Back to Hizb Indexٱ لۡكِتَـٰ بِٱ للَّهِٱ لۡعَزِيزِٱ لۡحَكِي مِ٢ٱ ل سَّمَـٰ وٰ تِم ُّسَمًّىۚ و َٱ لَّذِينَم َّاد ُونِٱ للَّهِٱ لۡأَرۡضِف ِىٱ ل سَّمَـٰ وٰ تِۖٱ ئۡتُونِىم ِّن ق َبۡ لِم ِّنۡك ُنت ُمۡي َدۡ عُواۡ د ُونِٱ للَّهِل َّاٱ لۡقِيَـٰ مَةِد ُعَا ٓئِهِمۡٱ ل نّ َاسُو َكَانُواۡ ق َالَٱ لَّذِينَم ُّبِي نٌ٧ٱ فۡتَرَٮٰ هُۖٱ فۡتَرَيۡتُهُۥ ٱ للَّهِب َيۡنِىٱ لۡغَفُورُٱ ل رَّحِي مُ٨م ِّنَٱ ل رُّسُلِم ُّبِي نٌ٩ك َانَٱ للَّهِب ِهِۦ م ِّنۢ ب َنِىٓ ٱ للَّهَٱ لۡقَوۡمَٱ ل ظَّـٰ لِمِي نَ١٠ٱ لَّذِينَم َّاق َدِي مٌ١١ق َبۡ لِهِۦ و َرَحۡمَةًۚ و َهَـٰ ذَام ُّصَدِّقٌ ل ِّسَانًال ِّيُنذ ِرَٱ لَّذِينَٱ لَّذِينَٱ للَّهُٱ سۡتَقَـٰ مُواۡ ٱ لۡجَنّ َةِب ِمَاٱ لۡإِنس َـٰ نَو َوَضَعَتۡهُو َحَمۡلُهُۥ ق َالَٱ لَّتِىٓ ت َرۡضَـٰ هُٱ لۡمُسۡلِمِي نَ١٥ٱ لَّذِينَس َيِّـَٔـاتِهِمۡٱ لۡجَنّ َةِۖٱ ل صِّدۡ قِٱ لَّذِىل َّكُمَآ ٱ لۡقُرُونُق َبۡ لِىٱ للَّهَٱ للَّهِف َيَقُولُٱ لۡأَوَّلِي نَ١٧ٱ لَّذِينَٱ لۡقَوۡلُق َدۡ ق َبۡ لِهِم م ِّنَٱ لۡجِنّ ِد َرَجَـٰ تٌ م ِّمّ َاٱ لَّذِينَٱ ل نّ َارِٱ ل دُّنۡيَاب ِهَاٱ لۡهُونِٱ لۡأَرۡضِٱ لۡحَقِّٱ ل نّ ُذُرُب َيۡنِٱ للَّهَك ُنت َٱ ل صَّـٰ دِقِي نَ٢٢ٱ لۡعِلۡمُٱ للَّهِم َّآ ت َجۡ هَلُو نَ٢٣م ُّسۡتَقۡ بِلَم ُّمۡطِرُنَاۚٱ سۡتَعۡجَلۡتُم ب ِهِۦ ۖف ِيهَاب ِأَمۡرِٱ لۡقَوۡمَٱ لۡمُجۡ رِمِي نَ٢٥م َّكَّنّ َـٰ كُمۡو َأَبۡ صَـٰ رًا و َأَفۡــِٔدَةً ف َمَآ م ِّن ش َىۡءٍٱ للَّهِم َّا
Hizb 51
3 Surahs90 Versesالحزب 51
46:1
حمٓ
١ها ميم
ح م۔
46:2
تَنز ِيلُ
نازل کرنا ہے
کتاب کا
مِنَ
سے
اللہ کی طرف (سے )
جو زبردست ہے
حکمت والا ہے
اس کتاب کا اتارا جانا ہے اس اللہ کی طرف سے جو زبردست کمال حکمت والا ہے۔
46:3
مَا
نہیں
خَلَقۡ نَا
پیدا کیا ہم نے
آسمانوں کو
وَٱ لۡأَرۡضَ
اور زمین کو
وَمَا
اور جو
بَيۡنَهُمَآ
ان دونوں کے درمیان ہے
إِلَّا
مگر
بِٱ لۡحَقِّ
حق کے ساتھ
وَأَجَلٍ
اور مدت تک
مقرر تک کے لیے
اور وہ لوگ
كَفَرُواۡ
جنہوں نے کفر کیا
عَمّ َآ
اس چیز سے
أُنذ ِرُواۡ
جو وہ خبر دار کیے گئے
مُعۡرِضُو نَ
٣اعراض برتنے والے ہیں
اور ہم نے نہیں پید ا کیا آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان دونوں کے مابین ہے مگر حق کے ساتھ اور ایک اجل معین کے لیے اور جن لوگوں نے کفر کیا ہے وہ اعراض کر رہے ہیں اس سے جس سے انہیں خبردار کیا جا رہا ہے۔
46:4
قُلۡ
کہہ دیجیے
أَرَءَيۡتُم
کیا دیکھا تم نے۔ غور کیا تم نے
جن کو
تَدۡ عُونَ
تم پکارتے ہو
مِن
کے
سوا
اللہ کے
أَرُونِى
دکھاؤ مجھ کو
مَاذَا
کیا کچھ
خَلَقُواۡ
انہوں نے پیدا کیا ہے
مِنَ
سے
زمین
أَمۡ
یا
لَهُمۡ
ان کے لیے
شِرۡكٌ
کوئی حصہ ہے
میں
آسمانوں (میں )
لاؤ میرے پاس
بِكِتَـٰ بٍ
کوئی کتاب
سے
پہلے
هَـٰ ذَآ
اس (سے)
أَوۡ
یا
أَثَـٰ رَةٍ
باقی ماندہ
سے
عِلۡمٍ
علم میں (سے)
إِن
اگر
ہو تم
صَـٰ دِقِي نَ
٤سچے
(اے نبی ﷺ !) ان سیکہیے کہ کبھی تم نے غور بھی کیا کہ جنہیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو مجھے دکھائو تو سہی کہ انہوں نے کیا پیدا کیا ہے زمین میں ؟ یا ان کی کوئی شراکت ہے آسمانوں میں ؟ } لائو میرے پاس کوئی کتاب اس سے پہلے کی یا کوئی ایسی روایت جس کی بنیاد علم پر ہو اگر تم سچے ہو !
46:5
وَمَنۡ
اور کون
أَضَلُّ
زیادہ بھٹکا ہوا ہوسکتا ہے
مِمّ َن
اس سے جو
پکارتا ہے
مِن
سے
سوا
اللہ کے
مَن
جو
نہیں
يَسۡتَجِيبُ
جواب دے سکتے
لَهُۥٓ
اس کے لیے
إِلَىٰ
تک
يَوۡمِ
دن
قیامت کے
وَهُمۡ
اور وہ
عَن
سے
ان کی پکار (سے)
غَـٰ فِلُو نَ
٥غافل ہیں
اور اس سے بڑھ کر ظالم اور کون ہوگا جو اللہ کے سوا اسے پکارتا ہے جو اس کو جواب ہی نہیں دے سکتا قیامت کے دن تک اور وہ ان کی دعا سے غافل ہیں۔
46:6
وَإِذَا
اور جب
حُشِرَ
جمع کیے جائیں گے
لوگ
كَانُواۡ
وہ ہوں گے
لَهُمۡ
ان کے لیے
أَعۡدَا ٓءً
دشمن
اور وہ ہوں گے
بِعِبَادَتِهِمۡ
ان کی عبادت کے
كَـٰ فِرِي نَ
٦منکر
اور جب لوگوں کو جمع کیا جائے گا تو وہ ان کے دشمن بن جائیں گے اور وہ ان کی عبادت کے منکر ہوں گے۔
46:7
وَإِذَا
اور جب
تُتۡلَىٰ
پڑھی جاتی ہیں
عَلَيۡهِمۡ
ان پر
ءَايَـٰ تُنَا
ہماری آیات
بَيِّنَـٰ تٍ
روشن
کہا
ان لوگوں نے
كَفَرُواۡ
جنہوں نے کفر کیا
لِلۡحَقِّ
حق کے لیے
لَمّ َا
جب
جَا ٓءَهُمۡ
وہ آگیا ان کے پاس
هَـٰ ذَا
یہ ہے
سِحۡرٌ
جادو
کھلا
اور جب انہیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں ہماری آیت ِبینات ّتو یہ کافر کہتے ہیں حق کے بارے میں جبکہ وہ ان کے پاس آگیا کہ یہ تو کھلا جادو ہے۔
46:8
أَمۡ
یا
يَقُولُونَ
وہ کہتے ہیں
کہ اس نے گھڑ لیا ہے اس کو
قُلۡ
کہہ دیجیے
إِنِ
اگر
میں نے گھڑ لیا ہے اس کو
فَلَا
تو نہیں
تَمۡلِكُونَ
تم مالک ہوسکتے
لِى
میرے لیے
مِنَ
سے
اللہ کے مقابلے میں
شَيۡــًٔاۖ
کسی چیز کے
هُوَ
وہ
أَعۡلَمُ
خوب جانتا ہے
بِمَا
ساتھ اس کے جو
تُفِيضُونَ
تم پڑحتے ہو۔ تم شروع کرتے ہو۔ تم گھستے ہو۔ تم پلٹتے ہو
فِيهِۖ
اس میں
كَفَىٰ
کافی
بِهِۦ
ساتھ اس کے
شَهِيدَۢا
گواہ ہونا
میرے درمیان
وَبَيۡنَكُمۡۖ
اور تمہارے درمیان
وَهُوَ
اور وہ
غفور
رحیم ہے
کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے اس کو گھڑ لیا ہے ؟ (اے نبی ﷺ !) ان سے کہیے کہ اگر میں نے اس کو گھڑ لیا ہے تو تم مجھے اللہ (کی پکڑ) سے ذرا بھی نہیں بچا سکتے۔ وہ خوب جانتا ہے جن باتوں میں تم لگے ہوئے ہو۔ } وہ کافی ہے بطور گواہ میرے اور تمہارے مابین اور وہ خوب بخشنے والا بہت رحم فرمانے والا ہے۔
46:9
قُلۡ
کہہ دیجیے
مَا
نہیں
كُنت ُ
ہوں میں
بِدۡ عًا
نیا۔ انوکھا
سے
رسولوں میں (سے)
وَمَآ
اور نہیں
أَدۡ رِى
میں جانتا
مَا
کیا
يُفۡعَلُ
کیا جائے گا
بِى
میرے ساتھ
وَلَا
اور نہ
بِكُمۡۖ
تمہارے ساتھ
إِنۡ
نہیں
أَتَّبِعُ
میں پیروی کرتا
إِلَّا
مگر
مَا
اس کی جو
يُوحَىٰٓ
وحی کی جاتی ہے
إِلَىَّ
میری طرف
وَمَآ
اور نہیں
أَنَاۡ
میں
إِلَّا
مگر
نَذِيرٌ
خبردار کرنے والا
کھلم کھلا
(اے نبی ﷺ ! ان سے یہ بھی) کہیے کہ میں کوئی نیا رسول تو نہیں ہوں اور مجھے یہ معلوم نہیں کہ میرے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا اور نہ یہ کہ تمہارے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا } میں تو بس اسی کی پیروی کر رہا ہوں جو میری طرف وحی کی جا رہی ہے اور میں نہیں ہوں مگر ایک کھلا خبردار کردینے والا۔
46:10
قُلۡ
کہہ دیجیے
أَرَءَيۡتُمۡ
کیا سوچا تم نے
إِن
اگر
ہے وہ
مِنۡ
سے
عِند ِ
طرف (سے)
اللہ کی
وَكَفَرۡتُم
اور کفر کیا تم نے
ساتھ اس کے
وَشَهِدَ
اور گواہی دے چکا
شَاهِدٌ
ایک گواہ
سے
بنی
إِسۡرٰ ٓءِيلَ
اسرائیل میں سے
عَلَىٰ
اوپر
مِثۡلِهِۦ
اس کی مانند کے
فَـَٔـامَنَ
پس وہ ایمان لے آیا
وَٱ سۡتَكۡبَرۡتُمۡۖ
اور تم نے تکبر کیا
إِنّ َ
بیشک
اللہ تعالیٰ
لَا
نہیں
يَهۡدِى
ہدایت دیتا
قوم کو
ظالم
(اے نبی ﷺ !) ان سے کہیے کہ کیا تم نے سوچا بھی ہے کہ اگر یہ (قرآن) واقعتا اللہ کی طرف سے ہوا اور تم نے اس کا انکار کردیا (تو اس کا نتیجہ کیا نکلے گا) ؟ اور گواہی دے چکا ہے ایک گواہ بنی اسرائیل میں سے ایک ایسی ہی کتاب کی۔ پس وہ تو ایمان لے آیا اور تم استکبار کر رہے ہو بیشک اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا۔
46:11
وَقَالَ
اور کہا
ان لوگوں نے
كَفَرُواۡ
جنہوں نے کفر کیا
لِلَّذِينَ
ان لوگوں سے
ءَامَنُواۡ
جو ایمان لائے
لَوۡ
اگر
كَانَ
ہوتا وہ
خَيۡرًا
اچھا
نہ
سَبَقُونَآ
وہ سبقت لے جاتے ہم پر
إِلَيۡهِۚ
طرف اس کے
وَإِذۡ
اور جبکہ
لَمۡ
نہیں
يَهۡتَدُواۡ
انہوں نے ہدایت پائی
بِهِۦ
ساتھ اس کے
فَسَيَقُولُونَ
تو عنقریب وہ کہیں گے
هَـٰ ذَآ
یہ
إِفۡكٌ
جھوٹ ہے
پرانا
اور کہا ان لوگوں نے جنہوں نے کفر کی روش اختیار کی ان لوگوں کے بارے میں جو ایمان لائے کہ اگر یہ (قرآن) کوئی خیر ہوتا تو یہ لوگ اس کی طرف ہم سے سبقت نہ لے جاتے۔ } اور چونکہ انہوں نے اس (قرآن) کے ذریعے سے ہدایت نہیں پائی تو اب کہیں گے کہ یہ تو گھڑی ہوئی پرانی چیز ہے۔
46:12
وَمِن
اور سے
اس سے پہلے
كِتَـٰ بُ
کتاب
مُوسَىٰٓ
موسیٰ کی
إِمَامًا
رہنما
اور رحمت کے طور پر (آچکی ہے)
اور یہ
كِتَـٰ بٌ
کتاب
تصدیق کرنے والی ہے
زبان ہے
عَرَبِيًّا
عربی
تاکہ متنبہ کرے
ان لوگوں کو
ظَلَمُواۡ
جنہوں نے ظلم کیا
وَبُشۡرَىٰ
اور خوشخبری ہو
لِلۡمُحۡسِنِي نَ
١٢نیکو کاروں کے لیے
حالانکہ اس سے پہلے موسیٰ ؑ ٰ کی کتاب موجود ہے راہنمائی کرنے والی اور رحمت اور یہ کتاب اس کی تصدیق کرنے والی ہے عربی زبان میں تاکہ خبردار کر دے ان لوگوں کو جنہوں نے ظلم کی روش اختیار کی اور بشارت بن جائے احسان کی روش اختیار کرنے والوں کے لیے۔
46:13
إِنّ َ
بیشک
وہ لوگ
قَالُواۡ
جنہوں نے کہا
رَبُّنَا
ہمارا رب
اللہ ہے
ثُمّ َ
پھر
انہوں نے استقامت اختیار کی۔ جم گئے
فَلَا
تو نہیں
خَوۡفٌ
کوئی خوف
عَلَيۡهِمۡ
ان پر
وَلَا
اور نہ
هُمۡ
وہ
يَحۡزَنُو نَ
١٣غمگین ہوتے ہیں
بیشک جن لوگوں نے اقرار کیا کہ ہمارا رب اللہ ہے پھر اس پر جم گئے تو ان پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ حزن سے دوچار ہوں گے۔
46:14
أُوۡ لَـٰٓ ئِكَ
یہی لوگ
أَصۡحَـٰ بُ
ساتھی ہیں۔ والے ہیں
جنت کے
خَـٰ لِدِينَ
ہمیشہ رہنے والے ہیں
فِيهَا
اس میں
جَزَا ٓءَۢ
بدلہ ہے
بوجہ اس کے جو
كَانُواۡ
تھے وہ
يَعۡمَلُو نَ
١٤وہ عمل کرتے
یہی لوگ جنت والے ہیں اس میں ہمیشہ رہنے والے۔ یہ جزا ہوگی ان اعمال کی جو وہ کرتے رہے۔
46:15
وَوَصَّيۡنَا
اور وصیت کی۔ تاکید کی ہم نے
انسان کو
بِوٰ لِدَيۡهِ
اپنے والدین کے ساتھ
إِحۡسَـٰ نًاۖ
احسان کرنے کی
حَمَلَتۡهُ
اٹھایا اس کو
أُمّ ُهُۥ
اس کی ماں نے
كُرۡهًا
تکلیف میں
اور جنم دیا اس کو
كُرۡهًاۖ
ناگواری میں
اور حمل اس کا۔ اٹھانا اس کا
وَفِصَـٰ لُهُۥ
اور دودھ چھڑانا اس کا
ثَلَـٰ ثُونَ
تیس
شَهۡرًاۚ
ماہ تھا
حَتَّىٰٓ
یہاں تک کہ
إِذَا
جب
بَلَغَ
وہ پہنچ چکا
أَشُدَّهُۥ
اپنی جوانی کو
وَبَلَغَ
اور پہنچا
أَرۡبَعِينَ
چالیس
سَنَةً
سال کو
کہا
رَبِّ
اے میرے رب
أَوۡزِعۡنِىٓ
مجھے توفیق دے
أَنۡ
کہ
أَشۡكُرَ
میں شکر ادا کروں
نِعۡمَتَكَ
تیری نعمت کا
وہ
أَنۡعَمۡتَ
جو انعام کی تو نے
عَلَىَّ
مجھ پر
وَعَلَىٰ
اور پر
وٰ لِدَىَّ
میرے والدین پر
وَأَنۡ
اور یہ کہ
أَعۡمَلَ
میں عمل کروں
صَـٰ لِحًا
صالح
تو راضی ہوجائے اس پر
وَأَصۡلِحۡ
اور اصلاح کردے -درست کردے
لِى
میرے لیے
فِى
میں
ذُرِّيَّتِىٓۖ
میری اولاد میں
إِنّ ِى
بیشک میں نے
تُبۡ تُ
میں نے توبہ کی
إِلَيۡكَ
تیری طرف
وَإِنّ ِى
اور بیشک میں
مِنَ
سے
مسلمانوں میں سے ہوں
اور ہم نے تاکید کی انسان کو اس کے والدین کے بارے میں حسن سلوک کی۔ اور فیصلہ کردیا ہے آپ ﷺ کے رب نے کہ تم نہیں عبادت کرو گے کسی کی سوائے اس کے اور والدین کے ساتھ احسان (کروگے)۔ اگر پہنچ جائیں تمہارے پاس بڑھاپے کو ان میں سے کوئی ایک یا دونوں تو مت کہو ان کو اف بھی اور مت جھڑکو ان کو اور بات کرو ان سے نرمی کے ساتھ۔ اس کی ماں نے اسے اٹھائے رکھا (پیٹ میں) تکلیف جھیل کر اور اسے جنا تکلیف کے ساتھ۔ اور اس کا یہ حمل اور دودھ چھڑانا ہے (لگ بھگ) تیس مہینے میں یہاں تک کہ جب وہ اپنی پوری قوت کو پہنچتا ہے اور چالیس برس کا ہوجاتا ہے وہ کہتا ہے : اے میرے پروردگار ! مجھے توفیق دے کہ میں شکر کرسکوں تیرے انعامات کا جو تو نے مجھ پر اور میرے والدین پر فرمائے۔ اور یہ کہ میں ایسے اعمال کروں جنہیں تو پسند کرے اور میرے لیے میری اولاد میں بھی اصلاح فرما دے۔ } میں تیری جناب میں توبہ کرتا ہوں اور یقینا میں (تیرے) فرمانبرداروں میں سے ہوں۔
46:16
أُوۡ لَـٰٓ ئِكَ
یہی
وہ لوگ ہیں
نَتَقَبَّلُ
ہم قبول کرلیتے ہیں
عَنۡهُمۡ
ان سے
أَحۡسَنَ
بہترین
مَا
جو
عَمِلُواۡ
انہوں نے عمل کیے
وَنَتَجَاوَزُ
اور ہم درگزر کردیتے ہیں۔ تجاوز کرجاتے ہیں
عَن
سے
ان کی برائیوں (سے)
فِىٓ
میں
أَصۡحَـٰ بِ
والوں (میں)
جنت
وَعۡدَ
وعدہ
سچا
وہ جو
كَانُواۡ
تھے وہ
يُوعَدُو نَ
١٦وہ وعدہ دیئے جاتے
یہ وہ لوگ ہیں جن سے ہم ان کے بہترین اعمال قبول فرمائیں گے اور ہم ان کی خطائوں سے بھی درگزر فرمائیں گے (اور وہ ہوں گے) جنت والوں میں سے یہ وہ سچا وعدہ ہے جو ان سے کیا جاتا تھا۔
46:17
وَٱ لَّذِى
اور وہ شخص
قَالَ
جس نے کہا
لِوٰ لِدَيۡهِ
اپنے والدین سے
أُفٍّ
اف
تم دونوں کے لیے
أَتَعِدَانِنِىٓ
کیا تم مجھے خوف دلاتے ہو
أَنۡ
کہ
أُخۡرَجَ
میں نکالا جاؤں گا
وَقَدۡ
حالانکہ تحقیق
خَلَتِ
گزر چکیں
نسلیں
مِن
سے
مجھ سے پہلے
وَهُمَا
اور وہ دونوں
يَسۡتَغِيثَانِ
فریاد کرتے ہوئے کہتے ہیں (اپنے بیٹے کو)
اللہ سے
وَيۡلَكَ
تیرا برا ہو
ءَامِنۡ
ایمان لے آ
إِنّ َ
بیشک
وَعۡدَ
وعدہ
اللہ کا
حَقٌّ
سچا ہے
تو وہ کہتا ہے
مَا
نہیں
هَـٰ ذَآ
یہ
إِلَّآ
مگر
أَسَـٰ طِيرُ
کہانیاں ہیں
پہلوں کی
اور ایک وہ شخص ہے جو اپنے والدین سے کہتا ہے کہ میں بیزار ہوں آپ دونوں سے کیا آپ مجھے اس سے ڈراتے ہیں کہ میں نکال کھڑا کیا جائوں گا (زندہ کر کے قبر سے) ؟ حالانکہ مجھ سے پہلے کتنی ہی نسلیں گزر چکی ہیں اور وہ دونوں اللہ کی دہائی دے کر کہتے ہیں : بربادی ہو تیری ایمان لے آ ! یقینا اللہ کا وعدہ سچا ہے لیکن وہ کہتا ہے : یہ کچھ نہیں مگر پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں
46:18
أُوۡ لَـٰٓ ئِكَ
یہی
وہ لوگ ہیں
حَقَّ
حق ہوگئی
عَلَيۡهِمُ
ان پر
بات
فِىٓ
میں
أُمَمٍ
گروہوں
تحقیق
خَلَتۡ
گزر چکے
مِن
سے
ان سے پہلے
سے
جنوں
وَٱ لۡإِنس ِۖ
اور انسانوں میں (سے)
إِنّ َهُمۡ
بیشک وہ
كَانُواۡ
تھے وہ
خَـٰ سِرِي نَ
١٨خسارہ پانے والے
یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ کی بات صادق آئی (یہ بھی شامل کردیے جائیں گے) ان قوموں میں جو ان سے پہلے گزر چکی ہیں جنوں اور انسانوں میں سے یقینا یہی لوگ ہیں خسارے والے
46:19
وَلِكُلٍّ
اور واسطے ہر ایک کے
درجے ہیں
اس میں سے جو
عَمِلُواۡۖ
انہوں نے عمل کیے
وَلِيُوَفِّيَهُمۡ
اور تاکہ پورا پورا بدلہ دے ان کو
أَعۡمَـٰ لَهُمۡ
ان کے اعمال کا
وَهُمۡ
اور وہ
لَا
نہ
يُظۡلَمُو نَ
١٩ظلم کیے جائیں گے
اور ہر ایک کے لیے درجے (اور مقامات) ہوں گے ان کے اعمال کے اعتبار سے اور تاکہ وہ پورا پورا دے انہیں ان کے اعمال کا بدلہ اور ان پر کوئی ظلم نہیں ہوگا
46:20
وَيَوۡمَ
اور جس دن
يُعۡرَضُ
پیش کیے جائیں گے
وہ لوگ
كَفَرُواۡ
جنہوں نے کفر کیا
عَلَى
پر
آگ (پر)
أَذۡهَبۡ تُمۡ
(کہا جائے گا) لے گئے تم
طَيِّبَـٰ تِكُمۡ
اپنی نعمتیں
فِى
میں
حَيَاتِكُمُ
اپنی زندگی میں
دنیا کی
وَٱ سۡتَمۡتَعۡتُم
اور فائدہ اٹھا لیا تم نے
ساتھ ان کے
فَٱ لۡيَوۡمَ
تو آج کے دن
تُجۡ زَوۡنَ
تم جزا دیئے جاؤ گے
عَذَابَ
عذاب
رسوائی کا
بِمَا
بوجہ اس کے جو
كُنت ُمۡ
تھے تم
تَسۡتَكۡبِرُونَ
تم تکبر کرتے
فِى
میں
زمین (میں)
بِغَيۡرِ
نا
حق
وَبِمَا
اور بوجہ اس کے جو
كُنت ُمۡ
تھے تم
تَفۡسُقُو نَ
٢٠تم نافرمانی کرتے
اور جس دن یہ کافر پیش کیے جائیں گے آگ پر (اُس وقت ان سے کہا جائے گا :) تم اپنے حصے کی اچھی چیزیں اپنی دنیا کی زندگی میں لے چکے اور ان سے تم نے خوب فائدہ اٹھا لیا تو آج تمہیں ذلت کا عذاب دیا جائے گا بسبب اس تکبر کے جو تم زمین میں ناحق کرتے رہے ہو اور بسبب ان نافرمانیوں کے جو تم کرتے رہے ہو
46:21
۞وَٱ ذۡكُرۡ
اور ذکر کیجیے
أَخَا
بھائی کا
عَادٍ
عاد کے
إِذۡ
جب
أَنذ َرَ
اس نے خبردار کیا
قَوۡمَهُۥ
اپنی قوم کو
بِٱ لۡأَحۡقَافِ
احقاف میں
وَقَدۡ
اور تحقیق
خَلَتِ
گزر چکے تھے
خبردار کرنے والے
مِنۢ
سے
يَدَيۡهِ
اس سے پہلے۔ اس کے آگے
وَمِنۡ
اور سے
خَلۡفِهِۦٓ
اور اس کے پیچھے
أَلَّا
کہ نہ
تَعۡبُدُوٓ اۡ
تم عبادت کرو
إِلَّا
مگر
اللہ کی
إِنّ ِىٓ
بیشک میں
أَخَافُ
میں ڈرتا ہوں
عَلَيۡكُمۡ
تم پر
عَذَابَ
عذاب سے
يَوۡمٍ
دن کے
عَظِي مٍ
٢١بڑے
اور ذرا تذکرہ کیجیے قوم عاد کے بھائی (ہود (ؑ) کا جب اس نے خبردار کیا اپنی قوم کو احقاف میں اور اس سے پہلے بھی اور اس کے بعد بھی بہت سے خبردار کرنے والے گزر چکے تھے کہ مت عبادت کرو کسی کی سوائے اللہ کے مجھے اندیشہ ہے تم پر ایک بڑے دن کے عذاب کا
46:22
قَالُوٓ اۡ
انہوں نے کہا
أَجِئۡتَنَا
کیا تو آیا ہے ہمارے پاس
لِتَأۡفِكَنَا
تاکہ تو برگشتہ کردے ہم کو۔ پھیر دے ہم کو
عَنۡ
سے
ءَالِهَتِنَا
ہمارے الہوں سے
فَأۡتِنَا
پس لے آ ہمارے پاس
بِمَا
ساتھ اس کے جو
تَعِدُنَآ
تو ڈراتا ہے ہم کو
إِن
اگر
ہے تو
مِنَ
سے
سچوں میں (سے)
انہوں نے کہا : کیا تم ہمارے پاس اس لیے آئے ہو کہ ہمیں بہکا کر ہمارے معبودوں سے برگشتہ کر دو تو جس عذاب کی دھمکی تم ہمیں دے رہے ہو وہ ہم پر لے آئو اگر تم سچوں میں سے ہو
46:23
قَالَ
اس نے کہا
إِنّ َمَا
بیشک
علم
عِند َ
پاس ہے
اللہ کے
وَأُبَلِّغُكُم
اور میں پہنچا رہا ہوں تم کو
وہ جو
أُرۡسِلۡتُ
میں بھیجا گیا
بِهِۦ
ساتھ اس کے
وَلَـٰ كِنّ ِىٓ
لیکن میں
أَرَٮٰ كُمۡ
دیکھتا ہوں تم کو
قَوۡمًا
ایک قوم
تم جہالت برت رہے ہو
اس نے کہا کہ اس کا علم تو اللہ کے پاس ہے اور میں تو تمہیں پہنچا رہا ہوں وہ پیغام جو اس نے مجھے دے کر بھیجا ہے لیکن میں دیکھ رہا ہوں کہ تم لوگ بالکل جہالت کی روش اختیار کر رہے ہو
46:24
فَلَمّ َا
تو جب
رَأَوۡهُ
انہوں نے دیکھا
عَارِضًا
اس بادل کو
آنے والا
أَوۡدِيَتِهِمۡ
ان کی وادیوں کو
قَالُواۡ
انہوں نے کہا
هَـٰ ذَا
یہ
عَارِضٌ
بادل ہے
مینہ برسانے والا ہے ہم کو
بَلۡ
نہیں بلکہ
هُوَ
وہ
مَا
وہ ہے جس کی
تم جلدی مچا رہے ہو
ساتھ اس کے
رِيحٌ
ایک ہوا ہے
اس میں
عَذَابٌ
عذاب ہے
أَلِي مٌ
٢٤دردناک
پھر جب انہوں نے اس (عذاب) کو دیکھا بادل کی صورت میں اپنی وادیوں کی طرف بڑھتے ہوئے تو انہوں نے کہا : یہ تو بادل ہے جو ہم کو سیراب کرنے والا ہے نہیں ! بلکہ یہ تو وہ شے ہے جس کے بارے میں تم نے جلدی مچارکھی تھی یہ وہ جھکڑ ّہے جس میں بہت دردناک عذاب ہے
46:25
تُدَمّ ِرُ
ہلاک کرتی ہے
كُلَّ
ہر
شَىۡءِۭ
چیز کو
حکم سے
رَبِّهَا
اپنے رب کے
فَأَصۡبَحُواۡ
پھر وہ ہوگئے
لَا
نہ
يُرَىٰٓ
دکھائی دیتے تھے
إِلَّا
مگر
مَسَـٰ كِنُهُمۡۚ
ان کے گھر
كَذٰ لِكَ
اسی طرح
نَجۡ زِى
ہم بدلہ دیا کرتے ہیں
قوم کو
مجرم
تباہ و برباد کرتا ہے ہر شے کو اپنے رب کے حکم سے پھر وہ ایسے ہوگئے کہ کچھ نظر نہیں آ رہا تھا سوائے ان کے مسکنوں کے اسی طرح ہم بدلہ دیا کرتے ہیں مجرموں کی قوم کو
46:26
وَلَقَدۡ
اور البتہ تحقیق
مَكَّنّ َـٰ هُمۡ
بسایا ہم نے ان کو
فِيمَآ
اس میں جو
إِن
نہیں
بسایا ہم نے تم کو
فِيهِ
اس میں
وَجَعَلۡنَا
اور بنائے ہم نے
لَهُمۡ
ان کے لیے
سَمۡعًا
کان
اور آنکھیں
اور دل
تو نہ
أَغۡنَىٰ
کام آئے
عَنۡهُمۡ
ان کو
سَمۡعُهُمۡ
ان کے کان
وَلَآ
اور نہ
أَبۡ صَـٰ رُهُمۡ
ان کی نگاہیں۔ آنکھیں
وَلَآ
اور نہ
أَفۡــِٔدَتُهُم
ان کے دل
کچھ
بھی
إِذۡ
جب
كَانُواۡ
تھے وہ
يَجۡ حَدُونَ
وہ انکار کرتے
بِـَٔـايَـٰ تِ
آیات کا
اللہ کی
وَحَاقَ
اور گھیر لیا
بِهِم
ان کو
جو
كَانُواۡ
تھے وہ
بِهِۦ
ساتھ اس کے
يَسۡتَهۡزِءُو نَ
٢٦وہ مذاق اڑاتے
اور ہم نے جو تمکن انہیں دیا تھا ایسا تمکن ّہم نے تمہیں نہیں دیا ہے اور ہم نے انہیں کان آنکھیں اور دل (یاعقلیں) عطا کیے تھے تو ان کے کچھ بھی کام نہ آئے ان کے کان نہ ان کی آنکھیں اور نہ ہی ان کے دل (عقلیں) جبکہ وہ انکار ہی کرتے رہے اللہ کی آیات کا اور ان کو گھیر لیا اسی چیز نے جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے