Back to Juz Indexٱ للَّهِٱ ل رَّحۡمَـٰ نِٱ ل رَّحِي مِ١ٱ لۡعَـٰ لَمِي نَ٢ٱ ل رَّحِي مِ٣ٱ ل دِّي نِ٤ٱ ل صِّرٰ طَٱ لۡمُسۡتَقِي مَ٦ٱ لَّذِينَٱ لۡمَغۡضُوبِٱ ل ضَّا ٓلِّي نَ٧ٱ لۡكِتَـٰ بُل ِّلۡمُتَّقِي نَ٢ٱ ل صَّلَو ٰ ةَق َبۡ لِكَم ِّن ر َّبِّهِمۡۖٱ لۡمُفۡلِحُو نَ٥ٱ لَّذِينَٱ للَّهُو َلَهُمۡٱ ل نّ َاسِي َقُولُٱ لۡأَخِرِب ِمُؤۡمِنِي نَ٨ٱ للَّهَم َّرَضٌ ف َزَادَهُمُٱ للَّهُو َلَهُمۡب ِمَاٱ لۡأَرۡضِٱ لۡمُفۡسِدُونَل َّاٱ ل نّ َاسُٱ ل سُّفَهَا ٓءُۗٱ ل سُّفَهَا ٓءُل َّاٱ لَّذِينَٱ لَّذِينَٱ شۡتَرَوُاۡ ٱ ل ضَّلَـٰ لَةَٱ لَّذِىٱ سۡتَوۡقَدَف َلَمّ َآ ٱ للَّهُل َّاب ُكۡمٌف َهُمۡم ِّنَٱ ل سَّمَا ٓءِو َرَعۡدٌ و َبَرۡقٌ ي َجۡ عَلُونَم ِّنَٱ ل صَّوٰ عِقِٱ لۡمَوۡتِۚب ِٱ لۡكَـٰ فِرِي نَ١٩ٱ لۡبَرۡقُم َّشَوۡاۡ ٱ للَّهُٱ للَّهَق َدِي رٌ٢٠ٱ ل نّ َاسُٱ عۡبُدُواۡ ٱ لَّذِىق َبۡ لِكُمۡٱ لۡأَرۡضَو َٱ ل سَّمَا ٓءَو َأَنز َلَٱ ل سَّمَا ٓءِف َأَخۡرَجَٱ ل ثَّمَرٰ تِل َّكُمۡۖو َأَنت ُمۡك ُنت ُمۡم ِّمّ َام ِّن م ِّثۡلِهِۦ م ِّن د ُونِٱ للَّهِك ُنت ُمۡل َّمۡت َفۡعَلُواۡ ٱ ل نّ َارَٱ لَّتِىٱ ل نّ َاسُٱ لَّذِينَٱ ل صَّـٰ لِحَـٰ تِت َجۡ رِىت َحۡتِهَاٱ لۡأَنۡهَـٰ رُۖث َمَرَةٍ ر ِّزۡقًاۙ ق َالُواۡ ٱ لَّذِىق َبۡ لُۖو َلَهُمۡم ُّطَهَّرَةٌۖ و َهُمۡٱ للَّهَي َضۡرِبَم َّاف َمَاٱ لَّذِينَٱ لۡحَقُّر َّبِّهِمۡۖٱ لَّذِينَٱ للَّهُي ُضِلُّو َيَهۡدِىو َمَاٱ لۡفَـٰ سِقِي نَ٢٦ٱ للَّهِب َعۡدِٱ للَّهُي ُوصَلَٱ لۡأَرۡضِۚٱ لۡخَـٰ سِرُو نَ٢٧ف َأَحۡيَـٰ كُمۡۖٱ لَّذِىم َّاٱ لۡأَرۡضِث ُمّ َٱ سۡتَوَىٰٓ ٱ ل سَّمَا ٓءِو َهُوَف ِىٱ لۡأَرۡضِق َالُوٓ اۡ ي ُفۡسِدُٱ ل دِّمَا ٓءَٱ لۡأَسۡمَا ٓءَٱ لۡمَلَـٰٓ ئِكَةِك ُنت ُمۡٱ لۡعَلِيمُٱ لۡحَكِي مُ٣٢ب ِأَسۡمَا ٓئِهِمۡۖب ِأَسۡمَا ٓئِهِمۡٱ ل سَّمَـٰ وٰ تِٱ سۡجُدُواۡ ٱ لۡكَـٰ فِرِي نَ٣٤ٱ سۡكُنۡٱ لۡجَنّ َةَٱ ل شَّجَرَةَٱ ل ظَّـٰ لِمِي نَ٣٥ٱ ل شَّيۡطَـٰ نُٱ هۡبِطُواۡ و َلَكُمۡٱ لۡأَرۡضِو َمَتَـٰ عٌر َّبِّهِۦ ف َتَابَٱ ل تَّوَّابُٱ ل رَّحِي مُ٣٧ٱ هۡبِطُواۡ ف َإِمّ َام ِّنّ ِىف َمَن ت َبِعَٱ ل نّ َارِۖٱ ذۡكُرُواۡ ٱ لَّتِىٓ ل ِّمَاب ِهِۦ ۖق َلِيلاً و َإِيَّـٰ ىَٱ لۡحَقَّٱ لۡحَقَّٱ ل صَّلَو ٰ ةَٱ ل زَّكَو ٰ ةَٱ ل رّٰ كِعِي نَ٤٣ٱ ل نّ َاسَٱ لۡكِتَـٰ بَۚٱ لۡخَـٰ شِعِي نَ٤٥م ُّلَـٰ قُواۡ ٱ ذۡكُرُواۡ ٱ لَّتِىٓ ٱ لۡعَـٰ لَمِي نَ٤٧ل َّان َّفۡسٍ ش َيۡــًٔا و َلَاو َلَاو َلَام ِّنۡٱ لۡعَذَابِب َلَا ٓءٌ م ِّن ر َّبِّكُمۡٱ لۡبَحۡرَث ُمّ َٱ تَّخَذۡتُمُٱ لۡعِجۡ لَب َعۡدِهِۦ م ِّنۢ ب َعۡدِٱ لۡكِتَـٰ بَب ِٱ تِّخَاذِكُمُٱ لۡعِجۡ لَل َّكُمۡٱ ل تَّوَّابُٱ ل رَّحِي مُ٥٤ن ُّؤۡمِنَٱ للَّهَف َأَخَذَتۡكُمُٱ ل صَّـٰ عِقَةُم ِّنۢ ب َعۡدِٱ لۡغَمَامَٱ لۡمَنّ َط َيِّبَـٰ تِك َانُوٓ اۡ ٱ دۡ خُلُواۡ ٱ لۡقَرۡيَةَو َٱ دۡ خُلُواۡ ٱ لۡبَابَو َقُولُواۡ ن َّغۡفِرۡٱ لۡمُحۡسِنِي نَ٥٨ٱ لَّذِينَٱ لَّذِىٱ لَّذِينَم ِّنَٱ ل سَّمَا ٓءِٱ سۡتَسۡقَىٰٱ ضۡرِبٱ لۡحَجَرَۖٱ ثۡنَتَاق َدۡ م َّشۡرَبَهُمۡۖر ِّزۡقِٱ للَّهِٱ لۡأَرۡضِن َّصۡبِرَو ٰ حِدٍ ف َٱ دۡ عُٱ لۡأَرۡضُب َقۡ لِهَاٱ لَّذِىٱ هۡبِطُواۡ ف َإِنّ َم َّاٱ ل ذِّلَّةُم ِّنَٱ للَّهِۗٱ للَّهِٱ ل نّ َبِيِّــۧ نَٱ لۡحَقِّۗٱ لَّذِينَٱ لۡأَخِرِف َلَهُمۡٱ ل طُّورَب ِقُوَّةٍ و َٱ ذۡكُرُواۡ م ِّنۢ ب َعۡدِٱ للَّهِم ِّنَٱ لۡخَـٰ سِرِي نَ٦٤ٱ لَّذِينَٱ عۡتَدَوۡاۡ ٱ ل سَّبۡ تِل ِّمَال ِّلۡمُتَّقِي نَ٦٦ٱ للَّهَت َذۡبَحُواۡ ق َالُوٓ اۡ ق َالَٱ لۡجَـٰ هِلِي نَ٦٧ٱ دۡ عُل َّنَال َّاو َلَاب َيۡنَٱ دۡ عُل َّنَاص َفۡرَا ٓءُل َّوۡنُهَاٱ ل نّ َـٰ ظِرِي نَ٦٩ٱ دۡ عُل َّنَاٱ لۡبَقَرَش َا ٓءَٱ للَّهُل َّات ُثِيرُٱ لۡأَرۡضَٱ لۡحَرۡثَل َّاٱ لۡـَٔـٰ نَف َٱ دّٰ رٰ ٔۡتُمۡم َّاٱ ضۡرِبُوهُٱ للَّهُٱ لۡمَوۡتَىٰم ِّنۢ ب َعۡدِو َإِنّ َٱ لۡحِجَارَةِٱ لۡأَنۡهَـٰ رُۚٱ لۡمَا ٓءُۚٱ للَّهِۗٱ للَّهُي ُؤۡمِنُواۡ م ِّنۡهُمۡٱ للَّهِب َعۡدِٱ لَّذِينَق َالُوٓ اۡ ب ِمَاٱ للَّهُب ِهِۦ ٱ للَّهَٱ لۡكِتَـٰ بَل ِّلَّذِينَٱ لۡكِتَـٰ بَٱ للَّهِق َلِيلاًۖ ف َوَيۡلٌ ل َّهُم م ِّمّ َال َّهُم م ِّمّ َات َمَسَّنَاٱ ل نّ َارُم َّعۡدُودَةًۚ ق ُلۡٱ للَّهِف َلَن ي ُخۡلِفَٱ للَّهُٱ للَّهِك َسَبَو َأَحَـٰ طَتۡٱ ل نّ َارِۖٱ ل صَّـٰ لِحَـٰ تِٱ لۡجَنّ َةِۖٱ للَّهَو َذِىٱ لۡقُرۡبَىٰو َأَقِيمُواۡ ٱ ل صَّلَو ٰ ةَٱ ل زَّكَو ٰ ةَم ِّنك ُمۡم ُّعۡرِضُو نَ٨٣م ِّن د ِيَـٰ رِكُمۡم ِّنك ُم م ِّن د ِيَـٰ رِهِمۡب ِٱ لۡإِثۡمِي َأۡتُوكُمۡٱ لۡكِتَـٰ بِف َمَاي َفۡعَلُف ِىٱ لۡحَيَو ٰ ةِٱ ل دُّنۡيَاۖٱ لۡقِيَـٰ مَةِٱ لۡعَذَابِۗٱ للَّهُٱ لَّذِينَٱ شۡتَرَوُاۡ ٱ لۡحَيَو ٰ ةَٱ ل دُّنۡيَاٱ لۡعَذَابُٱ لۡكِتَـٰ بَب َعۡدِهِۦ ٱ بۡ نَٱ لۡبَيِّنَـٰ تِٱ لۡقُدُسِۗب ِمَاٱ سۡتَكۡبَرۡتُمۡك َذَّبۡ تُمۡت َقۡ تُلُو نَ٨٧ب َلٱ للَّهُم َّام ِّنۡٱ للَّهِل ِّمَاق َبۡ لُٱ لَّذِينَم َّاٱ للَّهِٱ لۡكَـٰ فِرِي نَ٨٩ٱ شۡتَرَوۡاۡ ي َكۡفُرُواۡ ٱ للَّهُي ُنَزِّلَٱ للَّهُف َضۡلِهِۦ ي َشَا ٓءُو َلِلۡكَـٰ فِرِينَم ُّهِي نٌ٩٠ٱ للَّهُٱ لۡحَقُّل ِّمَاٱ للَّهِق َبۡ لُك ُنت ُم م ُّؤۡمِنِي نَ٩١م ُّوسَىٰٱ تَّخَذۡتُمُٱ لۡعِجۡ لَب َعۡدِهِۦ ٱ ل طُّورَب ِقُوَّةٍ و َٱ سۡمَعُواۡۖ ٱ لۡعِجۡ لَب ِهِۦٓ ك ُنت ُم م ُّؤۡمِنِي نَ٩٣ك َانَتۡٱ ل دَّارُٱ لۡأَخِرَةُٱ للَّهِم ِّن د ُونِٱ ل نّ َاسِٱ لۡمَوۡتَك ُنت ُمۡي َتَمَنّ َوۡهُب ِمَاب ِٱ ل ظَّـٰ لِمِي نَ٩٥ٱ ل نّ َاسِو َمِنَٱ لَّذِينَو َمَاٱ لۡعَذَابِي ُعَمّ َرَۗب ِمَاك َانَل ِّجِبۡ رِيلَٱ للَّهِل ِّمَاو َبُشۡرَىٰك َانَل ِّلَّهِٱ للَّهَل ِّلۡكَـٰ فِرِي نَ٩٨ب َيِّنَـٰ تٍۖ و َمَاٱ لۡفَـٰ سِقُو نَ٩٩ن َّبَذَهُۥ م ِّنۡهُمۚ ب َلۡم ِّنۡٱ للَّهِل ِّمَام ِّنَٱ لَّذِينَٱ لۡكِتَـٰ بَٱ للَّهِٱ ل شَّيَـٰ طِينُٱ ل شَّيَـٰ طِينَٱ ل نّ َاسَٱ ل سِّحۡرَٱ لۡمَلَكَيۡنِف َلَاٱ لۡمَرۡءِب ِضَا ٓرِّينَٱ للَّهِۚٱ شۡتَرَٮٰ هُٱ لۡأَخِرَةِو َلَبِئۡسَم ِّنۡٱ للَّهِل َّوۡٱ لَّذِينَٱ نظ ُرۡنَاٱ لَّذِينَٱ لۡكِتَـٰ بِٱ لۡمُشۡرِكِينَي ُنَزَّلَم ِّنۡم ِّن ر َّبِّكُمۡۗي َشَا ٓءُۚٱ لۡفَضۡلِٱ لۡعَظِي مِ١٠٥م ِّنۡهَآ ٱ للَّهَق َدِي رٌ١٠٦ٱ للَّهَٱ ل سَّمَـٰ وٰ تِم ِّن د ُونِٱ للَّهِو َلِىٍّ و َلَات َسۡــَٔلُواۡ ق َبۡ لُۗي َتَبَدَّلِٱ لۡكُفۡرَٱ ل سَّبِي لِ١٠٨م ِّنۡٱ لۡكِتَـٰ بِم ِّنۢ ب َعۡدِم ِّنۡم ِّنۢ ب َعۡدِٱ لۡحَقُّۖٱ للَّهُٱ للَّهَق َدِي رٌ١٠٩ٱ ل صَّلَو ٰ ةَٱ ل زَّكَو ٰ ةَۚم ِّنۡت َجِدُوهُٱ للَّهِۗٱ للَّهَي َدۡ خُلَٱ لۡجَنّ َةَك َانَك ُنت ُمۡف َلَهُۥٓ ٱ لۡيَهُودُٱ ل نّ َصَـٰ رَىٰو َقَالَتِٱ ل نّ َصَـٰ رَىٰٱ لۡيَهُودُو َهُمۡٱ لۡكِتَـٰ بَۗٱ لَّذِينَٱ لۡقِيَـٰ مَةِم َّنَعَٱ للَّهِي ُذۡكَرَٱ سۡمُهُۥ ي َدۡ خُلُوهَآ ٱ ل دُّنۡيَاو َلَهُمۡٱ لۡأَخِرَةِٱ لۡمَشۡرِقُٱ للَّهِۚٱ للَّهَٱ تَّخَذَٱ للَّهُس ُبۡ حَـٰ نَهُۥ ۖٱ ل سَّمَـٰ وٰ تِل َّهُۥ ٱ ل سَّمَـٰ وٰ تِف َإِنّ َمَاف َيَكُو نُ١١٧ٱ لَّذِينَٱ للَّهُك َذٰ لِكَٱ لَّذِينَق َبۡ لِهِم م ِّثۡلَٱ لۡأَيَـٰ تِي ُوقِنُو نَ١١٨و َنَذِيرًاۖ و َلَاٱ لۡجَحِي مِ١١٩ت َرۡضَىٰٱ لۡيَهُودُٱ ل نّ َصَـٰ رَىٰٱ للَّهِٱ لۡهُدَىٰۗٱ تَّبَعۡتَب َعۡدَٱ لَّذِىٱ لۡعِلۡمِۙٱ للَّهِو َلِىٍّ و َلَاٱ لۡكِتَـٰ بَي َكۡفُرۡٱ لۡخَـٰ سِرُو نَ١٢١ٱ ذۡكُرُواۡ ٱ لَّتِىٓ ٱ لۡعَـٰ لَمِي نَ١٢٢ل َّان َّفۡسٍ ش َيۡــًٔا و َلَاو َلَاو َلَاٱ بۡ تَلَىٰٓ ف َأَتَمّ َهُنّ َۖق َالَذ ُرِّيَّتِىۖٱ ل ظَّـٰ لِمِي نَ١٢٤ٱ لۡبَيۡتَل ِّلنّ َاسِو َٱ تَّخِذُواۡ م َّقَامِو َعَهِدۡ نَآ ط َهِّرَاٱ ل سُّجُو د ِ١٢٥ٱ جۡ عَلۡو َٱ رۡزُقۡ ٱ ل ثَّمَرٰ تِب ِٱ للَّهِٱ لۡأَخِرِۖك َفَرَث ُمّ َٱ ل نّ َارِۖٱ لۡمَصِي رُ١٢٦ٱ لۡقَوَاعِدَٱ لۡبَيۡتِٱ ل سَّمِيعُٱ لۡعَلِي مُ١٢٧ذ ُرِّيَّتِنَآ م ُّسۡلِمَةً ل َّكَٱ ل تَّوَّابُٱ ل رَّحِي مُ١٢٨م ِّنۡهُمۡٱ لۡكِتَـٰ بَٱ لۡعَزِيزُٱ لۡحَكِي مُ١٢٩ي َرۡغَبُم ِّلَّةِس َفِهَٱ صۡطَفَيۡنَـٰ هُٱ ل دُّنۡيَاۖٱ لۡأَخِرَةِٱ ل صَّـٰ لِحِي نَ١٣٠ٱ لۡعَـٰ لَمِي نَ١٣١ٱ للَّهَٱ صۡطَفَىٰٱ ل دِّينَم ُّسۡلِمُو نَ١٣٢ٱ لۡمَوۡتُب َعۡدِىو ٰ حِدًا و َنَحۡنُق َدۡ م َّاو َمَاٱ لۡمُشۡرِكِي نَ١٣٥ٱ ل نّ َبِيُّونَر َّبِّهِمۡم ِّنۡهُمۡب ِهِۦ ٱ هۡتَدَواۡۖ ت َوَلَّوۡاۡ ف َسَيَكۡفِيكَهُمُٱ للَّهُۚٱ ل سَّمِيعُٱ لۡعَلِي مُ١٣٧ٱ للَّهِۖٱ للَّهِو َنَحۡنُٱ للَّهِٱ للَّهُۗك َتَمَٱ للَّهِۗٱ للَّهُق َدۡ م َّا
جزء 1
2 Surahs148 Versesجزء 1
1:1
بِسۡمِ
ساتھ نام
اللہ کے
جو بے حد مہربان ہے
بار بار رحم فرمانے والا ہے
اللہ کے نام سے جو رحمان و رحیم ہے
1:2
ٱلۡحَمۡدُ
سب تعریف
لِلَّهِ
اللہ کے لیے ہے
رَبِّ
جو رب ہے
تمام جہانوں کا
کل شکر اور کل ثنا اللہ کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار اور مالک ہے۔
1:3
ٱل رَّحۡمَـٰ نِ
جو بہت مہربان
بار بار رحم فرمانے والا ہے
بہت رحم فرمانے والا نہایت مہربان ہے
1:4
مَـٰ لِكِ
مالک ہے
يَوۡمِ
دن کا
بدلے کے
جزا و سزا کے دن کا مالک و مختار ہے۔
1:5
إِيَّاكَ
صرف تیری
نَعۡبُدُ
ہم عبادت کرتے ہیں
وَإِيَّاكَ
اور صرف تجھ سے
نَسۡتَعِي نُ
٥ہم مدد چاہتے ہیں
ہم صرف تیری ہی بندگی کرتے ہیں اور کرتے رہیں گے اور ہم صرف تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں اور چاہتے رہیں گے۔
1:6
ٱهۡدِنَا
دکھا ہم کو
راستہ
سیدھا
(اے رب ہمارے !) ہمیں ہدایت بخش سیدھی راہ کی۔
1:7
صِرٰ طَ
راستہ
ان لوگوں کا
أَنۡعَمۡتَ
انعام کیا تو نے
عَلَيۡهِمۡ
اوپر ان کے
غَيۡرِ
نہ ان (لوگوں) کا
غضب کیا گیا
عَلَيۡهِمۡ
اوپر ان کے
وَلَا
اور نہ
ان (لوگوں) کا جو گمراہ ہیں / گم کردہ راہ ہیں
راہ ان لوگوں کی جن پر تیرا انعام ہوا جو نہ تو مغضوب ہوئے اور نہ گمراہ۔
2:1
الٓ مٓ
١الف ۔ لام ۔ میم
(الم) ا۔ ل۔ م۔
2:2
ذٰ لِكَ
وہ / یہ
کتاب ہے
لَا
نہیں
رَيۡبَۛ
کوئی شک
فِيهِۛ
جس میں
هُدًى
ہدایت ہے
واسطے ان کے جو متقی ہیں
یہ الکتاب ہے اس میں کچھ شک نہیں۔ ہدایت ہے پرہیزگار لوگوں کے لیے۔
2:3
ٱلَّذِينَ
یہ وہ لوگ ہیں
يُؤۡمِنُونَ
جو ایمان لاتے ہیں
بِٱ لۡغَيۡبِ
غیب پر
وَيُقِيمُونَ
اور وہ قائم کرتے ہیں
نماز
وَمِمّ َا
اس میں سے جو
رَزَقۡ نَـٰ هُمۡ
رزق دیا ہم نے ان کو
يُنف ِقُو نَ
٣وہ خرچ کرتے ہیں
جو ایمان رکھتے ہیں غیب پر اور نماز قائم کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے انہیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔
2:4
وَٱ لَّذِينَ
اور وہ لوگ
يُؤۡمِنُونَ
جو ایمان لاتے ہیں
بِمَآ
ساتھ اس کے جو
أُنز ِلَ
نازل کیا گیا
إِلَيۡكَ
طرف آپ کے
وَمَآ
اور جو
أُنز ِلَ
نازل کیا گیا
مِن
سے
آپ سے پہلے
وَبِٱ لۡأَخِرَةِ
اور آخرت کے ساتھ
هُمۡ
وہ
يُوقِنُو نَ
٤وہ یقین رکھتے ہیں
اور جو ایمان رکھتے ہیں اس پر بھی جو (اے نبی) آپ کی طرف نازل کیا گیا ہے اور آخرت پر وہ یقین رکھتے ہیں۔
2:5
أُوۡ لَـٰٓ ئِكَ
یہی لوگ
عَلَىٰ
اوپر
هُدًى
ہدایت کے ہیں
سے
اپنے رب کی طرف سے
وَأُوۡ لَـٰٓ ئِكَ
اور یہی لوگ ہیں
هُمُ
وہ
جو فلاح پانے والے ہیں
یہی وہ لوگ ہیں جو اپنے رب کی طرف سے ہدایت پر ہیں اور یہی وہ لوگ ہیں جو فلاح پانے والے ہیں۔
2:6
إِنّ َ
بیشک
وہ لوگ
كَفَرُواۡ
جنہوں نے کفر کیا
سَوَا ٓءٌ
برابر ہے
عَلَيۡهِمۡ
اوپر ان کے
ءَأَنذ َرۡتَهُمۡ
تم ڈراؤ ان کو
أَمۡ
یا
لَمۡ
نہ
تُنذ ِرۡهُمۡ
تم ڈراؤ انکو
لَا
نہیں
يُؤۡمِنُو نَ
٦وہ ایمان لائیں گے
یقیناً جن لوگوں نے کفر کیا (یعنی وہ لوگ کہ جو کفر پر اڑ گئے) ان کے لیے برابر ہے (اے محمد ﷺ کہ آپ انہیں انذار فرمائیں یا نہ فرمائیں وہ ایمان لانے والے نہیں ہیں۔
2:7
خَتَمَ
مہر لگادیں
اللہ نے
عَلَىٰ
اوپر
قُلُوبِهِمۡ
ان کے دلوں کے
وَعَلَىٰ
اور اوپر
سَمۡعِهِمۡۖ
ان کے کانوں کے
وَعَلَىٰٓ
اور اوپر
أَبۡ صَـٰ رِهِمۡ
ان کی آنکھوں کے
غِشَـٰ وَةٌۖ
پردہ ہے
ان کے لئے
عَذَابٌ
عذاب ہے
عَظِي مٌ
٧بڑا
اللہ نے مہر کردی ہے ان کے دلوں پر اور ان کے کانوں پر۔ ) اور ان کی آنکھوں کے سامنے پردہ پڑچکا ہے اور ان کے لیے بہت بڑا عذاب ہے۔
2:8
وَمِنَ
اور بعض
لوگ ہیں
مَن
جو
کہتے ہیں
ءَامَنّ َا
ایمان لائے ہم
بِٱ للَّهِ
اللہ پر
وَبِٱ لۡيَوۡمِ
اور یوم
آخرت پر
وَمَا
اور نہیں
هُم
وہ
ایمان لانے والے
اور لوگوں میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو کہتے تو یہ ہیں کہ ہم ایمان رکھتے ہیں اللہ پر بھی اور یوم آخر پر بھی مگر وہ حقیقت میں مؤمن نہیں ہیں۔
2:9
يُخَـٰ دِعُونَ
وہ دھوکہ دیتے ہیں
اللہ کو
وَٱ لَّذِينَ
اور ان لوگوں کو
ءَامَنُواۡ
جو ایمان لائے
وَمَا
اور نہیں
يَخۡدَعُونَ
وہ دھوکہ دیتے
إِلَّآ
مگر
أَنف ُسَهُمۡ
اپنے نفسوں کو
وَمَا
اور نہیں
يَشۡعُرُو نَ
٩وہ شعور رکھتے
( وہ دھوکہ دینے کی کوشش کر رہے ہیں اللہ کو اور اہل ایمان کو۔ ) اور نہیں دھوکہ دے رہے مگر صرف اپنے آپ کو۔ اور انہیں اس کا شعور نہیں ہے۔
2:10
فِى
میں
قُلُوبِهِم
ان کے دلوں
بیماری ہے
پس زیادہ کیا ان کو / بڑھایا ان کو
اللہ نے
مَرَضًاۖ
بیماری میں
اور ان کے لئے
عَذَابٌ
عذاب ہے
أَلِيمُۢ
درد ناک / المناک
بوجہ اس کے جو
كَانُواۡ
تھے وہ
يَكۡذِبُو نَ
١٠جھوٹ بولتے
ان کے دلوں میں ایک روگ ہے تو اللہ نے ان کے روگ میں اضافہ کردیا۔ اور ان کے لیے تو دردناک عذاب ہے بسبب اس جھوٹ کے جو وہ بول رہے تھے۔
2:11
وَإِذَا
اور جب
قِيلَ
کہا جاتا ہے
لَهُمۡ
ان کو
لَا
نہ
تُفۡسِدُواۡ
تم فساد کرو
فِى
میں
زمین
قَالُوٓ اۡ
وہ کہتے ہیں
إِنّ َمَا
بیشک
نَحۡنُ
ہم تو
مُصۡلِحُو نَ
١١اصلاح کرنے والے ہیں
اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ مت فساد کرو زمین میں وہ کہتے ہیں ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں۔
2:12
أَلَآ
خبردار
إِنّ َهُمۡ
بیشک وہ
هُمُ
وہی ہیں
جو فساد کرنے والے ہیں
وَلَـٰ كِن
لیکن
نہیں
يَشۡعُرُو نَ
١٢وہ شعور رکھتے ہیں
آگاہ ہوجاؤ کہ حقیقت میں یہی لوگ مفسد ہیں مگر انہیں شعور نہیں ہے۔
2:13
وَإِذَا
اور جب
قِيلَ
کہا جاتا ہے
لَهُمۡ
واسطے ان کے
ءَامِنُواۡ
ایمان لے آؤ
كَمَآ
جیسا کہ
ءَامَنَ
ایمان لائے
لوگ
قَالُوٓ اۡ
وہ کہتے ہیں
أَنُؤۡمِنُ
کیاہم ایمان لائیں
كَمَآ
جیسا کہ
ءَامَنَ
ایمان لائے
جو بیوقوف ہیں
أَلَآ
خبردار
إِنّ َهُمۡ
بیشک وہ
هُمُ
وہی ہیں
جو بیوقوف ہیں
وَلَـٰ كِن
لیکن
نہیں
يَعۡلَمُو نَ
١٣وہ علم رکھتے
اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ ایمان لاؤ جس طرح دوسرے لوگ ایمان لائے ہیں وہ کہتے ہیں کیا ہم ایمان لائیں جیسے یہ بیوقوف لوگ ایمان لائے ہیں ؟ آگاہ ہوجاؤ کہ وہی بیوقوف ہیں لیکن انہیں علم نہیں۔
2:14
وَإِذَا
اور جب
لَقُواۡ
ملاقات کرتے ہیں
ان لوگوں سے
ءَامَنُواۡ
جو ایمان لائے
قَالُوٓ اۡ
وہ کہتے ہیں
ءَامَنّ َا
ایمان لائے ہم
وَإِذَا
اورجب
خَلَوۡاۡ
وہ اکیلے ہوتے ہیں
إِلَىٰ
طرف
شَيَـٰ طِينِهِمۡ
اپنے شیطانوں کے
قَالُوٓ اۡ
وہ کہتے ہیں
إِنّ َا
بیشک ہم
مَعَكُمۡ
تمہارے ساتھ ہیں
إِنّ َمَا
بیشک
نَحۡنُ
ہم تو
مُسۡتَهۡزِءُو نَ
١٤مذاق کرنے والے ہیں
اور جب یہ اہل ایمان سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں ہم بھی ایمان رکھتے ہیں۔ اور جب یہ خلوت میں ہوتے ہیں اپنے شیطانوں کے پاس کہتے ہیں کہ ہم تو آپ کے ساتھ ہیں اور ان لوگوں سے تو محض مذاق کر رہے ہیں۔
2:15
ٱللَّهُ
اللہ
يَسۡتَهۡزِئُ
مذاق کرے گا / مذاق کرتا ہے
بِهِمۡ
ساتھ ان کے
وَيَمُدُّهُمۡ
اور وہ ڈھیل دے رہا ہے ان کو
فِى
ان کی
طُغۡيَـٰ نِهِمۡ
سرکشی میں
يَعۡمَهُو نَ
١٥وہ بھٹک رہے ہیں/ اندھے بنے پھرتے ہیں
درحقیقت اللہ ان کا مذاق اڑا رہا ہے اور ان کو ان کی سرکشی میں ڈھیل دے رہا ہے کہ وہ اپنے عقل کے اندھے پن میں بڑھتے چلے جائیں۔
2:16
أُوۡ لَـٰٓ ئِكَ
یہی ہیں
وہ لوگ
جنہوں نے خرید لی
گمراہی
بِٱ لۡهُدَىٰ
بدلے ہدایت کے
فَمَا
تو نہ
رَبِحَت
فائدہ مند ہوئی / فائدہ دیا
تِّجَـٰ رَتُهُمۡ
تجارت ان کی نے
وَمَا
اور نہ
كَانُواۡ
تھے وہ
مُهۡتَدِي نَ
١٦ہدایت پانے والے
یہ وہ لوگ ہیں کہ جنہوں نے ہدایت کے عوض گمراہی خرید لی ہے۔ سو نافع نہ ہوئی ان کی تجارت ان کے حق میں اور نہ ہوئے راہ پانے والے۔
2:17
مَثَلُهُمۡ
مثال ان کی
كَمَثَلِ
جیسے مثال کی
اس شخص کی
جس نے جلائی
نَارًا
آگ
پھر جب
أَضَا ٓءَتۡ
اس نے روشن کردیا
مَا
اس کا
حَوۡلَهُۥ
ماحول
ذَهَبَ
لے گیا
اللّٰهُ
بِنُورِهِمۡ
نور ان کا
وَتَرَكَهُمۡ
اورچھوڑ دیا ان کو
فِى
میں
ظُلُمَـٰ تٍ
اندھیروں
نہیں
يُبۡ صِرُو نَ
١٧وہ دیکھ پاتے
ان کی مثال ایسی ہے جیسے ایک شخص نے آگ روشن کی۔ پھر جب اس آگ نے سارے ماحول کو روشن کردیا تو اللہ نے ان کا نور بصارت سلب کرلیا اور چھوڑ دیا ان کو ان اندھیروں کے اندر کہ وہ کچھ نہیں دیکھتے۔
2:18
صُمُّۢ
بہرے ہیں
گونگے ہیں
عُمۡىٌ
اندھے ہیں
تو وہ
لَا
نہیں
يَرۡجِعُو نَ
١٨وہ پلیٹیں گے / وہ لوٹیں گے
یہ بہرے ہیں گونگے ہیں اندھے ہیں سو اب یہ نہیں لوٹیں گے۔
2:19
أَوۡ
یا
كَصَيِّبٍ
جیسے مثال ہے زور دار پیش کی
سے
آسمان
فِيهِ
اس میں
ظُلُمَـٰ تٌ
اندھیرے ہیں
کڑک
بجلی ہے
وہ ڈال لیتے ہیں
أَصَـٰ بِعَهُمۡ
انگلیاں اپنی
فِىٓ
اپنے
ءَاذَانِهِم
کانوں میں
سے
بجلی کی کڑک
حَذَرَ
ڈرتے ہوئے / ڈر کر / بچنے کے لئے
موت سے
وَٱ للَّهُ
اور اللہ تعالیٰ
مُحِيطُۢ
احاطہ کیے ہوئے ہے
کافروں کا
یا ان کی مثال ایسی ہے جیسے بڑے زور کی بارش برس رہی ہے آسمان سے اس میں اندھیرے بھی ہیں اور گرج اور بجلی (کی چمک) بھی۔ یہ اپنی انگلیاں اپنے کانوں کے اندر ٹھونسے لیتے ہیں مارے کڑک کے موت کے ڈر سے۔ اور اللہ ایسے کافروں کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔
2:20
يَكَادُ
قریب ہے
بجلی
يَخۡطَفُ
اچک لے / چھین لے
أَبۡ صَـٰ رَهُمۡۖ
نگاہیں ان کی
كُلَّمَآ
جب کبھی
أَضَا ٓءَ
اس نے روشنی کی
لَهُم
ان کے لئے
وہ چل پڑے
فِيهِ
اس میں
وَإِذَآ
اور جب
أَظۡلَمَ
اس نے اندھیرا کیا
عَلَيۡهِمۡ
اوپر ان کے
قَامُواۡۚ
وہ کھڑے ہوگئے
وَلَوۡ
اوراگر
شَا ٓءَ
چاہے
اللہ
لَذَهَبَ
ضرور لے جائے
بِسَمۡعِهِمۡ
سماعت ان کی
وَأَبۡ صَـٰ رِهِمۡۚ
اورنگاہیں ان کی
إِنّ َ
بیشک
اللہ
عَلَىٰ
اوپر
كُلِّ
ہر
شَىۡءٍ
چیز کے
قدرت والاہے
قریب ہے کہ بجلی اچک لے ان کی آنکھیں۔ جب چمکتی ہے ان پر تو چلنے لگتے ہیں اس کی روشنی میں۔ اور جب ان پر تاریکی طاری ہوجاتی ہے تو کھڑے کے کھڑے رہ جاتے ہیں۔ اور اللہ چاہتا تو ان کی سماعت اور بصارت کو سلب کرلیتا۔ یقیناً اللہ ہرچیز پر قادر ہے۔
2:21
يَـٰٓ أَيُّهَا
اے
لوگو
عبادت کرو
رَبَّكُمُ
اپنے رب کی
جس نے
خَلَقَكُمۡ
پیدا کیا تم کو
وَٱ لَّذِينَ
اور ان لوگوں کو جو
مِن
سے
تم سے پہلے تھے
لَعَلَّكُمۡ
تاکہ تم
تَتَّقُو نَ
٢١تم بچ سکو
اے لوگو ! بندگی اختیار کرو اپنے اس ربّ (مالک) کی جس نے تم کو پیدا کیا اور تم سے پہلے جتنے لوگ گزرے ہیں (انہیں بھی پیدا کیا) تاکہ تم بچ سکو۔
2:22
ٱلَّذِى
وہ (رب)
جَعَلَ
جس نے بنایا
لَكُمُ
تمہارے لئے
زمین کو
فِرٰ شًا
فرش
اور آسمان کو
بِنَا ٓءً
چھت
اور اتارا
مِنَ
سے
آسمان
مَا ٓءً
پانی
پھر نکالا
بِهِۦ
بسبب اس کے / ساتھ اس کے / اس کے ذریعے
مِنَ
سے
پھلوں
رِزۡقًا
رزق کو / بطور رزق کے
تمہارے لئے
فَلَا
پس نہ
تَجۡ عَلُواۡ
تم بناؤ
لِلَّهِ
اللہ کے لئے
أَند َادًا
کوئی بھی شریک
حالانکہ تم
تَعۡلَمُو نَ
٢٢تم جانتے ہو
جس نے تمہارے لیے زمین کو فرش بنا دیا اور آسمان کو چھت بنا دیا۔ اور آسمان سے پانی برسایا پھر اس (پانی) کے ذریعے سے (زمین سے) ہر طرح کی پیداوار نکال کر تمہارے لیے رزق بہم پہنچایا۔ تو ہرگز اللہ کے مدمقابل نہ ٹھہراؤ جانتے بوجھتے۔ ّ َ
2:23
وَإِن
اور اگر
ہو تم
فِى
میں
رَيۡبٍ
کسی شک
اس سے جو
نَزَّلۡنَا
اتارا ہم نے
عَلَىٰ
اوپر
عَبۡ دِنَا
اپنے بندے کے
فَأۡتُواۡ
پس لے آؤ
بِسُورَةٍ
کوئی سورت
اس
جیسی
وَٱ دۡ عُواۡ
اوربلا لو
شُهَدَا ٓءَكُم
اپنے گواہوں کو / موجود لوگوں کو / حاضرین کو
سے
علاوہ / سوائے
اللہ کے
إِن
اگر
ہو تم
صَـٰ دِقِي نَ
٢٣سچے
اور اگر تم واقعتا شک میں ہو اس کلام کے بارے میں جو ہم نے اتارا اپنے بندے پر (کہ یہ ہمارا نازل کردہ ہے یا نہیں) تو لے آؤ ایک ہی سورت اس جیسی۔ اور بلا لو اپنے سارے مددگاروں کو اللہ کے سوا اگر تم سچے ہو۔ ّ
2:24
فَإِن
پھر اگر
نہ
تَفۡعَلُواۡ
تم کرسکو
وَلَن
اور ہرگز نہیں
تم کرسکو گے
فَٱ تَّقُواۡ
پس بچو
اس آگ سے
جو
وَقُودُهَا
ایندھن ہیں اس کا
لوگ/ انسان
وَٱ لۡحِجَارَةُۖ
اور پتھر
أُعِدَّتۡ
تیار کی گئی ہے
لِلۡكَـٰ فِرِي نَ
٢٤کافروں کے لیے
پھر اگر تم ایسا نہ کرسکو اور ہرگز نہ کرسکوگے ! ) تو پھر بچو اس آگ سے جس کا ایندھن بنیں گے انسان اور پتھر۔ تیار کی گئی ہے کافروں کے لیے۔
2:25
وَبَشِّرِ
اور خوش خبری دو
ان لوگوں کو
ءَامَنُواۡ
جو ایمان لائے
وَعَمِلُواۡ
اور جنہوں نے عمل کئے
وہ جو اچھے ہیں / نیک ہیں
أَنّ َ
بیشک
لَهُمۡ
ان کے لئے
جَنّ َـٰ تٍ
باغات ہیں
بہتی ہیں
مِن
سے
اس کے نیچے
نہریں
كُلَّمَا
جب کبھی
رُزِقُواۡ
وہ رزق دیئے جائیں گے
مِنۡهَا
ان (باغات) سے
مِن
کوئی
پھل
بطور رزق کے
وہ کہیں گے
هَـٰ ذَا
یہ
وہی ہے جو
رُزِقۡ نَا
ہم رزق دیئے گئے
مِن
سے
پہلے
وَأُتُواۡ
حالانکہ وہ دئیے جائیں گے
بِهِۦ
ساتھ اس کے
مُتَشَـٰ بِهًاۖ
ملتے جلتے
اور ان کے لئے
فِيهَآ
اس میں
أَزۡوٰ جٌ
بیویاں ہیں
پاکیزہ
اور وہ
فِيهَا
اس میں
خَـٰ لِدُو نَ
٢٥ہمیشہ رہنے والے ہیں
اور بشارت دے دیجیے (اے نبی ﷺ !) ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کیے کہ ان کے لیے ایسے باغات ہیں جن کے نیچے ندیاں بہتی ہوں گی۔ جب بھی انہیں دیا جائے گا وہاں کا کوئی پھل رزق کے طور پر (یعنی کھانے کے لیے) وہ کہیں گے یہ تو وہی ہے جو ہمیں پہلے بھی ملتا تھا اور دیے جائیں گے ان کو پھل ایک صورت کے۔ اور ان کے لیے اس (جنت) میں نہایت پاکباز بیویاں ہوں گی۔ اور وہ اس میں رہیں گے ہمیشہ ہمیشہ۔
2:26
۞إِنّ َ
بیشک
اللہ
لَا
نہیں
يَسۡتَحۡىِۦٓ
حیا فرمایا
أَن
کہ
وہ بیان کرے
مَثَلاً
کوئی مثال
خواہ جو
بَعُوضَةً
کسی مچھر کی ہو
یا اس کی جو
فَوۡقَهَاۚ
اس کے اوپر ہے
فَأَمّ َا
تو رہے
وہ لوگ
ءَامَنُواۡ
جو ایمان لائے
فَيَعۡلَمُونَ
پس وہ علم رکھتے ہیں
أَنّ َهُ
بیشک وہ (مثال)
حق ہے
مِن
طرف سے
ان کے رب کی
وَأَمّ َا
اور رہے
وہ لوگ
كَفَرُواۡ
جنہوں نے کفر کیا
فَيَقُولُونَ
تو وہ کہتے ہیں
مَاذَآ
کیا
أَرَادَ
ارادہ کیا/ چاہا
اللہ نے
بِهَـٰ ذَا
ساتھ اس
مَثَلاًۘ
مثال کے
وہ گمراہ کرتا ہے
بِهِۦ
ساتھ اس کے
كَثِيرًا
کثیر (تعداد) کو
اورہدایت دیتا ہے
بِهِۦ
اس کے ساتھ
كَثِيرًاۚ
بہت کو
اورنہیں
يُضِلُّ
وہ گمراہ کرتا ہے
بِهِۦٓ
ساتھ اس (مثال کے)
إِلَّا
مگر
ان کو جو فاسق ہیں
یقینا اللہ اس سے نہیں شرما تاکہ بیان کرے کوئی مثال مچھر کی یا اس چیز کی جو اس سے بڑھ کر ہے۔ تو جو لوگ صاحب ایمان ہیں وہ جانتے ہیں کہ یہ یقیناً حق ہے ان کے رب کی طرف سے۔ اور جنہوں نے کفر کیا سو وہ کہتے ہیں کہ کیا مطلب تھا اللہ کا اس مثال سے ؟ گمراہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے سے بہتوں کو اور ہدایت دیتا ہے اسی کے ذریعے سے بہتوں کو۔ اور نہیں گمراہ کرتا وہ اس کے ذریعے سے مگر صرف سرکش لوگوں کو۔
2:27
ٱلَّذِينَ
وہ لوگ ہیں
يَنق ُضُونَ
جو توڑتے ہیں
عَهۡدَ
عہد
اللہ کا
مِنۢ
سے
بعد
مِيثَـٰ قِهِۦ
پکا کرنے کے اس کے / مضبوطی اس کی کے
وَيَقۡ طَعُونَ
اور وہ کاٹتے ہیں
مَآ
اسے جو
أَمَرَ
حکم دیا
اللہ نے
بِهِۦٓ
اس کے
أَن
یہ کہ
وہ جوڑا جائے / ملایا جائے
وَيُفۡسِدُونَ
اورفساد کرتے ہیں
فِى
میں
زمین
أُوۡ لَـٰٓ ئِكَ
یہی لوگ
هُمُ
وہ
جو خسارہ پانے والے ہیں/ جو نقصان اٹھانے والے ہیں
جو توڑ دیتے ہیں اللہ کے (ساتھ کیے ہوئے) عہد کو مضبوط باندھ لینے کے بعد۔ اور کاٹتے ہیں اس چیز کو جسے اللہ نے جوڑنے کا حکم دیا ہے یہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں۔
2:28
كَيۡفَ
کس طرح
تَكۡفُرُونَ
تم انکار کرتے ہو
بِٱ للَّهِ
اللہ کا
وَكُنت ُمۡ
حالانکہ تھے تم
أَمۡوٰ تًا
مردہ
پھر اس نے زندہ کیا تم کو
ثُمّ َ
پھر
يُمِيتُكُمۡ
وہ موت طاری کر دے گا تم پر
ثُمّ َ
پھر
يُحۡيِيكُمۡ
وہ زندہ کرے گا تم کو
ثُمّ َ
پھر
إِلَيۡهِ
طرف اس کے
تُرۡجَعُو نَ
٢٨تم لوٹائے جاؤ گے
تم کیسے کفر کرتے ہو اللہ کا حالانکہ تم مردہ تھے پھر اس نے تمہیں زندہ کیا۔ ُ پھر وہ تمہیں مارے گا پھر جلائے گا پھر تم اسی کی طرف لوٹا دیے جاؤ گے۔ ُ
2:29
هُوَ
وہی ہے
جس نے
خَلَقَ
پیدا کیا
لَكُم
واسطے تمہارے
جو کچھ ہے
فِى
میں
زمین
جَمِيعًا
سارے کا سارا / سب کچھ
پھر
وہ متوجہ ہوا / ارادہ کیا
إِلَى
طرف
آسمان کے
فَسَوَّٮٰ هُنّ َ
پس برابر کردیا ان کو / درست بنایا ان کو / ہموار کیا ان کو
سَبۡ عَ
سات
سَمَـٰ وٰ تٍۚ
آسمانوں کو
اور وہ
بِكُلِّ
ساتھ ہر
شَىۡءٍ
چیز کے
عَلِي مٌ
٢٩خوب علم والا ہے
وہی ہے جس نے پیدا کیا تمہارے لیے جو کچھ بھی زمین میں ہے۔ پھر وہ متوجہّ ہوا آسمانوں کی طرف اور انہیں ٹھیک ٹھیک سات آسمانوں کی شکل میں بنا دیا۔ اور وہ ہرچیز کا علم رکھنے والا ہے۔
2:30
وَإِذۡ
اور جب
قَالَ
کہا
رَبُّكَ
تیرے رب نے
لِلۡمَلَـٰٓ ئِكَةِ
فرشتوں سے
إِنّ ِى
بیشک میں
جَاعِلٌ
بنانے والا ہوں
میں
زمین
خَلِيفَةًۖ
اپنا جانشین / ایک خلیفہ
انہوں نے کہا
أَتَجۡ عَلُ
کیا تو بنائے گا
فِيهَا
اس میں
مَن
جو
فساد کرے گا
فِيهَا
اس میں
وَيَسۡفِكُ
اور بہائے گا
خون
وَنَحۡنُ
حالانکہ ہم
نُسَبِّحُ
ہم تسبیح کرتے ہیں
بِحَمۡدِكَ
ساتھ تیری تعریف کے
وَنُقَدِّسُ
اور ہم پاکی بیان کرتے ہیں
لَكَۖ
واسطے تیرے
قَالَ
فرمایا
إِنّ ِىٓ
بیشک میں
أَعۡلَمُ
میں جانتا ہوں
مَا
جو
لَا
نہیں
تَعۡلَمُو نَ
٣٠تم علم رکھتے
اور یاد کرو جب کہ کہا تھا تمہارے رب نے فرشتوں سے کہ میں بنانے والا ہوں زمین میں ایک خلیفہ۔ انہوں نے کہا : کیا آپ زمین میں کسی ایسے کو مقرّر کرنے والے ہیں جو اس میں فساد مچائے گا اور خون ریزی کرے گا ؟ اور ہم آپ کی حمد و ثنا کے ساتھ تسبیح اور آپ کی تقدیس میں لگے ہوئے ہیں۔ فرمایا : میں جانتا ہوں جو کچھ تم نہیں جانتے۔
2:31
وَعَلَّمَ
اور سکھا دیئے اس نے
ءَادَمَ
آدم کو
نام
كُلَّهَا
سارے کے سارے / سب کے سب
ثُمّ َ
پھر
عَرَضَهُمۡ
پیش کیا ان کو
عَلَى
اوپر
فرشتوں کے
فَقَالَ
پھر فرمایا
أَنۢب ِــُٔونِى
بتاؤ مجھ کو
بِأَسۡمَا ٓءِ
نام
هَـٰٓ ؤُلَا ٓءِ
ان کے / ان سب کے
إِن
اگر
ہو تم
صَـٰ دِقِي نَ
٣١سچے
اور اللہ نے سکھا دیے آدم کو تمام کے تمام نام پھر ان (تمام اشیاء) کو پیش کیا فرشتوں کے سامنے اور فرمایا کہ بتاؤ مجھے ان چیزوں کے نام اگر تم سچے ہو۔
2:32
قَالُواۡ
انہوں نے کہا
سُبۡ حَـٰ نَكَ
پاک ہے تو
لَا
نہیں
عِلۡمَ
کوئی علم
لَنَآ
ہمارے لئے
إِلَّا
مگر
مَا
جو
عَلَّمۡتَنَآۖ
سکھایا تم نے ہم کو
إِنّ َكَ
بیشک آپ
أَنت َ
آپ ہی
جو بہت علم والے / بہت جاننے والے
جو بہت حکمت والے ہیں
انہوں نے کہا (پروردگار !) نقص سے پاک تو آپ ہی کی ذات ہے ہمیں کوئی علم حاصل نہیں سوائے اس کے جو آپ نے ہمیں سکھادیا ہے۔ یقیناً آپ ہی ہیں جو سب کچھ جاننے والے کامل حکمت والے ہیں۔
2:33
قَالَ
فرمایا
يَـٰٓـ ــَٔادَمُ
اے
أَنۢب ِئۡهُم
بتاؤ ان کو
نام ان کے
فَلَمّ َآ
پھر جب
أَنۢب َأَهُم
اس نے بتادئیے ان کو
نام ان کے
قَالَ
فرمایا
أَلَمۡ
کیا نہیں
أَقُل
میں نے کہا تھا
لَّكُمۡ
تمہارے لئے
إِنّ ِىٓ
بیشک میں
أَعۡلَمُ
میں جانتا ہوں
غَيۡبَ
غیب / بھید
آسمانوں کے
وَٱ لۡأَرۡضِ
اور زمین کے
وَأَعۡلَمُ
اور میں جانتا ہوں
مَا
جو کچھ
تُبۡ دُونَ
تم ظاہر کرتے ہو
وَمَا
اور جو کچھ
كُنت ُمۡ
ہو تم
تَكۡتُمُو نَ
٣٣تم چھپاتے ہو
اللہ نے فرمایا کہ اے آدم ان کو بتاؤ ان چیزوں کے نام ! تو جب اس نے بتا دیے ان کو ان سب کے نام تو (اللہ نے) فرمایا : کیا میں نے تم سے کہا نہ تھا کہ میں جانتا ہوں آسمانوں اور زمین کی تمام چھپی ہوئی چیزوں کو اور میں جانتا ہوں جو کچھ تم ظاہر کر رہے تھے اور جو کچھ تم چھپا رہے تھے۔
2:34
وَإِذۡ
اور جب
قُلۡنَا
کہا ہم نے
لِلۡمَلَـٰٓ ئِكَةِ
فرشتوں سے
سجدہ کرو
لِأَدَمَ
آدم کے لئے / آدم کو
فَسَجَدُوٓ اۡ
تو انہوں نے سجدہ کیا
إِلَّآ
مگر / سوائے
إِبۡ لِيسَ
ابلیس کے
أَبَىٰ
اس نے انکار کیا
وَٱ سۡتَكۡبَرَ
اور بڑا بننا چاہا
وَكَانَ
اور ہوگیا
مِنَ
میں سے
کافروں کے
) اور یاد کرو جب ہم نے کہا فرشتوں سے کہ سجدہ کرو آدم کو تو سب سجدے میں گرپڑے سوائے ابلیس کے۔ اس نے انکار کیا اور تکبرّ کیا۔ اور ہوگیا وہ کافروں میں سے
2:35
وَقُلۡنَا
اور کہا ہم نے
يَـٰٓـ ــَٔادَمُ
اے آدم
تم رہو
أَنت َ
تم
وَزَوۡجُكَ
اوربیوی تمہاری
جنت میں
وَكُلَا
اور تم دونوں کھاؤ
مِنۡهَا
اس میں سے
رَغَدًا
خوف جی بھر کے / بافراغت
حَيۡثُ
جہاں سے
شِئۡتُمَا
تم دونوں چاہو
وَلَا
اور نا
تَقۡ رَبَا
تم دونوں قریب جانا
هَـٰ ذِهِ
اس
درخت کے
فَتَكُونَا
ورنہ تم دونو ہو جاو گے
مِنَ
سے
ظالموں میں
اور ہم نے کہا اے آدم ! رہو تم اور تمہاری بیوی جنت میں اور کھاؤ اس میں سے بافراغت جہاں سے چاہو۔ مگر اس درخت کے قریب مت جانا۔ ورنہ تم ظالموں میں سے ہوجاؤ گے۔
2:36
فَأَزَلَّهُمَا
پھر پھسلادیا ان دونوں کو
شیطان نے
عَنۡهَا
اس سے
فَأَخۡرَجَهُمَا
پھر نکلوادیا ان دونوں کو
مِمّ َا
اس میں سے جو
كَانَا
تھے وہ دونوں
فِيهِۖ
جس میں
وَقُلۡنَا
اور کہا ہم نے
اتر جاؤ
بَعۡضُكُمۡ
بعض تمہارے
لِبَعۡضٍ
واسطے بعض کے
عَدُوٌّۖ
دشمن ہیں
اورتمہارے لئے
فِى
میں
زمین
مُسۡتَقَرٌّ
ٹھکانہ ہے / قرار ہے
اورفائدہ اٹھانا ہے
إِلَىٰ
تک
حِي نٍ
٣٦ایک و قت کے
پھر پھسلا دیا ان دونوں کو شیطان نے اس درخت کے بارے میں تو نکلوا دیا ان دونوں کو اس کیفیت میں سے جس میں وہ تھے۔ ) اور ہم نے کہا تم سب اترو تم ایک دوسرے کے دشمن ہو گے۔ اور تمہارے لیے اب زمین میں ٹھکانا ہے اور نفع اٹھانا ہے ایک خاص وقت تک۔
2:37
فَتَلَقَّىٰٓ
پس سیکھ لئے / پھر حاصل کرلئے
ءَادَمُ
آدم نے
مِن
سے
اپنے رب
كَلِمَـٰ تٍ
کچھ کلمے / چند الفاظ
پھر مہربان ہوا
عَلَيۡهِۚ
اس پر
إِنّ َهُۥ
بیشک وہ
هُوَ
وہی ہے
جو توبہ قبول کرنے والا ہے
جو بار بار رحم کرنے والا ہے
پھر سیکھ لیے آدم نے اپنے رب سے چند کلمات تو اللہ نے اس کی توبہ قبول کرلی۔ یقیناً وہی تو ہے توبہ کا بہت قبول کرنے والا بہت رحم فرمانے والا۔
2:38
قُلۡنَا
کہا ہم نے
اتر جاؤ
مِنۡهَا
اس میں سے
جَمِيعًاۖ
سب کے سب / سب ہی
پھر اگر
يَأۡتِيَنّ َكُم
آجائے تمہارے پاس
میری طرف سے
هُدًى
کوئی ہدایت
تو جس نے
پیروی کی
هُدَاىَ
میری ہدایت کی
فَلَا
تو نہیں ہوگا
خَوۡفٌ
کوئی خوف / ڈر
عَلَيۡهِمۡ
اوپر ان کے
وَلَا
اور نہ
هُمۡ
وہ
يَحۡزَنُو نَ
٣٨غمگین ہوں گے
ہم نے کہا : تم سب کے سب یہاں سے اتر جاؤ۔ تو جب بھی آئے تمہارے پاس میری جانب سے کوئی ہدایت تو جو لوگ میری اس ہدایت کی پیروی کریں گے ان کے لیے نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ حزن سے دوچار ہوں گے۔
2:39
وَٱ لَّذِينَ
اور وہ لوگ
كَفَرُواۡ
جنہوں نے کفر کیا
وَكَذَّبُواۡ
اورانہوں نے جھٹلایا
بِـَٔـايَـٰ تِنَآ
ہماری آیات کو / ہمارے احکام کو
أُوۡ لَـٰٓ ئِكَ
یہی لوگ
أَصۡحَـٰ بُ
ساتھی ہیں
آگ کے
هُمۡ
وہ
فِيهَا
اس میں
خَـٰ لِدُو نَ
٣٩ہمیشہ رہنے والے ہیں
اور جو کفر کریں گے وہ آگ والے (جہنمی) ہوں گے اس میں وہ ہمیشہ ہمیش رہیں گے۔
2:40
يَـٰ بَنِىٓ
اے بیٹو !
إِسۡرٰ ٓءِيلَ
اسرائیل کے
یاد کرو
نِعۡمَتِىَ
نعمتیں میری
وہ جو
أَنۡعَمۡتُ
انعام کی تھیں میں نے
عَلَيۡكُمۡ
اوپر تمہارے
وَأَوۡفُواۡ
اور پورا کرو
بِعَهۡدِىٓ
میرے عہد کو
أُوفِ
میں پورا کروں گا
بِعَهۡدِكُمۡ
تمہارے عہد کو
وَإِيَّـٰ ىَ
اورصرف مجھ سے ہی
فَٱ رۡهَبُو نِ
٤٠پس ڈرو مجھ سے
اے بنی اسرائیل ! یاد کرو میرے اس انعام کو جو میں نے تم پر کیا اور تم میرے وعدے کو پورا کرو تاکہ میں بھی تمہارے وعدے کو پورا کروں۔ اور صرف مجھ ہی سے ڈرو۔
2:41
وَءَامِنُواۡ
اور ایمان لاؤ
بِمَآ
ساتھ اس کے جو
أَنز َلۡتُ
نازل کی میں نے / اتاری میں نے
مُصَدِّقًا
جو تصدیق کرنے والی ہے
واسطے اس کے جو
مَعَكُمۡ
تمہارے پاس ہے
وَلَا
اور نہ
تَكُونُوٓ اۡ
تم ہوجاؤ
أَوَّلَ
پہلے
كَافِرِۭ
انکار کرنے والے
ساتھ اس کے
وَلَا
اور نہ
تَشۡتَرُواۡ
تم لو
بِـَٔـايَـٰ تِى
بدلے میری آیات کے
ثَمَنًا
قیمت
تھوڑی
اور صرف مجھ سے ہی
فَٱ تَّقُو نِ
٤١پس ڈرو مجھ سے
اور ایمان لاؤ اس کتاب پر جو میں نے نازل کی ہے جو تصدیق کرتے ہوئے آئی ہے اس کتاب کی جو تمہارے پاس ہے اور تم ہی سب سے پہلے اس کا کفر کرنے والے نہ بن جاؤ۔ اور میری آیات کے عوض حقیر سی قیمت قبول نہ کرو۔ اور صرف میرا تقویٰ اختیار کرو۔ مجھ ہی سے بچتے رہو !
2:42
وَلَا
اور نہ
تَلۡبِسُواۡ
تم ملاؤ / گڈ مڈ کرو
حق کو
بِٱ لۡبَـٰ طِلِ
ساتھ باطل کے
وَتَكۡتُمُواۡ
اورنہ تم چھپاؤ / تم چھپاتے ہو
حق کو
وَأَنت ُمۡ
حالانکہ تم
تَعۡلَمُو نَ
٤٢تم جانتے ہو
اور نہ گڈمڈ کرو حق کے ساتھ باطل کو اور نہ چھپاؤ حق کو درآنحالیکہ تم جانتے ہو۔
2:43
وَأَقِيمُواۡ
اور قائم کرو
نماز
وَءَاتُواۡ
اوردو / ادا کرو
زکوٰۃ
وَٱ رۡكَعُواۡ
اوررکوع کرو
مَعَ
ساتھ
رکوع کرنے والوں کے
اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو اور جھکو (نماز میں) جھکنے والوں کے ساتھ۔
2:44
۞أَتَأۡمُرُونَ
کیاتم حکم دیتے ہو
لوگوں کو
بِٱ لۡبِرِّ
نیکی کا
وَتَنس َوۡنَ
اورتم بھول جاتے ہو
أَنف ُسَكُمۡ
اپنے نفسوں کو
وَأَنت ُمۡ
حالانکہ تم
تَتۡلُونَ
تلاوت کرتے ہو
کتاب کی
أَفَلَا
پھر نہیں
تَعۡقِلُو نَ
٤٤تم عقلوں سے کام لیتے ہو
کیا تم لوگوں کو نیکی کا حکم دیتے ہو اور خود اپنے آپ کو بھول جاتے ہو ؟ حالانکہ تم کتاب کی تلاوت کرتے ہو۔ کیا تم عقل سے بالکل ہی کام نہیں لیتے ؟
2:45
وَٱ سۡتَعِينُواۡ
اور مدد مانگو
بِٱ ل صَّبۡ رِ
ساتھ صبر کے
وَٱ ل صَّلَو ٰ ةِۚ
اورنماز کے
وَإِنّ َهَا
اوربیشک وہ (نماز)
لَكَبِيرَةٌ
البتہ بھاری ہے / مشکل ہے / بڑی ہے
إِلَّا
سوائے / مگر
عَلَى
اوپر انکے
جو خشوع کرنے والے ہیں
اور مدد حاصل کرو صبر سے اور نماز سے۔ اور یقینایہ بہت بھاری شے ہے مگر ان عاجزوں پر (بھاری نہیں ہے)۔
2:46
ٱلَّذِينَ
وہ لوگ
يَظُنّ ُونَ
جو یقین رکھتے ہیں
أَنّ َهُم
بیشک وہ
ملاقات کرنے والے ہیں
رَبِّهِمۡ
اپنے رب سے
وَأَنّ َهُمۡ
اور بیشک وہ
إِلَيۡهِ
طرف اس کے
رٰ جِعُو نَ
٤٦لوٹنے والے ہیں
جنہیں یہ یقین ہے کہ وہ اپنے رب سے ملاقات کرنے والے ہیں اور (جنہیں یہ یقین ہے کہ) بالآخر انہیں اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے
2:47
يَـٰ بَنِىٓ
اے بنی
إِسۡرٰ ٓءِيلَ
اسرائیل
یاد کرو
نِعۡمَتِىَ
میری نعمتیں
وہ جو
أَنۡعَمۡتُ
انعام کی تھیں میں نے
عَلَيۡكُمۡ
اوپر تمہارے
وَأَنّ ِى
اور بیشک میں نے
فَضَّلۡتُكُمۡ
فضیلت دی تھی میں نے تم کو
عَلَى
اوپر
تمام دنیا والوں کے
اے یعقوب کی اولاد ! یاد کرو میرے اس انعام کو جو میں نے تم پر کیا اور یہ کہ میں نے تمہیں فضیلت عطا کی تمام جہانوں پر۔
2:48
وَٱ تَّقُواۡ
اور
يَوۡمًا
اس دن سے
نہ
تَجۡ زِى
کام آئے گا / بدلہ بنے گا
نَفۡسٌ
کوئی نفس
عَن
طرف سے
کسی نفس کی
کچھ بھی
اور نہ
يُقۡ بَلُ
قبول کی جائے گی
مِنۡهَا
اس سے
شَفَـٰ عَةٌ
کوئی سفارش
اور نہ
يُؤۡخَذُ
لیا جائے گا
مِنۡهَا
اس سے
عَدۡ لٌ
کوئی بدلہ
اور نہ
هُمۡ
وہ
يُنص َرُو نَ
٤٨وہ مدد دئیے جائیں گے
اور ڈرو اس دن سے کہ جس دن کام نہ آسکے گی کوئی جان کسی دوسری جان کے کچھ بھی اور نہ کسی سے کوئی سفارش قبول کی جائے گی اور نہ کسی سے کوئی فدیہ قبول کیا جائے گا اور نہ انہیں کوئی مدد مل سکے گی۔
2:49
وَإِذۡ
اور جب
نَجَّيۡنَـٰ كُم
نجات دی ہم نے تم کو
سے
ءَالِ
آل
فِرۡعَوۡنَ
فرعون
يَسُومُونَكُمۡ
وہ تکلیف دیتے تھے تھم کو
سُو ٓءَ
برے
عذاب کی
يُذَبِّحُونَ
خوب ذبح کرتے تھے
أَبۡ نَا ٓءَكُمۡ
بیٹوں کو تمہارے
وَيَسۡتَحۡيُونَ
اور زندہ چھوڑ دیتے تھے
نِسَا ٓءَكُمۡۚ
تمہاری عورتوں کو
وَفِى
اورمیں
ذٰ لِكُم
اس کے
آزمائش تھی
سے
تمہارے رب کی طرف سے
عَظِي مٌ
٤٩بڑی
اور ذرا یاد کرو جب کہ ہم نے تمہیں نجات دی تھی فرعون کی قوم سے وہ تمہیں بدترین عذاب میں مبتلا کیے ہوئے تھے تمہارے بیٹوں کو ذبح کر ڈالتے تھے اور تمہاری عورتوں کو زندہ رکھتے تھے۔ اور اس میں تمہارے رب کی طرف سے تمہارے لیے بڑی آزمائش تھی۔
2:50
وَإِذۡ
اور جب
فَرَقۡ نَا
پھاڑا ہم نے
بِكُمُ
تمہارے لیے
سمندر کو
فَأَنج َيۡنَـٰ كُمۡ
پھر نجات دی ہم نے تم کو
وَأَغۡرَقۡ نَآ
اور غرق کردیا ہم نے
ءَالَ
آل
فِرۡعَوۡنَ
فرعون کو
وَأَنت ُمۡ
اور تم
تَنظ ُرُو نَ
٥٠تم دیکھ رہے تھے
اور یاد کرو جبکہ ہم نے تمہاری خاطر سمندر کو (یا دریا کو) پھاڑدیا پھر تمہیں تو نجات دے دی اور فرعون کے لوگوں کو غرق کردیا جبکہ تم دیکھ رہے تھے۔
2:51
وَإِذۡ
اور جب
وٰ عَدۡ نَا
ہم نے وعدہ لیا
مُوسَىٰٓ
موسیٰ سے
أَرۡبَعِينَ
چالیس
لَيۡلَةً
راتوں کا
پھر
بنا لیا تم نے
بچھڑے کو
مِنۢ
سے
اس کے بعد / (موسی) پیچھے
وَأَنت ُمۡ
اور تم
ظَـٰ لِمُو نَ
٥١ظالم تھے
اور یاد کرو جب ہم نے وعدہ کیا موسیٰ ؑ سے چالیس رات کا پھر تم نے بنا لیا بچھڑے کو (معبود) اس کے بعد اور تم ظالم تھے
2:52
ثُمّ َ
پھر
عَفَوۡنَا
درگزر کیا ہم نے / معاف کردیا ہم نے
عَنك ُم
تم سے
سے
بعد
ذٰ لِكَ
اس کے شرک
لَعَلَّكُمۡ
تاکہ تم
تَشۡكُرُو نَ
٥٢تم شکر ادا کرتے
پھر ہم نے تمہیں اس کے بعد بھی معاف کیا تاکہ تم شکر کرو
2:53
وَإِذۡ
اور جب
ءَاتَيۡنَا
دی ہم نے
مُوسَى
موسیٰ کو
کتاب
وَٱ لۡفُرۡقَانَ
اور فرقان (فہم کتاب)
لَعَلَّكُمۡ
تاکہ تم
تَهۡتَدُو نَ
٥٣تم ہدایت پا جاؤ
اور یاد کرو جب کہ ہم نے موسیٰ ؑ کتاب اور فرقان عطا فرمائی تاکہ تم ہدایت پاؤ۔
2:54
وَإِذۡ
اور جب
قَالَ
کہا
مُوسَىٰ
موسیٰ نے
لِقَوۡمِهِۦ
اپنی قوم سے
يَـٰ قَوۡمِ
اے میری قوم
إِنّ َكُمۡ
بیشک تم نے
ظَلَمۡتُمۡ
ظلم کیا تم نے
أَنف ُسَكُم
اپنے نفسوں پر / اپنی جانوں پر
بوجہ بنانے کے تمہارے
بچھڑے کو (معبود)
فَتُوبُوٓ اۡ
پس توبہ کرو
إِلَىٰ
طرف
بَارِئِكُمۡ
اپنے پیدا کرنے والے کے
فَٱ قۡ تُلُوٓ اۡ
تو قتل کرو
أَنف ُسَكُمۡ
اپنے نفسوں کو
ذٰ لِكُمۡ
یہ
خَيۡرٌ
بہتر ہے
تمہارے لئے
عِند َ
نزدیک
بَارِئِكُمۡ
تمہارے پیدا کرنے والے کے
فَتَابَ
پھر وہ مہربان ہوا
عَلَيۡكُمۡۚ
تم پر
إِنّ َهُۥ
بیشک
هُوَ
وہی ہے
جو بہت توبہ قبول کرنے والا ہے
جو بار بار رحم کرنے والا ہے
اور یاد کرو جبکہ کہا تھا موسیٰ ؑ نے اپنی قوم سے اے میری قوم کے لوگو ! یقیناً تم نے اپنے اوپر بڑا ظلم کیا ہے بچھڑے کو معبود بنا کر پس اب توبہ کرو اپنے پیدا کرنے والے کی جناب میں تو قتل کرو اپنے آپ کو۔ یہی تمہارے لیے تمہارے رب کے نزدیک بہتر بات ہے۔ تو (اللہ نے) تمہاری توبہ قبول کرلی۔ یقیناً وہ تو ہے ہی توبہ کا بہت قبول فرمانے والا بہت رحم فرمانے والا۔
2:55
وَإِذۡ
اور جب
قُلۡتُمۡ
کہا تم نے
يَـٰ مُوسَىٰ
اے موسیٰ
لَن
ہرگز نہیں
ہم ایمان لائیں گے / ہم اعتبار کریں گے
لَكَ
واسطے تیرے
حَتَّىٰ
یہاں تک
نَرَى
ہم دیکھ لیں
اللہ کو
جَهۡرَةً
سامنے / ظاہر / روبرو
پس پکڑ لیا تم کو
کڑک نے
وَأَنت ُمۡ
اس حال میں تم
تَنظ ُرُو نَ
٥٥تم دیکھ رہے تھے
اور یاد کرو جبکہ تم نے کہا تھا اے موسیٰ ؑ ! ہم تمہارا ہرگز یقین نہیں کریں گے جب تک ہم اللہ کو سامنے نہ دیکھ لیں تو تمہیں آپکڑا ایک بہت بڑی کڑک نے اور تم دیکھ رہے تھے
2:56
ثُمّ َ
پھر
بَعَثۡنَـٰ كُم
اٹھایا ہم نے تم کو
سے
بعد
مَوۡتِكُمۡ
تمہاری موت کے
لَعَلَّكُمۡ
تاکہ تم
تَشۡكُرُو نَ
٥٦تم شکر ادا کرو
پھر ہم نے تمہیں دوبارہ اٹھایا تمہاری موت کے بعد تاکہ تم (اس احسان پر ہمارا) شکر کرو۔
2:57
وَظَلَّلۡنَا
اور سایہ کیا ہم نے
عَلَيۡكُمُ
اوپر تمہارے
بادلوں کا
وَأَنز َلۡنَا
اور نازل کیا ہم نے
عَلَيۡكُمُ
اوپر تمہارے
من
وَٱ ل سَّلۡوَىٰۖ
اور سلویٰ
كُلُواۡ
کھاؤ
مِن
میں سے
پاکیزہ چیزوں
مَا
جو
رَزَقۡ نَـٰ كُمۡۖ
رزق دیں ہم نے تم کو
وَمَا
اور نہیں
ظَلَمُونَا
انہوں نے ظلم کیا ہم پر
وَلَـٰ كِن
اور لیکن
وہ تھے
أَنف ُسَهُمۡ
اپنے نفسوں پر
يَظۡلِمُو نَ
٥٧وہ ظلم کرتے
اور ہم نے تم پر ابر کا سایہ کیا اور اتارا تم پر مَنّ اور سلویٰ۔ اور انہوں نے ہمارا کچھ نقصان نہ کیا بلکہ وہ خود اپنے اوپر ظلم ڈھاتے رہے۔
2:58
وَإِذۡ
اور جب
قُلۡنَا
کہا ہم نے
داخل ہوجاؤ
هَـٰ ذِهِ
اس
بستی میں
فَكُلُواۡ
پھر کھاؤ
مِنۡهَا
اس میں سے
حَيۡثُ
جہاں سے
شِئۡتُمۡ
چاہو تم
رَغَدًا
خوب / بافراغت
اور داخل ہوجاؤ
دروازے سے
سُجَّدًا
سجدہ کرتے ہوئے
اور کہتے جاؤ
حِطَّةٌ
بخش دے / معافی معافی
ہم بخش دیں گے
لَكُمۡ
تمہارے لئے
خَطَـٰ يَـٰ كُمۡۚ
تمہاری خطاؤں کو
وَسَنَزِيدُ
اور ضرور ہم زیادہ دیں گے
احسان کرنے والوں کو
اور یاد کرو جبکہ ہم نے تم سے کہا تھا کہ داخل ہوجاؤ اس شہر میں اور پھر کھاؤ اس میں سے بافراغت جہاں سے چاہو جو چاہو لیکن دیکھنا (بستی کے) دروازے میں داخل ہونا جھک کر اور کہتے رہنا مغفرت مغفرت تو ہم تمہاری خطاؤں سے درگزر فرمائیں گے۔ اور محسنین کو ہم مزید فضل و کرم سے نوازیں گے
2:59
فَبَدَّلَ
تو بدل ڈالا
ان لوگوں نے
ظَلَمُواۡ
جنہوں نے ظلم کیا
قَوۡلاً
بات کو
غَيۡرَ
سوائے
اس کے جو
قِيلَ
کہی گئی تھی
لَهُمۡ
واسطے ان کے
فَأَنز َلۡنَا
تو نازل کیا ہم نے
عَلَى
اوپر
ان لوگوں کے
ظَلَمُواۡ
جنہوں نے ظلم کیا تھا
رِجۡ زًا
عذاب
سے
آسمان
بِمَا
بوجہ اس کے جو
كَانُواۡ
تھے وہ
يَفۡسُقُو نَ
٥٩وہ نافرمانی کرتے
پھر بدل ڈالا ظالموں نے بات کو خلاف اس کے جو ان سے کہہ دی گئی تھی پھر ہم نے اتارا ظلم کرنے والوں پر ایک بڑا عذاب آسمان سے بسبب اس نافرمانی کے جو انہوں نے کی۔
2:60
۞وَإِذِ
اور جب
پانی مانگا
مُوسَىٰ
موسیٰ نے
لِقَوۡمِهِۦ
اپنی قوم کے لئے
فَقُلۡنَا
تو کہا ہم نے
مارو
بِّعَصَاكَ
ساتھ اپنے عصا کے
اس پتھر کو
فَٱ نف َجَرَتۡ
تو پھوٹ پڑے / بہہ نکلے
مِنۡهُ
اس سے
دو
عَشۡرَةَ
دس (بارہ)
عَيۡنًاۖ
چشمے
تحقیق
عَلِمَ
جان لیا
كُلُّ
تمام
أُنَاسٍ
لوگوں نے / گروہوں نے
اپنے پنگھٹ کو / اپنی پینے کی جگہ کو
كُلُواۡ
کھاؤ
وَٱ شۡرَبُواۡ
اور پیو
مِن
سے
رزق (رزق سے)
اللّٰهِ
وَلَا
اورنہیں
تَعۡثَوۡاۡ
تم فساد کرتے پھرو
فِى
میں
زمین
مُفۡسِدِي نَ
٦٠فسادی بن کر
اور جب پانی مانگا موسیٰ نے اپنی قوم کے لیے تو ہم نے کہا ضرب لگاؤ اپنے عصا سے چٹان پر تو اس سے بارہ چشمے پھوٹ بہے ہر قبیلے نے اپنا گھاٹ جان لیا (اور معینّ کرلیا) (گویا ان سے یہ کہہ دیا گیا کہ) کھاؤ اور پیو اللہ کے رزق میں سے اور زمین میں فساد مچاتے نہ پھرو۔
2:61
وَإِذۡ
اور جب
قُلۡتُمۡ
کہا
يَـٰ مُوسَىٰ
اے موسیٰ
لَن
ہرگز نہیں
ہم صبر کریں گے
عَلَىٰ
اوپر
طَعَامٍ
کھانے کے
ایک
پس تم دعا کرو
لَنَا
ہمارے لئے
رَبَّكَ
اپنے رب سے
يُخۡرِجۡ
وہ نکالے
لَنَا
ہمارے لئے
مِمّ َا
اس میں سے جو
تُنۢب ِتُ
اگاتی ہے
زمین (یعنی)
مِنۢ
سے
سبزی اس کی سے
وَقِثَّا ٓئِهَا
اور ککڑی اس کی سے
وَفُومِهَا
لہسن اس کے سے
وَعَدَسِهَا
مسور اس کی سے
وَبَصَلِهَاۖ
پیاز اس کی سے
قَالَ
کہا
أَتَسۡتَبۡ دِلُونَ
تم بدلنا چاہتے ہو
اسے جو
هُوَ
وہ
أَدۡ نَىٰ
کم تر ہے
بِٱ لَّذِى
بدلے اس کے جو
هُوَ
وہ
خَيۡرٌۚ
بہتر ہے
اتر جاؤ (بلند مقام سے)
مِصۡرًا
کسی شہر میں
تو بیشک
لَكُم
تمہارے لئے ہے
جو
سَأَلۡتُمۡۗ
سوال کیا تم نے / مانگا تم نے
وَضُرِبَتۡ
اور ماری گئی / مسلط کی گئی
عَلَيۡهِمُ
اوپر ان کے
ذلت
وَٱ لۡمَسۡكَنَةُ
اور مسکنت
وَبَا ٓءُو
اور وہ لوٹے
بِغَضَبٍ
ساتھ غضب کے
طرف سے
اللہ
ذٰ لِكَ
یہ
بِأَنّ َهُمۡ
بوجہ اسکے کہ بیشک وہ
كَانُواۡ
تھے وہ
يَكۡفُرُونَ
وہ کفر کرتےرہتے تھے
بِـَٔـايَـٰ تِ
ساتھ آیات کے
اللہ
وَيَقۡ تُلُونَ
اور قتل کر ڈالتے تھے
نبیوں کو
بِغَيۡرِ
بغیر
حق کے
ذٰ لِكَ
یہ
بِمَا
بوجہ اس کے
عَصَواۡ
وہ نافرمانی کرتے تھے
وَّكَانُواۡ
اور تھے وہ
يَعۡتَدُو نَ
٦١حد سےنکل جاتے
اور یاد کرو جب کہ تم نے کہا تھا اے موسیٰ ! ہم ایک ہی کھانے پر صبر نہیں کرسکتے تو ذرا اپنے رب سے ہمارے لیے دعا کرو کہ نکالے ہمارے لیے اس سے کہ جو زمین اگاتی ہے اس کی ترکاریاں اور ککڑیاں اور لہسن اور مسور اور پیاز۔ حضرت موسیٰ ؑ نے فرمایا کیا : تم وہ شے لینا چاہتے ہو جو کم تر ہے اس کے بدلے میں جو بہتر ہے ؟ اترو کسی شہر میں تو تم کو مل جائے گا جو کچھ تم مانگتے ہو۔ اور ان پر ذلتّ و خواری اور محتاجی و کم ہمتی تھوپ دی گئی۔ اور وہ اللہ کا غضب لے کر لوٹے۔ یہ اس لیے ہوا کہ وہ اللہ کی آیات کا انکار کرتے رہے اور اللہ کے نبیوں کو ناحق قتل کرتے رہے۔ اور یہ اس لیے ہوا کہ وہ نافرمان تھے اور حد سے تجاوز کرتے تھے۔
2:62
إِنّ َ
بیشک
وہ لوگ
ءَامَنُواۡ
جو ایمان لائے
وَٱ لَّذِينَ
اور وہ لوگ
هَادُواۡ
جو یہودی بن بیٹھے
وَٱ ل نّ َصَـٰ رَىٰ
اور جو نصرانی ہیں / عیسائی ہیں
وَٱ ل صَّـٰ بِــِٔينَ
اور وہ جو صابی ہیں
مَنۡ
جو کوئی
ءَامَنَ
ایمان لایا
بِٱ للَّهِ
ساتھ اللہ کے
وَٱ لۡيَوۡمِ
اور یوم
آخرت کے
وَعَمِلَ
اور اس نےعمل کئیے
صَـٰ لِحًا
نیک
تو ان کے لئے
أَجۡ رُهُمۡ
اجر ہے ان کا
عِند َ
پاس
رَبِّهِمۡ
ان کے رب کے
وَلَا
اور نہیں
خَوۡفٌ
کوئی خوف
عَلَيۡهِمۡ
ان پہ
وَلَا
اور نہ
هُمۡ
وہ
يَحۡزَنُو نَ
٦٢وہ غمگین ہونگے
یقیناً جو لوگ ایمان لائے اور جو یہودی ہوگئے اور نصرانی اور صابی جو کوئی بھی ایمان لایا (ان میں سے) اللہ پر اور یوم آخر پر اور اس نے اچھے عمل کیے تو ان کے لیے (محفوظ) ہے ان کا اجر ان کے رب کے پاس اور نہ ان پر کوئی خوف ہوگا اور نہ غمگین ہوں گے۔
2:63
وَإِذۡ
اور جب
أَخَذۡنَا
لیا ہم نے
مِيثَـٰ قَكُمۡ
پختہ / پکا عہد تم سے
وَرَفَعۡنَا
اوراٹھایا ہم نے
فَوۡقَكُمُ
اوپر تمہارے
طور کو
خُذُواۡ
پکڑو
مَآ
جو
ءَاتَيۡنَـٰ كُم
دیا ہم نے تم کو
ساتھ قوت کے
اور یاد کرو
مَا
جو
فِيهِ
اس میں ہے
لَعَلَّكُمۡ
تاکہ تم
تَتَّقُو نَ
٦٣تم متقی بن جاو
اور ذرا یاد کرو جب ہم نے تم سے قول وقرار لیا اور تمہارے اوپر اٹھا دیا کوہ طور کو۔ پکڑو اس کو مضبوطی کے ساتھ جو ہم نے تم کو دیا ہے۔ اور یاد رکھو اسے جو کچھ کہ اس میں ہے تاکہ تم بچ سکو۔
2:64
ثُمّ َ
پھر
تَوَلَّيۡتُم
منہ پھیرلیا تم نے
سے
بعد
ذٰ لِكَۖ
اس کے
فَلَوۡلَا
تو اگر نہیں
فَضۡلُ
فضل ہوتا
اللہ کا
عَلَيۡكُمۡ
اوپر تمہارے
وَرَحۡمَتُهُۥ
اور رحمت اس کی
لَكُنت ُم
البتہ ہوتے تم
میں سے
خسارہ پانے والے
پھر تم نے روگردانی کی اس کے بعد پھر اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی مہربانی نہ ہوتی تو تم (اُسی وقت) خسارہ پانے والے ہوجاتے۔
2:65
وَلَقَدۡ
اور البتہ تحقیق
عَلِمۡتُمُ
جان لیا تم نے
ان لوگوں کو
جنہوں نے زیادتی کی
مِنك ُمۡ
تم میں سے
فِى
میں
ہفتے کے دن میں / سبت (کے بارے)
فَقُلۡنَا
تو کہا ہم نے
لَهُمۡ
ان کے لئے
كُونُواۡ
ہوجاؤ
قِرَدَةً
بندر
خَـٰ سِــِٔي نَ
٦٥ذلیل / دھتکارے ہوئے
اور تم انہیں خوب جان چکے ہو جنہوں نے تم میں سے زیادتی کی تھی ہفتہ کے دن میں تو ہم نے کہہ دیا ان سے کہ ہوجاؤ ذلیل بندر۔
2:66
فَجَعَلۡنَـٰ هَا
تو بنادیا ہم نے ان کو
نَكَـٰ لاً
عبرت
واسطے اس کے جو
بَيۡنَ
درمیان
يَدَيۡهَا
اس کے ساتھ
وَمَا
اور واسطے ان کے جو
خَلۡفَهَا
ان کے پیچھے ہوں گے
وَمَوۡعِظَةً
اور نصیحت
متقیوں کے لئے
پھر ہم نے اس (واقعہ کو یا اس بستی) کو عبرت کا سامان بنا دیا ان کے لیے بھی جو سامنے موجود تھے (اس زمانے کے لوگ) اور ان کے لیے بھی جو بعد میں آنے والے تھے اور ایک نصیحت (اور سبق آموزی کی بات) بنا دیا اہل تقویٰ کے لیے۔
2:67
وَإِذۡ
اور جب
قَالَ
کہا
مُوسَىٰ
موسیٰ نے
لِقَوۡمِهِۦٓ
اپنی قوم سے
إِنّ َ
بیشک
اللہ تعالیٰ
يَأۡمُرُكُمۡ
حکم دیتا ہے تم کو
أَن
یہ کہ
تم ذبح کرو
بَقَرَةًۖ
ایک گائے
انہوں نے کہا
أَتَتَّخِذُنَا
کیا تم کرتے ہو ہم سے
هُزُوًاۖ
مذاق
اس نے کہا ( موسیٰ )
أَعُوذُ
میں پناہ مانگتا ہوں
بِٱ للَّهِ
اللہ کی (اس بات سے)
أَنۡ
کہ
أَكُونَ
میں ہوجاؤں
مِنَ
سے
جاہلوں میں سے
اور یاد کرو جب موسیٰ ؑ نے کہا اپنی قوم سے کہ اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ ایک گائے کو ذبح کرو۔ انہوں نے کہا : کیا آپ ؑ ہم سے کچھ ٹھٹھا کر رہے ہیں ؟ فرمایا : میں اللہ کی پناہ طلب کرتا ہوں اس سے کہ میں جاہلوں میں سے ہوجاؤں۔
2:68
قَالُواۡ
انہوں نے کہا
دعا کرو
لَنَا
ہمارے لئے
رَبَّكَ
اپنے رب سے
يُبَيِّن
وہ بیان کرے / وہ واضح کرے
ہمارے لئے
مَا
کیسی ہو
هِىَۚ
وہ
قَالَ
کہا
إِنّ َهُۥ
بیشک وہ
يَقُولُ
وہ فرماتا ہے
إِنّ َهَا
بیشک وہ
بَقَرَةٌ
ایسی گائے ہو
نہ
فَارِضٌ
بوڑھی
اورنہ
بِكۡرٌ
جوان
عَوَانُۢ
درمیان عمر ہو
درمیان
ذٰ لِكَۖ
اس کے
فَٱ فۡعَلُواۡ
تو کرو
مَا
جو
تُؤۡمَرُو نَ
٦٨جو تم حکم دئیے جاتے ہو
انہوں نے کہا (اچھا ایسی ہی بات ہے تو) ہمارے لیے ذرا اپنے رب سے دعا کیجیے کہ وہ ہم پر واضح کر دے کہ وہ کیسی ہو۔ حضرت موسیٰ ؑ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ ایک ایسی گائے ہونی چاہیے جو نہ بوڑھی ہو نہ بالکل بچھیا بڑھاپے اور نوجوانی کے بین بین ہو۔ تو اب کر گزرو جو تمہیں حکم دیا جا رہا ہے۔
2:69
قَالُواۡ
انہوں نے کہا
دعا کرو
لَنَا
ہمارے لئے
رَبَّكَ
اپنے رب سے
يُبَيِّن
وہ بیان کرے
ہمارے لئے
مَا
کیسا ہو
لَوۡنُهَاۚ
رنگ اس کا
قَالَ
کہا (موسیٰ )
إِنّ َهُۥ
بیشک وہ
يَقُولُ
وہ فرماتا ہے
إِنّ َهَا
بیشک وہ
بَقَرَةٌ
ایک گائے ہو
زرد رنگ کی
فَاقِعٌ
چمکیلا / عمدہ / خوب گہرا ہو
رنگ اس کا
تَسُرُّ
خوش کرتی ہو / بھلی لگے وہ
دیکھنے والوں کو
اب انہوں نے کہا (ذرا ایک دفعہ پھر) ہمارے لیے دعا کیجیے اپنے رب سے کہ وہ ہمیں بتادے کہ اس کا رنگ کیسا ہو۔ فرمایا : اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وہ گائے ہونی چاہیے زرد رنگ کی جس کا رنگ ایسا شوخ ہو کہ دیکھنے والوں کو خوب اچھی لگے۔
2:70
قَالُواۡ
انہوں نے کہا
دعا کرو
لَنَا
ہمارے لئے
رَبَّكَ
اپنے رب سے
يُبَيِّن
وہ بیان کرے
ہمارے لئے
مَا
کیسی ہو
هِىَ
وہ
إِنّ َ
بیشک
گائیں
تَشَـٰ بَهَ
مشتبہ ہوگئی ہیں
عَلَيۡنَا
اوپر ہمارے
وَإِنّ َآ
اور بیشک ہم
إِن
اگر
چاہا
اللہ نے
لَمُهۡتَدُو نَ
٧٠البتہ پالینے والے ہیں
انہوں نے کہا (ذرا پھر) اللہ سے ہمارے لیے دعا کیجیے کہ وہ ہم پر واضح کر دے کہ وہ گائے کیسی ہو کیونکہ گائے کا معاملہ یقیناً ہم پر کچھ مشتبہ ہوگیا ہے۔ اور اگر اللہ نے چاہا تو ہم ضرور راہ پالیں گے
2:71
قَالَ
کہا
إِنّ َهُۥ
بیشک وہ
يَقُولُ
وہ فرماتا ہے
إِنّ َهَا
بیشک وہ
بَقَرَةٌ
ایسی گائے ہو
نہ ہو
ذَلُولٌ
مطیع
کہ ہل چلاتی ہو / پھاڑتی ہو
زمین کو
وَلَا
اور نہ
تَسۡقِى
پانی پلاتی ہو / سیراب کرتی ہو
کھیتی کو
مُسَلَّمَةٌ
مکمل ہو / صحیح سلامت ہو
نہیں / نہ ہو
شِيَةَ
کوئی داغ / نشان / علامت
فِيهَاۚ
اس میں
قَالُواۡ
انہوں نے کہا
اب
جِئۡتَ
تو لایا ہے
بِٱ لۡحَقِّۚ
حق کو / صحیح بات کو
فَذَبَحُوهَا
تو انہوں نے ذبح کیا اس کو
وَمَا
اور نہ
كَادُواۡ
لگتے تھے کہ
يَفۡعَلُو نَ
٧١وہ کرتے
فرمایا کہ اللہ فرماتا ہے وہ ایک ایسی گائے ہونی چاہیے کہ جس سے کوئی مشقت نہ لی جاتی ہو نہ وہ زمین میں ہل چلاتی ہو اور نہ کھیتی کو پانی دیتی ہو وہ صحیح سالم یک رنگ ہونی چاہیے انہوں نے کہا اب آپ لائے ہیں ٹھیک بات تب انہوں نے اس کو ذبح کیا اور وہ لگتے نہ تھے کہ ایسا کرلیں گے۔
2:72
وَإِذۡ
اور جب
قَتَلۡتُمۡ
قتل کیا تم نے
نَفۡسًا
ایک نفس / ایک جان
پھر ایک دوسرے پر ڈالنے لگے تم/ باہم الزام دھرنے لگے تم
فِيهَاۖ
اس کے بارے میں
وَٱ للَّهُ
اوراللہ تعالیٰ
مُخۡرِجٌ
نکالنے والا تھا
کو
كُنت ُمۡ
تھے تم
تَكۡتُمُو نَ
٧٢تم چھپاتے
اور یاد کرو جب تم نے ایک شخص کو قتل کردیا تھا اور اس کا الزام تم ایک دوسرے پر لگا رہے تھے۔ اور اللہ کو ظاہر کرنا تھا جو کچھ تم چھپاتے تھے۔
2:73
فَقُلۡنَا
پس کہا ہم نے
مارو اس کو
بِبَعۡضِهَاۚ
ساتھ اس کے بعض حصے کے
كَذٰ لِكَ
اسی طرح
يُحۡىِ
زندہ کرتا ہے
اللہ
مردوں کو
وَيُرِيكُمۡ
اور وہ دکھاتا ہے تم کو
ءَايَـٰ تِهِۦ
اپنی نشانیاں
لَعَلَّكُمۡ
تاکہ تم
تَعۡقِلُو نَ
٧٣تم عقل سے کام لو
تو ہم نے حکم دیا کہ مقتول کی لاش کو اس گائے کے ایک ٹکڑے سے ضرب لگاؤ۔ دیکھو اسی طرح اللہ مردوں کو زندہ کر دے گا اور وہ تمہیں اپنی نشانیاں (اپنی قدرت کے نمونے) دکھاتا ہے تاکہ تم عقل سے کام لو۔
2:74
ثُمّ َ
پھر
قَسَتۡ
سخت ہوگئے
قُلُوبُكُم
دل تمہارے
بعد
ذٰ لِكَ
اس کے
فَهِىَ
تو وہ (ہوگئے)
كَٱ لۡحِجَارَةِ
مانند پتھروں کے / پتھروں کی طرح
أَوۡ
یا
أَشَدُّ
زیادہ شدید
قَسۡوَةًۚ
سختی میں
اور بیشک
مِنَ
سے
پتھروں ( میں سے) بعض
لَمَا
یقیناً (وہ ہے) جو
يَتَفَجَّرُ
پھوٹ پڑتی ہیں
مِنۡهُ
اس سے
نہریں
وَإِنّ َ
اور بیشک
مِنۡهَا
ان میں سے بعض
لَمَا
یقیناً (وہ ہے) جو
يَشَّقَّقُ
شق ہوجاتا ہے / پھٹ جاتا ہے
فَيَخۡرُجُ
پھر نکل آتا ہے
مِنۡهُ
اس سے
پانی
وَإِنّ َ
اوربیشک
مِنۡهَا
ان (میں سے) بعض
لَمَا
یقیناً (وہ ہے) جو
يَهۡبِطُ
گرپڑتا ہے
مِنۡ
سے
خَشۡيَةِ
خوف
اللہ کے
وَمَا
اورنہیں
اللہ
بِغَـٰ فِلٍ
غافل
عَمّ َا
اس سے جو
تَعۡمَلُو نَ
٧٤تم عمل کرتے ہو
پھر تمہارے دل سخت ہوگئے اس سب کے بعدپس اب تو وہ پتھروں کی مانند ہیں بلکہ سختی میں ان سے بھی زیادہ شدید ہیں۔ اور پتھروں میں سے تو یقیناً ایسے بھی ہوتے ہیں جن سے چشمے پھوٹ بہتے ہیں۔ اور ان (پتھروں اور چٹانوں) میں سے بیشک ایسے بھی ہوتے ہیں جو شق ہوجاتے ہیں اور ان میں سے پانی برآمد ہوجاتا ہے۔ اور ان میں سے یقیناً وہ بھی ہوتے ہیں جو اللہ کے خوف سے گرپڑتے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ غافل نہیں ہے اس سے کہ جو تم کر رہے ہو۔
2:75
۞أَفَتَطۡ مَعُونَ
کیاپھر تم امید رکھتے ہو
أَن
کہ
وہ ایمان لائیں گے
لَكُمۡ
تمہارے لئے
وَقَدۡ
حالانکہ تحقیق
كَانَ
ہے
فَرِيقٌ
ایک گروہ
ان میں سے
يَسۡمَعُونَ
وہ سنتا ہے
كَلَـٰ مَ
وہ سنتا ہے
اللہ کا
ثُمّ َ
پھر
يُحَرِّفُونَهُۥ
وہ تحریف کر ڈالتے ہیں اس کی
مِنۢ
بعد
مَا
اس کے جو
عَقَلُوهُ
سمجھ لیا انہوں نے اس کو
وَهُمۡ
اور وہ
يَعۡلَمُو نَ
٧٥وہ جانتے ہیں
تو کیا (اے مسلمانو !) تم یہ توقع رکھتے ہو کہ یہ تمہاری بات مان لیں گے ؟ جبکہ حال یہ ہے کہ ان میں ایک گروہ وہ بھی تھا کہ جو اللہ کا کلام سنتا تھا اور پھر خوب سمجھ بوجھ کر دانستہ اس میں تحریف کرتا تھا۔
2:76
وَإِذَا
اور جب
لَقُواۡ
وہ ملاقات کرتے ہیں
ان لوگوں سے
ءَامَنُواۡ
جو ایمان لائے
قَالُوٓ اۡ
وہ کہتے ہیں
ءَامَنّ َا
ہم ایمان لائے
وَإِذَا
اورجب
خَلَا
علیحدہ ہوتے ہیں
بَعۡضُهُمۡ
بعض ان کے
إِلَىٰ
طرف
بَعۡضٍ
بعض کے
وہ کہتے ہیں
أَتُحَدِّثُونَهُم
کیاتم باتیں بتاتے ہو ان کو
ساتھ اس کے جو
فَتَحَ
کھولا ہے
اللہ نے
عَلَيۡكُمۡ
اوپر تمہارے
لِيُحَا ٓجُّوكُم
تاکہ وہ جھگڑا کریں تم سے
ساتھ اس کے
عِند َ
پاس
رَبِّكُمۡۚ
تمہارے رب کے
أَفَلَا
کیا پھر نہیں
تَعۡقِلُو نَ
٧٦تم سمجھتے
اور (ان میں سے کچھ لوگ ہیں کہ) جب ملتے ہیں اہل ایمان سے تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے۔ اور جب وہ خلوت میں ہوتے ہیں ایک دوسرے کے ساتھ تو کہتے ہیں کیا تم بتا رہے ہو ان کو وہ باتیں جو اللہ نے کھولی ہیں تم پر ؟ تاکہ وہ ان کے ذریعے تم پر حجت قائم کریں تمہارے رب کے پاس ! کیا تمہیں عقل نہیں ہے ؟
2:77
أَوَلَا
کیا نہیں
يَعۡلَمُونَ
وہ جانتے
أَنّ َ
بیشک
اللہ
يَعۡلَمُ
وہ جانتا ہے
مَا
جو
يُسِرُّونَ
وہ چھپاتے ہیں
وَمَا
اور جو
يُعۡلِنُو نَ
٧٧وہ ظاہر کرتے ہیں
اور کیا یہ جانتے نہیں ہیں کہ اللہ کو تو معلوم ہے وہ سب کچھ بھی جو وہ چھپاتے ہیں اور وہ سب کچھ بھی جسے وہ ظاہر کرتے ہیں۔
2:78
وَمِنۡهُمۡ
اور ان میں سے کچھ
أُمّ ِيُّونَ
ان پڑھ ہیں
لَا
نہیں
يَعۡلَمُونَ
وہ جانتے
کتاب کو
إِلَّآ
سوائے
أَمَانِىَّ
خواہشات کے
وَإِنۡ
اورنہیں ہیں
هُمۡ
وہ
إِلَّا
مگر
يَظُنّ ُو نَ
٧٨وہ گمان رکھتے
اور ان میں بعض ان پڑھ ہیں وہ کتاب کا علم نہیں رکھتے سوائے بےبنیاد آرزوؤں کے اور وہ کچھ نہیں کر رہے مگر ظن وتخمین پر چلے جا رہے ہیں۔
2:79
فَوَيۡلٌ
پس ہلاکت ہے ان لوگوں کے لئے
ان لوگوں کے لئیے
يَكۡتُبُونَ
جو لکھتے ہیں
کتاب کو
بِأَيۡدِيهِمۡ
ساتھ اپنے ہاتھوں کے
ثُمّ َ
پھر
يَقُولُونَ
وہ کہتے ہیں
هَـٰ ذَا
یہ
مِنۡ
سے
عِند ِ
طرف
اللہ کے
لِيَشۡتَرُواۡ
تاکہ وہ لیں
بِهِۦ
بدلے اس کے
ثَمَنًا
قیمت
تھوڑی
پس ہلاکت ہے
ان کے لئے
اس سے جو
كَتَبَتۡ
لکھا
أَيۡدِيهِمۡ
ان کے ہاتھوں سے
وَوَيۡلٌ
اورہلاکت ہے
ان کے لئے
اس سے جو
يَكۡسِبُو نَ
٧٩وہ کماتے ہیں
پس ہلاکت اور بربادی ہے ان کے لیے جو کتاب لکھتے ہیں اپنے ہاتھ سے پھر کہتے ہیں یہ اللہ کی طرف سے ہے تاکہ حاصل کرلیں اس کے بدلے حقیر سی قیمت تو ہلاکت اور بربادی ہے ان کے لیے اس چیز سے کہ جو ان کے ہاتھوں نے لکھی اور ان کے لیے ہلاکت اور بربادی ہے اس کمائی سے جو وہ کر رہے ہیں
2:80
وَقَالُواۡ
اور وہ کہتے ہیں
لَن
ہرگز نہیں
چھوئے گی ہم کو
آگ
إِلَّآ
مگر
أَيَّامًا
دن
گنتی کے / گنے چنے
کہ دیجئے
أَتَّخَذۡتُمۡ
کیا تم نے لے رکھا ہے
عِند َ
پاس سے
اللہ کے
عَهۡدًا
کوئی عہد
تو ہرگز نہیں
خلاف کرے گا
اللہ
عَهۡدَهُۥٓۖ
اپنے عہد کے
أَمۡ
یا
تَقُولُونَ
تم کہتے ہو
عَلَى
اوپر
اللہ کے
مَا
جو
لَا
نہیں
تَعۡلَمُو نَ
٨٠تم جانتے
اور وہ کہتے ہیں ہمیں تو آگ ہرگز چھو نہیں سکتی مگر گنتی کے چند دن ان سے کہیے کیا تم نے اللہ سے کوئی عہد لے لیا ہے کہ اب (تمہیں یہ یقین ہے کہ) اللہ اپنے عہد کے خلاف نہیں کرے گا ؟ یا تم اللہ کے ّ ذمے وہ باتیں لگا رہے ہو جنہیں تم نہیں جانتے ؟
2:81
بَلَىٰ
کیوں نہیں
مَن
جس نے
کمایا
سَيِّئَةً
برائی کو
احاطہ کیا / گھیر لیا
بِهِۦ
اس کو
خَطِيٓ ــَٔتُهُۥ
اس کی خطا نے
فَأُوۡ لَـٰٓ ئِكَ
تو یہی لوگ
أَصۡحَـٰ بُ
ساتھی ہیں
آگ کے
هُمۡ
وہ
فِيهَا
اس میں
خَـٰ لِدُو نَ
٨١ہمیشہ رہنے والے ہیں
کیوں نہیں جس شخص نے جان بوجھ کر ایک گناہ کمایا اور اس کا گھیراؤ کرلیا اس کے گناہ نے پس یہی ہیں آگ والے وہ اسی میں ہمیشہ رہیں گے۔
2:82
وَٱ لَّذِينَ
اور وہ لوگ
ءَامَنُواۡ
جو ایمان لائے
وَعَمِلُواۡ
اور انہوں نے عمل کئے
اچھے / نیک
أُوۡ لَـٰٓ ئِكَ
تو یہی لوگ
أَصۡحَـٰ بُ
ساتھی ہیں
جنت کے
هُمۡ
وہ
فِيهَا
اس میں
خَـٰ لِدُو نَ
٨٢ہمیشہ رہنے والے ہیں
اور (اس کے برعکس) جو لوگ ایمان لائیں اور نیک عمل کریں یہی ہیں جنت والے وہ اسی میں ہمیشہ ہمیش رہیں گے۔
2:83
وَإِذۡ
اور جب
أَخَذۡنَا
لیا ہم نے
مِيثَـٰ قَ
پکا عہد
بَنِىٓ
بنی
إِسۡرٰ ٓءِيلَ
اسرائیل سے
لَا
نہ
تَعۡبُدُونَ
تم عبادت کرو گے
إِلَّا
مگر
اللہ کی
وَبِٱ لۡوٰ لِدَيۡنِ
اور ساتھ والدین کے
إِحۡسَانًا
احسان (کروگے)
اور رشتہ داروں
وَٱ لۡيَتَـٰ مَىٰ
اور یتیموں
وَٱ لۡمَسَـٰ كِينِ
اور مسکینوں (کے ساتھ بھی)
وَقُولُواۡ
اورکہو (گے)
لِلنّ َاسِ
لوگوں سے
حُسۡنًا
خوبصورت (بات)
اور قائم کرو (گے)
نماز کو
وَءَاتُواۡ
اور ادا کرو (گے)
زکوٰۃ کو
ثُمّ َ
پھر
تَوَلَّيۡتُمۡ
منہ موڑ لیا تم نے
إِلَّا
مگر
قَلِيلاً
بہت کم
تم میں سے
وَأَنت ُم
اور تم(ہو ہی)
اعراض کرنے والے
اور یاد کرو جب ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا تھا کہ تم نہیں عبادت کرو گے کسی کی سوائے اللہ کے اور والدین کے ساتھ نیک سلوک کرو گے اور قرابت داروں کے ساتھ بھی (نیک سلوک کرو گے اور یتیموں کے ساتھ بھی اور محتاجوں کے ساتھ بھی اور لوگوں سے اچھی بات کہو اور نماز قائم رکھو اور زکوٰۃ ادا کرو پھر تم (اس سے) پھرَ گئے سوائے تم میں سے تھوڑے سے لوگوں کے اور تم ہو ہی پھرجانے والے
2:84
وَإِذۡ
اور جب
أَخَذۡنَا
لیا ہم نے
مِيثَـٰ قَكُمۡ
پختہ عہد تم سے
لَا
نہ
تَسۡفِكُونَ
تم بہاؤ گے
دِمَا ٓءَكُمۡ
خون اپنے
وَلَا
اورنہ
تُخۡرِجُونَ
تم نکالو گے
أَنف ُسَكُم
اپنی جانوں کو / اپنے لوگوں کو
سے
اپنے گھروں
ثُمّ َ
پھر
أَقۡ رَرۡتُمۡ
اقرار کیا تم نے
وَأَنت ُمۡ
اور تم
تَشۡهَدُو نَ
٨٤تم گواہ ہو
اور جب ہم نے تم سے یہ عہد بھی لیا تھا کہ تم اپنا خون نہیں بہاؤ گے اور نہ ہی تم نکالو گے اپنے لوگوں کو ان کے گھروں سے پھر تم نے اس کا اقرار کیا تھا مانتے ہوئے
2:85
ثُمّ َ
پھر
أَنت ُمۡ
تم
هَـٰٓ ؤُلَا ٓءِ
وہ لوگ ہو
تَقۡ تُلُونَ
تم قتل کر ڈالتے ہو
أَنف ُسَكُمۡ
اپنے لوگوں کو
وَتُخۡرِجُونَ
اور تم نکال دیتے ہو
فَرِيقًا
ایک گروہ کو
تم میں سے
سے
ان کے گھروں
تَظَـٰ هَرُونَ
تم غلبہ پاتے ہو/ تم چڑھائی کرتے ہو
عَلَيۡهِم
اوپر ان کے
ساتھ گناہ کے
وَٱ لۡعُدۡ وٰ نِ
اور زیادتی کے
وَإِن
اور اگر
وہ آجائیں تمہارے پاس
أُسَـٰ رَىٰ
قیدی (بن کر)
تُفَـٰ دُوهُمۡ
تم فدیہ لیتے ہو ان سے
وَهُوَ
حالانکہ وہ
مُحَرَّمٌ
حرام کیا گیا تھا
عَلَيۡكُمۡ
اوپر تمہارے
إِخۡرَاجُهُمۡۚ
نکالنا ان کو
أَفَتُؤۡمِنُونَ
کیا پھر تم مانتے ہو
بِبَعۡضِ
ساتھ بعض
کتاب کے
وَتَكۡفُرُونَ
اور تم انکار کرتے ہو
بِبَعۡضٍۚ
ساتھ بعض کے
تو نہیں
جَزَا ٓءُ
جزا ہوگی ( اس کی)
مَن
جو کوئی
کرتا ہے
ذٰ لِكَ
یہ
مِنك ُمۡ
تم میں سے
إِلَّا
سوائے
خِزۡىٌ
رسوائی
میں
زندگی
دنیا کی
وَيَوۡمَ
اور دن
قیامت کے
يُرَدُّونَ
وہ لوٹائے جائیں گے
إِلَىٰٓ
طرف
أَشَدِّ
شدید ترین
عذاب کے
وَمَا
اور نہیں
اللہ
بِغَـٰ فِلٍ
غافل
عَمّ َا
ا سے جو
تَعۡمَلُو نَ
٨٥تم عمل کرتے ہو
پھر تم ہی وہ لوگ ہو کہ اپنے ہی لوگوں کو قتل بھی کرتے ہو اور اپنے ہی لوگوں میں سے کچھ کو ان کے گھروں سے نکال دیتے ہو ان پر چڑھائی کرتے ہو گناہ اور ظلم و زیادتی کے ساتھ اور اگر وہ قیدی بن کر تمہارے پاس آئیں تو تم فدیہ دے کر انہیں چھڑاتے ہو حالانکہ ان کا نکال دیناہی تم پر حرام کیا گیا تھا تو کیا تم کتاب کے ایک حصے کو مانتے ہو اور ایک کو نہیں مانتے ؟ تو نہیں ہے کوئی سزا اس کی جو یہ حرکت کرے تم میں سے سوائے ذلتّ و رسوائی کے دنیا کی زندگی میں۔ اور قیامت کے روز وہ لوٹا دیے جائیں گے شدید ترین عذاب کی طرف۔ اور اللہ تعالیٰ غافل نہیں ہے اس سے جو تم کر رہے ہو۔
2:86
أُوۡ لَـٰٓ ئِكَ
یہی لوگ
وہ لوگ ہیں
جنہوں نے خرید لی
زندگی
دنیا کی
بِٱ لۡأَخِرَةِۖ
بدلے آخرت کے
فَلَا
تو نہ
يُخَفَّفُ
ہلکا کیا جائے گا
عَنۡهُمُ
ان سے
عذاب
وَلَا
اور نہ
هُمۡ
وہ
يُنص َرُو نَ
٨٦مدد کئے جائیں گے
یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے دنیا کی زندگی اختیار کرلی ہے آخرت کو چھوڑ کر سو اب نہ تو ان سے عذاب ہلکا کیا جائے گا اور نہ ہی ان کی کوئی مدد کی جائے گی
2:87
وَلَقَدۡ
اور البتہ تحقیق
ءَاتَيۡنَا
دی ہم نے
مُوسَى
موسیٰ کو
کتاب
وَقَفَّيۡنَا
اور پے در پے بھیجے ہم نے
مِنۢ
اس کے پیچھے / بعد
بِٱ ل رُّسُلِۖ
رسول
وَءَاتَيۡنَا
اور دیں ہم نے
عِيسَى
عیسیٰ
ابن
مَرۡيَمَ
مریم کو
روشن نشانیاں
وَأَيَّدۡ نَـٰ هُ
اور قوت دی ہم نے اس کو / تائید کی ہم نے اس کی
بِرُوحِ
ساتھ روح
پاک کے
أَفَكُلَّمَا
کیا بھلا جب کبھی
جَا ٓءَكُمۡ
لایا تمہارے پاس
رَسُولُۢ
کوئی رسول
ساتھ اس کے جو
لَا
نہیں
تَهۡوَىٰٓ
چاہتے تھے (اسے)
أَنف ُسُكُمُ
تمہارے دل
تکبر کیا تم نے
فَفَرِيقًا
تو ایک گروہ کو
جھٹلایا تم نے
وَفَرِيقًا
اور گروہ کو
تم قتل کرتے رہے
اور ہم نے موسیٰ کو کتاب دی (یعنی تورات) اور اس کے بعد پے در پے رسول بھیجے۔ اور ہم نے عیسیٰ ابن مریم کو بڑی واضح نشانیاں دیں اور ہم نے مدد کی ان کی روح القدس کے ساتھ پھر بھلا کیا جب بھی آیا تمہارے پاس کوئی رسول وہ چیز لے کر جو تمہاری خواہشات نفس کے خلاف تھی تو تم نے تکبر کیا) پھر ایک جماعت کو تم نے جھٹلایا اور ایک جماعت کو قتل کردیا
2:88
وَقَالُواۡ
اور انہوں نے کہا
قُلُوبُنَا
ہمارے دلوں (پر)
غُلۡفُۢۚ
غلاف ہیں
(نہیں) بلکہ
لَّعَنَهُمُ
لعنت کی ہے ان پر
اللہ نے
بِكُفۡرِهِمۡ
بوجہ ان کے کفر کے
فَقَلِيلاً
تو کتنا تھوڑا ہے
جو
يُؤۡمِنُو نَ
٨٨وہ ایمان لاتے ہیں
اور انہوں نے کہا کہ ہمارے دل تو غلافوں میں بند ہیں بلکہ (حقیقت میں تو) ان پر لعنت ہوچکی ہے اللہ کی طرف سے ان کے کفر کی وجہ سے پس اب کم ہی (ہوں گے ان میں سے جو) ایمان لائیں گے
2:89
وَلَمّ َا
اور جب
جَا ٓءَهُمۡ
آگئی ان کے پاس
كِتَـٰ بٌ
کتاب
سے
عِند ِ
پاس
اللہ کے
مُصَدِّقٌ
جو تصدیق کرنے والی ہے
واسطے اس کے جو
مَعَهُمۡ
پاس ہے ان کے
وَكَانُواۡ
حالانکہ تھے وہ
مِن
سے
پہلے/ قبل
يَسۡتَفۡتِحُونَ
فتح کی دعائیں کرتے تھے
عَلَى
خلاف
ان لوگوں کے
كَفَرُواۡ
جنہوں نے کفر کیا
فَلَمّ َا
تو جب
جَا ٓءَهُم
آگیا ان کے پاس
جو
عَرَفُواۡ
انہوں نے پہچان لیا
كَفَرُواۡ
انہوں نے کفر کیا
بِهِۦ ۚ
ساتھ اس کے
فَلَعۡنَةُ
تو لعنت ہو
اللہ کی
عَلَى
اوپر
کافروں کے
اور جب آگئی ان کے پاس ایک کتاب (یعنی قرآن) اللہ کے پاس سے اور وہ پہلے سے کفار کے مقابلے میں فتح کی دعائیں مانگا کرتے تھے۔ پھر جب ان کے پاس آگئی وہ چیز جسے انہوں نے پہچان لیا تو وہ اس کے منکر ہوگئے پس اللہ کی لعنت ہے ان منکرین پر
2:90
بِئۡسَمَا
کتنا برا ہے جو
بیچ ڈالا انہوں نے
بِهِۦٓ
بدلے اس کے
أَنف ُسَهُمۡ
اپنے نفسوں کو
أَن
یہ کہ
انہوں نے کفر کیا
بِمَآ
ساتھ اس کے جو
أَنز َلَ
نازل کیا
اللہ نے
بَغۡيًا
ضد ( کیوجہ سے)
أَن
یہ کہ
نازل کرتا ہے
اللہ
مِن
سے
اپنے فضل
عَلَىٰ
اوپر
مَن
جس کے
وہ چاہتا ہےس
مِنۡ
سے
عِبَادِهِۦ ۖ
اپنے بندوں میں سے
فَبَا ٓءُو
تو وہ لوٹے / چلے آئے
بِغَضَبٍ
ساتھ غضب کے
عَلَىٰ
اوپر
غَضَبٍۚ
غضب کے
اور کافروں کے لئے
عَذَابٌ
عذاب ہے
سوا کن / ذلیل کرنے والا
بہت بری شے ہے جس کے عوض انہوں نے اپنی جانوں کو فروخت کردیا کہ وہ انکار کر رہے ہیں اس ہدایت کا جو اللہ نے نازل کی ہے صرف اس ضد کی بنا پر کہ اللہ تعالیٰ نازل فرماتا ہے اپنے فضل (وحی و رسالت) میں سے اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے۔ تو وہ لوٹے غضب پر غضب لے کر اور ایسے کافروں کے لیے سخت ذلتّ آمیز عذاب ہے
2:91
وَإِذَا
اور جب
قِيلَ
کہا جاتا ہے
لَهُمۡ
ان کو
ءَامِنُواۡ
ایمان لاؤ
بِمَآ
ساتھ اس کے جو
أَنز َلَ
نازل کیا
اللہ نے
قَالُواۡ
وہ کہتے ہیں
نُؤۡمِنُ
ہم ایمان لائیں گے
بِمَآ
ساتھ اس کے جو
أُنز ِلَ
نازل کیا گیا
عَلَيۡنَا
ہم پر
وَيَكۡفُرُونَ
اور وہ کفر کرتے ہیں
بِمَا
ساتھ اس کے جو
وَرَا ٓءَهُۥ
اس کے علاوہ ہے
وَهُوَ
حالانکہ وہ
حق ہے
مُصَدِّقًا
تصدیق کرنے والا ہے
واسطے اس کے جو
مَعَهُمۡۗ
ان کے پاس ہے
قُلۡ
کہہ دو
فَلِمَ
تو کیوں
تَقۡ تُلُونَ
تم قتل کرتے رہے ہو
أَنۢب ِيَا ٓءَ
نبیوں کو
اللہ کے
مِن
اس سے
پہلے
إِن
اگر
ہو تم
ایمان لانے والے
اور جب ان سے کہا جاتا ہے ایمان لاؤ اس پر جو اللہ نے نازل فرمایا ہے تو کہتے ہیں ہم ایمان رکھتے ہیں اس پر جو ہم پر نازل ہوا اور وہ کفر کر رہے ہیں اس کا جو اس کے پیچھے ہے حالانکہ وہ حق ہے تصدیق کرتے ہوئے آیا ہے اس کی جو ان کے پاس ہے) (اے نبی ﷺ ! ان سے) کہیے : تو پھر تم کیوں قتل کرتے رہے ہو اللہ کے نبیوں کو اس سے پہلے اگر تم واقعتا ایمان رکھنے والے ہو
2:92
۞وَلَقَدۡ
اور البتہ تحقیق
جَا ٓءَكُم
آئے تمہارے پاس
موسیٰ
بِٱ لۡبَيِّنَـٰ تِ
ساتھ روشن نشانیوں کے
ثُمّ َ
پھر
بنا لیا تم نے
بچھڑے کو ( معبود)
مِنۢ
پیچھے / بعد اس کے (موسیٰ )
وَأَنت ُمۡ
اور تم
ظَـٰ لِمُو نَ
٩٢ظالم (مشرک)
) اور آ چکے تمہارے پاس موسیٰ ؑ صریح معجزے اور واضح تعلیمات لے کر ٖ) پھر تم نے اس کی غیر حاضری میں بچھڑے کو اپنا معبود بنا لیا) اور تم ظالم ہو
2:93
وَإِذۡ
اور جب
أَخَذۡنَا
لیا ہم نے
مِيثَـٰ قَكُمۡ
پکا وعدہ تم سے
وَرَفَعۡنَا
اور بلند کیا تم نے
فَوۡقَكُمُ
اوپر تمہارے
طور کو
خُذُواۡ
پکڑو / لے لو
مَآ
جو
ءَاتَيۡنَـٰ كُم
دیا ہم نے تم کو
ساتھ قوت کے
اور سنو
قَالُواۡ
انہوں نے کہا
سَمِعۡنَا
سنا ہم نے
وَعَصَيۡنَا
اور نافرمانی کی ہم نے
وَأُشۡرِبُواۡ
اوروہ پلادیئے گئے
فِى
میں
قُلُوبِهِمُ
اپنے دلوں
بچھڑے کو (کی محبت)
بِكُفۡرِهِمۡۚ
اپنے کفر کی وجہ سے
قُلۡ
کہ دیجئے
بِئۡسَمَا
کتنا برا ہے جو
يَأۡمُرُكُم
حکم دیتا ہے تم کو
ساتھ اس (کفر) کے
إِيمَـٰ نُكُمۡ
ایمان تمہارا
إِن
اگر
ہو تم
مومن
اور یاد کرو جبکہ ہم نے تم سے عہد لیا تھا اور تمہارے اوپر کوہ طور کو معلق کردیا تھا پکڑو اس کو جو ہم نے تم کو دیا ہے مضبوطی کے ساتھ اور سنو ! انہوں نے کہا ہم نے سنا اور نافرمانی کی اور پلا دی گئی ان کے دلوں میں بچھڑے کی محبت ان کے اس کفر کی پاداش میں کہیے : بہت ہی بری ہیں یہ باتیں جن کا حکم دے رہا ہے تمہیں تمہارا ایمان اگر تم مؤمن ہو
2:94
قُلۡ
کہہ دیجئے
إِن
اگر
ہے
لَكُمُ
تمہارے لئے
دار
آخرت
عِند َ
پاس
اللہ کے
خَالِصَةً
خالص ( خاص طور پر)
سے
سوائے
لوگوں کے
فَتَمَنّ َوُاۡ
تو تمنا کرو
موت کی
إِن
اگر
ہو تم
صَـٰ دِقِي نَ
٩٤سچے
(اے نبی ﷺ ! ان سے) کہیے : اگر تمہارے لیے آخرت کا گھر اللہ کے پاس خالص کردیا گیا ہے دوسرے لوگوں کو چھوڑ کرتب تو تمہیں موت کی تمنا کرنی چاہیے اگر تم (اپنے اس خیال میں) سچے ہو
2:95
وَلَن
اور ہرگز نہیں
وہ تمنا کریں گے اس کی
أَبَدَۢا
کبھی بھی
بوجہ اس کے جو
قَدَّمَتۡ
اگے بھیجا
أَيۡدِيهِمۡۗ
ان کے ہاتھوں کے
وَٱ للَّهُ
اوراللہ
عَلِيمُۢ
خوب جاننے والا ہے
ظالموں کو
اور یہ ہرگز آرزو نہیں کریں گے موت کی بسبب ان کرتوتوں کے جو ان کے ہاتھوں نے آگے بھیجے ہوئے ہیں اور اللہ ان ظالموں سے بخوبی واقف ہے
2:96
وَلَتَجِدَنّ َهُمۡ
اور البتہ تم ضرور پاؤ گے ان کو
أَحۡرَصَ
حریص ترین
لوگوں میں سے
عَلَىٰ
اوپر
حَيَو ٰ ةٍ
زندگی گے / زندہ رہنے کے
اورمیں سے
ان لوگوں کے
أَشۡرَكُواۡۚ
جنہوں نے شرک کیا
يَوَدُّ
دل سے چاہتا ہے
أَحَدُهُمۡ
ہر ایک ان کا
لَوۡ
کاش
يُعَمّ َرُ
وہ عمر دے دیا جائے
أَلۡفَ
ہزار
سَنَةٍ
سال
اورجو
هُوَ
وہ
بِمُزَحۡزِحِهِۦ
بچانے والی اس کو
مِنَ
پیچھے
عذاب
أَن
اگرچہ
وہ عمر دیا جائے
وَٱ للَّهُ
اور اللہ
بَصِيرُۢ
دیکھنے والا ہے
اس کو جو
يَعۡمَلُو نَ
٩٦وہ عمل کرتے ہیں
اور تم انہیں پاؤ گے تمام انسانوں سے زیادہ حریص اس (دنیا کی) زندگی پر حتیٰ کہ مشرکوں سے بھی زیادہ حریص ان میں سے ہر ایک کی یہ خواہش ہے کہ کسی طرح اس کی عمر ہزار برس ہوجائے حالانکہ نہیں ہے اس کو بچانے والا عذاب سے اس قدر جینا) اور اللہ دیکھ رہا ہے جو کچھ یہ کر رہے ہیں
2:97
قُلۡ
کہہ دیجئے
مَن
جو
ہے
عَدُوًّا
دشمن
جبرئیل کا
فَإِنّ َهُۥ
تو بیشک وہ ہے
نَزَّلَهُۥ
اس نے نازل کیا اس کو
عَلَىٰ
اوپر
قَلۡبِكَ
تیرے دل کے
بِإِذۡنِ
ساتھ اذن
اللہ کے
مُصَدِّقًا
وہ تصدیق کرنے والا ہے
واسطے اس کے جو
بَيۡنَ
درمیان
يَدَيۡهِ
اس کے ہاتھوں کے
وَهُدًى
اور ہدایت
اور خوش خبری
لِلۡمُؤۡمِنِي نَ
٩٧مومنین کے لئیے
(اے نبی ﷺ !) کہہ دیجیے جو کوئی بھی دشمن ہو جبرائیل ؑ کا تو (وہ یہ جان لے کہ) اس نے تو نازل کیا ہے اس قرآن کو آپ ﷺ کے دل پر اللہ کے حکم سے یہ تصدیق کرتے ہوئے آیا ہے اس کلام کی جو اس کے سامنے موجود ہے اور ہدایت اور بشارت ہے اہل ایمان کے لیے
2:98
مَن
جو
ہے
عَدُوًّا
دشمن
اللہ کا
وَمَلَـٰٓ ئِكَتِهِۦ
اس کے فرشتوں کا
وَرُسُلِهِۦ
اور اس کے رسولوں کا
وَجِبۡ رِيلَ
اورجبرئیل کا
وَمِيكَـٰ لَ
اورمیکائیل کا
فَإِنّ َ
تو بیشک
اللہ تعالیٰ
عَدُوٌّ
دشمن ہے
کافروں کا
) (تو کان کھول کر سن لو) جو کوئی بھی دشمن ہے اللہ کا اور اس کے فرشتوں کا اور اس کے رسولوں کا اور جبرائیل اور میکائیل کا تو (اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھی اعلان ہے کہ) اللہ ایسے کافروں کا دشمن ہے۔
2:99
وَلَقَدۡ
اور البتہ تحقیق
أَنز َلۡنَآ
نازل کیں ہم نے
إِلَيۡكَ
طرف آپ کے
ءَايَـٰ تِۭ
آیات
روشن
اورنہیں
يَكۡفُرُ
کفر کرتے
بِهَآ
ساتھ ان کے
إِلَّا
مگر
وہ جو فاسق ہیں
اور (اے نبی ﷺ ہم نے آپ ﷺ کی طرف نازل کردی ہیں روشن آیات اور انکار نہیں کرتے ان کا مگر وہی جو سرکش ہیں
2:100
أَوَكُلَّمَا
کیاجب کبھی
عَـٰ هَدُواۡ
عہد کیا انہوں نے
عَهۡدًا
کوئی عہد
پیچھے پھینک
فَرِيقٌ
ایک گروہ نے
ان میں سے
بلکہ
أَكۡثَرُهُمۡ
اکثر ان میں سے
لَا
نہیں
يُؤۡمِنُو نَ
١٠٠وہ ایمان لاتے
تو کیا (ہمیشہ ایسا ہی نہیں ہوتا رہا ہے کہ) جب کبھی بھی انہوں نے کوئی عہد کیا ان میں سے ایک گروہ نے اسے اٹھا کر پھینک دیا بلکہ ان میں سے اکثر ایسے ہیں جو یقین نہیں رکھتے
2:101
وَلَمّ َا
اور جب
جَا ٓءَهُمۡ
آگیا ان کے پاس
رَسُولٌ
ایک رسول
سے
عِند ِ
پاس سے
اللہ کے
مُصَدِّقٌ
جو تصدیق کرنے والا ہے
واسطے اس چیز کے جو
مَعَهُمۡ
ان کے پاس سے
نَبَذَ
پھینک دیا
فَرِيقٌ
ایک گروہ نے
سے
ان لوگوں میں
أُوتُواۡ
جو دیئے گئے
کتاب
كِتَـٰ بَ
کتاب
اللہ کی
وَرَا ٓءَ
پیچھے
ظُهُورِهِمۡ
اپنے پیٹھوں کے
كَأَنّ َهُمۡ
گویا کہ وہ
لَا
نہیں
يَعۡلَمُو نَ
١٠١وہ جانتے
اور جب آیا ان کے پاس اللہ کی طرف سے ایک رسول (یعنی محمد ﷺ تصدیق کرنے والا اس کتاب کی جو ان کے پاس موجود ہے تو اہل کتاب میں سے ایک جماعت نے اللہ کی کتاب کو پیٹھوں کے پیچھے پھینک دیا گویا کہ وہ جانتے ہی نہیں
2:102
وَٱ تَّبَعُواۡ
اور پیچھے پڑگئے / پیروی کرنے لگے
مَا
اس کی جو
تَتۡلُواۡ
پڑھتے تھے
شیطان
عَلَىٰ
اوپر
مُلۡكِ
بادشاہت
سُلَيۡمَـٰ نَۖ
سلیمان کی
وَمَا
حالانکہ نہیں
كَفَرَ
کفر کیا تھا
سُلَيۡمَـٰ نُ
سلیمان نے
وَلَـٰ كِنّ َ
بلکہ / لیکن
شیاطین نے
كَفَرُواۡ
کفر کیا تھا
يُعَلِّمُونَ
وہ تعلیم دیتے تھے
لوگوں کو
جادو کی
وَمَآ
اور اس کی جو
أُنز ِلَ
نازل کیا گیا تھا
عَلَى
اوپر
دو فرشتوں کے
بِبَابِلَ
بابل میں
هَـٰ رُوتَ
ہاروت
وَمَـٰ رُوتَۚ
اور ماروت ( پر)
وَمَا
اورنہیں
يُعَلِّمَانِ
وہ دونوں سکھاتے تھے
مِنۡ
اور
أَحَدٍ
کسی ایک کو
حَتَّىٰ
یہاں تک کہ
يَقُولَآ
وہ دونوں کہتے
إِنّ َمَا
بیشک
نَحۡنُ
ہم
فِتۡنَةٌ
آزمائش ہیں/ فتنہ ہیں
تو نہ
تَكۡفُرۡۖ
تم کفر کرو
فَيَتَعَلَّمُونَ
تو وہ سیکھتے تھے
مِنۡهُمَا
ان دونوں سے
مَا
اس کو جو
يُفَرِّقُونَ
وہ تفریق ڈال دیں
بِهِۦ
ساتھ اس کے
بَيۡنَ
درمیان
شوہر کے
وَزَوۡجِهِۦ ۚ
اور اس کی بیوی کے
وَمَا
حالانکہ نہیں تھے
هُم
وہ
نقصان دینے والے / ضرر پہنچانے والے
بِهِۦ
ساتھ اس کے
مِنۡ
سے
أَحَدٍ
کسی ایک کو
إِلَّا
مگر
بِإِذۡنِ
ساتھ اذن
اللہ کے
وَيَتَعَلَّمُونَ
اور وہ سیکھتے تھے
مَا
وہ جو
يَضُرُّهُمۡ
نقصان دیتا تھا ان کو
وَلَا
اور نا
يَنف َعُهُمۡۚ
نفع دیتا ان کو
وَلَقَدۡ
اور البتہ تحقیق
عَلِمُواۡ
وہ جانتے تھے
لَمَنِ
البتہ جو بھی
خریدے گا اس کو
مَا
نہیں ہے
لَهُۥ
اس کے لئیے
فِى
میں
آخرت
مِنۡ
سے
خَلَـٰ قٍۚ
کوئی حصہ
اور البتہ کتنا برا تھا
مَا
جو
شَرَوۡاۡ
انہوں بیچ ڈالا
بِهِۦٓ
سساتھ اس کے
أَنف ُسَهُمۡۚ
اپنی جانوں کو
لَوۡ
کاش
كَانُواۡ
وہ ہوتے
يَعۡلَمُو نَ
١٠٢وہ جانتے
انہوں نے پیروی کی اس علم کی جو شیاطین پڑھا کرتے تھے سلیمان ؑ کی بادشاہت کے وقت وہ لوگوں کو جادو سکھاتے تھے اور (وہ اس علم کے پیچھے پڑے) جو نازل کیا گیا دو فرشتوں ہاروت اور ماروت پر بابل میں اور وہ نہیں سکھاتے تھے کسی کو بھی یہاں تک کہ وہ کہہ دیتے تھے کہ دیکھو ہم تو آزمائش کے لیے بھیجے گئے ہیں پس تم کفر مت کرو) پھر وہ سیکھتے تھے ان دونوں سے وہ شے جن کے ذریعے سے آدمی اور اس کی بیوی کے درمیان جدائی ڈالتے تھے اور نہیں تھے وہ ضرر پہنچانے والے اس کے ذریعے کسی کو بھی اللہ کے اذن کے بغیر اور وہ سیکھتے تھے وہ چیزیں جو خود ان کو بھی ضرر پہنچانے والی تھیں اور انہیں نفع نہیں پہنچاتی تھیں۔ حالانکہ وہ خوب جان چکے تھے کہ جو بھی اس چیز کا خریدار بنا (یعنی جادو سیکھا) اس کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہے اور بہت ہی بری تھی وہ چیز جس کے بدلے انہوں نے اپنے آپ کو فروخت کردیا کاش انہیں علم ہوتا
2:103
وَلَوۡ
اور اگر
أَنّ َهُمۡ
بیشک وہ
ءَامَنُواۡ
وہ ایمان لاتے
وَٱ تَّقَوۡاۡ
اورتقویٰ اختیار کرتے
لَمَثُوبَةٌ
البتہ بدلہ پاتے / ثواب پاتے
سے
عِند ِ
پاس
اللہ کے
خَيۡرٌۖ
اچھا / بہتر
کاش
كَانُواۡ
وہ ہوتے
يَعۡلَمُو نَ
١٠٣وہ جانتے
اور اگر وہ ایمان رکھتے اور تقویٰ کی روش اختیار کرتے تو بدلہ پاتے اللہ کی طرف سے بہت ہی اچھا۔ کاش ان کو معلوم ہوتا !
2:104
يَـٰٓ أَيُّهَا
اے
لوگو !
ءَامَنُواۡ
جو ایمان لائے ہو
لَا
نہ
تَقُولُواۡ
تم کہو
رٰ عِنَا
راعنا / ہماری رعایت کیجئے
وَقُولُواۡ
بلکہ کہو
ہماری طرف نظر کیجئے
وَٱ سۡمَعُواۡۗ
اور سنا کرو
وَلِلۡكَـٰ فِرِينَ
اورکافروں کے لئے
عَذَابٌ
عذاب ہے
أَلِي مٌ
١٠٤دردناک
اے ایمان والو تم راعِنَا مت کہا کرو بلکہ اُنْظُرْنَا کہا کرو اور توجہّ سے بات کو سنو ! اور ان کافروں کے لیے دردناک عذاب ہے
2:105
مَّا
نہیں
يَوَدُّ
چاہتے دلی طور پر
وہ لوگ
كَفَرُواۡ
جنہوں نے کفر کیا
مِنۡ
سے
أَهۡلِ
اہل
کتاب
وَلَا
اور نا
وہ جو مشرک ہیں
أَن
یہ کہ
نازل کی جائے
عَلَيۡكُم
اوپر تمہارے
خَيۡرٍ
کوئی بھلائی
اللہ
تمہارے رب کی طرف سے
وَٱ للَّهُ
اور اللہ
يَخۡتَصُّ
خاص کرلیتا ہے
بِرَحۡمَتِهِۦ
اپنی رحمت کے ساتھ
مَن
جس کو
وہ چاہتا ہے
وَٱ للَّهُ
اور اللہ
ذُو
فضل والا ہے
بڑے
اور نہیں چاہتے وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا ہے اہل کتاب میں سے اور مشرکین میں سے کہ نازل ہو تم پر کوئی بھی خیر تمہارے رب کی طرف سے اور اللہ خاص کرلیتا ہے اپنی رحمت کے ساتھ جس کو چاہتا ہے اور اللہ تعالیٰ بڑے فضل والا ہے
2:106
۞مَا
نہیں
نَنس َخۡ
ہم منسوخ کرتے ہیں
مِنۡ
سے
ءَايَةٍ
کوئی آیت
أَوۡ
یا
نُنس ِهَا
ہم بھلا دیتے ہیں اس کو / محو کردیتے ہیں اس کو / مؤخر کردیتے ہیں اس کو
نَأۡتِ
ہم لے آتے ہیں
بِخَيۡرٍ
بہتر
اس سے
أَوۡ
یا
مِثۡلِهَآۗ
اس جیسی
أَلَمۡ
کیا
تَعۡلَمۡ
نہیں تم جانتے
أَنّ َ
بیشک
اللہ
عَلَىٰ
اوپر
كُلِّ
ہر
شَىۡءٍ
چیز کے
قدرت رکھنے والا ہے
جو بھی ہم منسوخ کرتے ہیں کوئی آیت یا اسے بھلا دیتے ہیں تو ہم (اس کی جگہ پر) لے آتے ہیں اس سے بہتر یا (کم از کم) ویسی ہی کیا تم یہ نہیں جانتے کہ اللہ ہر شے پر قدرت رکھتا ہے ؟
2:107
أَلَمۡ
کیا
تَعۡلَمۡ
نہیں تم جانتے
أَنّ َ
بیشک
اللہ
لَهُۥ
اس کے لئے ہے
مُلۡكُ
بادشاہت
آسمانوں کی
وَٱ لۡأَرۡضِۗ
اور زمین کی
وَمَا
اور نہیں
لَكُم
تمہارے لئے
سے
سوائے
اللہ کے
مِن
کوئی
دوست
اور نا
نَصِي رٍ
١٠٧کوئی مددگار
کیا تم نہیں جانتے کہ اللہ ہی کے لیے بادشاہی ہے آسمانوں کی اور زمین کی ؟ اور نہیں ہے تمہارے لیے اللہ کے سوا کوئی بھی حمایتی اور نہ کوئی مددگار
2:108
أَمۡ
یا
تُرِيدُونَ
تم چاہتے ہو
أَن
کہ
تم سوال کرو
رَسُولَكُمۡ
اپنے رسول سے
كَمَا
جیسا کہ
سُئِلَ
سوال کئے گئے
مُوسَىٰ
موسیٰ
مِن
اس سے
قبل
وَمَن
اور جو کوئی
بدل کرلے گا
کفر کو
بِٱ لۡإِيمَـٰ نِ
بدلے ایمان کے
فَقَدۡ
تو تحقیق
ضَلَّ
وہ بھٹک گیا
سَوَا ٓءَ
سیدھے
راستے سے
کیا تم مسلمان بھی یہ چاہتے ہو کہ سوالات (اور مطالبے) کرو اپنے رسول ﷺ سے اسی طرح جیسے اس سے پہلے موسیٰ ؑ سے کیے جا چکے ہیں ؟ اور جو کوئی ایمان کے بدلے کفر لے لے گا وہ تو بھٹک چکا سیدھی راہ سے۔
2:109
وَدَّ
چاہتے ہیں
كَثِيرٌ
بہت سے
سے
أَهۡلِ
اہل
کتاب میں
لَوۡ
کاش
يَرُدُّونَكُم
وہ لوٹادیں تمہیں / وہ پھیرا دیں تمہیں
سے
بعد
إِيمَـٰ نِكُمۡ
ایمان کے تمہارے
كُفَّارًا
کافر بنا کر
حَسَدًا
حسد (کی وجہ سے)
سے
عِند ِ
پاس
أَنف ُسِهِم
ان کے نفسوں کے
سے
بعد اس کے
مَا
جو
تَبَيَّنَ
واضح ہوگیا
لَهُمُ
ان کے لئیے
حق
فَٱ عۡفُواۡ
پس معاف کردو
وَٱ صۡفَحُواۡ
اور در گزر کرو
حَتَّىٰ
یہاں تک کہ
يَأۡتِىَ
لے آئے
اللہ
بِأَمۡرِهِۦٓۗ
فیصلہ اپنا
إِنّ َ
بیشک
اللہ تعالیٰ
عَلَىٰ
اوپر
كُلِّ
ہر
شَىۡءٍ
چیز کے
قدرت رکھنے والا ہے
اہل کتاب میں سے بہت سے لوگ یہ چاہتے ہیں کہ کسی طرح تمہیں پھیر کر تمہارے ایمان کے بعد تمہیں پھر کافر بنادیں بسبب ان کے دلی حسد کے اس کے بعد کہ ان پر حق بالکل واضح ہوچکا ہے۔ تو (اے مسلمانو !) تم معاف کرتے رہو اور صرف نظر سے کام لو یہاں تک کہ اللہ اپنا فیصلہ لے آئے یقیناً اللہ ہرچیز پر قادر ہے
2:110
وَأَقِيمُواۡ
اور قائم کرو
نماز کو
وَءَاتُواۡ
اورادا کرو
زکوۃ کو
وَمَا
اور جو
تُقَدِّمُواۡ
تم آگے بھیجو گے
لِأَنف ُسِكُم
اپنے نفسوں کے لئے
سے
خَيۡرٍ
کسی بھلائی میں
تم پاؤ گے اس کو
عِند َ
پاس
اللہ کے
إِنّ َ
بیشک
اللہ
بِمَا
ساتھ اس کے جو
تَعۡمَلُونَ
تم عمل کرتے ہو
بَصِي رٌ
١١٠دیکھنے والا ہے
اور نماز قائم رکھو اور زکوٰۃ دیتے رہو اور جو بھلائی بھی تم اپنے لیے آگے بھیجو گے اسے اللہ کے ہاں موجود پاؤ گے یقیناً جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ اسے دیکھ رہا ہے
2:111
وَقَالُواۡ
اور وہ کہتے ہیں
لَن
ہرگز نہیں
داخل ہوگا
جنت میں
إِلَّا
مگر
مَن
وہ جو
ہوگا
هُودًا
یہودی
أَوۡ
یا
نَصَـٰ رَىٰۗ
عیسائی
تِلۡكَ
یہ
أَمَانِيُّهُمۡۗ
ان کی خواہشات ہیں / ان کی آرزوئیں ہیں
قُلۡ
کہہ دیجئے
هَاتُواۡ
لے آؤ
بُرۡهَـٰ نَكُمۡ
دلیل اپنی
إِن
اگر
ہو تم
صَـٰ دِقِي نَ
١١١سچے
اور یہ کہتے ہیں ہرگز داخل نہ ہوگا جنت میں مگر وہی جو یہودی ہو یا نصرانی ہو یہ ان کی تمنائیں ہیں ان سے کہو اپنی دلیل پیش کرو اگر تم (اپنے دعوے میں) سچے ہو
2:112
بَلَىٰ
بلکہ / کیوں نہیں
مَنۡ
جس نے
أَسۡلَمَ
سپرد کردیا
وَجۡ هَهُۥ
اپنا چہرہ / اپنی ذات
لِلَّهِ
اللہ کے لئے
وَهُوَ
اور وہ
مُحۡسِنٌ
مخلص ہو / محسن ہو / احسان کرنے والا ہو /نیکی کرنے والا ہو
تو اس کے لئے
أَجۡ رُهُۥ
اجر ہے اس کا
عِند َ
پاس
رَبِّهِۦ
اس کے رب کے
وَلَا
اورنہ (ہوگا)
خَوۡفٌ
کوئی خوف
عَلَيۡهِمۡ
اوپر ان کے
وَلَا
اورنہ
هُمۡ
وہ
يَحۡزَنُو نَ
١١٢وہ غمگین ہونگے
کیوں نہیں ہر وہ شخص جو اپنا چہرہ اللہ کے سامنے جھکا دے اور وہ محسن ہو اور ایسے لوگوں کو نہ تو کوئی خوف لاحق ہوگا اور نہ ہی وہ کسی حزن و ملال سے دوچار ہوں گے
2:113
وَقَالَتِ
اور کہا
یہود نے
لَيۡسَتِ
نہیں ہے
عیسائی
عَلَىٰ
اوپر
شَىۡءٍ
کسی چیز کے
اورکہا
عیسائیوں نے / نصاریٰ نے
لَيۡسَتِ
نہیں ہیں
یہود
عَلَىٰ
اوپر
شَىۡءٍ
کسی چیز کے
حالانکہ وہ
يَتۡلُونَ
تلاوت کرتے ہیں
کتاب کی
كَذٰ لِكَ
اسی طرح
قَالَ
کہا
ان لوگوں نے جو
لَا
نہیں
يَعۡلَمُونَ
جانتے / علم رکھتے
مِثۡلَ
مانند
قَوۡلِهِمۡۚ
ان کی بات کی
فَٱ للَّهُ
تو اللہ
يَحۡكُمُ
فیصلہ کرے گا
بَيۡنَهُمۡ
ان کے درمیان
يَوۡمَ
دن
قیامت کے
فِيمَا
اس میں جو
كَانُواۡ
وہ تھے
فِيهِ
اس میں
يَخۡتَلِفُو نَ
١١٣وہ اختلاف کرتے
یہودی کہتے ہیں کہ نصاریٰ کسی بنیاد پر نہیں ہیں اور نصاریٰ کہتے ہیں کہ یہود کسی بنیاد پر نہیں ہیں حالانکہ دونوں ہی کتاب پڑھ رہے ہیں اسی طرح کہی تھی ان لوگوں نے جو کچھ بھی نہیں جانتے ان ہی کی سی بات۔) پس اللہ تعالیٰ فیصلہ کر دے گا ان کے مابین قیامت کے دن ان تمام باتوں کا جن میں یہ اختلاف کر رہے تھے۔
2:114
وَمَنۡ
اور کون
أَظۡلَمُ
بڑا ظالم ہے
مِمّ َن
اس سے جو
منع کرے / روکے
مَسَـٰ جِدَ
مسجدوں سے
اللہ کی
أَن
یہ کہ
ذکر کیا جائے
فِيهَا
ان میں
نام اس کا
وَسَعَىٰ
وہ کوشش کرے
فِى
خَرَابِهَآۚ
ان کی ویرانی میں
أُوۡ لَـٰٓ ئِكَ
یہ لوگ
مَا
نہیں (مناسب) ہے
كَانَ
لَهُمۡ
ان کے لئیے
أَن
کہ
وہ داخل ہوں اس میں
إِلَّا
مگر
خَا ٓئِفِينَۚ
ڈرتے ہوۓ
لَهُمۡ
ان کے لئیے
فِى
میں
دنیا میں
خِزۡىٌ
رسوائی ہے
او ر ان کے لئیے
فِى
میں
آخرت میں
عَذَابٌ
عذاب ہے
عَظِي مٌ
١١٤بہت بڑا
اور اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو اللہ تعالیٰ کی مسجدوں سے (لوگوں کو) روکے کہ ان میں اس کا نام لیا جائے ؟ اور وہ ان کی تخریب کے درپے ہو ؟ ایسے لوگوں کو تو ان میں داخل ہی نہیں ہونا چاہیے مگر ڈرتے ہوئے ان کے لیے دنیا میں بھیّ ذلت و رسوائی ہے اور آخرت میں ان کے لیے عذاب عظیم ہے
2:115
وَلِلَّهِ
اور اللہ ہی کے لئے ہے
مشرق
وَٱ لۡمَغۡرِبُۚ
اورمغرب
فَأَيۡنَمَا
تو جہاں کہیں / جدھر بھی
تُوَلُّواۡ
تم منہ موڑو گے
فَثَمّ َ
تو وہیں / اسی جگہ
وَجۡ هُ
ذات ہے / چہرہ ہے
اللہ کا
إِنّ َ
بیشک
اللہ
وٰ سِعٌ
وسعت والا ہے
عَلِي مٌ
١١٥جاننے والا ہے
اور مشرق اور مغرب سب اللہ کے ہیں یقیناً اللہ بہت وسعت والا سب کچھ جاننے والا ہے
2:116
وَقَالُواۡ
اور انہوں نے کہا
بنائی ہے
اللہ نے
وَلَدًاۗ
اولاد
پاک ہے وہ
بَل
بلکہ
لَّهُۥ
اس کے لئے ہے
مَا
جو کچھ
فِى
میں ہے
آسمانوں
وَٱ لۡأَرۡضِۖ
اور زمین میں ہے
كُلٌّ
سارے کے سارے
اس کے لئے
قَـٰ نِتُو نَ
١١٦تابع فرمان ہیں
اور ان (میں وہ بھی ہیں جن) کا قول ہے کہ اللہ نے کسی کو بیٹا بنایا ہے۔ وہ تو ان باتوں سے پاک ہے۔ بلکہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اسی کی ملکیت ہے۔ سب کے سب اسی کے مطیع فرمان ہیں
2:117
بَدِيعُ
نئے سرے سے پیدا کرنے والا ہے
آسمانوں کا
وَٱ لۡأَرۡضِۖ
اور زمین کا
وَإِذَا
اورجب
قَضَىٰٓ
وہ فیصلہ کرتا ہے
أَمۡرًا
کسی کام کا
تو بیشک
يَقُولُ
وہ کہتا ہے
لَهُۥ
واسطے اس کے
كُن
ہوجا
تو وہ ہو جاتا ہے
وہ نیا پیدا کرنے والا ہے آسمانوں اور زمین کا اور جب وہ کسی معاملے کا فیصلہ کرلیتا ہے تو اس سے بس یہی کہتا ہے کہ ہوجا اور وہ ہوجاتا ہے
2:118
وَقَالَ
اور کہا
ان لوگوں نے
لَا
نہیں
يَعۡلَمُونَ
علم رکھتے
لَوۡلَا
کیوں نہیں
يُكَلِّمُنَا
کلام کرتا ہے
اللہ
أَوۡ
یا
تَأۡتِينَآ
آتی ہمارے پاس
ءَايَةٌۗ
کوئی نشانی
اسی طرح
قَالَ
کہا تھا
ان لوگوں نے
مِن
سے
قبل ان کے
مانند
قَوۡلِهِمۡۘ
ان کی بات کے
تَشَـٰ بَهَتۡ
ملتے جلتے ہیں
قُلُوبُهُمۡۗ
دل ان کے
قَدۡ
تحقیق
بَيَّنّ َا
بیان کردیں ہم نے
آیات
لِقَوۡمٍ
واسطے ایک قوم
جو یقین رکھتی ہے
اور کہا ان لوگوں نے جو علم نہیں رکھتے کیوں نہیں بات کرتا ہم سے اللہ یا کیوں نہیں آجاتی ہمارے پاس کوئی نشانی ؟ اسی طرح کی باتیں جو لوگ ان سے پہلے تھے وہ بھی کہتے رہے ہیں ان کے دل ایک دوسرے سے مشابہ ہوگئے ہیں ہم تو اپنی آیات واضح کرچکے ہیں ان لوگوں کے لیے جو یقین کرنا چاہیں
2:119
إِنّ َآ
بیشک ہم نے
أَرۡسَلۡنَـٰ كَ
بھیجا ہم نے آپ کو
بِٱ لۡحَقِّ
ساتھ حق کے
بَشِيرًا
خوش خبری دینے والا
اورڈرانے والا
اور نہ
تُسۡــَٔلُ
تم سے سوال کیا جائے گا
عَنۡ
بارے میں
أَصۡحَـٰ بِ
ساتھیوں کے
جہنم کے
(اے نبی ﷺ !) بیشک ہم نے آپ کو بھیجا ہے حق کے ساتھ بشیر اور نذیر بنا کر اور آپ ﷺ سے سوال نہیں کیا جائے گا جہنمیوں کے بارے میں
2:120
وَلَن
اور ہرگز نہیں
راضی ہوں گے
عَنك َ
آپ سے
یہود
وَلَا
اورنہ
عیسائی/ نصائی
حَتَّىٰ
یہاں تک کہ
تَتَّبِعَ
تم پیروی کرنے لگ جاؤ
مِلَّتَهُمۡۗ
ان کے طریقے کی
قُلۡ
کہہ دیجئے
إِنّ َ
بیشک
هُدَى
ہدایت
اللہ
هُوَ
وہ ہی
جو ہدایت ہے
وَلَئِنِ
اور البتہ اگر
پیروی کی تم نے/ اتباع کیا تم نے
أَهۡوَا ٓءَهُم
ان کی خواہشات کی
بعد
اس کے جو
جَا ٓءَكَ
آیا تیرے پاس
مِنَ
سے
علم
مَا
نہیں ہوگا
لَكَ
تیرے لئے
مِنَ
سے
اللہ (بچانے والا)
مِن
کوئی
دوست
اورنہ
نَصِي رٍ
١٢٠کوئی مددگار
اور (اے نبی ﷺ ! آپ کسی مغالطے میں نہ رہیے) ہرگز راضی نہ ہوں گے آپ ﷺ سے یہودی اور نہ نصرانی جب تک کہ آپ ﷺ پیروی نہ کریں ان کی ملت کی کہہ دیجیے ہدایت تو بس اللہ کی ہدایت ہے اور (اے نبی ﷺ !) اگر آپ ﷺ نے ان کی خواہشات کی پیروی کی اس علم کے بعد جو آپ کے پاس آچکا ہے تو نہیں ہوگا اللہ کے مقابلے میں آپ ﷺ کے لیے کوئی مددگار اور نہ حمایتی۔
2:121
ٱلَّذِينَ
وہ لوگ
ءَاتَيۡنَـٰ هُمُ
دی ہم نے ان کو
کتاب
يَتۡلُونَهُۥ
وہ تلاوت کرتے ہیں اس / وہ پڑھتے ہیں اس کو
حَقَّ
(جیسا کہ) حق ہے
تِلَاوَتِهِۦٓ
اس کی تلاوت کا
أُوۡ لَـٰٓ ئِكَ
یہی لوگ
يُؤۡمِنُونَ
جو ایمان رکھتے ہیں
بِهِۦ ۗ
ساتھ اس کے
وَمَن
اور جو کوئی
کفر کرے گا
بِهِۦ
اس کا
فَأُوۡ لَـٰٓ ئِكَ
تو یہی لوگ
هُمُ
وہ
جو خسارہ پانے والے / نقصان اٹھانے والے ہیں
وہ لوگ جنہیں ہم نے کتاب دی ہے وہ اس کی تلاوت کرتے ہیں جیسا کہ اس کی تلاوت کا حق ہے وہی ہیں جو اس پر ایمان رکھتے ہیں اور جو اس کا کفر کرے گا تو وہی لوگ ہیں خسارے میں رہنے والے۔
2:122
يَـٰ بَنِىٓ
اے بنی
إِسۡرٰ ٓءِيلَ
اسرائیل
یاد کرو
نِعۡمَتِىَ
میری نعمتیں
وہ جو
أَنۡعَمۡتُ
میں نے انعام کی تھیں
عَلَيۡكُمۡ
تم پر
وَأَنّ ِى
اور بیشک میں نے
فَضَّلۡتُكُمۡ
میں نے فضیلت دی تھی تم کو
عَلَى
تمام
دنیا والوں پر
اے اولاد یعقوب ! یاد کرو میرے اس انعام کو جو میں نے تم پر کیا اور یہ کہ میں نے تمہیں فضیلت دی تھی اہل عالم پر۔
2:123
وَٱ تَّقُواۡ
اور ڈرو
يَوۡمًا
اس دن سے
نہیں
تَجۡ زِى
کام آئے گا
نَفۡسٌ
کوئی نفس
عَن
کسی
نفس کے
کچھ بھی
اورنہ
يُقۡ بَلُ
قبول کیا جائے گا
مِنۡهَا
اس سے
عَدۡ لٌ
کوئی بدلہ
اورنہ
تَنف َعُهَا
نفع دے گی اس کو
شَفَـٰ عَةٌ
کوئی سفارش
اور نہ
هُمۡ
وہ
يُنص َرُو نَ
١٢٣مدد کئیے جائیں گے
اور ڈرو اس دن سے کہ جس دن کوئی جان کسی دوسری جان کے کچھ بھی کام نہ آسکے گی اور نہ اس سے کوئی فدیہ قبول کیا جائے گا اور نہ انہیں کوئی مدد مل سکے گی
2:124
۞وَإِذِ
اور جب
آزمایا
إِبۡ رٰ هِــۧ مَ
ابراہیم کو
رَبُّهُۥ
اس کے رب نے
بِكَلِمَـٰ تٍ
ساتھ چند باتوں کے
تو اس نے پورا کردیا ان کو
قَالَ
فرمایا
إِنّ ِى
بیشک میں
جَاعِلُكَ
بنانے والا ہوں تجھ کو
لِلنّ َاسِ
لوگوں کے لئے
إِمَامًاۖ
امام
کہا (ابراہیم نے)
وَمِن
اور میں سے
میری اولاد
قَالَ
فرمایا
لَا
نہیں
يَنَالُ
پہنچے گا
عَهۡدِى
میرا عہد
ظالموں کو
اور ذرا یاد کرو جب ابراہیم ؑ کو آزمایا اس کے رب نے بہت سی باتوں میں تو اس نے ان سب کو پورا کر دکھایا تب فرمایا : (اے ابراہیم ؑ !) اب میں تمہیں نوع انسانی کا امام بنانے والا ہوں انہوں نے کہا : اور میری اولاد میں سے بھی فرمایا : میرا یہ عہد ظالموں سے متعلق نہیں ہوگا
2:125
وَإِذۡ
اور جب
جَعَلۡنَا
بنایا ہم نے
اس گھر ( خانہ کعبہ کو)
مَثَابَةً
لوٹنے کی جگہ/ مرجع
لوگوں کے لئے
وَأَمۡنًا
اور امن کی جگہ
اور بنالو
مِن
سے / کو
مقام
إِبۡ رٰ هِــۧ مَ
ابراہیم کو
مُصَلًّىۖ
نماز کی جگ
اور حکم دیا ہم / تاکید کی ہم نے / عہد لیا ہم نے
إِلَىٰٓ
سے
إِبۡ رٰ هِــۧ مَ
ابراھیم
وَإِسۡمَـٰ عِيلَ
اور اسماعیل سے
أَن
یہ کہ
تم دونوں پاک و صاف کردو
بَيۡتِىَ
میرے گھر کو
لِلطَّا ٓئِفِينَ
واسطے ان کے جو طواف کرنے والے ہیں
وَٱ لۡعَـٰ كِفِينَ
اور جو اعتکاف کرنے والے ہیں
وَٱ ل رُّكَّعِ
اور رکوع کرنے والے ہیں
اور سجدہ کرنے والے ہیں
اور یاد کرو جب ہم نے اس گھر (بیت اللہ) کو قرار دے دیا لوگوں کے لیے اجتماع (اور زیارت) کی جگہ اور اسے امن کا گھر قرار دے دیا اور (ہم نے حکم دیا کہ) مقام ابراہیم ؑ کو اپنی نماز پڑھنے کی جگہ بنا لو اور ہم نے حکم کیا تھا ابراہیم ؑ اور اسماعیل ؑ کو کہ تم دونوں میرے اس گھر کو پاک رکھو طواف کرنے والوں اعتکاف کرنے والوں اور رکوع و سجود کرنے والوں کے لیے
2:126
وَإِذۡ
اور جب
قَالَ
کہا
إِبۡ رٰ هِــۧ مُ
ابراہیم نے
رَبِّ
اے میرے رب
تو بتادے
هَـٰ ذَا
اس
بَلَدًا
اس شہر کو
ءَامِنًا
امن والا
اوررزق دے
أَهۡلَهُۥ
اس کے رہنے والوں کو
مِنَ
میں سے
پھلوں
مَنۡ
جو
ءَامَنَ
ایما لائیں گے
مِنۡهُم
ان میں سے
ساتھ اللہ کے
وَٱ لۡيَوۡمِ
اوردن
آخرت کے
قَالَ
فرمایا
وَمَن
اور جس نے
کفر کیا
فَأُمَتِّعُهُۥ
تو میں اس کو فائدہ اٹھانے دوں گا
قَلِيلاً
تھوڑا سا
پھر
أَضۡطَرُّهُۥٓ
میں مجبور کروں گا اس کو / گھسیٹوں گا اس کو
إِلَىٰ
طرف
عَذَابِ
عذاب کے
آگ کے
وَبِئۡسَ
بہت ہی بری ہے
لوٹنے کی جگہ
اور یاد کرو جبکہ ابراہیم ؑ نے دعا کی تھی : اے میرے پروردگار ! اس گھر کو امن کی جگہ بنا دے اور یہاں آباد ہونے والوں (یعنی بنی اسماعیل (ؑ) کو پھلوں کا رزق عطا کر جو کوئی ان میں سے ایمان لائے اللہ پر اور یوم آخر پر۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اور (تمہاری اولاد میں سے) جو کفر کرے گا تو اس کو بھی میں دنیا کی چند روزہ زندگی کا ساز و سامان تو دوں گا پھر اسے کشاں کشاں لے آؤں گا جہنم کے عذاب کی طرف اور وہ بہت بری جگہ ہے لوٹنے کی
2:127
وَإِذۡ
اور جب
يَرۡفَعُ
بلند کر رہے تھے
إِبۡ رٰ هِــۧ مُ
ابراہیم
بنیادیں
مِنَ
کی
گھر
وَإِسۡمَـٰ عِيلُ
اوراسماعیل (وہ کہہ رہے تھے)
رَبَّنَا
اے ہمارے رب
تَقَبَّلۡ
تو قبول فرما
مِنّ َآۖ
ہم سے
إِنّ َكَ
بیشک تو
أَنت َ
تو ہی ہے
جو سننے والا ہے
جو جاننے والا ہے
اور یاد کرو جب ابراہیم ؑ اور اسماعیل ؑ ہمارے گھر کی بنیادوں کو اٹھا رہے تھے اے ہمارے ربّ ! ہم سے یہ خدمت قبول فرما لے یقیناً توُ سب کچھ سننے والا جاننے والا ہے
2:128
رَبَّنَا
اے ہمارے رب
وَٱ جۡ عَلۡنَا
اور بنا ہم کو
مُسۡلِمَيۡنِ
فرماں بردار
لَكَ
اپنے لئے
وَمِن
اور
ہماری اولاد میں سے
أُمّ َةً
ایک امت / ایک جماعت
جو فرماں بردار ہو / تابع دار ہو
تیرے لئے
وَأَرِنَا
اوردکھا ہم کو
مَنَاسِكَنَا
ہماری عبادت کے طریقے
وَتُبۡ
اورمہربان ہو
عَلَيۡنَآۖ
ہم پر
إِنّ َكَ
بیشک تو
أَنت َ
تو ہی
جو توبہ قبول کرنے والا ہے
بار بار رحم کرنے والا ہے
اور اے ہمارے رب ! ہمیں اپنا مطیع فرمان بنائے رکھ اور ہم دونوں کی نسل سے ایک امت اٹھائیو جو تیری فرماں بردار ہو اور ہمیں حج کرنے کے قاعدے بتلا دے اور ہم پر اپنی توجہ فرما یقیناً تو ہی ہے بہت زیادہ توبہ کا قبول فرمانے والا (اور شفقت کے ساتھ رجوع کرنے والا) اور رحم فرمانے والا
2:129
رَبَّنَا
اے ہمارے رب
وَٱ بۡ عَثۡ
اور بھیج / اٹھا
فِيهِمۡ
ان میں
رَسُولاً
ایک رسول کو
انہی میں سے
يَتۡلُواۡ
جو پڑھے / تلاوت کرتا ہو
عَلَيۡهِمۡ
ان پر
ءَايَـٰ تِكَ
تیری آیات
وَيُعَلِّمُهُمُ
اورتعلیم دے ان کو / سکھاتا ہو ان کو
کتاب
وَٱ لۡحِكۡمَةَ
اور حکمت
وَيُزَكِّيهِمۡۚ
اورتزکیہ کرے ان کا
إِنّ َكَ
بیشک تو
أَنت َ
تو ہی
جو زبردست ہے
جو حکمت والا ہے
اور اے ہمارے پروردگار ! ان لوگوں میں اٹھائیو ایک رسول خود انہی میں سے جو انہیں تیری آیات پڑھ کر سنائے اور انہیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دے اور ان کو پاک کرے یقیناً توُ ہی ہے زبردست اور کمال حکمت والا
2:130
وَمَن
اور کون ہے جو
منہ موڑے
عَن
سے
طریقے
إِبۡ رٰ هِــۧ مَ
ابراہیم کے
إِلَّا
مگر
مَن
جو جس سے
ناقص ثابت کیا / بیوقوف بنایا
نَفۡسَهُۥ ۚ
اپنے آپ کو
وَلَقَدِ
اورالبتہ تحقیق
چن لیا تھا ہم نے اس کو
فِى
میں
دنیا
وَإِنّ َهُۥ
اور بیشک وہ
فِى
میں
آخرت
لَمِنَ
ضرور ان میں سے ہوگا جو نیک ہیں
ضرور ان میں سے ہوگا جو نیک ہیں
اور کون ہوگا جو ابراہیم ؑ کے طریقے سے منہ موڑے ؟ سوائے اس کے جس نے اپنے آپ کو حماقت ہی میں مبتلا کرنے کا فیصلہ کرلیا ہو اور ہم نے تو انہیں دنیا میں بھی منتخب کرلیا تھا اور یقیناً آخرت میں بھی وہ ہمارے صالح بندوں میں سے ہوں گے
2:131
إِذۡ
جب
قَالَ
کہا
لَهُۥ
اس کو
رَبُّهُۥٓ
اس کے رب نے
أَسۡلِمۡۖ
فرماں بردار ہوجا / جھک جا
قَالَ
اس نے کہا
أَسۡلَمۡتُ
میں فرماں بردار ہوگیا / میں جھک گیا
لِرَبِّ
رب کے لئے
العالمین
جب بھی کہا اس سے اس کے پروردگار نے کہ مطیع فرمان ہو جاتو اس نے کہا میں مطیع فرمان ہوں تمام جہانوں کے پروردگار کا۔
2:132
وَوَصَّىٰ
اور وصیت کی
بِهَآ
ساتھ اس کے / اسی کی
إِبۡ رٰ هِــۧ مُ
ابراہیم نے
بَنِيهِ
اپنے بیٹوں کو
وَيَعۡقُوبُ
اوریعقوب نے
يَـٰ بَنِىَّ
اے میرے بیٹو
إِنّ َ
بیشک
اللہ نے
چن لیا
لَكُمُ
تمہارے لئے
دین کو
فَلَا
تو نہ
تَمُوتُنّ َ
تم مرنا
إِلَّا
مگر
وَأَنت ُم
اس میں حال میں کہ تم
مسلم ہو
اور اسی کی وصیتّ کی تھی ابراہیم ؑ نے اپنے بیٹوں کو اور یعقوب نے بھی اے میرے بیٹو ! اللہ نے تمہارے لیے یہی دین پسند فرمایا ہے پس تم ہرگز نہ مرنا مگر مسلمان !
2:133
أَمۡ
یا
كُنت ُمۡ
تھے تم
شُهَدَا ٓءَ
حاضر / موجود
إِذۡ
جب
حَضَرَ
آرہی تھی
يَعۡقُوبَ
یعقوب کو
موت
إِذۡ
جب
قَالَ
کہا اس نے
لِبَنِيهِ
اپنے بیٹوں سے
مَا
کس کی
تَعۡبُدُونَ
تم عبادت کرو گے
مِنۢ
میرے بعد
قَالُواۡ
انہوں ے کہا
نَعۡبُدُ
ہم عبادت کریں گے
إِلَـٰ هَكَ
تیرے الٰہ کی
وَإِلَـٰ هَ
اور الٰہ (معبود کی)
ءَابَا ٓئِكَ
تیرے آباؤ اجداد کے
إِبۡ رٰ هِــۧ مَ
(یعنی) ابراہیم کے
وَإِسۡمَـٰ عِيلَ
اور اسماعیل کے
وَإِسۡحَـٰ قَ
اوراسحاق کے
إِلَـٰ هًا
الہ
ایک کی
اور ہم
لَهُۥ
اس کے لئیے
مُسۡلِمُو نَ
١٣٣فرماں بردار ہیں
کیا تم اس وقت موجود تھے جب آدھمکی یعقوب پر موت جب کہا اپنے بیٹوں سے کہ تم کس کی عبادت کرو گے میرے بعد ؟ انہوں نے کہا ہم بندگی کریں گے آپ کے معبود کی اور آپ کے آباء ابراہیم اسماعیل اور اسحاق کے معبود کی وہی ایک معبود ہے اور ہم سب اسی کے مطیع فرمان ہیں
2:134
تِلۡكَ
یہ
أُمّ َةٌ
ایک امت تھی
تحقیق
خَلَتۡۖ
گزر گئی
لَهَا
اس کے لئے وہ
مَا
جو
كَسَبَتۡ
کمایا اس نے
وَلَكُم
اور تمہارے لئے
جو
كَسَبۡ تُمۡۖ
کمائی کی تم نے
وَلَا
اورنہ
تُسۡــَٔلُونَ
تم سوال کئے جاؤ گے
عَمّ َا
اس کے بارے میں جو
كَانُواۡ
وہ تھے
يَعۡمَلُو نَ
١٣٤وہ عمل کرتے تھے
یہ ایک جماعت تھی جو گزر چکی ان کے لیے تھا جو انہوں نے کمایا اور تمہارے لیے ہوگا جو تم کماؤ گے تم سے یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ وہ کیا کرتے تھے۔
2:135
وَقَالُواۡ
اور انہوں نے کہا
كُونُواۡ
ہوجاؤ
هُودًا
یہودی
أَوۡ
یا
نَصَـٰ رَىٰ
عیسائی
تَهۡتَدُواۡۗ
تم سب ہدایت پا جاؤ گے
قُلۡ
کہہ دیجئے
بَلۡ
(نہیں) بلکہ
مِلَّةَ
طریقہ
إِبۡ رٰ هِــۧ مَ
ابراہیم کا
حَنِيفًاۖ
جو یکسو تھے
اورنہیں
كَانَ
تھے وہ
مِنَ
سے
مشرکین میں سے
اور وہ کہتے ہیں یا تو یہودی ہوجاؤ یا نصرانی تو ہدایت پر ہوجاؤ گے کہہ دیجیے نہیں بلکہ (ہم تو پیروی کریں گے) ابراہیم کے طریقے کی بالکل یکسو ہو کر اور وہ مشرکوں میں سے نہیں تھے
2:136
قُولُوٓ اۡ
تم سب کہو
ءَامَنّ َا
ایمان لائے ہم
بِٱ للَّهِ
ساتھ اللہ کے
وَمَآ
اور جو
أُنز ِلَ
نازل کیا گیا
إِلَيۡنَا
ہماری طرف
وَمَآ
اورجو
أُنز ِلَ
نازل کیا گیا
إِلَىٰٓ
طرف
إِبۡ رٰ هِــۧ مَ
ابراہیم کے
وَإِسۡمَـٰ عِيلَ
اوراسماعیل کے
وَإِسۡحَـٰ قَ
اوراسحاق کے
وَيَعۡقُوبَ
اوریعقوب کے
وَٱ لۡأَسۡبَاطِ
اور اولاد یعقوب کے
وَمَآ
اور جو
أُوتِىَ
دیئے گئے
مُوسَىٰ
موسی
وَعِيسَىٰ
اور عیسی
وَمَآ
اور جو
أُوتِىَ
دئیے گئے
انبیاء
مِن
طرف سے
اپنے رب کی
لَا
نہیں
نُفَرِّقُ
ہم فرق کرتے
بَيۡنَ
درمیان
أَحَدٍ
کسی ایک کے
ان میں سے
وَنَحۡنُ
اور ہم
لَهُۥ
واسطے اسی کے
مُسۡلِمُو نَ
١٣٦فرماں بردار ہیں
کہو ہم ایمان رکھتے ہیں اللہ پر اور جو کچھ نازل کیا گیا ہماری جانب اور جو کچھ نازل کیا گیا ابراہیم اسماعیل اسحاق یعقوب اور اولاد یعقوب کی طرف اور جو کچھ دیا گیا موسیٰ اور عیسیٰ کو اور جو کچھ دیا گیا تمام نبیوں کو ان کے رب کی طرف سے ہم ان میں سے کسی کے مابین تفریق نہیں کرتے اور ہم اسی کے مطیع فرمان ہیں
2:137
فَإِنۡ
پھر اگر
ءَامَنُواۡ
وہ ایمان لائیں
بِمِثۡلِ
مانند اس کے
مَآ
جو
ءَامَنت ُم
ایمان لائے تم
ساتھ اس کے
فَقَدِ
تو بلاشبہ
وہ ہدایت پاگئے
وَّإِن
اور اگر
وہ منہ پھیریں
فَإِنّ َمَا
تو بیشک
هُمۡ
وہ
فِى
میں ہیں
شِقَاقٍۖ
ضد / مخالفت
تو عنقریب کافی ہوگا تجھ کو ان کی طرف سے
اللہ
وَهُوَ
اور وہ
سننے والا ہے
جاننے والا ہے
پھر (اے مسلمانو !) اگر وہ (یہودو نصاریٰ) بھی اسی طرح ایمان لے آئیں جس طرح تم ایمان لائے ہو تب وہ ہدایت پر ہوں گے اور اگر وہ پیٹھ موڑ لیں تو پھر وہی ہیں ضد پر تو (اے نبی ﷺ !) آپ کے لیے ان کے مقابلے میں اللہ کافی ہے اور وہ سب کچھ سننے والا جاننے والا ہے
2:138
صِبۡ غَةَ
رنگ
اللہ
وَمَنۡ
اور کون
أَحۡسَنُ
زیادہ اچھا ہے
مِنَ
سے
اللہ
صِبۡ غَةًۖ
رنگ میں
اور ہم
لَهُۥ
اس کے لئے
عَـٰ بِدُو نَ
١٣٨عبادت کرنے والے ہیں
ہم نے تو اختیار کرلیا ہے اللہ کے رنگ کو اور اللہ کے رنگ سے بہتر اور کس کا رنگ ہوگا ؟ اور ہم تو بس اسی کی بندگی کرنے والے لوگ ہیں
2:139
قُلۡ
کہہ دو
أَتُحَا ٓجُّونَنَا
کیا تم جھگڑا کرتے ہو ہم سے
فِى
بارے میں
اللہ کے
وَهُوَ
حالانکہ وہ
رَبُّنَا
ہمارا رب ہے
وَرَبُّكُمۡ
اور تمہارا رب اور
وَلَنَآ
ہمارے لئے
أَعۡمَـٰ لُنَا
ہمارے اعمال
وَلَكُمۡ
اور تمہارے لئے
أَعۡمَـٰ لُكُمۡ
تمہارے اعمال
وَنَحۡنُ
اور ہم
لَهُۥ
اس کے لئیے
مُخۡلِصُو نَ
١٣٩مخلص ہیں
(اے نبی ﷺ ان سے) کہیے کیا تم ہم سے جھگڑ رہے ہو (دلیل بازی کر رہے ہو) اللہ کے بارے میں ؟ حالانکہ وہی ہمارا رب بھی ہے اور تمہارا رب بھی اور ہمارے لیے ہوں گے ہمارے عمل اور تمہارے لیے ہوں گے تمہارے عمل اور ہم تو خالص اسی کے ہیں
2:140
أَمۡ
یا
تَقُولُونَ
تم کہتے ہو
إِنّ َ
بیشک
إِبۡ رٰ هِــۧ مَ
ابراہیم
وَإِسۡمَـٰ عِيلَ
اور اسماعیل
وَإِسۡحَـٰ قَ
اوراسحاق
وَيَعۡقُوبَ
اوریعقوب
وَٱ لۡأَسۡبَاطَ
اوراولاد یعقوب
كَانُواۡ
وہ سب تھ
هُودًا
یہودی
أَوۡ
یا
نَصَـٰ رَىٰۗ
نَصَٰرَىٰ
قُلۡ
کہہ دیجئے
ءَأَنت ُمۡ
کیا تم
أَعۡلَمُ
زیادہ جانتے ہو
أَمِ
یا
اللہ
وَمَنۡ
اور کون
أَظۡلَمُ
بڑا ظالم ہے
مِمّ َن
اس سے جو
چھپائے
شَهَـٰ دَةً
گواہی کو
عِند َهُۥ
جو اس کے پاس ہے
مِنَ
کی طرف سے
اللہ
وَمَا
اور نہیں
اللہ
بِغَـٰ فِلٍ
غافل
عَمّ َا
اس سے جو
تَعۡمَلُو نَ
١٤٠تم عمل کرتے ہو
کیا تمہارا کہنا یہ ہے کہ ابراہیم اسماعیل اسحاق اور یعقوب اور ان کی اولاد سب یہودی تھے یا نصرانی تھے ؟ کہیے : تم زیادہ جانتے ہو یا اللہ ؟ اور (کان کھول کر سن لو) اس شخص سے بڑھ کر ظالم اور کون ہوگا جس کے پاس اللہ کی طرف سے ایک گواہی تھی جسے اس نے چھپالیا ؟ اور اللہ ہرگز غافل نہیں ہے اس سے جو تم کر رہے ہو۔
2:141
تِلۡكَ
یہ
أُمّ َةٌ
امت تھی
تحقیق
خَلَتۡۖ
گزر چکی
لَهَا
اس کے لئے
مَا
جو
كَسَبَتۡ
کمایا اس نے
وَلَكُم
اور تمہارے لئے
جو
كَسَبۡ تُمۡۖ
کمایا تم نے
وَلَا
اور نہ
تُسۡــَٔلُونَ
تم سوال کئے جاؤ گے
عَمّ َا
اس کے بارے میں جو
كَانُواۡ
تھے وہ
يَعۡمَلُو نَ
١٤١وہ عمل کرتے
وہ ایک جماعت تھی جو گزر چکی ان کے لیے ہے جو کمائی انہوں نے کی اور تمہارے لیے ہے جو کمائی تم نے کی اور تم سے ان کے اعمال کے بارے میں سوال نہیں ہوگا