Back to Hizb Indexٱ ل رُّسُلُم ِّنۡهُم م َّن ك َلَّمَٱ للَّهُۖو َءَاتَيۡنَاٱ بۡ نَٱ لۡبَيِّنَـٰ تِٱ لۡقُدُسِۗٱ للَّهُٱ قۡ تَتَلَٱ لَّذِينَب َعۡدِهِم م ِّنۢ ب َعۡدِٱ لۡبَيِّنَـٰ تُٱ خۡتَلَفُواۡ م َّنۡم َّن ك َفَرَۚٱ للَّهُٱ قۡ تَتَلُواۡ ٱ للَّهَٱ لَّذِينَم ِّن ق َبۡ لِي َأۡتِىَل َّاف ِيهِو َلَاو َٱ لۡكَـٰ فِرُونَٱ ل ظَّـٰ لِمُو نَ٢٥٤ٱ لۡحَىُّٱ لۡقَيُّومُۚو َلَال َّهُۥ ٱ ل سَّمَـٰ وٰ تِٱ لۡأَرۡضِۗذ َاٱ لَّذِىم ِّنۡٱ ل سَّمَـٰ وٰ تِٱ لۡعَلِىُّٱ لۡعَظِي مُ٢٥٥ٱ ل دِّينِۖٱ ل رُّشۡدُٱ لۡغَىِّۚي َكۡفُرۡب ِٱ للَّهِٱ سۡتَمۡسَكَٱ لۡوُثۡقَىٰٱ نف ِصَامَٱ لَّذِينَم ِّنَٱ ل ظُّلُمَـٰ تِٱ ل نّ ُورِۖٱ ل طَّـٰ غُوتُم ِّنَٱ ل نّ ُورِٱ ل ظُّلُمَـٰ تِۗٱ ل نّ َارِۖٱ لَّذِىٱ للَّهُٱ لۡمُلۡكَٱ لَّذِىٱ للَّهَٱ لۡمَشۡرِقِٱ لۡمَغۡرِبِٱ لَّذِىٱ لۡقَوۡمَٱ ل ظَّـٰ لِمِي نَ٢٥٨و َهِىَٱ للَّهُٱ للَّهُث ُمّ َق َالَف َٱ نظ ُرۡل ِّلنّ َاسِۖٱ لۡعِظَامِف َلَمّ َاٱ للَّهَق َدِي رٌ٢٥٩ٱ لۡمَوۡتَىٰۖق َالَل ِّيَطۡ مَئِنّ َم ِّنَٱ ل طَّيۡرِٱ جۡ عَلۡم ِّنۡهُنّ َث ُمّ َٱ دۡ عُهُنّ َو َٱ عۡلَمۡٱ للَّهَٱ لَّذِينَٱ للَّهِم ِّاۡ ئَةُو َٱ للَّهُي َشَا ٓءُۗٱ للَّهِو َلَآ ل َّهُمۡم َّعۡرُوفٌ و َمَغۡفِرَةٌم ِّن ص َدَقَةٍ ي َتۡبَعُهَآ و َٱ للَّهُٱ لَّذِينَب ِٱ لۡمَنّ ِٱ ل نّ َاسِٱ لۡأَخِرِۖف َأَصَابَهُۥ ف َتَرَكَهُۥ ل َّام ِّمّ َاٱ لۡقَوۡمَٱ لۡكَـٰ فِرِي نَ٢٦٤ٱ لَّذِينَٱ بۡ تِغَا ٓءَٱ للَّهِم ِّنۡب ِرَبۡ وَةٍف َـَٔـاتَتۡل َّمۡف َطَلٌّۗ و َٱ للَّهُت َكُونَم ِّن ن َّخِيلٍ و َأَعۡنَابٍ ت َجۡ رِىت َحۡتِهَاٱ لۡأَنۡهَـٰ رُك ُلِّٱ ل ثَّمَرٰ تِٱ لۡكِبَرُض ُعَفَا ٓءُف ِيهِف َٱ حۡتَرَقَتۡۗٱ للَّهُٱ لۡأَيَـٰ تِٱ لَّذِينَط َيِّبَـٰ تِم ِّنَٱ لۡأَرۡضِۖٱ لۡخَبِيثَب ِـَٔـاخِذِيهِت ُغۡمِضُواۡ ٱ للَّهَ
Hizb 5
2 Surahs48 Versesالحزب 5
2:253
۞تِلۡكَ
یہ
رسول
فَضَّلۡنَا
فضیلت دی ہم نے
بَعۡضَهُمۡ
ان کے بعض کو
عَلَىٰ
اوپر
بَعۡضٍۘ
بعض کے
ان میں سے بعض کچھ
وہ ہیں جن سے
کلام کیا
اللہ نے
وَرَفَعَ
اور بلند کیا
بَعۡضَهُمۡ
ان میں سے بعض کو
دَرَجَـٰ تٍۚ
درجات میں
اوردیں ہم نے
عِيسَى
عیسیٰ
ابن
مَرۡيَمَ
مریم کو
روشن نشانیاں۔ معجزات
وَأَيَّدۡ نَـٰ هُ
تائید کی ہم نے اس کی
بِرُوحِ
ساتھ روح
پاک کے
وَلَوۡ
اوراگر
شَا ٓءَ
چاہتا
اللہ
مَا
نہ
باہم لڑے۔ نہ ایک دوسرے سے لڑتے
وہ لوگ
مِنۢ
سے
جو ان کے بعد تھے
اس کے بعد جو
مَا
جَا ٓءَتۡهُمُ
آگئیں ان کے پاس
کھلی نشانیاں
وَلَـٰ كِنِ
لیکن
انہوں نے اختلاف کیا
فَمِنۡهُم
تو ان میں سے کچھ
وہ
ءَامَنَ
جو ایمان لائے
وَمِنۡهُم
اور بعض ان میں سے
کچھ وہ جس نے کفر کیا
وَلَوۡ
اور اگر
شَا ٓءَ
چاہتا
اللہ
مَا
نہ
وہ باہم لڑے
وَلَـٰ كِنّ َ
لیکن
اللہ تعالیٰ
يَفۡعَلُ
کرتا ہے
مَا
جو
يُرِي د ُ
٢٥٣وہ چاہتا ہے
ان رسولوں ؑ میں سے ہم نے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے ان میں سے وہ بھی تھے جن سے اللہ نے کلام فرمایا اور بعض کے درجات (کسی اور اعتبار سے) بڑھا دیے اور ہم نے عیسیٰ ابن مریم ؑ کو بڑے کھلے معجزے دیے اور ان کی مدد فرمائی روح القدس (حضرت جبرائیل (ؑ) کے ساتھ اور اگر اللہ چاہتا تو ان کے بعد آنے والے آپس میں نہ لڑتے جھگڑتے اس کے بعد کہ ان کے پاس واضح تعلیمات آچکی تھیں لیکن انہوں نے اختلاف کیا پھر کوئی تو ان میں سے ایمان لایا اور کوئی کفر پر اڑا رہا اور اگر اللہ چاہتا تو وہ آپس میں نہ لڑتے لیکن اللہ تو کرتا ہے جو وہ چاہتا ہے
2:254
يَـٰٓ أَيُّهَا
اے
لوگو
ءَامَنُوٓ اۡ
جو ایمان لائے
أَنف ِقُواۡ
خرچ کرو
مِمّ َا
اس میں سے جو
رَزَقۡ نَـٰ كُم
رزق دیا ہم نے تم کو
سے
اس سے پہلے
أَن
کہ
آجائے
يَوۡمٌ
ایک دن
نہیں
بَيۡعٌ
کوئی خریدوفروخت۔ تجارت
اس میں
وَلَا
اور نہ
خُلَّةٌ
گہری دوستی
اورنہ
شَفَـٰ عَةٌۗ
کوئی سفارش
اورکافر
هُمُ
وہ ہیں
جو ظالم ہیں
اے اہل ایمان ! خرچ کرو اس میں سے جو کچھ ہم نے تمہیں دیا ہے اس سے پہلے کہ وہ دن آدھمکے جس میں نہ کوئی خریدو فروخت ہوگی نہ کوئی دوستی کام آئے گی اور نہ کوئی شفاعت مفید ہوگی اور جو انکار کرنے والے ہیں وہی تو ظالم ہیں
2:255
ٱللَّهُ
اللہ تعالیٰ وہ ہے
لَآ
نہیں
إِلَـٰ هَ
کوئی الہ
إِلَّا
مگر
هُوَ
وہی
جو ہمیشہ سے۔ زندہ ہے
جو ہمیشہ سے قائم ہے
لَا
نہیں
تَأۡخُذُهُۥ
پکڑتی اس کو
سِنَةٌ
اونگھ
اورنہ
نَوۡمٌۚ
نیند
اس کے لیے ہے
مَا
جو
فِى
میں ہے
آسمانوں
وَمَا
اور جو
فِى
میں ہے
زمین
مَن
کون
(ہے) ایک
وہ جو
يَشۡفَعُ
سفارش کرے
عِند َهُۥٓ
اس کے پاس
إِلَّا
مگر
بِإِذۡنِهِۦ ۚ
اُس کی اجازت سے
يَعۡلَمُ
وہ جانتا ہے
مَا
جو
بَيۡنَ
درمیان
أَيۡدِيهِمۡ
ان سے پہلے
وَمَا
اورجو
خَلۡفَهُمۡۖ
ان کے پیچھے ہے
وَلَا
اور نہیں
يُحِيطُونَ
احاطہ کرسکتے ہیں
بِشَىۡءٍ
کچھ بھی
میں سے
عِلۡمِهِۦٓ
اس کے علم
إِلَّا
مگر
بِمَا
ساتھ اس کے جو
شَا ٓءَۚ
وہ چاہے
وَسِعَ
وسیع ہے
كُرۡسِيُّهُ
اس کی کرسی
آسمانوں پر
وَٱ لۡأَرۡضَۖ
اور زمین پر
وَلَا
اور نہیں
يَــُٔودُهُۥ
تھکاتی اس کو
حِفۡظُهُمَاۚ
ان دونوں کی حفاظت
وَهُوَ
اور وہ
بلند ہے
بہت بڑا
اللہ وہ معبود برحق ہے جس کے سوا کوئی الٰہ نہیں وہ زندہ ہے نہ اس کو اونگھ آتی ہے نہ نیند. سب کا قائم رکھنے والا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب اسی کا ہے کون ہے وہ جو شفاعت کرسکے اس کے پاس کسی کی مگر اس کی اجازت سے ! وہ جانتا ہے جو کچھ ان کے سامنے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہے اور وہ احاطہ نہیں کرسکتے اللہ کے علم میں سے کسی شے کا بھی سوائے اس کے جو اللہ چاہے اس کی کرسی تمام آسمانوں اور زمین کو محیط ہے اور اس پر گراں نہیں گزرتی ان دونوں کی حفاظت اور وہ بلند وبالا (اور) بڑی عظمت والا ہے
2:256
لَآ
نہیں
إِكۡرَاهَ
کوئی جبر
فِى
میں
دین
قَد
تحقیق
تَّبَيَّنَ
واضح ہوگئی ہے
ہدایت
مِنَ
سے
گمراہی
فَمَن
تو جو کوئی
کفر کرے گا
بِٱ ل طَّـٰ غُوتِ
طاغوت کا
وَيُؤۡمِنۢ
اور ایمان لائے گا
اللہ پر
فَقَدِ
تو تحقیق
اس نے تھام لیا
بِٱ لۡعُرۡوَةِ
ساتھ کھڑا
مضبوط۔ مضبوط سہارا
لَا
نہیں ہے
کوئی ٹوٹنا
لَهَاۗ
اسس کے لئیے
وَٱ للَّهُ
اور اللہ
سَمِيعٌ
خوب سننے والا ہے
عَلِي مٌ
٢٥٦جاننے والا ہے
دین میں کوئی جبر نہیں ہے ہدایت گمراہی سے واضح ہوچکی ہے تو جو کوئی بھی طاغوت کا انکار کرے اور پھر اللہ پر ایمان لائے تو اس نے بہت مضبوط حلقہ تھام لیا جو کبھی ٹوٹنے والا نہیں ہے اور اللہ سب کچھ سننے والا سب کچھ جاننے والا ہے
2:257
ٱللَّهُ
اللہ تعالیٰ
وَلِىُّ
دوست ہے
ان لوگوں کا
ءَامَنُواۡ
جو ایمان لائے
يُخۡرِجُهُم
نکالتا ہے ان کو
سے
اندھیروں
إِلَى
کی طرف
روشنی
وَٱ لَّذِينَ
اور وہ لوگ
كَفَرُوٓ اۡ
جنہوں نے کفر کیا
أَوۡلِيَا ٓؤُهُمُ
ان کے دوست
طاغوت میں
يُخۡرِجُونَهُم
اور نکال لے جاتے ہیں ان کو۔ وہ نکالتے ہیں ان کو
سے
نور
إِلَى
کی طرف
اندھیروں
أُوۡ لَـٰٓ ئِكَ
یہی لوگ
أَصۡحَـٰ بُ
ساتھی
آگ والے۔ آگ کے
هُمۡ
وہ
فِيهَا
اس میں
خَـٰ لِدُو نَ
٢٥٧ہمیشہ رہنے والے ہیں
اللہ ولی ہے اہل ایمان کا اور (ان کے برعکس) جنہوں نے کفر کیا ان کے اولیاء (پشت پناہ ساتھی اور مددگار) طاغوت ہیں وہ ان کو روشنی سے نکال کر تاریکیوں کی طرف لے جاتے ہیں یہی لوگ ہیں آگ والے یہ اس میں ہمیشہ ہمیش رہیں گے
2:258
أَلَمۡ
کیا نہیں
تَرَ
تم نے دیکھا
إِلَى
طرف
اس شخص کے
حَا ٓجَّ
جس سے حجت بازی کی
إِبۡ رٰ هِــۧ مَ
ابراہیم سے
فِى
بارے میں
رَبِّهِۦٓ
اس کے رب کے
أَنۡ
کہ
ءَاتَـٰ هُ
عطا کی
اللہ تعالیٰ نے
اس کو بادشاہت
إِذۡ
جب
قَالَ
کہا
إِبۡ رٰ هِــۧ مُ
ابراھیم نے
رَبِّىَ
میرا رب
وہ ہے جو
يُحۡىِۦ
زندہ کرتا ہے
وَيُمِيتُ
اور موت دیتا ہے
قَالَ
کہا
أَنَاۡ
میں
أُحۡىِۦ
زندہ کرتا ہوں
وَأُمِيتُۖ
اورمیں موت دیتا ہوں
قَالَ
کہا
إِبۡ رٰ هِــۧ مُ
ابراہیم نے
فَإِنّ َ
پس بیشک
اللہ تعالیٰ
يَأۡتِى
لاتا ہے
بِٱ ل شَّمۡسِ
سورج کو
مِنَ
سے
مشرق
فَأۡتِ
پس تم لے آؤ
بِهَا
اس کو
مِنَ
سے
مغرب سے کفر کیا
فَبُهِتَ
تو مبہوت ہوگیا۔ پس حیران ہوگیا
وہ جس نے
كَفَرَۗ
کفر کیا
وَٱ للَّهُ
اللہ تعالیٰ نے
لَا
نہیں
يَهۡدِى
ہدایت دیتا ہے
قوم کو
جو ظالم ہو
کیا تم نے اس شخص کو نہیں دیکھا جس نے حجتّ بازی کی تھی ابراہیم ؑ سے اس وجہ سے کہ اللہ نے اسے بادشاہی دی ہوئی تھی جب ابراہیم ؑ نے کہا کہ میرا رب تو وہ ہے جو زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے تو اس نے کہا کہ میں بھی زندہ کرتا اور مارتا ہوں ابراہیم ؑ نے کہا کہ اللہ سورج کو مشرق سے نکالتا ہے (اگر تو خدائی کا مدعی ہے) تو اسے مغرب سے نکال کر دکھا تو مبہوت ہو کر رہ گیا وہ کافر اور اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں دیا کرتا
2:259
أَوۡ
یا
كَٱ لَّذِى
اس شخص کی طرح ہے جو۔ پابند اس شخص کے جو
مَرَّ
گزرا
عَلَىٰ
پر
قَرۡيَةٍ
ایک بستی کے
اوروہ
خَاوِيَةٌ
گری ہوئی تھی
عَلَىٰ
پر
عُرُوشِهَا
اپنی چھتوں کے
قَالَ
اس نے کہا
أَنّ َىٰ
کس طرح۔ کیوں کر
يُحۡىِۦ
زندہ کرے گا
هَـٰ ذِهِ
اس کو
اللہ
بَعۡدَ
بعد
مَوۡتِهَاۖ
اس کی موت کے
فَأَمَاتَهُ
تو مار دیا اس کو
اللہ نے
مِاۡ ئَةَ
سو
عَامٍ
سال
پھر
بَعَثَهُۥ ۖ
اٹھایا اس کو۔ زندہ کیا اس کو
قَالَ
فرمایا
كَمۡ
کتنا عرصہ
لَبِثۡتَۖ
تم ٹھہرے ہو
قَالَ
اس نے کہا
لَبِثۡتُ
میں ٹھہرا
يَوۡمًا
ایک دن
أَوۡ
یا
بَعۡضَ
کچھ حصہ
يَوۡمٍۖ
دن کا
فرمایا
بَل
بلکہ
لَّبِثۡتَ
تو ٹھہرا
مِاۡ ئَةَ
سو
عَامٍ
سال
پس دیکھ
إِلَىٰ
طرف
طَعَامِكَ
اپنے کھانے کے
وَشَرَابِكَ
اور اپنے پینے کے
لَمۡ
نہیں
يَتَسَنّ َهۡۖ
خراب ہوا وہ
وَٱ نظ ُرۡ
اور دیکھو
إِلَىٰ
طرف
حِمَارِكَ
اپنے گدھے کے
وَلِنَجۡ عَلَكَ
اور تاکہ ہم بنادیں تم کو
ءَايَةً
ایک نشانی
لوگوں کے لیے
وَٱ نظ ُرۡ
اور دیکھو
إِلَى
طرف
ہڈیوں کے
كَيۡفَ
کس طرح
نُنش ِزُهَا
ہم جوڑ دیتے ہیں ان کو۔ ہم حرکت دیتے ہیں ان کو۔ ہم الٹا دیتے ہیں ان کو
ثُمّ َ
پھر
نَكۡسُوهَا
ہم پہناتے ہیں
لَحۡمًاۚ
گوشت
پھر جب
تَبَيَّنَ
واضح ہوگیا
لَهُۥ
واسطے اس کو
قَالَ
کہا
أَعۡلَمُ
میں جان گیا
أَنّ َ
بیشک
اللہ تعالیٰ
عَلَىٰ
اوپر
كُلِّ
ہر
شَىۡءٍ
چیز کے
قادر ہے
یا پھر جیسے کہ وہ شخص (اس کا واقعہ ذرایاد کرو) جس کا گزر ہوا ایک بستی پر اور وہ اوندھی پڑی ہوئی تھی اپنی چھتوں پر اس نے کہا کہ اللہ اس بستی کو اس کے اس طرح مردہ اور برباد ہوجانے کے بعد کس طرح زندہ کرے گا ؟ تو اللہ نے اس پر موت وارد کردی سو برس کے لیے اور پھر اس کو اٹھایا پوچھا کتنا عرصہ یہاں رہے ہو ؟ کہنے لگا ایک دن یا ایک دن کا کچھ حصہ تو ذرا تم اپنے کھانے اور اپنے مشروب کو (جوسفر میں تمہارے ساتھ تھا) دیکھو ان کے اندر کوئی بساند پیدا نہیں ہوئی اور (دوسری طرف) اپنے گدھے کو دیکھو (ہم اس کو کس طرح زندہ کرتے ہیں) اور تاکہ ہم تمہیں لوگوں کے لیے ایک نشانی بنائیں اور اب ان ہڈیوں کو دیکھو کس طرح ہم انہیں اٹھاتے ہیں پھر (تمہاری نگاہوں کے سامنے) ان کو گوشت پہناتے ہیں پس جب اس کے سامنے یہ بات واضح ہوگئی وہ پکار اٹھا کہ میں نے پوری طرح جان لیا (اور مجھے یقین کامل حاصل ہوگیا) کہ اللہ ہر شے پر قادر ہے
2:260
وَإِذۡ
اور جب
قَالَ
کہا
إِبۡ رٰ هِــۧ مُ
ابراہیم نے
رَبِّ
اے میرے رب
أَرِنِى
تو دکھا مجھ کو
كَيۡفَ
کس طرح
تُحۡىِ
تو زندہ کرے گا۔ تو زندہ کرتا ہے
مردوں کو
قَالَ
فرمایا
أَوَلَمۡ
کیا بھلا نہیں
تُؤۡمِنۖ
تم ایمان رکھتے
کہا
بَلَىٰ
کیوں نہیں
وَلَـٰ كِن
لیکن۔ مگر
اس لیے تاکہ مطمئن ہوجائے
قَلۡبِىۖ
میرا دل
قَالَ
فرمایا
فَخُذۡ
پس لے لو
أَرۡبَعَةً
چار
میں سے
پرندوں
فَصُرۡهُنّ َ
پھر مائل کرو ان کو
إِلَيۡكَ
اپنی طرف
ثُمّ َ
پھر
رکھ دو
عَلَىٰ
اوپر
كُلِّ
ہر
جَبَلٍ
پہاڑ کے
ان میں سے
جُزۡءًا
ایک حصہ
پھر
بلاؤ ان کو
يَأۡتِينَكَ
وہ آجائیں گے تیرے پاس
سَعۡيًاۚ
دوڑتے ہوئے
اورجان لو
أَنّ َ
بیشک
اللہ تعالیٰ
عَزِيزٌ
غالب ہے
حَكِي مٌ
٢٦٠حکمت والا ہے
اور یاد کرو جبکہ ابراہیم ؑ نے بھی کہا تھا پروردگار ! ذرا مجھے مشاہدہ کرا دے کہ تو مردوں کو کیسے زندہ کرے گا ؟ (اللہ تعالیٰ نے) فرمایا کیا تم (اس بات پر) ایمان نہیں رکھتے ؟ کہا کیوں نہیں ! (ایمان تو رکھتا ہوں) لیکن چاہتا ہوں کہ میرا دل پوری طرح مطمئن ہوجائے فرمایا اچھاتو چار پرندے لے لو اور انہیں اپنے ساتھ ہلا لو پھر ان کے ٹکڑے کر کے ہر پہاڑ پر ان کا ایک ایک ٹکڑا رکھ دو پھر ان کو پکارو تو وہ تمہارے پاس دوڑتے ہوئے آئیں گے اور (اس بات کو یقین کے ساتھ) جان لو کہ اللہ تعالیٰ زبردست ہے کمال حکمت والا ہے۔
2:261
مَّثَلُ
مثال
ان لوگوں کی
يُنف ِقُونَ
جو خرچ کرتے ہیں
أَمۡوٰ لَهُمۡ
اپنے مالوں کو
فِى
میں
سَبِيلِ
راستے میں
اللہ کے
كَمَثَلِ
مانند مثال
حَبَّةٍ
ایک دانے کے ہے
أَنۢب َتَتۡ
اس نے اگائیں
سَبۡ عَ
سات
سَنَابِلَ
بالیاں ۔ خوشےسو
فِى
میں
كُلِّ
ہر
سُنۢب ُلَةٍ
بالی
سو
حَبَّةٍۗ
دانے
اور اللہ
يُضَـٰ عِفُ
بڑھاتا ہے
لِمَن
واسطے جس کے
وہ چاہتا ہے
وَٱ للَّهُ
اور اللہ
وٰ سِعٌ
وسعت والا ہے
عَلِي مٌ
٢٦١جاننے والا ہے
مثال ان کی جو اپنے مال اللہ کی راہ میں (اللہ کے دین کے لیے) خرچ کرتے ہیں ایسے ہے جیسے ایک دانہ کہ اس سے سات بالیاں (خوشے) پیدا ہوں اور ہر بالی میں سو دانے ہوں اللہ جس کو چاہتا ہے افزونی عطا فرماتا ہے اور اللہ بڑی وسعت والا اور سب کچھ جاننے والا ہے
2:262
ٱلَّذِينَ
وہ لوگ
يُنف ِقُونَ
جو خرچ کرتے ہیں
أَمۡوٰ لَهُمۡ
اپنے مالوں کو
فِى
میں
سَبِيلِ
راستے
اللہ کے
ثُمّ َ
پھر
لَا
نہیں
يُتۡبِعُونَ
وہ پیچھا کرتے احسان جتا کر
مَآ
اس کا جو
أَنف َقُواۡ
انہوں نے خرچ کیا
مَنًّا
اس کا جو
اور نہ
أَذًىۙ
اذیت دے کر۔ تکلیف دے کر
ان کے لئیے
أَجۡ رُهُمۡ
ان کا اجر ہے
عِند َ
پاس
رَبِّهِمۡ
ان کے رب کے
وَلَا
اور نہ
خَوۡفٌ
کوئی خوف ہوگا
عَلَيۡهِمۡ
ان پر
وَلَا
اور نہ
هُمۡ
وہ
يَحۡزَنُو نَ
٢٦٢غمگین ہوں گے
جو لوگ اپنے مال خرچ کرتے ہیں اللہ کی راہ میں پھر جو کچھ وہ خرچ کرتے ہیں اس کے بعد نہ تو احسان جتاتے ہیں اور نہ تکلیف پہنچاتے ہیں ان کا اجر ان کے رب کے پاس محفوظ ہے۔ اور نہ تو ان کے لیے کوئی خوف ہوگا اور نہ ہی وہ کسی رنج و غم سے دوچار ہوں گے
2:263
۞قَوۡلٌ
بات
اچھی۔ بھلی
اور بخشش۔ درگزر
خَيۡرٌ
بہتر ہے
سے
اس صدقہ سے
پیچھے آئے اس کے۔ جس کے بعد
أَذًىۗ
تکلیف۔ دکھ
اوراللہ
غَنِىٌّ
بےنیاز
حَلِي مٌ
٢٦٣بردبار ہے
بھلی بات کہنا اور درگزر کرنا بہتر ہے اس خیرات سے جس کے بعد اذیتّ پہنچائی جائے اللہ تعالیٰ غنی ہے اور حلیم ہے
2:264
يَـٰٓ أَيُّهَا
اے
لوگو
ءَامَنُواۡ
جو ایمان لائے ہو
لَا
نہ
تُبۡ طِلُواۡ
تم ضائع کرو
صَدَقَـٰ تِكُم
اپنے صدقات کو
احسان جتا کر
وَٱ لۡأَذَىٰ
اور اذیت دے کر
كَٱ لَّذِى
اس شخص کی طرح
يُنف ِقُ
جو خرچ کرتا ہے
مَالَهُۥ
اپنا مال
رِئَا ٓءَ
دکھاوے کو۔ ریاکاری کے لیے
لوگوں کے
وَلَا
اور نہ
يُؤۡمِنُ
وہ ایمان لاتا
بِٱ للَّهِ
اللہ پر
وَٱ لۡيَوۡمِ
اور یوم
آخرت پر
فَمَثَلُهُۥ
تو اس کی مثال
كَمَثَلِ
مانند مثال
صَفۡوَانٍ
چکنے پتھر کے ہے
عَلَيۡهِ
جس پر
تُرَابٌ
مٹی ہو
تو پہنچے اس کو
وَابِلٌ
تیز بارش
تو چھوڑ دے اس کو
صَلۡدًاۖ
صاف۔ چٹیل
نہیں
يَقۡ دِرُونَ
وہ قدرت رکھتے ہوں گے
عَلَىٰ
اوپر
شَىۡءٍ
کسی چیز کے
اس میں سے جو
كَسَبُواۡۗ
انہوں نے کمائی کی
وَٱ للَّهُ
اور اللہ
لَا
نہیں
يَهۡدِى
ہدایت دیتا
قوم کو
کافر
اے اہل ایمان ! اپنے صدقات کو باطل نہ کرلو احسان جتلا کر اور کوئی اذیت بخش بات کہہ کر اس شخص کی طرح جو اپنا مال خرچ کرتا ہے لوگوں کو دکھانے کے لیے اور وہ ایمان نہیں رکھتا اللہ اور یوم آخرت پر تو اس کی مثال اس چٹان کی سی ہے جس پر کچھ مٹی (جم گئی) ہو پھر اس پر زوردار بارش پڑے تو وہ اس کو بالکل صاف پتھر چھوڑ دے ان کی کمائی میں سے کچھ بھی ان کے ہاتھ نہیں آئے گا اور اللہ تعالیٰ ایسے کافروں کو راہ یاب نہیں کرتا
2:265
وَمَثَلُ
اور مثال
ان لوگوں کی
يُنف ِقُونَ
جو خرچ کرتے ہیں
أَمۡوٰ لَهُمُ
اپنے مالوں کو
تلاش کرنے کے لیے
مَرۡضَاتِ
مرضی۔ رضامندی
اللہ کی
وَتَثۡبِيتًا
اورپختگی۔ ثابت قدمی
کی طرف
أَنف ُسِهِمۡ
اپنے نفسوں کی۔ ان کے نفسوں
كَمَثَلِ
مانند مثال
جَنّ َةِۭ
ایک باغ کے ہے
اونچی جگہ پر
أَصَابَهَا
پہنچے اس کو
وَابِلٌ
تیز بارش
تو وہ دے دے
أُكُلَهَا
پھل اپنا
ضِعۡفَيۡنِ
دوگنا
فَإِن
پھر اگر
نہ
يُصِبۡ هَا
پہنچے اس کو
وَابِلٌ
تیز بارش
تو شبنم ہی سہی۔ کافی ہے
اور اللہ
بِمَا
ساتھ اس کے جو
تَعۡمَلُونَ
تم عمل کرتے ہو
بَصِي رٌ
٢٦٥دیکھنے والا ہے
اور مثال ان لوگوں کی جو خرچ کرتے ہیں اپنے مال اللہ کی رضاجوئی کے لیے اور اپنے دلوں کو جمائے رکھنے کے لیے اس باغ کی مانند ہے جو بلندی پر واقع ہو اب اگر اس باغ کے اوپر زوردار بارش برسے تو دو گنا پھل لائے اور اگر زوردار بارش نہ بھی برسے تو ہلکی سی پھوار (ہی اس کے لیے کافی ہوجائے) اور جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ تعالیٰ اس کو دیکھ رہا ہے
2:266
أَيَوَدُّ
کیا چاہتا ہے
أَحَدُكُمۡ
تم میں سے کوئی ایک
أَن
کہ
ہو
لَهُۥ
اس کے لیے
جَنّ َةٌ
ایک باغ
کا
کھجوروں
اورانگوروں کا
بہتی ہوں
مِن
اس کے
نیچے
نہریں
لَهُۥ
اس کے لیے
فِيهَا
اس میں
مِن
ہر طرح
پھل ہوں
وَأَصَابَهُ
اور پہنچے اس کو
بڑھاپا
وَلَهُۥ
اور اس کے لیے
ذُرِّيَّةٌ
اولاد ہو
کمزور
فَأَصَابَهَآ
پھر پہنچے اسکو
إِعۡصَارٌ
ایک بگولہ
اس میں
نَارٌ
آگ ہو
تو مل جائے
كَذٰ لِكَ
اسی طرح
يُبَيِّنُ
بیان کرتا ہے
اللہ
لَكُمُ
تمہارے لیے
نشانیاں
لَعَلَّكُمۡ
تاکہ تم
تَتَفَكَّرُو نَ
٢٦٦تم غور و فکر کرو
کیا تم میں سے کوئی یہ پسند کرے گا کہ اس کے پاس کھجوروں اور انگوروں کا ایک باغ ہو جس کے دامن میں ندیاں بہتی ہوں اس کے لیے اس باغ میں ہر طرح کے پھل ہوں اور اس پر بڑھاپا طاری ہوجائے جبکہ اس کی اولاد ابھی ناتواں ہو اور عین اس وقت اس باغ پر ایک ایسا بگولا پھرجائے جس میں آگ ہو اور وہ باغ جھلس کر رہ جائے ؟ اس طرح اللہ تعالیٰ اپنی آیات تمہارے لیے واضح کرتا ہے تاکہ تم غور و فکر کرو۔
2:267
يَـٰٓ أَيُّهَا
اے
لوگو
ءَامَنُوٓ اۡ
جو ایمان لائے ہو
أَنف ِقُواۡ
خرچ کرو
مِن
میں سے
پاکیزہ چیزوں
مَا
جو
كَسَبۡ تُمۡ
تم کماؤ۔ کمایا تم نے
وَمِمّ َآ
اور اس میں سے جو
أَخۡرَجۡ نَا
نکالا ہم نے
لَكُم
تمہارے لیے
سے
زمین
وَلَا
اور نہ
تَيَمّ َمُواۡ
تم ارادہ کرو۔ تم چھوؤ
ناپاک کا۔ کو
مِنۡهُ
اس میں سے
تُنف ِقُونَ
تم خرچ کرتے ہو۔ تاکہ تم خرچ کرو
وَلَسۡتُم
حالانکہ نہیں ہو تم
لینے والے اس کو
إِلَّآ
مگر
أَن
پر
تم چشم پوشی کرو
فِيهِۚ
اس کے بارے میں
وَٱ عۡلَمُوٓ اۡ
اور جان لو
أَنّ َ
بیشک
اللہ تعالیٰ
غَنِىٌّ
بےنیاز ہے
حَمِي د ٌ
٢٦٧اپنی ذات میں تعریف والا ہے
اے ایمان والو ! اپنے کمائے ہوئے پاکیزہ مال میں سے خرچ کرو اور اس میں سے خرچ کرو جو کچھ ہم نے نکالا ہے تمہارے لیے زمین سے اور اس میں سے ردّی مال کا ارادہ نہ کرو کہ اسے خرچ کر دو ! اور تم ہرگز نہیں ہو گے اس کو لینے والے (اگر وہ شے تم کو دی جائے) الا یہ کہ چشم پوشی کر جاؤ اور خوب جان رکھو کہ اللہ تعالیٰ غنی ہے اور حمید ہے