میرے لیے
وَزِيرًا
مددگار
سے
أَهۡلِى
٢٩میرے گھروالوں میں سے
اور میرے لیے ایک وزیر بھی بنا دے میرے خاندان میں سے
20:30
هَـٰ رُونَ
ہارون کو
أَخِى
٣٠جو میرا بھائی ہے
میرے بھائی ہارون کو
20:31
ٱشۡدُدۡ
مضبوط کردے
بِهِۦٓ
اس کے ساتھ
أَزۡرِى
٣١قوت میری
اس کے ذریعے سے میری کمر کو مضبوط کر دے
20:32
وَأَشۡرِكۡهُ
اور شریک کردے اس کو
فِىٓ
میں
أَمۡرِى
٣٢میرے کام (میں)
اور اسے میرے اس کام میں شریک بنا دے
20:33
كَىۡ
تاکہ
نُسَبِّحَكَ
ہم تسبیح کریں تیری
كَثِيرًا
٣٣بہت زیادہ
تا کہ ہم تیری تسبیح کریں کثرت کے ساتھ
20:34
وَنَذۡكُرَكَ
اور ہم یاد کریں تجھ کو
كَثِيرًا
٣٤بہت زیادہ
اور تیرا ذکر کریں کثرت کے ساتھ
20:35
إِنّ َكَ
بیشک تو
كُنت َ
ہے تو
بِنَا
ہم کو
بَصِيرًا
٣٥دیکھنے والا
یقیناً تو ہمیں دیکھ رہا ہے
20:36
قَالَ
فرمایا
قَدۡ
تحقیق
أُوتِيتَ
تو دیا گیا
سُؤۡلَكَ
اپنا سوال۔ اپنی تمنا
يَـٰ مُوسَىٰ
٣٦اے موسیٰ
فرمایا : اے موسیٰ ؑ تمہیں عطا کردیا گیا جو تم نے طلب کیا
20:37
وَلَقَدۡ
اور البتہ تحقیق
مَنَنّ َا
انعام کیا ہم نے
عَلَيۡكَ
تجھ پر
مَرَّةً
دوسری بار
أُخۡرَىٰٓ
٣٧دوسری بار
اور ہم تو تم پر احسان کرچکے ہیں ایک مرتبہ پہلے بھی
20:38
إِذۡ
جب
أَوۡحَيۡنَآ
وحی کی تھی ہم نے۔ اشارہ کیا تھا ہم نے
إِلَىٰٓ
طرف
أُمّ ِكَ
تیری ماں کے
مَا
جو
يُوحَىٰٓ
٣٨وحی کی جاتی ہے
جب ہم نے تمہاری والدہ کی طرف وحی کی تھی جو (اب تمہیں) وحی کی جا رہی ہے
20:39
أَنِ
کہ
ڈال دے اس کو
فِى
میں
تابوت (میں)
فَٱ قۡ ذِفِيهِ
پھر ڈال دے اس کو
فِى
میں
دریا (میں)
فَلۡيُلۡقِهِ
پھر ضرور ڈال دے گا اس کو
دریا
بِٱ ل سَّاحِلِ
ساحل پر
يَأۡخُذۡهُ
لے لے گا اس کو۔ پکڑ لے گا اس کو
عَدُوٌّ
دشمن
میرا
وَعَدُوٌّ
اور دشمن
اس کا
وَأَلۡقَيۡتُ
اور میں نے ڈال دی
عَلَيۡكَ
تجھ پر
مَحَبَّةً
محبت
اپنی طرف سے
وَلِتُصۡنَعَ
اور تاکہ تو پرورش کیا جائے
عَلَىٰ
پر
عَيۡنِىٓ
٣٩میری نگاہ پر۔ میری نگرانی میں
کہ اس کو ایک صندوق میں بند کرو پھر اسے دریا میں ڈال دو چناچہ دریا اسے ساحل پر ڈال دے گا (وہاں سے) اس کو اٹھا لے جائے گا وہ جو میرا بھی دشمن ہے اور اس (بچے) کا بھی دشمن ہے میں نے تم پر اپنی محبت کا پرتو ڈال دیا تاکہ تم کو پالا جائے میری آنکھوں کے سامنے
20:40
إِذۡ
جب
تَمۡشِىٓ
چلی جارہی تھی
أُخۡتُكَ
تیری بہن
فَتَقُولُ
پھر کہہ رہی تھی
هَلۡ
کیا
أَدُلُّكُمۡ
میں رہنمائی کروں تمہاری
عَلَىٰ
اوپر
مَن
اس کے جو
کفالت کرے گا اس کی
فَرَجَعۡنَـٰ كَ
تو لوٹا دیا ہم نے تجھ کو
إِلَىٰٓ
طرف
أُمّ ِكَ
تیری ماں کی (طرف)
كَىۡ
تاکہ
تَقَرَّ
ٹھنڈی ہو
عَيۡنُهَا
آنکھ اس کی
وَلَا
اور نہ
تَحۡزَنَۚ
وہ غم کرے
وَقَتَلۡتَ
اور تو نے قتل کیا تھا
نَفۡسًا
ایک جان کو
تو نجات دی ہم نے تجھ کو
مِنَ
سے
غم (سے)
وَفَتَنّ َـٰ كَ
اور آزمایا تھا ہم نے تجھ کو
فُتُونًاۚ
آزمانا
تو تو ٹھہرا رہا
سِنِينَ
کئی سال
فِىٓ
میں
أَهۡلِ
والوں
مَدۡ يَنَ
مدین (والوں میں)
ثُمّ َ
پھر
جِئۡتَ
آگیا تو
عَلَىٰ
پر
قَدَرٍ
اندازے (پر)
اے موسیٰ
جب تمہاری بہن چلتی جا رہی تھی تو اس نے کہا : کیا میں تمہیں بتاؤں اس (خاندان) کے بارے میں جو اس کی کفالت کرے تو یوں ہم نے لوٹا دیا تمہیں تمہاری والدہ کی طرف تاکہ اس کی آنکھ ٹھنڈی رہے اور وہ غم نہ کھائے اور (پھر) تم نے ایک شخص کو قتل کردیا تو ہم نے تم کو اس غم سے بھی نجات دلائی اور پھر ہم نے تمہیں (مزید بہت سی) آزمائشوں سے گزارا پھر تم کئی سال اہل مدین میں رہے پھر تم یہاں آگئے ایک طے شدہ فیصلے کے مطابق اے موسیٰ ؑ ٰ
20:41
وَٱ صۡطَنَعۡتُكَ
اور میں نے تجھ کو بنایا
لِنَفۡسِى
٤١اپنی ذات کے لیے
اور میں نے تم کو بنایا ہے خاص اپنے لیے
20:42
ٱذۡهَبۡ
جاؤ
أَنت َ
تم
وَأَخُوكَ
اور تمہارا بھائی
بِـَٔـايَـٰ تِى
میری آیات کے ساتھ۔ میری نشانیوں کے ساتھ
وَلَا
اور نہ
تَنِيَا
سستی کرنا تم دونوں
فِى
میں
ذِكۡرِى
٤٢میری یاد میں۔ میرے ذکر میں
جاؤ تم اور تمہارا بھائی میری ان نشانیوں کے ساتھ اور میرے ذکر سے سستی نہ کرنا
20:43
ٱذۡهَبَآ
دونوں جاؤ
إِلَىٰ
طرف
فِرۡعَوۡنَ
فرعون کی
إِنّ َهُۥ
بیشک اس نے
طَغَىٰ
٤٣سرکشی کی
جاؤ تم دونوں فرعون کے پاس یقیناً وہ بہت سرکش ہوگیا ہے
20:44
فَقُولَا
پس کہو دونوں
لَهُۥ
اس کو
قَوۡلاً
بات
نرم
شاید کہ وہ
يَتَذَكَّرُ
نصیحت پکڑے
أَوۡ
یا
يَخۡشَىٰ
٤٤ڈر جائے
تو (دیکھو !) اس کے ساتھ نرم (انداز میں) بات کرنا شاید کہ اس طرح وہ سوچے یا ڈرے
20:45
قَالَا
دونوں کہنے لگے
رَبَّنَآ
اے ہمارے رب
إِنّ َنَا
بیشک ہم
نَخَافُ
ڈرتے ہیں
أَن
کہ
وہ زیادتی کرے گا
عَلَيۡنَآ
ہم پر
أَوۡ
یا
أَن
یہ کہ
وہ سرکشی کرے گا
انہوں نے عرض کیا : اے ہمارے پروردگار ! ہمیں اندیشہ ہے کہ وہ (اچانک) ہمارے اوپر بھڑک اٹھے گا یا زیادتی کرے گا
20:46
قَالَ
فرمایا
لَا
نہ
تَخَافَآۖ
تم دونوں ڈرو
إِنّ َنِى
بیشک میں
مَعَكُمَآ
تم دونوں کے ساتھ ہوں
أَسۡمَعُ
میں سنتا ہوں
وَأَرَىٰ
٤٦اور میں دیکھتا ہوں
فرمایا : تم ڈرو نہیں یقیناً میں تم دونوں کے ساتھ ہوں میں ہر بات سنتا اور دیکھتا رہوں گا
20:47
فَأۡتِيَاهُ
پس آؤ اس کے پاس
فَقُولَآ
پھر کہو
إِنّ َا
بیشک ہم
رَسُولَا
رسول ہیں
رَبِّكَ
تیرے رب کے
فَأَرۡسِلۡ
پس بھیج
مَعَنَا
ہمارے ساتھ
بَنِىٓ
بنی
إِسۡرٰ ٓءِيلَ
اسرائیل کو
وَلَا
اور نہ
تُعَذِّبۡ هُمۡۖ
عذاب دے ان کو
قَدۡ
تحقیق
جِئۡنَـٰ كَ
لائے ہیں ہم تیرے پاس
بِـَٔـايَةٍ
ایک نشانی
سے
تیرے رب کی طرف سے
وَٱ ل سَّلَـٰ مُ
اور سلام
عَلَىٰ
پر
مَنِ
جو
پیروی کرے
ہدایت کی
پس تم دونوں جاؤ اس (فرعون) کے پاس اور اس سے کہو کہ بلاشبہ ہم دونوں رسول ہیں تیرے رب کی جانب سے پس ہمارے ساتھ بھیج دے بنی اسرائیل کو اور انہیں عذاب میں مبتلا مت رکھ یقیناً ہم آئے ہیں ایک نشانی لے کر تیرے رب کی طرف سے۔ اور سلامتی ان پر ہے جو ہدایت کا اتباع کریں
20:48
إِنّ َا
بیشک ہم
قَدۡ
تحقیق
أُوحِىَ
وحی کی گئی
إِلَيۡنَآ
ہماری طرف
أَنّ َ
بیشک
عذاب
عَلَىٰ
اوپر
مَن
اس کے جو
جھٹلائے
وَتَوَلَّىٰ
٤٨اور منہ موڑ جائے
ہماری طرف یہ وحی کی جاچکی ہے کہ اس پر عذاب آئے گا جس نے جھٹلایا اور منہ پھیرلیا
20:49
قَالَ
اس نے کہا
فَمَن
پھر کون ہے
تم دونوں کا رب
يَـٰ مُوسَىٰ
٤٩اے موسیٰ
فرعون نے کہا کہ اے موسیٰ ! تم دونوں کا رب ہے کون
20:50
قَالَ
کہا
رَبُّنَا
ہمارا رب
وہ ذات ہے
أَعۡطَىٰ
جس نے عطا کی
كُلَّ
ہر
شَىۡءٍ
چیز کو
خَلۡقَهُۥ
اس کی شکل و صورت
ثُمّ َ
پھر
هَدَىٰ
٥٠رہنمائی کی
موسیٰ ؑ ٰ نے کہا کہ ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر شے کو اس کی خلقت عطا کی پھر ہدایت دی
20:51
قَالَ
کہا
فَمَا
پس کیا
بَالُ
حال ہے
قوموں کا
پہلی
فرعون نے کہا : تو پھر پہلی نسلوں کا کیا حال ہوگا
20:52
قَالَ
کہا
عِلۡمُهَا
ان کا علم
عِند َ
پاس ہے
رَبِّى
میرے رب کے
فِى
میں
كِتَـٰ بٍۖ
ایک کتاب میں ہے
نہیں
يَضِلُّ
غلطی کرتا
رَبِّى
میرا رب
وَلَا
اور نہ
يَنس َى
٥٢بھولتا ہے
موسیٰ ؑ ٰ نے کہا کہ ان کا علم میرے رب کے پاس ایک کتاب کے اندر ہے۔ میرا رب نہ تو بھٹکتا ہے اور نہ ہی بھولتا ہے
20:53
ٱلَّذِى
وہ ذات
جَعَلَ
جس نے بنایا
لَكُمُ
تمہارے لیے
زمین کو
مَهۡدًا
بچھونا
اور بنائے
لَكُمۡ
تمہارے لیے
فِيهَا
اس میں
سُبُلاً
راستے
اور نازل کیا
مِنَ
سے
آسمان سے
مَا ٓءً
پانی
پھر نکالیں ہم نے
بِهِۦٓ
ساتھ اس کے
أَزۡوٰ جًا
کئی اقسام
سے
پودوں میں
مختلف
وہی جس نے زمین کو تمہارے لیے بچھونا بنایا اور اس میں تمہارے (چلنے کے) لیے راستے بنائے اور آسمان سے پانی نازل کیا پھر ہم نے اس (پانی) سے نکالے طرح طرح کے نباتات
20:54
كُلُواۡ
کھاؤ
وَٱ رۡعَوۡاۡ
اور چراؤ
أَنۡعَـٰ مَكُمۡۗ
اپنے مویشیوں کو
إِنّ َ
بیشک
فِى
میں
ذٰ لِكَ
اس (میں)
لَأَيَـٰ تٍ
البتہ نشانیاں ہیں
والوں کے لیے
عقل والوں
کھاؤ تم خود بھی اور چراؤ اپنے مویشیوں کو بھی۔ یقیناً اس میں نشانیاں ہیں عقل مندوں کے لیے
20:55
۞مِنۡهَا
اس میں سے
خَلَقۡ نَـٰ كُمۡ
ہم نے تم کو پیدا کیا
وَفِيهَا
اور اس میں
نُعِيدُكُمۡ
ہم تم کو لوٹائیں گے
وَمِنۡهَا
اور اسی میں سے
نُخۡرِجُكُمۡ
ہم نکالیں گے تم کو
تَارَةً
ایک مرتبہ
أُخۡرَىٰ
٥٥دوسری
اسی (زمین) سے ہم نے تمہیں پیدا کیا ہے اور اسی میں ہم تمہیں لوٹائیں گے اور اسی میں سے ہم تمہیں ایک مرتبہ پھر نکالیں گے
20:56
وَلَقَدۡ
اور البتہ تحقیق
أَرَيۡنَـٰ هُ
دکھائیں ہم نے اس کو
ءَايَـٰ تِنَا
اپنی نشانیاں
كُلَّهَا
ساری کی ساری
فَكَذَّبَ
تو اس نے جھٹلا دیا
وَأَبَىٰ
٥٦اور انکار کیا
اور ہم نے اس (فرعون) کو دکھا دیں اپنی ساری نشانیاں پھر بھی اس نے جھٹلایا اور انکار کیا
20:57
قَالَ
اس نے کہا
أَجِئۡتَنَا
کیا تو آیا ہے ہمارے پاس
لِتُخۡرِجَنَا
تاکہ تو نہ نکالے ہم کو
مِنۡ
سے
أَرۡضِنَا
ہماری زمین سے
بِسِحۡرِكَ
اپنے جادو کے ساتھ
يَـٰ مُوسَىٰ
٥٧اے موسیٰ
اس نے کہا : اے موسیٰ ؑ ٰ ! کیا تم ہمارے پاس اس لیے آئے ہو تاکہ اپنے اس جادو کے بل پر ہمیں ہماری سر زمین سے نکال باہر کرو
20:58
فَلَنَأۡتِيَنّ َكَ
پس البتہ ہم بھی ضرور آئیں گے تیرے پاس
بِسِحۡرٍ
جادو کے ساتھ
اسی جیسے
فَٱ جۡ عَلۡ
تو بنا۔ مقرر کر
بَيۡنَنَا
ہمارے درمیان
وَبَيۡنَكَ
اور اپنے درمیان
مَوۡعِدًا
ایک وعدے کا وقت۔ جگہ
نہیں
نُخۡلِفُهُۥ
ہم خلاف کریں گے اس سے
نَحۡنُ
ہم
وَلَآ
اور نہ
أَنت َ
تم (کرنا)
مَكَانًا
ایک جگہ
ہموار۔ برابر۔ سیدھی
تو ہم بھی ضرورلائیں گے تمہارے مقابلے میں ایسا ہی جادو توّ معین کرلو ہمارے اور اپنے مابین وعدے کا ایک مقرر وقت نہ ہم اس کی خلاف ورزی کریں گے اور نہ تم کرنا (یہ مقابلہ ہو) ایک کھلے میدان میں
20:59
قَالَ
کہا
مَوۡعِدُكُمۡ
تمہارا مقرر وقت
يَوۡمُ
دن ہے
جشن کا
وَأَن
اور یہ کہ
اکٹھے کیے جائیں گے
لوگ
ضُحًى
٥٩دن چڑھے
موسیٰ ؑ ٰ نے کہا : تمہارے وعدے کا دن ہوگا جشن کا دن اور یہ کہ لوگ جمع کرلیے جائیں دن چڑھے
20:60
فَتَوَلَّىٰ
تو پلٹا
فِرۡعَوۡنُ
فرعون
فَجَمَعَ
تو اس نے اکٹھی کیں
كَيۡدَهُۥ
اپنی چالیں۔ ہتھکنڈے
ثُمّ َ
پھر
أَتَىٰ
٦٠آگیا
تو اب فرعون نے رخ پھیرا چناچہ اس نے اپنے سارے ہتھکنڈے جمع کرلیے پھر وہ (مقابلے میں) آگیا
20:61
قَالَ
کہا
لَهُم
ان کو
موسیٰ نے
وَيۡلَكُمۡ
افسوس تم پر
لَا
مت
تَفۡتَرُواۡ
گھڑو
عَلَى
پر
اللہ (پر)
كَذِبًا
جھوٹ
تو فنا کردے گا تم کو
عذاب کے ساتھ
اور تحقیق
خَابَ
نامراد ہوا
مَنِ
جس نے
گھڑ لیا
موسیٰ ؑ ٰ نے انہیں (خبردار کرتے ہوئے) کہا : تمہاری بد بختی ! اللہ پر جھوٹ مت گھڑو کہ وہ تمہیں غارت کر دے کسی عذاب کے ذریعے سے اور یقیناً وہ ناکام ہوا جس کسی نے بھی (اللہ پر) افترا کیا
20:62
فَتَنَـٰ زَعُوٓ اۡ
تو وہ جھگڑنے لگے
أَمۡرَهُم
اپنے معاملے میں
آپس میں
وَأَسَرُّواۡ
اور انہوں نے چپکے چپکے کی
سرگوشی
تو وہ باہم جھگڑ پڑے اپنے اس معاملے میں اور پھر لگے چپکے چپکے مشورہ کرنے
20:63
قَالُوٓ اۡ
انہوں نے کہا
إِنۡ
یقینا
هَـٰ ذٰ نِ
یہ دونوں
لَسَـٰ حِرٰ نِ
البتہ جادوگر ہیں
يُرِيدَانِ
دونوں چاہتے ہیں
أَن
کہ
وہ نکلوا دیں تم کو۔ بےدخل کردیں تم کو
سے
أَرۡضِكُم
تمہاری زمین سے
اپنے جادو کے بل پر
وَيَذۡهَبَا
اور دونوں لے جائیں
بِطَرِيقَتِكُمُ
تمہارے طریقے کو
سب سے مثالی
انہوں نے کہا کہ یہ دونوں جادو گر ہی ہیں جو چاہتے ہیں کہ تمہیں تمہاری سرزمین سے نکال باہر کریں اپنے جادو (کے زور) سے اور تمہاری مثالی تہذیب کو برباد کردیں
20:64
فَأَجۡ مِعُواۡ
تو اکٹھی کرلو
كَيۡدَكُمۡ
اپنی تدبیریں
ثُمّ َ
پھر
آجاؤ
صَفًّاۚ
صف بنا کر
اور تحقیق
أَفۡلَحَ
فلاح پا گیا
آج
مَنِ
جو
غالب ہوا
چناچہ تم مجتمع کرو اپنی ساری تدبیریں (اور اپنے وسائل و ذرائع) پھر آؤ (مقابلہ میں) صف باندھ کر اور آج کامیاب وہی رہے گا جو غالب آئے گا
20:65
قَالُواۡ
انہوں نے کہا
يَـٰ مُوسَىٰٓ
اے موسیٰ
إِمّ َآ
یا
أَن
یہ کہ
تم ڈالو
وَإِمّ َآ
اور یا
أَن
یہ کہ
ہوں ہم
أَوَّلَ
پہلے
مَنۡ
جو
أَلۡقَىٰ
٦٥ڈالے
جادوگروں نے کہا : اے موسیٰ ! یا تو تم پہلے ڈالو اور یا پھر ہم ہی پہلے ڈالنے والے بنتے ہیں
20:66
قَالَ
کہا
بَلۡ
بلکہ
أَلۡقُواۡۖ
تم ڈالو
فَإِذَا
تو دفعتا
حِبَالُهُمۡ
ان کی رسیاں
وَعِصِيُّهُمۡ
اور ان کی لاٹھیاں
يُخَيَّلُ
خیال جاتا تھا
إِلَيۡهِ
اس کی طرف
مِن
وجہ سے
ان کے جادو کی (وجہ سے)
أَنّ َهَا
کہ بیشک وہ
تَسۡعَىٰ
٦٦دوڑرہی ہیں
موسیٰ ؑ ٰ نے کہا : بلکہ تم ہی ڈالو تو دفعتاً ان کی رسیاں اور لاٹھیاں ان کے جادو کے اثر سے اس کو ایسے نظر آنے لگیں گویا وہ دوڑ رہی ہیں
20:67
فَأَوۡجَسَ
تو چھپایا
فِى
میں
نَفۡسِهِۦ
اپنے دل (میں)
خِيفَةً
کچھ خوف کو
موسیٰ نے
تو موسیٰ ؑ نے اپنے جی میں کچھ ڈر محسوس کیا
20:68
قُلۡنَا
ہم نے کہا
لَا
مت
تَخَفۡ
ڈرو
إِنّ َكَ
بیشک تم
أَنت َ
تم ہی
اعلی ہو
ہم نے فرمایا کہ ڈرو نہیں یقیناً تم ہی غالب رہو گے
20:69
وَأَلۡقِ
اور تو ڈال
مَا
جو
فِى
میں
يَمِينِكَ
تمہارے دائیں ہاتھ میں ہے
تَلۡقَفۡ
نکل جائے گا
مَا
جو
صَنَعُوٓاۡ ۖ
انہوں نے بنایا ہے
إِنّ َمَا
بیشک جو
صَنَعُواۡ
انہوں نے بنائی ہے
كَيۡدُ
چال ہے
سَـٰ حِرٍۖ
ایک جادوگر کی
اور نہیں
يُفۡلِحُ
فلاح پاسکتا ہے
ایک جادوگر
حَيۡثُ
جہاں سے
أَتَىٰ
٦٩آجائے
اب تم ذرا پھینکو اس (عصا) کو جو تمہارے دائیں ہاتھ میں ہے یہ نگل جائے گا اس سب کو جو کچھ انہوں نے بنایا ہے۔ جو کچھ انہوں نے بنایا ہے یہ تو بس ایک فریب ہے جادوگر کا اور جادو گر کبھی کامیاب نہیں ہوا کرتا چاہے کہیں سے بھی آئے
20:70
فَأُلۡقِىَ
تو گرادیے گئے
جادوگر
سُجَّدًا
سجدہ میں
کہنے لگے
ءَامَنّ َا
ہم ایمان لائے
بِرَبِّ
رب پر
هَـٰ رُونَ
ہارون کے
وَمُوسَىٰ
٧٠اور موسیٰ کے
پس گرا دیے گئے جادو گر سجدے میں وہ پکار اٹھے کہ ہم ایمان لے آئے ہارون ؑ اور موسیٰ ؑ کے رب پر
20:71
قَالَ
کہا (فرعون نے)
ءَامَنت ُمۡ
تم ایمان لے آئے
لَهُۥ
اس پر
قَبۡ لَ
اس سے پہلے
أَنۡ
کہ
ءَاذَنَ
میں اجازت دوں
لَكُمۡۖ
تم کو
إِنّ َهُۥ
بیشک وہ
لَكَبِيرُكُمُ
البتہ بڑا ہے تمہارا
جس نے
عَلَّمَكُمُ
سکھایا تم کو
جادو
فَلَأُقَطِّعَنّ َ
تو البتہ میں ضرور کاٹ دوں گا
أَيۡدِيَكُمۡ
تمہارے ہاتھوں کو
وَأَرۡجُلَكُم
اور تمہارے پاؤں
سے
خِلَـٰ فٍ
مخالف سمت (سے)
اور البتہ میں ضرور سولی چڑھاؤں گا تم کو
فِى
میں
جُذُوعِ
تنوں میں
کھجور کے
وَلَتَعۡلَمُنّ َ
اور البتہ تم ضرور جان لو گے
أَيُّنَآ
کون ساہم میں سے
أَشَدُّ
زیادہ سخت ہے
عَذَابًا
عذاب دینے میں
اور زیادہ دیرپا ہے
فرعون نے کہا : (تو کیا) تم اس پر ایمان لے آئے ہو اس سے پہلے کہ میں تمہیں اجازت دیتا یقیناً یہی تمہارا گرو ہے جس نے تمہیں جادو سکھایا ہے تو میں تمہارے ہاتھ اور پاؤں مخالف سمتوں سے کاٹ ڈالوں گا اور تمہیں کھجور کے تنوں پر سولی (دے کر لٹکا) دوں گا اور یقیناً تمہیں (جلد) معلوم ہوجائے گا کہ ہم میں سے کون زیادہ سخت سزا دینے والا ہے اور کون زیادہ باقی رہنے والا ہے
20:72
قَالُواۡ
انہوں نے کہا
لَن
ہرگز نہ
ہم ترجیح دیں گے تجھ
عَلَىٰ
اوپر
مَا
اس کے جو
جَا ٓءَنَا
آگیا ہمارے پاس
مِنَ
سے
کھلی نشانیوں میں سے
وَٱ لَّذِى
اور وہ ذات
فَطَرَنَاۖ
جس نے پیدا کیا ہم کو
فَٱ قۡ ضِ
تو تو فیصلہ کردے
مَآ
جو
أَنت َ
تو
قَاضٍۖ
فیصلہ کرنے والا ہے
إِنّ َمَا
بیشک
تَقۡ ضِى
تو فیصلہ کرسکتا ہے
هَـٰ ذِهِ
اس
دنیا کی
زندگی کا
انہوں نے کہا : اب ہم تمہیں ہرگز ترجیح نہیں دے سکتے ان واضح دلائل پر جو ہمارے پاس آ چکے ہیں اور اس ذات پر جس نے ہمیں پیدا کیا ہے چناچہ تو کرلے جو کچھ تجھے کرنا ہے توُ تو صرف فیصلہ کرسکتا ہے اسی دنیا کی زندگی کا
20:73
إِنّ َآ
بیشک ہم
ءَامَنّ َا
ایمان لائے ہم
بِرَبِّنَا
اپنے رب پر
لِيَغۡفِرَ
تاکہ وہ بخشش دے
لَنَا
ہم کو۔ ہمارے لیے
خَطَـٰ يَـٰ نَا
ہماری خطائیں
وَمَآ
اور جو
أَكۡرَهۡتَنَا
تو نے مجبور کیا ہم کو
عَلَيۡهِ
اس پر
مِنَ
سے
جادو کی وجہ سے
وَٱ للَّهُ
اور اللہ
خَيۡرٌ
بہتر ہے
اور زیادہ باقی رہنے والا ہے
ہم اپنے رب پر ایمان لا چکے ہیں تاکہ وہ بخش دے ہماری خطاؤں کو اور اس جادو کو جس پر تو نے ہمیں مجبور کیا اور اللہ ہی بہتر ہے اور باقی رہنے والا ہے
20:74
إِنّ َهُۥ
بیشک وہ
مَن
جو
آئے گا
رَبَّهُۥ
اپنے رب کے پاس
مُجۡ رِمًا
مجرم ہو کر
تو بیشک
لَهُۥ
اس کے لیے
جَهَنّ َمَ
جہنم ہے
لَا
نہ
يَمُوتُ
وہ مرے گا
فِيهَا
اس میں
وَلَا
اور نہ
يَحۡيَىٰ
٧٤زندہ رہے گا
یقینا جو کوئی آئے گا اپنے رب کے پاس مجرم کی حیثیت سے تو اس کے لیے جہنم ہی ہے نہ وہ اس میں مرے گا اور نہ ہی جیے گا
20:75
وَمَن
اور جو
آئے گا اس کے پاس
مُؤۡمِنًا
مومن ہو کر۔ ایمان لا کر
تحقیق
عَمِلَ
اس نے عمل کیے
اچھے
فَأُوۡ لَـٰٓ ئِكَ
تو یہی لوگ
لَهُمُ
ان کے لیے ہیں
درجات
بلند
اور جو کوئی آئے گا اس کے پاس مؤمن کی حیثیت سے (اور اس حالت میں کہ) اس نے نیک اعمال بھی کیے ہوں تو یہ لوگ ہیں جن کے لیے اعلیٰ درجات ہوں گے
20:76
جَنّ َـٰ تُ
باغات
عَدۡ نٍ
ہمیشہ کے
بہتی ہیں
مِن
سے
ان کے نیچے
نہریں
خَـٰ لِدِينَ
ہمیشہ رہنے والے ہیں
فِيهَاۚ
اس میں
وَذٰ لِكَ
اور یہ
جَزَا ٓءُ
ہے بدلہ
مَن
جس نے
پاکیزگی اختیار کی
رہنے کے ایسے باغات جن کے دامن میں نہریں بہتی ہوں گی وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے اور یہی بدلہ ہے اس کا جس نے اپنے آپ کو پاک کیا
20:77
وَلَقَدۡ
اور البتہ تحقیق
أَوۡحَيۡنَآ
وحی کی ہم نے
إِلَىٰ
طرف
مُوسَىٰٓ
موسیٰ کی (طرف)
أَنۡ
کہ
أَسۡرِ
لے چل راتوں رات
بِعِبَادِى
میرے بندوں کو
فَٱ ضۡرِبۡ
پھر مار۔ بنا
لَهُمۡ
ان کے لیے
طَرِيقًا
ایک راستہ
میں
سمندر میں
يَبَسًا
سوکھا۔ خشک
نہ
تَخَـٰ فُ
تجھے خوف ہوگا
دَرَكًا
پالینے کا
اور نہ
تَخۡشَىٰ
٧٧تو ڈرے گا
اور ہم نے موسیٰ ؑ کو وحی کردی تھی کہ میرے بندوں کو لے کر راتوں رات نکل جاؤ پس ان کے لیے سمندر کے اندر ایک خشک راستہ بنالو (اس کیفیت میں کہ) نہ پکڑے جانے کا خوف ہو اور نہ (ڈوبنے کا) کوئی اندیشہ
20:78
فَأَتۡبَعَهُمۡ
تو پیچھے آیا ان کے
فِرۡعَوۡنُ
فرعون
بِجُنُودِهِۦ
اپنے لشکروں کے ساتھ
فَغَشِيَهُم
تو ڈھانپ لیا ان کو
سے
سمندر میں (سے)
مَا
جس چیز نے
غَشِيَهُمۡ
٧٨ڈھانپ لیا ان کو
تو فرعون نے ان کا تعاقب کیا اپنے لشکروں کے ساتھ تو ڈھانپ لیا انہیں سمندر میں سے جس چیزنے بھی ڈھانپ لیا
20:79
وَأَضَلَّ
اور بھٹکا دیا
فِرۡعَوۡنُ
فرعون نے
قَوۡمَهُۥ
اپنی قوم کو
وَمَا
اور نہ
هَدَىٰ
٧٩راستہ دکھایا۔ نہ رہنمائی کی
اور فرعون نے اپنی قوم کو گمراہ کیا اور ہدایت نہ دی
20:80
يَـٰ بَنِىٓ
اے بنی
إِسۡرٰ ٓءِيلَ
اسرائیل
قَدۡ
تحقیق
أَنج َيۡنَـٰ كُم
نجات دی ہم نے تم کو
سے
عَدُوِّكُمۡ
تمہارے دشمن سے
وَوٰ عَدۡ نَـٰ كُمۡ
اور وعدہ دیا ہم نے تم کو۔ وقت مقرر کیا ہم نے تمہارے لیے
جَانِبَ
جانب
طور کی
دائیں
وَنَزَّلۡنَا
اور نازل کیا ہم نے
عَلَيۡكُمُ
تم پر
من
وَٱ ل سَّلۡوَىٰ
٨٠اور سلوی
اے بنی اسرائیل ! ہم نے تم لوگوں کو نجات دی تمہارے دشمن سے پھر ہم نے تم لوگوں کو بلایا کوہ طور کی داہنی جانب اور (صحرا میں تمہاری غذا کے لیے) تم پر من وسلویٰ نازل کیا
20:81
كُلُواۡ
کھاؤ
مِن
سے
پاکیزہ چیزوں میں سے
مَا
جو
رَزَقۡ نَـٰ كُمۡ
رزق دیں ہم نے تم کو
وَلَا
اور نہ
تَطۡ غَوۡاۡ
سرکشی کرو
فِيهِ
اس میں
فَيَحِلَّ
ورنہ ٹوٹ پڑے گا۔ اتر آئے گا
عَلَيۡكُمۡ
تم پر
غَضَبِىۖ
میرا غضب
وَمَن
اور جو کہ
نازل ہوا
عَلَيۡهِ
اس پر
غَضَبِى
میرا غضب
فَقَدۡ
تو تحقیق
هَوَىٰ
٨١وہ ہلاک ہوگیا
کھاؤ ان پاکیزہ چیزوں میں سے جو ہم نے تمہیں عطا کی ہیں اور اس میں زیادتی نہ کرنا تو (ایسی صورت میں) تم پر میرا غضب نازل ہوگا اور جس پر میرا غضب نازل ہوجائے تو وہ (گویا) پٹخ دیا گیا
20:82
وَإِنّ ِى
اور بیشک میں
لَغَفَّارٌ
البتہ بہت بخشنے والا ہوں
واسطے اس کے
جس نے توبہ کی
وَءَامَنَ
اور وہ ایمان لایا
وَعَمِلَ
اور اس نے عمل کیے
صَـٰ لِحًا
اچھے
پھر
راہ پائی۔ ہدایت پائی
اور میں تو یقیناً بہت ہی معاف فرمانے والا ہوں ہر اس شخص کے لیے جس نے توبہ کی ایمان لایا نیک اعمال کیے اور پھر سیدھی راہ پر چلتا رہا
20:83
۞وَمَآ
اور کیا چیز
أَعۡجَلَكَ
لائی تجھ کو
عَن
سے
تیری قوم سے
يَـٰ مُوسَىٰ
٨٣اے موسیٰ
اور اے موسیٰ ؑ ٰ ! یہ تمہیں کس چیز نے جلدی پر آمادہ کیا اپنی قوم کو چھوڑ کر
20:84
قَالَ
کہا
هُمۡ
وہ
أُوۡ لَا ٓءِ
لوگ
عَلَىٰٓ
پر
أَثَرِى
میرے نقش قدم پر ہیں
وَعَجِلۡتُ
اور میں نے جلدی کی
إِلَيۡكَ
تیری طرف
رَبِّ
اے میرے رب
لِتَرۡضَىٰ
٨٤تاکہ تو راضی ہوجائے
موسیٰ ؑ ٰ نے عرض کیا کہ بس وہ میرے پیچھے پیچھے ہی (آرہے) ہیں اور اے میرے پروردگار ! میں نے تو تیری طرف (آنے میں اس لیے) جلدی کی تاکہ تو راضی ہوجائے
20:85
قَالَ
کہا
فَإِنّ َا
پس بیشک ہم نے
قَدۡ
تحقیق
فَتَنّ َا
آزمایا ہم نے
قَوۡمَكَ
تیری قوم کو
مِنۢ
سے
تیرے بعد
وَأَضَلَّهُمُ
اور بھٹکا دیا ان کو
سامری نے
اللہ نے فرمایا : تو ہم نے تمہارے بعد تمہاری قوم کو فتنے میں ڈال دیا ہے اور انہیں گمراہ کردیا ہے سامری نے
20:86
فَرَجَعَ
تو پلٹے
مُوسَىٰٓ
موسیٰ
إِلَىٰ
طرف
قَوۡمِهِۦ
اپنی قوم کی طرف
غَضۡبَـٰ نَ
غصے میں
أَسِفًاۚ
غم لیے ہوئے
کہا
يَـٰ قَوۡمِ
اے میری قوم
أَلَمۡ
کیا نہیں
يَعِدۡ كُمۡ
وعدہ کیا تھا تم سے
رَبُّكُمۡ
تمہارے رب نے
وَعۡدًا
وعدہ
حَسَنًاۚ
اچھا
أَفَطَالَ
پھر لمبا ہوگیا
عَلَيۡكُمُ
تم پر
زمانہ
أَمۡ
یا
أَرَد تُّمۡ
ارادہ کیا تم نے۔ چاہا تم نے
أَن
کہ
اترے
عَلَيۡكُمۡ
تم پر
غَضَبٌ
کوئی غضب
سے
تمہارے رب کی طرف سے
فَأَخۡلَفۡتُم
تو خلاف کیا تم نے
میرے وعدے کا
تو لوٹے موسیٰ ؑ اپنی قوم کی طرف بہت غضبناک اور سخت رنجیدہ حالت میں انہوں نے کہا : اے میری قوم کے لوگو ! کیا تم سے تمہارے رب نے اچھا وعدہ نہیں کیا تھا تو کیا یہ مدت تم پر بہت طویل ہوگئی تھی یا تم لوگوں نے یہ چاہا کہ تم پر تمہارے رب کا غضب نازل ہو تو تم نے میرے وعدے کی خلاف ورزی کر ڈالی
20:87
قَالُواۡ
انہوں نے کہا
مَآ
نہیں
أَخۡلَفۡنَا
خلاف کیا ہم نے
مَوۡعِدَكَ
تیرا وعدہ
بِمَلۡكِنَا
اپنے اختیار سے
وَلَـٰ كِنّ َا
بلکہ ہم
حُمّ ِلۡنَآ
اٹھوائے گئے ہم
أَوۡزَارًا
بوجھ
سے
زیورات میں سے
قوم کے
فَقَذَفۡنَـٰ هَا
تو پھینک دیا ہم نے ان کو
فَكَذٰ لِكَ
پھر اسی طرح
أَلۡقَى
ڈال دیا
سامری نے
انہوں نے جواب دیا کہ ہم نے آپ کے وعدے کی خلاف ورزی اپنے اختیار سے نہیں کی بلکہ ہم پر بوجھ تھا اس قوم کے زیورات کا تو ہم نے وہ پھینک دیے اور اسی طرح سامری نے بھی کچھ پھینکا
20:88
فَأَخۡرَجَ
تو اس نے نکالا
لَهُمۡ
ان کے لیے
عِجۡ لاً
ایک بچھڑا
مجسم
اس کے لیے
خُوَارٌ
گائے کی آواز تھی
تو انہوں نے کہا
هَـٰ ذَآ
یہ
إِلَـٰ هُكُمۡ
تمہارا الہ ہے
وَإِلَـٰ هُ
اور الہ
مُوسَىٰ
اور موسیٰ کا
فَنَسِىَ
٨٨تو وہ بھول گیا
پھر اس نے ان کے لیے ایک بچھڑا برآمد کردیا ایک دھڑ جس سے ڈکرانے کی آواز آتی تھی تو انہوں نے کہا کہ یہ ہے تمہارا معبود اور موسیٰ ؑ کا معبود مگر وہ (موسیٰ ؑ ٰ) بھول گیا ہے
20:89
أَفَلَا
کیا پھر نہیں
يَرَوۡنَ
وہ دیکھتے
أَلَّا
بیشک نہیں
يَرۡجِعُ
وہ لوٹاتا
إِلَيۡهِمۡ
ان کی طرف
قَوۡلاً
بات کو
اور نہیں
يَمۡلِكُ
اختیار رکھتا
لَهُمۡ
ان کے لیے
ضَرًّا
کسی نقصان کا
اور نہ
نَفۡعًا
٨٩کسی نفع کا
تو کیا وہ دیکھتے نہیں تھے کہ وہ (بچھڑا) ان کی طرف کوئی بات لوٹاتا نہیں تھا اور نہ ہی اسے ان کے لیے کسی نقصان کا اختیار تھا اور نہ نفع کا
20:90
وَلَقَدۡ
اور البتہ تحقیق
قَالَ
کہا تھا
لَهُمۡ
ان کو
هَـٰ رُونُ
ہارون نے
مِن
سے
اس سے پہلے
يَـٰ قَوۡمِ
اے میری قوم
إِنّ َمَا
بیشک
فُتِنت ُم
آزمائش میں ڈالے گئے تم
اس کے ذریعے
وَإِنّ َ
اور بیشک
رَبَّكُمُ
رب تمہارا
رحمن ہے
فَٱ تَّبِعُونِى
پس پیروی کرو میری
وَأَطِيعُوٓ اۡ
اور اطاعت کرو
أَمۡرِى
٩٠میرے حکم کی
اور ہارون ؑ انہیں پہلے ہی کہہ چکا تھا اے میری قوم کے لوگو ! تمہیں تو اس (بچھڑے) کے ذریعے سے فتنے میں ڈالا گیا ہے اور یقیناً تمہارا رب (یہ بچھڑا نہیں بلکہ) رحمن ہے چناچہ تم لوگ میری پیروی کرو اور میری بات مانو
20:91
قَالُواۡ
انہوں نے کہا
لَن
ہرگز نہ
ہم ٹلیں گے۔ ہم ہمیشہ رہیں گے
عَلَيۡهِ
اس پر
عَـٰ كِفِينَ
جم کر رہنے والے
حَتَّىٰ
یہاں تک کہ
يَرۡجِعَ
لوٹ آئے
إِلَيۡنَا
ہماری طرف
مُوسَىٰ
٩١موسیٰ
انہوں نے کہا : ہم تو اسی پر اعتکاف کرتے رہیں گے یہاں تک کہ موسیٰ ؑ خود ہمارے پاس واپس آجائیں
20:92
قَالَ
کہا
يَـٰ هَـٰ رُونُ
اے ہارون
مَا
کس چیز نے
مَنَعَكَ
روکا تجھ کو
إِذۡ
جب
رَأَيۡتَهُمۡ
تم نے دیکھا تھا ان کو
ضَلُّوٓاۡ
٩٢کہ وہ بھٹک گئے ہیں
موسیٰ ؑ ٰ نے کہا : اے ہارون ! آپ ؑ کو کس چیز نے روکا تھا جب آپ ؑ نے انہیں دیکھا کہ وہ گمراہ ہوگئے ہیں
20:93
أَلَّا
کیوں نہ
تَتَّبِعَنِۖ
پیروی کی تم نے میری
أَفَعَصَيۡتَ
کیا پھر نافرمانی کی تم نے
أَمۡرِى
٩٣میرے حکم کی
کہ آپ ؑ نے میری پیروی نہ کی یا پھر آپ ؑ نے نافرمانی کی میرے حکم کی
20:94
قَالَ
کہا
يَبۡ نَؤُمّ َ
اے میری ماں کے بیٹے
لَا
نہ
تَأۡخُذۡ
تم پکڑو
بِلِحۡيَتِى
میری داڑھی کو
وَلَا
اور نہ
بِرَأۡسِىٓۖ
میرے سر کو
إِنّ ِى
بیشک میں
خَشِيتُ
ڈر گیا تھا
أَن
کہ
تم کہو گے
فَرَّقۡ تَ
تو نے جدائی ڈال دی۔ تفرقہ ڈال دیا
بَيۡنَ
درمیان
بَنِىٓ
بنی
إِسۡرٰ ٓءِيلَ
اسرائیل کے
وَلَمۡ
اور نہ
تَرۡقُبۡ
تم نے انتظار کیا
قَوۡلِى
٩٤میری بات کا
ہارون ؑ نے کہا : اے میری ماں کے بیٹے ! آپ ؑ (اس طرح) میری ڈاڑھی اور میرے سر (کے بالوں) کو مت کھینچیں مجھے تو یہ اندیشہ تھا کہ آپ ؑ یہ نہ کہیں کہ تم نے بنی اسرائیل میں تفریق پیدا کردی اور میری بات یاد نہ رکھی
20:95
قَالَ
کہا
فَمَا
تو کیا ہے
خَطۡ بُكَ
تیرا ماجرا
يَـٰ سَـٰ مِرِىُّ
٩٥اے سامری
موسیٰ ؑ ٰ نے کہا : اے سامری ! تمہارا کیا معاملہ ہے
20:96
قَالَ
کہا اس نے
بَصُرۡتُ
میں نے دیکھا
بِمَا
ساتھ اس کے جو
لَمۡ
نہیں
يَبۡ صُرُواۡ
انہوں نے دیکھا
بِهِۦ
جس کو
فَقَبَضۡتُ
تو میں نے اٹھا لی
قَبۡ ضَةً
ایک مٹھی
سے
أَثَرِ
نقش قدم سے
رسول کے
فَنَبَذۡتُهَا
تو نے ڈال دیا اس کو۔ پھینک دیا اس کو
وَكَذٰ لِكَ
اور اسی طرح
سَوَّلَتۡ
آسان کردیا تھا - اچھا کر کے دکھایا تھا
لِى
میرے لیے
نَفۡسِى
٩٦میرے نفس نے
اس نے کہا کہ میں نے (ایک ایسی چیز) دیکھی تھی جو انہوں نے نہیں دیکھی تو میں نے لے لی ایک مٹھیّ (مٹی کی) رسول کے نقش پا سے تو وہ میں نے (اس میں) پھینک دی اور اسی طرح میرے نفس نے یہ راستہ مجھے بتایا
20:97
قَالَ
کہا
فَٱ ذۡهَبۡ
پس جاؤ
فَإِنّ َ
تو بیشک
لَكَ
تیرے لیے
فِى
میں
زندگی میں ہے
أَن
کہ
تو کہے
لَا
نہ
مِسَاسَۖ
چھونا
وَإِنّ َ
اور بیشک
لَكَ
تیرے لیے
مَوۡعِدًا
ایک وعدے کا وقت مقرر ہے
ہرگز نہ
تو پیچھے چھوڑا جائے گا اس سے
وَٱ نظ ُرۡ
اور دیکھ
إِلَىٰٓ
طرف
إِلَـٰ هِكَ
اپنے الہ کے
وہ جو
ظَلۡتَ
رہا تو
عَلَيۡهِ
اس پر
عَاكِفًاۖ
معتکف
البتہ ہم ضرور جلا ڈالیں گے اس کو
ثُمّ َ
پھر
لَنَنس ِفَنّ َهُۥ
البتہ ہم ضرور گرا دیں گے اس کو۔ پھینک دیں گے اس کو
فِى
میں
سمندر میں
نَسۡفًا
٩٧گرا دینا۔ پھینک دینا
موسیٰ ؑ ٰ نے کہا : دفع ہوجاؤ ! اب تمہارے لیے زندگی میں یہی (سزا) ہے کہ تم کہتے رہوگے کہ مجھے کوئی نہ چھوئے اور تمہارے لیے ایک وعدہ ہے جس کی ہرگز خلاف ورزی نہیں کی جائے گی اور دیکھو اپنے اس معبود کو جس کا تم اعتکاف کرتے رہے ہو (ہم اس کے ساتھ کیا معاملہ کرتے ہیں) ہم اسے جلا (کر راکھ کر) دیں گے پھر اس (کی راکھ) کو سمندر میں بکھیر دیں گے
20:98
إِنّ َمَآ
بیشک
إِلَـٰ هُكُمُ
الہ تمہارا
اللہ ہے
وہ ذات
لَآ
نہیں
إِلَـٰ هَ
کوئی الہ برحق
إِلَّا
مگر
هُوَۚ
وہی
وَسِعَ
وسیع ہے۔ چھایا ہوا ہے
كُلَّ
ہر
شَىۡءٍ
چیز پر
عِلۡمًا
٩٨علم کے اعتبار سے
حقیقت میں تمہارا معبود تو صرف اللہ ہے جس کے سوا کوئی اور معبود ہے ہی نہیں اسے ہرچیز کا علم حاصل ہے
20:99
كَذٰ لِكَ
اسی طرح
نَقُصُّ
ہم بیان کرتے ہیں
عَلَيۡكَ
تجھ پر
مِنۡ
سے
أَنۢب َا ٓءِ
خبروں میں سے
مَا
جو
قَدۡ
تحقیق
سَبَقَۚ
گزر چکیں
وَقَدۡ
اور تحقیق
ءَاتَيۡنَـٰ كَ
دیا ہم نے تجھ کو
مِن
سے
اپنے پاس سے
ذِكۡرًا
٩٩ایک ذکر
(تواے نبی ﷺ !) اس طرح ہم سنا رہے ہیں آپ کو حالات اس (زمانے) کے جو گزر چکا ہے اور ہم نے آپ ﷺ کو خاص اپنے پاس سے ذکرعطا کیا ہے
20:100
مَّنۡ
جس نے
أَعۡرَضَ
منہ موڑا
عَنۡهُ
اس سے
فَإِنّ َهُۥ
تو بیشک وہ
يَحۡمِلُ
اٹھائے گا
يَوۡمَ
دن
قیامت کے
وِزۡرًا
١٠٠ایک بوجھ
جس کسی نے اس (قرآن) سے اعراض کیا تو وہ قیامت کے دن ایک بھاری بوجھ اٹھائے گا
20:101
خَـٰ لِدِينَ
ہمیشہ رہنے والے ہیں
فِيهِۖ
اس میں
وَسَا ٓءَ
اور برا ہے
لَهُمۡ
ان کے لیے
يَوۡمَ
دن
قیامت کے
حِمۡلاً
١٠١بوجھ اٹھانا
یہ لوگ اس (کیفیت) میں ہمیشہ رہیں گے اور ان کے لیے بہت برا ہوگا قیامت کے دن کا وہ بوجھ
20:102
يَوۡمَ
جس دن
يُنف َخُ
پھونک ماری جائے گی
فِى
میں
صور (میں )
وَنَحۡشُرُ
اور ہم اکٹھا کریں گے
مجرموں کو
يَوۡمَئِذٍ
اس دن
نیلی آنکھوں والے
جس دن صور پھونکا جائے گا اور ہم مجرموں کو اس دن اکٹھا کریں گے (اس حالت میں) کہ ان کی آنکھیں نیلی پڑی ہوں گی
20:103
يَتَخَـٰ فَتُونَ
سرگوشیاں کریں گے
بَيۡنَهُمۡ
آپس میں
إِن
نہیں
ٹھہرے تم
إِلَّا
مگر
عَشۡرًا
١٠٣دس دن
چپکے چپکے وہ ایک دوسرے سے کہہ رہے ہوں گے کہ تم نہیں رہے ہو (دنیا میں) مگر صرف دس دن
20:104
نَّحۡنُ
ہم
أَعۡلَمُ
زیادہ جانتے ہیں
بِمَا
اس کو جو
يَقُولُونَ
وہ کہیں گے
إِذۡ
جب
يَقُولُ
کہے گا
أَمۡثَلُهُمۡ
سب سے مثالی ان میں سے
طَرِيقَةً
رائے کے اعتبار سے
إِن
نہیں
ٹھہرے تم
إِلَّا
مگر
يَوۡمًا
١٠٤ایک دن
ہم خوب جانتے ہیں جو کچھ وہ کہیں گے جب ان میں سے بہترین سمجھ بوجھ والا شخص کہے گا کہ تم نہیں رہے ہو مگر (زیادہ سے زیادہ) ایک دن
20:105
وَيَسۡــَٔلُونَكَ
اور وہ سوال کرتے ہیں آپ سے
عَنِ
بارے میں
پہاڑوں کے (بارے میں)
فَقُلۡ
تو کہہ دیجیے
يَنس ِفُهَا
اکھاڑ دے گا ان کو۔ گرا دے گا ان کو
رَبِّى
میرا رب
نَسۡفًا
١٠٥گرا دینا
اور (اے نبی ﷺ !) یہ لوگ آپ سے پہاڑوں کے بارے میں پوچھتے ہیں آپ ﷺ کہہ دیجیے کہ میرا رب ان کو ریزہ ریزہ کر کے بکھیر دے گا
20:106
فَيَذَرُهَا
پھر چھوڑ دے گا اس کو
قَاعًا
ہموار
چٹیل
اور چھوڑ دے گا اس (زمین) کو صاف چٹیل میدان بنا کر
20:107
لَّا
نہ
تَرَىٰ
تم دیکھو گے
فِيهَا
اس میں
عِوَجًا
کوئی ٹیڑھا پن۔ کجی
اور نہ
أَمۡتًا
١٠٧اونچی جگہ۔ اونچا مقام
آپ نہ تو اس میں کوئی ٹیڑھ دیکھیں گے اور نہ کوئی ٹیلا
20:108
يَوۡمَئِذٍ
جس دن
وہ پیروی کریں گے
پکارنے والے کی
لَا
نہیں
عِوَجَ
کوئی انحراف
لَهُۥ ۖ
جس کے لیے
وَخَشَعَتِ
اور دب جائیں گی
تمام آوازیں
لِلرَّحۡمَـٰ نِ
رحمن کے لیے
فَلَا
تو نہ
تَسۡمَعُ
تم سنو گے
إِلَّا
مگر
هَمۡسًا
١٠٨دھیمی آواز
جس دن پیچھے چل پڑیں گے سب لوگ ایک پکارنے والے کے ممکن نہیں کہ اس سے ذرا کج ہو سکیں اور تمام آوازیں رحمن کے سامنے پست ہوجائیں گی چناچہ تم نہیں سن سکو گے مگر ایک بھنبھناہٹ سی
20:109
يَوۡمَئِذٍ
اس دن
نہ
تَنف َعُ
فائدہ دے گی
سفارش
إِلَّا
مگر
مَنۡ
جس کو
أَذِنَ
اجازت دے
لَهُ
واسطے اس کے
رحمن
وَرَضِىَ
اور پسند کرے
لَهُۥ
اس کے لیے
قَوۡلاً
١٠٩بات کو
اس دن کوئی شفاعت ہرگز مفید نہیں ہوگی مگر جس کے لیے رحمن نے اجازت دی ہو اور اس کے لیے اس نے بات پسند کی ہو
20:110
يَعۡلَمُ
جانتا ہے
مَا
جو
بَيۡنَ
سامنے
أَيۡدِيهِمۡ
ان کے سامنے ہے۔ ان کے آگے ہے
وَمَا
اور جو
خَلۡفَهُمۡ
ان کے پیچھے ہے
وَلَا
اور نہیں
يُحِيطُونَ
وہ احاطہ کرسکتے
بِهِۦ
اس کا
عِلۡمًا
١١٠علم کے اعتبار سے
وہ جانتا ہے جو کچھ ان کے سامنے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہے اور وہ احاطہ نہیں کرسکتے اس کے علم کا
20:111
۞وَعَنَتِ
اور جھک جائیں گے
چہرے
لِلۡحَىِّ
حی کے لیے
قیوم کے لیے۔ آگے
وَقَدۡ
اور تحقیق
خَابَ
نامراد ہوا
مَنۡ
جس نے
حَمَلَ
اٹھایا
ظُلۡمًا
١١١ظلم
اور یقیناً خائب و خاسر ہوا وہ جس نے ظلم کا بوجھ اٹھایا
20:112
وَمَن
اور جو
عمل کرے گا
مِنَ
سے
نیکیوں میں (سے)
وَهُوَ
اور وہ
مُؤۡمِنٌ
مومن ہو
تو نہ
يَخَافُ
وہ ڈرے گا
ظُلۡمًا
ظلم سے
اور نہ
هَضۡمًا
١١٢کسی حق تلفی سے
اور جس کسی نے نیک اعمال کیے ہوں گے اور وہ مؤمن ہوگا تو اسے نہ کسی بےانصافی کا اندیشہ ہوگا اور نہ کسی زیادتی کا
20:113
وَكَذٰ لِكَ
اور اسی طرح
أَنز َلۡنَـٰ هُ
نازل کیا ہم نے اس کو
قُرۡءَانًا
قرآن
عَرَبِيًّا
عربی (بنا کر)
اور پھیر پھیر کر لائے ہم
فِيهِ
اس میں
مِنَ
سے
تنبیہات میں سے۔ ڈراؤں میں سے
لَعَلَّهُمۡ
تاکہ وہ
يَتَّقُونَ
تقوی اختیار کریں
أَوۡ
یا
يُحۡدِثُ
پیدا کردے
لَهُمۡ
ان کے لیے
ذِكۡرًا
١١٣ذکر۔ غور و فکر
اور اسی طرح ہم نے نازل کیا ہے اس (کلام) کو عربی قرآن بنا کر اور پھیر پھیر کر بیان کی ہیں ہم نے اس میں تمام وعیدیں شاید کہ وہ تقویٰ اختیار کریں یا (شاید) وہ پیدا کرے ان (کے دلوں) میں کچھ یاد دہانی
20:114
فَتَعَـٰ لَى
پس بلند ہے
اللہ
بادشاہ
حقیقی
وَلَا
اور نہ
تَعۡجَلۡ
تم جلدی کرو
بِٱ لۡقُرۡءَانِ
ساتھ قرآن کے
مِن
سے
اس سے پہلے
أَن
کہ
پوری کی جائے
إِلَيۡكَ
تیری طرف
وَحۡيُهُۥ ۖ
اس کی وحی
وَقُل
اور کہہ دیجیے
رَّبِّ
اے میرے رب
زِدۡ نِى
زیادہ دے مجھ کو
عِلۡمًا
١١٤علم
تو بہت بلند وبالا ہے اللہ بادشاہ حقیقی اور آپ ﷺ جلدی نہ کیجیے اس قرآن کے ساتھ اس سے پہلے کہ آپ ﷺ پر اس کی وحی مکمل ہوجائے اور آپ ﷺ یہ کہتے رہا کیجیے کہ اے میرے رب ! میرے علم میں اضافہ فرما
20:115
وَلَقَدۡ
اور البتہ تحقیق
عَهِدۡ نَآ
عہد کیا ہم نے
إِلَىٰٓ
طرف
ءَادَمَ
آدم کے
مِن
سے
اس سے پہلے
فَنَسِىَ
تو وہ بھول گیا
وَلَمۡ
اور نہیں
نَجِدۡ
پایا ہم نے
لَهُۥ
اس کے لیے
عَزۡمًا
١١٥عزم۔ پختگی
اور ہم نے اس سے پہلے آدم ؑ سے ایک عہد لیا تھا تو وہ بھول گیا اور ہم نے اس میں ارادے کی پختگی نہیں پائی
20:116
وَإِذۡ
اور جب
قُلۡنَا
کہا ہم نے
لِلۡمَلَـٰٓ ئِكَةِ
فرشتوں سے
سجدہ کرو
لِأَدَمَ
آدم کے لیے
فَسَجَدُوٓ اۡ
تو انہوں نے سجدہ کیا
إِلَّآ
مگر
إِبۡ لِيسَ
ابلیس نے
أَبَىٰ
١١٦اس نے انکار کیا
اور (یاد کرو) جب کہ ہم نے فرشتوں سے کہا تھا کہ سجدہ کرو آدم ؑ کو تو ان سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے اس نے انکار کردیا
20:117
فَقُلۡنَا
تو کہا ہم نے
يَـٰٓـ ـَٔـادَمُ
اے آدم
إِنّ َ
بیشک
هَـٰ ذَا
یہ
عَدُوٌّ
دشمن ہے
تیرے لیے
وَلِزَوۡجِكَ
اور تیری بیوی کے لیے
فَلَا
پس نہ
يُخۡرِجَنّ َكُمَا
ہرگز نکلوائے تم دونوں کو
مِنَ
سے
جنت سے
فَتَشۡقَىٰٓ
١١٧ورنہ تم مصیبت میں پڑجاؤ گے
تو ہم نے کہا : اے آدم ؑ ! یقیناً یہ دشمن ہے تمہارا بھی اور تمہاری بیوی کا بھی تو (دیکھو !) یہ تم دونوں کو کہیں جنت سے نکلوا نہ دے کہ پھر تم مشقت میں پڑجاؤ
20:118
إِنّ َ
بیشک
لَكَ
تمہارے لیے
أَلَّا
کہ نہ
تَجُوعَ
تم بھوکے رہو گے
فِيهَا
اس میں
وَلَا
اور نہ
تَعۡرَىٰ
١١٨ننگے ہوں گے۔ عریاں ہوگے
یقیناً اس میں نہ تو تمہیں بھوک ستاتی ہے اور نہ عریانی (کا خدشہ) ہے
20:119
وَأَنّ َكَ
اور بیشک تم
لَا
نہ
تَظۡمَؤُاۡ
پیاسے ہو گے
فِيهَا
اس میں
وَلَا
اور نہ
تَضۡحَىٰ
١١٩دھوپ لگے گی
اور یہ کہ نہ تمہیں اس میں پیاس (پریشان کرتی) ہے اور نہ دھوپ (کی کوئی تکلیف)
20:120
فَوَسۡوَسَ
پس وسوسہ ڈالا
إِلَيۡهِ
اس کی طرف
شیطان نے
قَالَ
کہا
يَـٰٓـ ـَٔـادَمُ
اے آدم
هَلۡ
کیا
أَدُلُّكَ
میں بتاؤں تجھ کو
عَلَىٰ
کے بارے
شَجَرَةِ
درخت (کے بارے میں)
ہمیشگی کے
وَمُلۡكٍ
اور بادشاہت کے
نہ
يَبۡ لَىٰ
١٢٠پرانی ہوگی
تو وسوسہ ڈالا اس کے ذہن میں شیطان نے اس نے کہا : اے آدم ؑ ! کیا میں بتاؤں تجھے ہمیشہ رہنے والے درخت اور ایسی بادشاہی کے بارے میں جو کبھی پرانی نہ ہو
20:121
فَأَكَلَا
تو دونوں کھا گئے
مِنۡهَا
اس میں سے
فَبَدَتۡ
تو کھل گئے
لَهُمَا
ان کے دونوں کے لیے
سَوۡءٰ تُهُمَا
ان کے ستر
وَطَفِقَا
اور دونوں لگے
يَخۡصِفَانِ
چپکانے
عَلَيۡهِمَا
اپنے اوپر
مِن
سے
پتوں میں سے
جنت کے
وَعَصَىٰٓ
اور نافرمانی کی
ءَادَمُ
آدم نے
رَبَّهُۥ
اپنے رب کی
فَغَوَىٰ
١٢١تو بھٹک گئے
تو ان دونوں نے کھالیا اس میں سے تو ان پر واضح ہوگئیں ان کی شرمگاہیں اور وہ لگے گانٹھنے اپنے اوپر جنت (کے درختوں) کے پتوں کو اور آدم ؑ نے اپنے رب کی نافرمانی کی تو وہ بھٹک گیا
20:122
ثُمّ َ
پھر
چن لیا اس کو
رَبُّهُۥ
اس کے رب نے
فَتَابَ
پس مہربان ہوا
عَلَيۡهِ
اس پر
وَهَدَىٰ
١٢٢اور ہدایت بخشی
پھر اس کے رب نے اسے پسند کرلیا اس کی توبہ قبول فرمائی اور اسے ہدایت بخشی
20:123
قَالَ
فرمایا
دونوں اتر جاؤ
مِنۡهَا
اس سے
جَمِيعَۢاۖ
سارے کے سارے
تم میں سے بعض
لِبَعۡضٍ
بعض کے لیے
عَدُوٌّۖ
دشمن ہوں گے
پھر اگر
يَأۡتِيَنّ َكُم
آئے تمہارے پاس
میری طرف سے
هُدًى
ہدایت
تو جس نے
پیروی کی
هُدَاىَ
میری ہدایت کی
فَلَا
تو نہ
يَضِلُّ
وہ بھٹکے گا
وَلَا
اور نہ
يَشۡقَىٰ
١٢٣مصیبت میں پڑے گا
(اس کے بعد) اللہ نے فرمایا کہ تم سب کے سب اس (جنت) سے اتر جاؤ اب تم ایک دوسرے کے دشمن ہو گے تو جب بھی تمہارے پاس آئے میری طرف سے کوئی ہدایت تو جس نے پیروی کی میری ہدایت کی تو نہ وہ بہکے گا اور نہ ناکام ہوگا
20:124
وَمَنۡ
اور جس نے
أَعۡرَضَ
روگردانی کی
عَن
سے
میرے ذکر (سے)
فَإِنّ َ
تو بیشک
لَهُۥ
اس کے لیے
مَعِيشَةً
گزران ہے
تنگ
اور ہم اکٹھا کریں گے اس کو۔ گھیر لائیں گے اس کو
يَوۡمَ
دن
قیامت کے
أَعۡمَىٰ
١٢٤اندھا
اور جس نے میری یاد سے اعراض کیا تو یقیناً اس کے لیے ہوگی (دنیا کی) زندگی بہت تنگی والی اور ہم اٹھائیں گے اسے قیامت کے دن اندھا (کرکے)
20:125
قَالَ
وہ کہے گا
رَبِّ
اے میرے رب
لِمَ
کیوں
حَشَرۡتَنِىٓ
تو نے اٹھایا مجھ کو
أَعۡمَىٰ
اندھا
وَقَدۡ
حالانکہ تحقیق
كُنت ُ
میں تھا
بَصِيرًا
١٢٥دیکھنے والا
وہ کہے گا : اے میرے پروردگار ! تو نے مجھے اندھا کیوں اٹھایا ہے جبکہ میں (دنیا میں) تو بینائی والا تھا
20:126
قَالَ
وہ فرمائے گا
كَذٰ لِكَ
اسی طرح
أَتَتۡكَ
آئیں تھیں تیرے پاس
ءَايَـٰ تُنَا
ہماری آیات
فَنَسِيتَهَاۖ
تو تم نے بھلا دیا ان کو
وَكَذٰ لِكَ
اور اسی طرح
آج
تُنس َىٰ
١٢٦تم بھلائے جاؤ گے
اللہ فرمائے گا کہ اسی طرح ہماری آیات تمہارے پاس آئیں تو تم نے انہیں نظر انداز کردیا اور اسی طرح آج تمہیں بھی نظرانداز کردیا جائے گا
20:127
وَكَذٰ لِكَ
اور اسی طرح
نَجۡ زِى
ہم جزا دیتے ہیں
مَنۡ
جو
أَسۡرَفَ
حد سے گزرے
وَلَمۡ
اور نہ
يُؤۡمِنۢ
مانے
آیات کو
رَبِّهِۦ ۚ
اپنے رب کی
وَلَعَذَابُ
اور البتہ عذاب
آخرت کا
أَشَدُّ
زیادہ شدید ہے
وَأَبۡ قَىٰٓ
١٢٧اور زیادہ باقی رہنے والا ہے
اور اسی طرح ہم بدلہ دیں گے اس کو جس نے حد سے تجاوز کیا اور اپنے رب کی آیات پر ایمان نہ لایا اور یقیناً آخرت کا عذاب زیادہ سخت اور ہمیشہ رہنے والا ہے
20:128
أَفَلَمۡ
کیا پھر نہیں
يَهۡدِ
رہنمائی کی۔ ہدایت ملی
لَهُمۡ
ان کو (اس بات سے)
كَمۡ
کتنی ہی
أَهۡلَكۡنَا
ہلاک کیں ہم نے
قَبۡ لَهُم
ان سے پہلے ان کی
سے
بستیوں میں (سے)
يَمۡشُونَ
وہ جو چلتے پھرتے ہیں
فِى
میں
مَسَـٰ كِنِهِمۡۗ
ان کے رہنے کی جگہوں (میں)
إِنّ َ
یقینا
فِى
میں
ذٰ لِكَ
اس میں
لَأَيَـٰ تٍ
البتہ نشانیاں ہیں
والوں کے لیے
عقل (والوں کے لیے)
تو کیا انہیں اس بات سے کوئی راہنمائی نہیں ملی کہ ہم نے ہلاک کردیا ان سے پہلے کتنی ہی قوموں کو وہ بھی چلتے پھرتے تھے (اسی طرح) اپنی آبادیوں میں یقیناً اس میں نشانیاں ہیں عقل مندوں کے لیے
20:129
وَلَوۡلَا
اور اگر نہ
كَلِمَةٌ
ایک بات ہوتی
جو گزر چکی
مِن
سے
تیرے رب کی طرف (سے)
لَكَانَ
البتہ ہوتا
لِزَامًا
چمٹنے والا۔ لازم ہونے والا
اور ایک وقت
مقرر
اور اگر آپ کے رب کی طرف سے ایک بات پہلے سے طے نہ ہوچکی ہوتی اور ایک وقت معین مقرر نہ کردیا گیا ہوتا تو یہ (عذاب) چمٹ چکا ہوتا
20:130
فَٱ صۡبِرۡ
پس صبر کرو
عَلَىٰ
اس پر
مَا
جو
يَقُولُونَ
وہ کہتے ہیں
وَسَبِّحۡ
اور تسبیح کرو
بِحَمۡدِ
ساتھ حمد کے
رَبِّكَ
اپنے رب کی
قَبۡ لَ
قبل
طُلُوعِ
طلوع ہونے سے
سورج
وَقَبۡ لَ
اور قبل
غُرُوبِهَاۖ
اس کے غروب ہونے سے
وَمِنۡ
اور سے
ءَانَآىِٕ
گھڑیوں میں
رات کی
فَسَبِّحۡ
پس تسبیح کرو
وَأَطۡ رَافَ
اور کناروں پر
دن کے
لَعَلَّكَ
شاید کہ تو
تَرۡضَىٰ
١٣٠تو راضی ہوجائے
تو (اے نبی ﷺ !) آپ صبر کیجیے اس پر جو کچھ یہ کہہ رہے ہیں اور تسبیح بیان کیجیے اپنے رب کی حمد کے ساتھ سورج طلوع ہونے سے پہلے اور اس کے غروب ہونے سے پہلے اور رات کے کچھ اوقات میں بھی تسبیح کیجیے اور دن کے اطراف میں بھی تاکہ آپ ﷺ راضی ہوجائیں
20:131
وَلَا
اور نہ
تَمُدَّنّ َ
آپ دراز کریں۔ دوڑائیں
عَيۡنَيۡكَ
اپنی دونوں آنکھیں
إِلَىٰ
طرف
مَا
جو
مَتَّعۡنَا
اس کے جو فائدہ دیا ہم نے
بِهِۦٓ
ساتھ اس کے
أَزۡوٰ جًا
مختلف قسم کے لوگوں کو
ان میں سے
زَهۡرَةَ
رونق ہے
زندگی کی
دنیا کی
لِنَفۡتِنَهُمۡ
تاکہ ہم آزمائیں ان کو
فِيهِۚ
اس میں
وَرِزۡقُ
اور رزق
رَبِّكَ
تیرے رب کا
خَيۡرٌ
بہتر ہے
اور زیادہ باقی رہنے والا ہے
اور آپ ﷺ کی نگاہیں نہ اٹھیں ان چیزوں کی طرف جو ہم نے ان میں سے کئی لوگوں کو دی ہوئی ہیں یہ چمک دمک ہے دنیوی زندگی کی تاکہ ہم ان کو اس میں آزمائیں اور آپ ﷺ کے رب کا (عطا کردہ) رزق بہتر اور باقی رہنے والا ہے
20:132
وَأۡمُرۡ
اور حکم دو
أَهۡلَكَ
اپنے گھر والوں کو
بِٱ ل صَّلَو ٰ ةِ
نماز کا
وَٱ صۡطَبِرۡ
اور جمے رہو
عَلَيۡهَاۖ
اس پر
لَا
نہیں
نَسۡــَٔلُكَ
ہم سوال کرتے تجھ سے
رِزۡقًاۖ
رزق کا
ہم
نَرۡزُقُكَۗ
ہم رزق دیتے ہیں تجھ کو
وَٱ لۡعَـٰ قِبَةُ
اور انجام
لِلتَّقۡ وَىٰ
١٣٢تقوی ہی کے لیے ہے
اور اپنے گھر والوں کو بھی نماز کا حکم دیجیے اور خود بھی اس پر جمے رہیے ہم آپ ﷺ سے کوئی رزق نہیں مانگتے (بلکہ) ہم خود آپ کو رزق دیتے ہیں اور عاقبت انہی کے لیے (بہتر) ہے جو پرہیزگاری کی روش اختیار کریں
20:133
وَقَالُواۡ
اور وہ کہتے ہیں
لَوۡلَا
کیوں نہیں
يَأۡتِينَا
لاتا ہمارے پاس
بِـَٔـايَةٍ
کوئی نشانی
سے
اپنے رب کی طرف (سے)
أَوَلَمۡ
کیا نہیں
تَأۡتِهِم
آئی ان کے پاس
نشانی
مَا
جو
فِى
میں
صحیفوں میں ہے
پہلے
اور وہ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس کوئی نشانی کیوں نہیں آتی اس کے رب کی طرف سے کیا ان کے پاس نہیں آئیں روشن نشانیاں جو پچھلے صحیفوں میں تھیں
20:134
وَلَوۡ
اور اگر
أَنّ َآ
بیشک ہم
أَهۡلَكۡنَـٰ هُم
ہلاک کردیں ہم ان کو
ساتھ عذاب کے
سے
اس سے پہلے
لَقَالُواۡ
البتہ کہیں گے
رَبَّنَا
اے ہمارے رب
لَوۡلَآ
کیوں نہ
أَرۡسَلۡتَ
تو نے بھیجا
إِلَيۡنَا
ہماری طرف
رَسُولاً
ایک رسول
تو ہم پیروی کرتے
ءَايَـٰ تِكَ
تیری آیات کی
مِن
سے
اس سے پہلے
أَن
کہ
ہم ذلیل ہوں
وَنَخۡزَىٰ
١٣٤اور ہم رسوا ہوں
اور اگر ہم اس (قرآن کے نزول) سے پہلے ہی انہیں عذاب سے ہلاک کردیتے تو یہ لازماً کہتے کہ (اے پروردگار !) تو نے ہماری طرف کوئی رسول کیوں نہ بھیجا کہ ہم تیری آیات کی پیروی کرتے ذلیل و رسوا ہونے سے پہلے
20:135
قُلۡ
کہہ دیجیے
كُلٌّ
سب کے سب
انتظار کرنے والے ہیں
تو تم بھی انتظار کرو
فَسَتَعۡلَمُونَ
پس عنقریب تم جان لو گے
مَنۡ
کون ہیں
أَصۡحَـٰ بُ
والے
راستے والے
ہموار۔ درست
وَمَنِ
اور کس نے
ہدایت پائی
آپ ﷺ فرما دیجیے کہ ہر ایک انتظار میں ہے پس تم لوگ بھی انتظار کرو تو عنقریب تم لوگوں کو معلوم ہوجائے گا کہ کون سیدھی راہ پر ہیں اور کون ہیں جو ہدایت یافتہ ہیں