Back to Hizb Index

Hizb 57

5 Surahs206 Versesالحزب 57
67:1
تَبَـٰرَكَ
بہت بابرکت ہے
ٱلَّذِى
وہ ذات
بِيَدِهِ
جس کے ہاتھ میں ہے
ٱلۡمُلۡكُ
ساری بادشاہت
وَهُوَ
اور وہ
عَلَىٰ
پر
كُلِّ
ہر
شَىۡءٍ
چیز
قَدِيرٌ
قدرت رکھنے والا ہے
١
بہت ہی بابرکت ہے وہ ہستی جس کے ہاتھ میں بادشاہی ہے اور وہ ہرچیز پر قادر ہے۔
67:2
ٱلَّذِى
جس نے
خَلَقَ
پیدا کیا
ٱلۡمَوۡتَ
موت کو
وَٱلۡحَيَوٰةَ
اور زندگی کو
لِيَبۡلُوَكُمۡ
تاکہ آزمائے تم کو
أَيُّكُمۡ
کون ساتم میں سے
أَحۡسَنُ
زیادہ اچھا ہے
عَمَلاً‌ۚ
عمل میں
وَهُوَ
اور وہ
ٱلۡعَزِيزُ
زبردست ہے
ٱلۡغَفُورُ
بخشش کرنے والا ہے
٢
جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے کون اچھے اعمال کرنے والا ہے۔ اور وہ بہت زبردست بھی ہے اور بہت بخشنے والا بھی۔
67:3
ٱلَّذِى
جس نے
خَلَقَ
بنائے
سَبۡعَ
سات
سَمَـٰوٰتٍ
آسمان
طِبَاقًا‌ۖ
اوپر تلے۔ تہ بہ تہ
مَّا
نہ
تَرَىٰ
تم دیکھو گے
فِى
میں
خَلۡقِ
تخلیق
ٱلرَّحۡمَـٰنِ
رحمن کی
مِن
کوئی
تَفَـٰوُتٍ‌ۖ
نقص۔ کجی۔ خلل
فَٱرۡجِعِ
پھر لوٹاؤ
ٱلۡبَصَرَ
نگاہ کو
هَلۡ
کیا
تَرَىٰ
تم دیکھتے ہو
مِن
کوئی
فُطُورٍ
شگاف۔ کوئی رخنہ
٣
(وہ اللہ کہ) جس نے بنائے سات آسمان ایک دوسرے کے اوپر۔ تم نہیں دیکھ پائو گے رحمن کی تخلیق میں کہیں کوئی فرق۔ پھر لوٹائو نگاہ کو کیا تمہیں کہیں کوئی رخنہ نظر آتا ہے ؟
67:4
ثُمَّ
پھر
ٱرۡجِعِ
لوٹاؤ
ٱلۡبَصَرَ
نگاہ کو
كَرَّتَيۡنِ
بار بار
يَنقَلِبۡ
لوٹ آئے گی
إِلَيۡكَ
تیری طرف
ٱلۡبَصَرُ
نگاہ
خَاسِئًا
ذلیل ہوکر۔ عاجز ہو کر
وَهُوَ
اور وہ
حَسِيرٌ
تھکی ہوئی ہوگی
٤
پھر لوٹائو نگاہ کو بار بار (کوئی رخنہ ڈھونڈنے کے لیے) پلٹ آئے گی نگاہ تمہاری طرف ناکام تھک ہار کر۔
67:5
وَلَقَدۡ
اور البتہ تحقیق
زَيَّنَّا
زینت دی ہم نے۔ خوب صورت بنایا ہم نے
ٱلسَّمَآءَ
آسمان
ٱلدُّنۡيَا
دنیا کو
بِمَصَـٰبِيحَ
چراغوں کے ساتھ
وَجَعَلۡنَـٰهَا
اور بنایا ہم نے ان کو
رُجُومًا
مارنے کی چیز
لِّلشَّيَـٰطِينِ‌ۖ
شیطانوں کے لیے
وَأَعۡتَدۡنَا
اور تیار کیا ہم نے
لَهُمۡ
ان کے لیے
عَذَابَ
عذاب
ٱلسَّعِيرِ
جلنے کا
٥
اور ہم نے سب سے قریبی آسمان کو سجا دیا ہے چراغوں سے اور ان کو بنا دیا ہے ہم نے شیاطین کو نشانہ بنانے کا ذریعہ اور ان کے لیے ہم نے تیار کر رکھا ہے جلا دینے والا عذاب۔
67:6
وَلِلَّذِينَ
اور ان لوگوں کے لیے
كَفَرُواۡ
جنہوں نے کفر کیا
بِرَبِّهِمۡ
اپنے رب کے ساتھ
عَذَابُ
عذاب ہے
جَهَنَّمَ‌ۖ
جہنم کا
وَبِئۡسَ
اور کتنا برا ہے
ٱلۡمَصِيرُ
ٹھکانہ۔ لوٹنے کی جگہ
٦
اور جو لوگ اپنے رب کا کفر کریں (چاہے وہ انسان ہوں یا جنات) ان کے لیے جہنم کا عذاب ہے اور وہ بہت ہی ُ برا ٹھکانہ ہے۔
67:7
إِذَآ
جب
أُلۡقُواۡ
وہ ڈالیں جائیں گے
فِيهَا
اس میں
سَمِعُواۡ
سنیں گے
لَهَا
واسطے اس کے
شَهِيقًا
چلانا
وَهِىَ
اور وہ
تَفُورُ
جوش کھارہی ہوگی
٧
جب وہ اس میں جھونکے جائیں گے تو اسے سنیں گے دھاڑتے ہوئے اور وہ بہت جوش کھا رہی ہوگی۔
67:8
تَكَادُ
قریب ہے کہ
تَمَيَّزُ
پھٹ جائے
مِنَ
سے
ٱلۡغَيۡظِ‌ۖ
غضب
كُلَّمَآ
جب کبھی
أُلۡقِىَ
ڈالی جائے گی
فِيهَا
اس میں
فَوۡجٌ
کوئی فوج۔ لوگوں کا گروہ
سَأَلَهُمۡ
پوچھیں گے ان سے
خَزَنَتُهَآ
ان کے داروغہ۔ چوکیدار
أَلَمۡ
کیا نہیں
يَأۡتِكُمۡ
آیا تھا تمہارے پاس
نَذِيرٌ
کوئی ڈرانے والا
٨
قریب ہوگا کہ وہ غصے سے پھٹ جائے۔ جب بھی ڈالا جائے گا اس میں کسی ایک گروہ کو تو اس کے داروغے ان سے پوچھیں گے : کیا تمہارے پاس کوئی خبردار کرنے والا نہیں آیا تھا ؟
67:9
قَالُواۡ
وہ کہیں گے
بَلَىٰ
کیوں نہیں
قَدۡ
تحقیق
جَآءَنَا
آیا ہمارے پاس
نَذِيرٌ
ڈرانے والا
فَكَذَّبۡنَا
تو جھٹلادیا ہم نے
وَقُلۡنَا
اور کہا ہم نے
مَا
نہیں
نَزَّلَ
نازل کی
ٱللَّهُ
اللہ نے
مِن
کوئی
شَىۡءٍ
چیز
إِنۡ
نہیں
أَنتُمۡ
تم
إِلَّا
مگر
فِى
میں
ضَلَـٰلٍ
گمراہی
كَبِيرٍ
بڑی
٩
وہ کہیں گے کیوں نہیں ! ہمارے پاس خبردار کرنے والا آیا تھا لیکن ہم نے اسے جھٹلا دیا اور ہم نے کہا کہ اللہ نے کوئی شے نہیں اتاری۔ تم تو کھلی گمراہی میں مبتلا ہوگئے ہو۔
67:10
وَقَالُواۡ
اور وہ کہیں گے
لَوۡ
کاش
كُنَّا
ہم ہوتے
نَسۡمَعُ
ہم سنتے
أَوۡ
یا
نَعۡقِلُ
ہم سمجھتے ہوتے
مَا
نہ
كُنَّا
ہوتے ہم
فِىٓ
میں سے
أَصۡحَـٰبِ
والوں
ٱلسَّعِيرِ
دوزخ
١٠
اور وہ کہیں گے کہ اگر ہم سنتے اور عقل سے کام لیتے تو ہم نہ ہوتے ان جہنم والوں میں سے۔
67:11
فَٱعۡتَرَفُواۡ
تو وہ اعتراف کرلیں گے
بِذَنۢبِهِمۡ
اپنے گناہوں کا
فَسُحۡقًا
تو لعنت ہے۔ دوری ہے
لِّأَصۡحَـٰبِ
والوں کے لیے
ٱلسَّعِيرِ
دوزخ
١١
پس وہ اپنے اصل گناہ کا اعتراف کرلیں گے۔ پس پھٹکار ہے جہنمی لوگوں کے لیے۔
67:12
إِنَّ
بیشک
ٱلَّذِينَ
وہ لوگ
يَخۡشَوۡنَ
جو ڈرتے ہیں
رَبَّهُم
اپنے رب سے
بِٱلۡغَيۡبِ
ساتھ غیب کے۔ غائبانہ طور پر
لَهُم
ان کے لیے
مَّغۡفِرَةٌ
بخشش ہے
وَأَجۡرٌ
اور اجر
كَبِيرٌ
بہت بڑا
١٢
بیشک وہ لوگ جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں غیب میں رہتے ہوئے ان کے لیے مغفرت بھی ہے اور بہت بڑا اجر بھی۔
67:13
وَأَسِرُّواۡ
اور چھپاؤ۔ چپکے سے کرو
قَوۡلَكُمۡ
بات اپنی
أَوِ
یا
ٱجۡهَرُواۡ
ظاہر کرو
بِهِۦٓ‌ۖ
اس کو
إِنَّهُۥ
بیشک وہ
عَلِيمُۢ
جاننے والا ہے
بِذَاتِ
بھید
ٱلصُّدُورِ
سینوں کے
١٣
اور (دیکھو !) چاہے تم اپنی بات کو چھپا کر بیان کرو یا بلند آواز سے بیان کرو (وہ اس کو جانتا ہے)۔ وہ تو اس سے بھی واقف ہے جو تمہارے سینوں کے اندر پنہاں ہے۔
67:14
أَلَا
کیا نہیں
يَعۡلَمُ
جانے گا
مَنۡ
وہ جس نے
خَلَقَ
پیدا کیا
وَهُوَ
اور وہ
ٱللَّطِيفُ
باریک بین ہے
ٱلۡخَبِيرُ
باخبر ہے
١٤
کیا وہی نہ جانے گا جس نے پیدا کیا ہے ؟ اور وہ بہت باریک بین ہے ہر شے کی خبر رکھنے والا ہے۔
67:15
هُوَ
وہ
ٱلَّذِى
اللہ وہ ذات ہے
جَعَلَ
جس نے بنایا
لَكُمُ
تمہارے لیے
ٱلۡأَرۡضَ
زمین
ذَلُولاً
تابع۔ فرش
فَٱمۡشُواۡ
پس چلو
فِى
میں
مَنَاكِبِهَا
اس کے اطراف
وَكُلُواۡ
اور کھاؤ
مِن
میں سے
رِّزۡقِهِۦ‌ۖ
اس کے رزق
وَإِلَيۡهِ
اور اسی کی طرف
ٱلنُّشُورُ
دوبارہ زندہ ہونا
١٥
وہی ہے جس نے تمہارے لیے بنا دیا ہے زمین کو پست تو تم چلو پھرو اس کے کندھوں کے مابین اور اس کے (دیے ہوئے) رزق سے کھائو پیو اور (یاد رکھو کہ تم نے) اسی کی طرف زندہ ہو کر جانا ہے۔
67:16
ءَأَمِنتُم
کیا بےخوف ہوگئے تم
مَّن
اس سے جو
فِى
میں ہے
ٱلسَّمَآءِ
آسمان
أَن
کہ
يَخۡسِفَ
دھنسا دے
بِكُمُ
تم کو
ٱلۡأَرۡضَ
زمین میں
فَإِذَا
تو اچانک
هِىَ
وہ
تَمُورُ
لرزنے لگے۔ پھٹ جائے
١٦
کیا تم بےخوف ہوگئے ہو اس سے جو آسمان میں ہے کہ وہ تمہیں زمین میں دھنسا دے اور وہ یکایک لرزنے لگے۔
67:17
أَمۡ
کیا
أَمِنتُم
بےخوف ہوگئے تم کو
مَّن
اس سے جو
فِى
میں ہے
ٱلسَّمَآءِ
آسمان
أَن
کہ
يُرۡسِلَ
وہ بھیجے
عَلَيۡكُمۡ
تم پر
حَاصِبًا‌ۖ
پتھروں کی بارش
فَسَتَعۡلَمُونَ
پس عنقریب تم جان لو گے
كَيۡفَ
کیسے تھا
نَذِيرِ
ڈراؤ میرا
١٧
کیا تم بےخوف ہوگئے ہو اس سے جو آسمان میں ہے کہ وہ تم پر پتھر برسانے والی آندھی بھیج دے ؟ پھر تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ میرا خبردار کرنا کیسا تھا !
67:18
وَلَقَدۡ
اور البتہ تحقیق
كَذَّبَ
جھٹلایا
ٱلَّذِينَ
ان لوگوں نے
مِن
جو
قَبۡلِهِمۡ
ان سے پہلے تھے
فَكَيۡفَ
تو کس طرح
كَانَ
تھی
نَكِيرِ
پکڑ میری
١٨
اور یقینا ان سے پہلے والوں نے بھی جھٹلایا تھا تو کیسا ہوا (ان پر) میرا عذاب ؟
67:19
أَوَلَمۡ
کیا بھلا نہیں
يَرَوۡاۡ
انہوں نے دیکھا
إِلَى
طرف
ٱلطَّيۡرِ
پرندوں کی
فَوۡقَهُمۡ
ان کے اوپر
صَـٰٓفَّـٰتٍ
صف بستہ
وَيَقۡبِضۡنَ‌ۚ
اور سمیٹ لیتے ہیں
مَا
نہیں
يُمۡسِكُهُنَّ
تھامتا ان کو
إِلَّا
مگر
ٱلرَّحۡمَـٰنُ‌ۚ
رحمن
إِنَّهُۥ
بیشک وہ
بِكُلِّ
ہر
شَىۡءِۭ
چیز کو
بَصِيرٌ
دیکھنے والا ہے
١٩
کیا یہ لوگ دیکھتے نہیں پرندوں کو اپنے اوپر (اڑتے ہوئے) کبھی پروں کو پھیلائے ہوئے اور کبھی سمیٹے ہوئے ؟ نہیں روکے ہوئے انہیں کوئی (فضا میں) مگر رحمن ! یقینا وہ ہرچیز کو خوب دیکھنے والا ہے !
67:20
أَمَّنۡ
یا کون ہے
هَـٰذَا
یہ
ٱلَّذِى
جو
هُوَ
وہ
جُندٌ
لشکر ہو
لَّكُمۡ
تمہارا
يَنصُرُكُم
جو مدد کرے تمہاری
مِّن
دُونِ
سوا
ٱلرَّحۡمَـٰنِ‌ۚ
رحمن کے
إِنِ
نہیں ہیں
ٱلۡكَـٰفِرُونَ
کافر
إِلَّا
مگر
فِى
میں
غُرُورٍ
دھوکے
٢٠
بھلا وہ کون ہے جو تمہارا لشکر بن کر تمہاری مدد کرے رحمن کے مقابلہ میں ؟ نہیں ہیں یہ کافر مگر دھوکے میں مبتلا ہیں۔
67:21
أَمَّنۡ
یا کون ہے
هَـٰذَا
وہ
ٱلَّذِى
جو
يَرۡزُقُكُمۡ
رزق دے گا تم کو
إِنۡ
اگر
أَمۡسَكَ
تھام لیا۔ روک لیا اس نے
رِزۡقَهُۥ‌ۚ
رزق اپنا
بَل
بلکہ
لَّجُّواۡ
وہ اڑے ہوئے ہیں
فِى
میں
عُتُوٍّ
سرکشی
وَنُفُورٍ
بھاگنے میں
٢١
پھر بھلا کون ہے وہ جو تمہیں رزق دے سکے اگر اللہ اپنے رزق کو روک لے ؟ بلکہ یہ لوگ اپنی سرکشی اور حق سے گریز میں بہت آگے بڑھ گئے ہیں۔
67:22
أَفَمَن
کیا پھر جو
يَمۡشِى
چلتا ہے
مُكِبًّا
سرنگوں ہوکر۔ سر جھکا کر
عَلَىٰ
پر
وَجۡهِهِۦٓ
اپنے چہرے
أَهۡدَىٰٓ
زیادہ ہدایت یافتہ ہے
أَمَّن
یا جو
يَمۡشِى
چلتا ہے
سَوِيًّا
سیدھا
عَلَىٰ
پر
صِرٰطٍ
راستے
مُّسۡتَقِيمٍ
سیدھے
٢٢
تو کیا وہ شخص جو اپنے منہ کے بل گھسٹ رہا ہے زیادہ ہدایت پر ہے یا وہ جو سیدھا ہو کر چل رہا ہے ایک سیدھے راستے پر ؟
67:23
قُلۡ
کہہ دیجئے
هُوَ
وہ ذات ہے
ٱلَّذِىٓ
جس نے
أَنشَأَكُمۡ
پیدا کیا تم کو
وَجَعَلَ
اور بنائے اس نے
لَكُمُ
تمہارے لیے
ٱلسَّمۡعَ
کان
وَٱلۡأَبۡصَـٰرَ
اور آنکھیں
وَٱلۡأَفۡــِٔدَةَ‌ۖ
اور دل
قَلِيلاً
کتنا تھوڑا
مَّا
تَشۡكُرُونَ
تم شکر ادا کرتے ہو
٢٣
کہہ دیجیے کہ وہی ہے جس نے تمہیں پیدا کیا اور تمہارے لیے کان آنکھیں اور دل بنائے۔ بہت ہی کم شکر ہے جو تم لوگ کرتے ہو۔
67:24
قُلۡ
کہہ دیجئے
هُوَ
وہ اللہ وہ ذات ہے
ٱلَّذِى
جس نے
ذَرَأَكُمۡ
پھیلایا تم کو
فِى
میں
ٱلۡأَرۡضِ
زمین
وَإِلَيۡهِ
اور اسی کی طرف
تُحۡشَرُونَ
تم سمیٹے جاؤ گے
٢٤
کہہ دیجیے اسی نے تمہیں پھیلا دیا ہے زمین میں اور اسی کی طرف تم اکٹھے کردیے جائو گے۔
67:25
وَيَقُولُونَ
اور وہ کہتے ہیں
مَتَىٰ
کب ہے
هَـٰذَا
یہ
ٱلۡوَعۡدُ
وعدہ
إِن
اگر ہو
كُنتُمۡ
تم
صَـٰدِقِينَ
سچے
٢٥
وہ کہتے ہیں کب پورا ہوگا یہ وعدہ ؟ اگر تم سچے ہو (تو بتائو) !
67:26
قُلۡ
کہہ دیجئے
إِنَّمَا
بیشک
ٱلۡعِلۡمُ
علم
عِندَ
پاس ہے
ٱللَّهِ
اللہ کے
وَإِنَّمَآ
اور بیشک
أَنَاۡ
میں
نَذِيرٌ
ڈرانے والا ہوں
مُّبِينٌ
کھلم کھلا
٢٦
کہہ دیجیے کہ یہ علم تو اللہ ہی کے پاس ہے اور میں تو بس ایک واضح طور پر خبردار کردینے والا ہوں۔
67:27
فَلَمَّا
پھر جب
رَأَوۡهُ
وہ دیکھ لیں گے اس کو
زُلۡفَةً
نزدیک
سِيٓــَٔتۡ
بگڑ جائیں گے
وُجُوهُ
چہرے
ٱلَّذِينَ
ان لوگوں کے
كَفَرُواۡ
جنہوں نے کفر کیا
وَقِيلَ
اور کہہ دیاجائے گا
هَـٰذَا
یہ ہے
ٱلَّذِى
وہ چیز
كُنتُم
تھے تم
بِهِۦ
ساتھ اس کے
تَدَّعُونَ
تم تقاضا کرتے
٢٧
پھر جب وہ دیکھیں گے اس کو اپنے قریب آتے تو ان کافروں کے چہرے بگڑ جائیں گے اور کہا جائے گا یہ ہے وہ چیز جس کا تم مطالبہ کرتے تھے۔
67:28
قُلۡ
کہہ دیجئے
أَرَءَيۡتُمۡ
کیا دیکھا تم نے
إِنۡ
اگر
أَهۡلَكَنِىَ
ہلاک کردے مجھ کو
ٱللَّهُ
اللہ
وَمَن
اور اسے جو
مَّعِىَ
میرے ساتھ ہے
أَوۡ
یا
رَحِمَنَا
وہ رحم کرے ہم پر
فَمَن
تو کون
يُجِيرُ
پناہ دے گا
ٱلۡكَـٰفِرِينَ
کافروں کو
مِنۡ
سے
عَذَابٍ
عذاب
أَلِيمٍ
دردناک
٢٨
(اے نبی ﷺ !) ان سے کہیے کہ اگر اللہ مجھے اور جو لوگ میرے ساتھ ہیں ان کو ہلاک کردے یا وہ ہم پر رحم کرے تو کافروں کو دردناک عذاب سے کون بچائے گا ؟
67:29
قُلۡ
کہہ دیجئے
هُوَ
وہی
ٱلرَّحۡمَـٰنُ
رحمن
ءَامَنَّا
ایمان لائے ہم
بِهِۦ
اس پر
وَعَلَيۡهِ
اور اسی پر
تَوَكَّلۡنَا‌ۖ
توکل کیا ہم نے
فَسَتَعۡلَمُونَ
پس عنقریب تم جان لوگے
مَنۡ
کون ہے
هُوَ
وہ جو
فِى
میں ہے
ضَلَـٰلٍ
گمراہی
مُّبِينٍ
کھلی
٢٩
(اے نبی ﷺ !) آپ کہیے کہ وہ تو رحمن ہے ہم اس پر ایمان لاچکے ہیں اور اسی پر ہمارا توکل ّہے۔ تو عنقریب تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ کھلی گمراہی میں کون تھا !
67:30
قُلۡ
کہہ دیجئے
أَرَءَيۡتُمۡ
کیا دیکھا تم نے
إِنۡ
اگر
أَصۡبَحَ
ہوجائے
مَآؤُكُمۡ
پانی تمہارا
غَوۡرًا
خشک ۔ گہرا
فَمَن
تو کون ہے جو
يَأۡتِيكُم
لائے تمہارے پاس
بِمَآءٍ
پانی
مَّعِينِۭ
بہتا
٣٠
آپ ﷺ کہیے کہ ذرا سوچو ! اگر تمہارا پانی گہرائی میں اتر جائے تو کون ہے جو لائے گا تمہارے پاس صاف نتھرا ہواپانی ؟
68:1
نٓ‌ۚ
ن
وَٱلۡقَلَمِ
قسم ہے قلم کی
وَمَا
اور قسم ہے اس کی جو کچھ
يَسۡطُرُونَ
وہ لکھ رہے ہیں
١
ن قسم ہے قلم کی اور جو کچھ یہ لکھتے ہیں۔
68:2
مَآ
نہیں ہیں
أَنتَ
آپ
بِنِعۡمَةِ
نعمت کے ساتھ
رَبِّكَ
اپنے رب کی
بِمَجۡنُونٍ
مجنون
٢
آپ اپنے رب کے فضل و کرم سے مجنون نہیں ہیں۔
68:3
وَإِنَّ
اور بیشک
لَكَ
آپ کے لیے
لَأَجۡرًا
البتہ اجر ہے
غَيۡرَ
نہ
مَمۡنُونٍ
ختم ہونے والا
٣
اور یقینا آپ کے لیے تو وہ اجر ہے جس کا سلسلہ کبھی منقطع نہیں ہوگا۔
68:4
وَإِنَّكَ
اور بیشک آپ
لَعَلَىٰ
البتہ
خُلُقٍ
اخلاق کے
عَظِيمٍ
بلند مرتبے پر ہیں
٤
اور آپ ﷺ یقینا اخلاق کے بلند ترین مرتبے پر فائز ہیں۔
68:5
فَسَتُبۡصِرُ
پس عنقریب تم بھی دیکھو گے
وَيُبۡصِرُونَ
اور وہ بھی دیکھیں گے
٥
تو عنقریب آپ ﷺ بھی دیکھ لیں گے اور وہ بھی دیکھ لیں گے۔
68:6
بِأَييِّكُمُ
کون تم میں سے
ٱلۡمَفۡتُونُ
فتنے میں پڑا ہو ا ہے
٦
کہ تم میں سے کون فتنے میں مبتلا تھا !
68:7
إِنَّ
بیشک
رَبَّكَ
رب تیرا
هُوَ
وہ
أَعۡلَمُ
زیادہ جانتا ہے
بِمَن
اس کو جو
ضَلَّ
بھٹک گیا
عَن
سے
سَبِيلِهِۦ
اس کے راستے
وَهُوَ
اور وہ
أَعۡلَمُ
زیادہ جانتا ہے
بِٱلۡمُهۡتَدِينَ
ہدایت پانے والوں کو
٧
یقینا آپ ﷺ کا رب خوب جانتا ہے کہ کون اس کی راہ سے بھٹک گیا ہے اور وہ ان کو بھی خوب جانتا ہے جو ہدایت یافتہ ہیں۔
68:8
فَلَا
پس نہ
تُطِعِ
تم اطاعت کرو
ٱلۡمُكَذِّبِينَ
جھٹلانے والوں کی
٨
تو (اے نبی ﷺ !) آپ ان جھٹلانے والوں کی باتوں پر دھیان نہ دیں۔
68:9
وَدُّواۡ
وہ چاہتے ہیں
لَوۡ
کاش تم
تُدۡهِنُ
سستی کرو
فَيُدۡهِنُونَ
تو وہ بھی سستی کریں۔ مداہنت کریں
٩
وہ تو چاہتے ہیں کہ آپ ﷺ ذرا ڈھیلے پڑیں تو وہ بھی ڈھیلے پڑجائیں۔
68:10
وَلَا
اور نہ
تُطِعۡ
تم اطاعت کرو
كُلَّ
بہت
حَلَّافٍ
قسمیں کھانے والے کی
مَّهِينٍ
ذلیل
١٠
اور آپ ﷺ مت مانیے کسی ایسے شخص کی بات جو بہت قسمیں کھانے والا انتہائی گھٹیا ہے۔
68:11
هَمَّازٍ
عیب جوئی کرنے والا
مَّشَّآءِۭ
چلنے والا
بِنَمِيمٍ
ساتھ چغل خوری کے
١١
رُو در رُو طعنے دیتا ہے چغلیاں کھاتا پھرتا ہے۔
68:12
مَّنَّاعٍ
بہت روکنے والا
لِّلۡخَيۡرِ
بھلائی کا
مُعۡتَدٍ
حد سے بڑھنے والا
أَثِيمٍ
گناہ گار
١٢
خیر سے روکنے والا حد سے بڑھنے والا گنہگار۔
68:13
عُتُلِّۭ
بدمزاج
بَعۡدَ
بعد
ذٰلِكَ
اس کے
زَنِيمٍ
بداصل بھی ہے
١٣
بالکل گنوار ہے اس کے بعد یہ کہ بداصل بھی ہے۔
68:14
أَن
کہ ہے
كَانَ
وہ
ذَا
والا
مَالٍ
مال
وَبَنِينَ
اور بیٹوں والا
١٤
صرف اس گھمنڈ پر کہ وہ مال و دولت اور بیٹوں والا ہے۔
68:15
إِذَا
جب
تُتۡلَىٰ
پڑھی جاتی ہیں
عَلَيۡهِ
اس پر
ءَايَـٰتُنَا
ہماری آیات
قَالَ
کہتا ہے
أَسَـٰطِيرُ
کہانیاں ہیں
ٱلۡأَوَّلِينَ
پہلوں کی
١٥
جب اسے ہماری آیات پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو وہ کہتا ہے کہ یہ تو پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں۔
68:16
سَنَسِمُهُۥ
عنقریب ہم داغ دیں گے اس کو۔ داغ لگائیں گے اس کو
عَلَى
اوپر
ٱلۡخُرۡطُومِ
ناک کے
١٦
ہم عنقریب اس کی سونڈ پر داغ لگائیں گے۔
68:17
إِنَّا
بیشک ہم نے
بَلَوۡنَـٰهُمۡ
آزمائش میں ڈالا ہم نے ان کو
كَمَا
جیسا کہ
بَلَوۡنَآ
آزمایا ہم نے
أَصۡحَـٰبَ
والوں کو
ٱلۡجَنَّةِ
باغ
إِذۡ
جب
أَقۡسَمُواۡ
انہوں نے قسم کھائی
لَيَصۡرِمُنَّهَا
البتہ ضرور کاٹ لیں گے اس کو
مُصۡبِحِينَ
صبح سویرے
١٧
یقینا ہم نے ان (اہل مکہ) کو اسی طرح آزمایا ہے جیسے ہم نے باغ والوں کو آزمایا تھا۔ جبکہ انہوں نے قسم کھائی کہ وہ ضرور اس کا پھل اتار لیں گے صبح سویرے۔
68:18
وَلَا
اور نہ
يَسۡتَثۡنُونَ
وہ استثناء کررہے تھے
١٨
اور انہوں نے (اس پر) ان شاء اللہ بھی نہ کہا۔
68:19
فَطَافَ
تو پھر گیا
عَلَيۡهَا
اس پر
طَآئِفٌ
ایک پھرنے والا
مِّن
طرف سے
رَّبِّكَ
تیرے رب کی
وَهُمۡ
اور وہ
نَآئِمُونَ
سو رہے تھے
١٩
پس ایک پھرنے والا پھر گیا اس (باغ) پر آپ کے رب کی طرف سے جبکہ وہ ابھی سوئے ہوئے ہی تھے۔
68:20
فَأَصۡبَحَتۡ
تو ہوگیا وہ باغ
كَٱلصَّرِيمِ
جڑکٹا۔ مانند جڑ کئے کے
٢٠
تو وہ ایسے ہوگیا جیسے کٹی ہوئی فصل ہو۔
68:21
فَتَنَادَوۡاۡ
تو ایک دوسرے کو پکارے لگے
مُصۡبِحِينَ
صبح سویرے
٢١
اب صبح ہی صبح انہوں نے ایک دوسرے کو پکارا۔
68:22
أَنِ
کہ
ٱغۡدُواۡ
چلو
عَلَىٰ
پر
حَرۡثِكُمۡ
اپنے کھیت
إِن
اگر
كُنتُمۡ
ہو تم
صَـٰرِمِينَ
کاٹنے والے
٢٢
کہ صبح سویرے چلو اپنے کھیت کی طرف اگر تم پھل توڑنا چاہتے ہو۔
68:23
فَٱنطَلَقُواۡ
تو وہ چل دئیے
وَهُمۡ
اور وہ
يَتَخَـٰفَتُونَ
چپکے چپکے باتیں کررہے تھے
٢٣
چناچہ وہ چلے اور آپس میں چپکے چپکے یہ باتیں کرتے جا رہے تھے۔
68:24
أَن
کہ
لَّا
نہیں
يَدۡخُلَنَّهَا
داخل ہوگا اس پر
ٱلۡيَوۡمَ
آج
عَلَيۡكُم
تم پر
مِّسۡكِينٌ
کوئی مسکین
٢٤
کہ دیکھو آج کوئی مسکین تمہارے پاس باغ میں ہرگز داخل نہ ہونے پائے۔
68:25
وَغَدَوۡاۡ
اور وہ صبح سویرے گئے
عَلَىٰ
اوپر
حَرۡدٍ
بخیلی کے۔ بخل کرتے ہوئے
قَـٰدِرِينَ
جیسا کہ قدرت رکھنے والے ہوں
٢٥
اور وہ صبح سویرے چلے جلدی جلدی (یہ سمجھتے ہوئے) کہ وہ اس ارادہ پر پوری طرح قادر ہیں۔