Back to Hizb Indexي َقۡ نُتۡن ُّؤۡتِهَآ ك َرِيمًا٣١ٱ ل نّ َبِىِّم ِّنَٱ ل نّ ِسَا ٓءِۚٱ تَّقَيۡتُنّ َٱ لَّذِىو َقُلۡنَم َّعۡرُوفًا٣٢ٱ لۡجَـٰ هِلِيَّةِٱ لۡأُولَىٰۖٱ ل صَّلَو ٰ ةَٱ ل زَّكَو ٰ ةَٱ للَّهَٱ للَّهُٱ ل رِّجۡ سَٱ لۡبَيۡتِٱ للَّهِٱ للَّهَٱ لۡمُسۡلِمِينَٱ للَّهَو َٱ ل ذّٰ كِرٰ تِٱ للَّهُم َّغۡفِرَةً و َأَجۡ رًاو َلَاٱ للَّهُي َكُونَٱ لۡخِيَرَةُي َعۡصِٱ للَّهَم ُّبِينًا٣٦ٱ للَّهُٱ للَّهَٱ للَّهُٱ ل نّ َاسَت َخۡشَـٰ هُۖم ِّنۡهَاز َوَّجۡ نَـٰ كَهَاٱ لۡمُؤۡمِنِينَف ِىٓ و َكَانَٱ للَّهِٱ ل نّ َبِىِّف ِيمَاٱ للَّهُٱ للَّهِٱ لَّذِينَق َبۡ لُۚٱ للَّهِم َّقۡ دُورًا٣٨ٱ للَّهِٱ للَّهَۗم ِّن ر ِّجَالِكُمۡر َّسُولَٱ للَّهِٱ ل نّ َبِيِّــۧ نَۗٱ للَّهُٱ لَّذِينَٱ ذۡكُرُواۡ ٱ للَّهَك َثِيرًا٤١و َأَصِيلاً٤٢ٱ لَّذِىم ِّنَٱ ل ظُّلُمَـٰ تِٱ ل نّ ُورِۚو َأَعَدَّك َرِيمًا٤٤ٱ ل نّ َبِىُّو َمُبَشِّرًا و َنَذِيرًا٤٥ٱ للَّهِم ُّنِيرًا٤٦ٱ لۡمُؤۡمِنِينَم ِّنَٱ للَّهِك َبِيرًا٤٧ٱ لۡكَـٰ فِرِينَٱ للَّهِۚٱ لَّذِينَٱ لۡمُؤۡمِنَـٰ تِق َبۡ لِت َمَسُّوهُنّ َت َعۡتَدُّونَهَاۖج َمِيلاً٤٩ٱ ل نّ َبِىُّٱ لَّـٰ تِىٓ ٱ للَّهُٱ لَّـٰ تِىم ُّؤۡمِنَةًو َهَبَتۡٱ ل نّ َبِىُّي َسۡتَنك ِحَهَال َّكَد ُونِٱ لۡمُؤۡمِنِينَۗو َكَانَٱ للَّهُر َّحِيمًا٥٠ت َشَا ٓءُت َشَا ٓءُۖٱ بۡ تَغَيۡتَت َقَرَّٱ للَّهُٱ ل نّ ِسَا ٓءُب َعۡدُت َبَدَّلَو َلَوۡٱ للَّهُر َّقِيبًا٥٢ٱ لَّذِينَٱ ل نّ َبِىِّي ُؤۡذَنَٱ ل نّ َبِىَّٱ لۡحَقِّۚف َسۡــَٔلُوهُنّ َو َرَا ٓءِذ ٰ لِكُمۡت ُؤۡذُواۡ ٱ للَّهِت َنك ِحُوٓ اۡ ب َعۡدِهِۦٓ ٱ للَّهِ
Hizb 43
2 Surahs66 Versesالحزب 43
33:31
۞وَمَن
اور جو کوئی
اطاعت کرے گی
مِنك ُنّ َ
تم میں سے
لِلَّهِ
اللہ کے لیے
وَرَسُولِهِۦ
اور اس کے رسول کی
وَتَعۡمَلۡ
اور عمل کرے گی
صَـٰ لِحًا
اچھے
ہم دیں گے اس کو
أَجۡ رَهَا
اس کا اجر
مَرَّتَيۡنِ
دوگنا
وَأَعۡتَدۡ نَا
اور تیار رکھا ہے ہم نے
لَهَا
اس کے لیے
رِزۡقًا
رزق
کریم
اور جو کوئی تم میں سے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت پر کاربند رہے گی اور نیک عمل کرے گی تو اسے ہم دوگنا اجردیں گے } اور اس کے لیے ہم نے عزت ّوالا رزق تیار کر رکھا ہے۔
33:32
يَـٰ نِسَا ٓءَ
اے بیویو
نبی کی
لَسۡتُنّ َ
نہیں ہو تم
كَأَحَدٍ
مانند کسی ایک
سے
عام کے عورتوں میں سے
إِنِ
اگر
تم نے تقوی اختیار کیا
فَلَا
تو نہ
تَخۡضَعۡنَ
تم نرمی کرنا
بِٱ لۡقَوۡلِ
بات میں
فَيَطۡ مَعَ
ورنہ طمع رکھ بیٹھے گا
وہ شخص
فِى
میں
قَلۡبِهِۦ
جس کے دل میں
مَرَضٌ
کوئی بیماری ہے
اور کہو
قَوۡلاً
بات
معروف۔ نیکی کی۔ قاعدے کی۔ بھلی
اے نبی ﷺ کی بیویو ! تم عام عورتوں کی مانند نہیں ہو اگر تم تقویٰ اختیار کرو تو گفتگو میں نرمی پیدا نہ کرو کہ وہ شخص جس کے دل میں روگ ہے وہ کسی لالچ میں پڑجائے } اور بات کرو معروف انداز میں۔
33:33
وَقَرۡنَ
اور ٹکی رہو
فِى
میں
بُيُوتِكُنّ َ
اپنے گھروں (میں)
وَلَا
اور نہ
تَبَرَّجۡ نَ
تم اظہار زینت کرو
تَبَرُّجَ
(جیسا کہ) اظہار زینت تھا
جاہلیت کا
پہلی
وَأَقِمۡنَ
اور قائم کرو
نماز
وَءَاتِينَ
اور دیتی رہو
زکوۃ
وَأَطِعۡنَ
اور اطاعت کرو
اللہ کی
وَرَسُولَهُۚۥٓ
اور اس کے رسول کی
إِنّ َمَا
کیونکہ
يُرِيدُ
چاہتا ہے
اللہ
لِيُذۡهِبَ
کہ لے جائے
عَنك ُمُ
تم سے
گندگی کو۔ ناپاکی کو
أَهۡلَ
اے اہل
بیت
وَيُطَهِّرَكُمۡ
اور پاک کردے تم کو
تَطۡ هِيرًا
٣٣پاک کرنا
اور تم اپنے گھروں میں قرار پکڑو اور مت نکلو بن سنور کر پہلے دور جاہلیت کی طرح اور نماز قائم کرو زکوٰۃ ادا کرو اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت پر کاربند رہو۔ } اللہ تو بس یہی چاہتا ہے اے نبی ﷺ کے گھر والو ! کہ وہ دور کر دے تم سے ناپاکی اور تمہیں خوب اچھی طرح پاک کر دے۔
33:34
وَٱ ذۡكُرۡنَ
اور ذکر کرو۔ یاد کرو۔ بیان کرو
مَا
جو
يُتۡلَىٰ
پڑھا جاتا ہے
فِى
میں
بُيُوتِكُنّ َ
تمہارے گھروں (میں)
مِنۡ
سے
ءَايَـٰ تِ
آیات میں (سے)
اللہ کی
وَٱ لۡحِكۡمَةِۚ
اور حکمت میں سے
إِنّ َ
بیشک
اللہ تعالیٰ
كَانَ
ہے
لَطِيفًا
لطیف
خَبِيرًا
٣٤باخبر
اور یاد کیا کرو جو تمہارے گھروں میں اللہ کی آیات تلاوت کی جاتی ہیں اور حکمت کی باتیں (سنائی جاتی ہیں) } یقینا اللہ بہت باریک بین ہرچیز سے باخبر ہے۔
33:35
إِنّ َ
بیشک
مسلمان مرد
وَٱ لۡمُسۡلِمَـٰ تِ
اور مسلمان عورتیں
وَٱ لۡمُؤۡمِنِينَ
اور مومن مرد
وَٱ لۡمُؤۡمِنَـٰ تِ
اور مومن عورتیں
وَٱ لۡقَـٰ نِتِينَ
اور فرماں بردار مرد
وَٱ لۡقَـٰ نِتَـٰ تِ
اور فرماں بردار عورتیں
وَٱ ل صَّـٰ دِقِينَ
اور سچے مرد
وَٱ ل صَّـٰ دِقَـٰ تِ
اور سچی عورتیں
وَٱ ل صَّـٰ بِرِينَ
اور صبر کرنے والے مرد
وَٱ ل صَّـٰ بِرٰ تِ
اور صبر کرنے والی عورتیں
وَٱ لۡخَـٰ شِعِينَ
اور خشوع کرنے والے مرد
وَٱ لۡخَـٰ شِعَـٰ تِ
اور خشوع کرنے والی عورتیں
وَٱ لۡمُتَصَدِّقِينَ
صدقہ دینے والے مرد
وَٱ لۡمُتَصَدِّقَـٰ تِ
اور صدقہ دینے والی عورتیں
وَٱ ل صَّـٰٓ ئِمِينَ
اور روزہ رکھنے والے مرد
وَٱ ل صَّـٰٓ ئِمَـٰ تِ
اور روزہ رکھنے والی عورتیں
وَٱ لۡحَـٰ فِظِينَ
حفاظت کرنے والے
فُرُوجَهُمۡ
اپنی شرم گاہوں کی
وَٱ لۡحَـٰ فِظَـٰ تِ
اور حفاظت کرنے والیاں
وَٱ ل ذّٰ كِرِينَ
اور ذکر کرنے والے
اللہ کا
كَثِيرًا
بہت زیادہ
اور ذکر کرنے والیاں
أَعَدَّ
تیار کررکھا ہے
اللہ نے
لَهُم
ان کے لیے
مغفرت کو
اور اجر کو
عَظِيمًا
٣٥بڑے
یقینا مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں اور مومن مرد اور مومن عورتیں ور فرماں بردار مرد اور فرماں بردار عورتیں اور راست باز مرد اور راست باز عورتیں اور صبر کرنے والے مرد اور صبر کرنے والی عورتیں اور خشوع کرنے والے مرد اور خشوع کرنے والی عورتیں اور صدقہ دینے والے مرد اور صدقہ دینے والی عورتیں اور روزہ رکھنے والے مرد اور روزہ رکھنے والی عورتیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والے مرد اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والی عورتیں اور کثرت سے اللہ کا ذکر کرنے والے مرد اور ذکر کرنے والی عورتیں } اللہ نے ان سب کے لیے مغفرت اور بہت بڑا اجر تیار کر رکھا ہے۔
33:36
وَمَا
اور نہیں
كَانَ
ہے
لِمُؤۡمِنٍ
کسی مومن مرد کے لیے
اور نہ
مُؤۡمِنَةٍ
کسی مومن عورت کے لیے
إِذَا
جب
قَضَى
فیصلہ کردے
اللہ
وَرَسُولُهُۥٓ
اور اس کا رسول
أَمۡرًا
کسی معاملے کا
أَن
کہ
ہو
لَهُمُ
ان کے لیے
کوئی اختیار
مِنۡ
کے
أَمۡرِهِمۡۗ
ان کے معاملے سے
وَمَن
اور جو کوئی
نافرمانی کرے گا
اللہ کی
وَرَسُولَهُۥ
اور اس کے رسول کی
فَقَدۡ
تو تحقیق
ضَلَّ
وہ بھٹک گیا
ضَلَـٰ لاً
بھٹکنا
کھلم کھلا
اور کسی مومن مرد اور مومن عورت کے لیے روا نہیں کہ جب اللہ اور اس کا رسول ﷺ کسی معاملے کا فیصلہ کردیں تو (پھر بھی انہیں یہ خیال ہو کہ) ان کے لیے اپنے اس معاملے میں کوئی اختیار باقی ہے۔ } اور جو کوئی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی نافرمانی کرے تو وہ صریح گمراہی میں پڑگیا۔
33:37
وَإِذۡ
اور جب
تَقُولُ
تم کہہ رہے تھے
لِلَّذِىٓ
اس شخص سے
أَنۡعَمَ
انعام کیا
اللہ نے
عَلَيۡهِ
جس پر
وَأَنۡعَمۡتَ
اور انعام کیا تو نے
عَلَيۡهِ
اس پر
أَمۡسِكۡ
روک رکھ
عَلَيۡكَ
اپنے اوپر
زَوۡجَكَ
اپنی بیوی کو
وَٱ تَّقِ
اور ڈرو
اللہ سے
وَتُخۡفِى
اور تم چھپائے ہوئے تھے
فِى
میں
نَفۡسِكَ
اپنے نفس میں۔ اپنے دل میں
مَا
جو
اللہ
مُبۡ دِيهِ
ظاہر کرنے ولا تھا اس کو
وَتَخۡشَى
اور تم ڈر رہے تھے
لوگوں سے
وَٱ للَّهُ
حالانکہ اللہ
أَحَقُّ
زیادہ حق دار ہے
أَن
کہ
تم ڈرو اس سے
فَلَمّ َا
پھر جب
قَضَىٰ
پورا کرچکا
زَيۡدٌ
زید
اس سے
وَطَرًا
حاجت کو
بیاہ دیا ہم نے آپ کو اس عورت سے
لِكَىۡ
تاکہ
لَا
نہ
يَكُونَ
ہو
عَلَى
پر
مومنوں (پر)
حَرَجٌ
کوئی تنگی
میں
أَزۡوٰ جِ
بیویوں کے بارے میں
أَدۡ عِيَا ٓئِهِمۡ
اپنے منہ بولے بیٹوں کی
إِذَا
جب
قَضَوۡاۡ
وہ پورا اتر چکیں
مِنۡهُنّ َ
ان سے
وَطَرًاۚ
حاجت کو
اور ہے
أَمۡرُ
حکم
اللہ کا
مَفۡعُولاً
٣٧ہو کر رہنے والا
اور (اے نبی ﷺ !) جب آپ کہتے تھے اس شخص سے جس پر اللہ نے بھی انعام کیا تھا اور آپ نے بھی انعام کیا تھا کہ اپنی بیوی کو اپنے پاس روکے رکھو اور اللہ سے ڈرو اور آپ ﷺ اپنے دل میں چھپائے ہوئے تھے وہ بات جسے اللہ ظاہر کرنے والا تھا اور آپ ﷺ لوگوں سے ڈر رہے تھے حالانکہ اللہ اس کا زیادہ حقدار ہے کہ آپ ﷺ اس سے ڈریں۔ پس جب زید ؓ نے اس سے اپنا تعلق منقطع کرلیا تو اسے ہم نے آپ ﷺ کی زوجیت میں دے دیا تاکہ مومنوں کے لیے ان کے منہ بولے بیٹوں کی بیویوں کے بارے میں کوئی تنگی نہ رہے جبکہ وہ ان سے اپنا تعلق بالکل کاٹ لیں۔ } اور اللہ کا فیصلہ تو پورا ہو کر ہی رہنا تھا۔
33:38
مَّا
نہیں
كَانَ
ہے
عَلَى
پر
نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)
مِنۡ
کوئی
حَرَجٍ
حرج
اس معاملے میں
فَرَضَ
جو مقرر کیا
اللہ نے
لَهُۖۥ
اس کے لیے
سُنّ َةَ
طریقہ
اللہ کا
فِى
میں
ان لوگوں (میں)
خَلَوۡاۡ
جو گزر چکے
مِن
سے
اس سے پہلے
وَكَانَ
اور ہے
أَمۡرُ
حکم
اللہ کا
قَدَرًا
اندازے میں
مقرر کیا ہوا
نبی ﷺ پر کوئی مضائقہ نہیں اس بات میں جو اللہ نے اس کے لیے فرض کردی ہے اللہ کا یہی طریقہ رہا ہے ان لوگوں کے بارے میں بھی جو پہلے گزر چکے ہیں۔ } اور اللہ کا فیصلہ قطعی طے شدہ تھا۔
33:39
ٱلَّذِينَ
وہ لوگ
يُبَلِّغُونَ
جو پہنچاتے ہیں
رِسَـٰ لَـٰ تِ
پیغامات
اللہ کے
وَيَخۡشَوۡنَهُۥ
اور ڈرتے ہیں اسی سے
وَلَا
اور نہیں
يَخۡشَوۡنَ
ڈرتے
أَحَدًا
کسی ایک سے
إِلَّا
سوائے
اللہ کے
وَكَفَىٰ
اور کافی ہے
بِٱ للَّهِ
اللہ
حَسِيبًا
٣٩حساب لینے والا
وہ (اللہ کے رسول ﷺ جو اللہ کے پیغامات پہنچاتے ہیں اور صرف اسی سے ڈرتے ہیں اور وہ نہیں ڈرتے کسی سے سوائے اللہ کے۔ اور اللہ کافی ہے حساب لینے والا۔
33:40
مَّا
نہیں
كَانَ
ہیں
مُحَمّ َدٌ
محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)
أَبَآ
باپ
أَحَدٍ
کسی ایک کے
سے
تمہارے مردوں میں
وَلَـٰ كِن
اور لیکن
رسول ہیں
اللہ کے
وَخَاتَمَ
اور خاتم
النبین
وَكَانَ
اور ہے
اللہ
بِكُلِّ
ہر
شَىۡءٍ
چیز کو
عَلِيمًا
٤٠جاننے والا
(دیکھو !) محمد ﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں بلکہ آپ ﷺ اللہ کے رسول ﷺ ہیں اور سب نبیوں پر مہر ہیں۔ } اور یقینا اللہ ہرچیز کا علم رکھنے والا ہے۔
33:41
يَـٰٓ أَيُّهَا
اے
لوگو
ءَامَنُواۡ
جو ایمان لائے ہو
ذکر کرو
اللہ کا۔ یاد کرو اللہ کو
ذِكۡرًا
ذکر
بہت زیادہ۔ کثرت سے
اے اہل ایمان ! اللہ کا ذکر کیا کرو کثرت کے ساتھ۔
33:42
وَسَبِّحُوهُ
اور تسبیح کرو اس کی
بُكۡرَةً
صبح
اور شام
اور صبح وشام اس کی تسبیح کرتے رہو۔
33:43
هُوَ
وہ اللہ
وہ ذات ہے
يُصَلِّى
جو رحمت بھیجتا ہے
عَلَيۡكُمۡ
تم پر
وَمَلَـٰٓ ئِكَتُهُۥ
اور اس کے فرشتے
لِيُخۡرِجَكُم
تاکہ وہ نکالے تم کو
سے
اندھیروں (سے)
إِلَى
طرف
روشنی کی (طرف)
وَكَانَ
اور ہے
بِٱ لۡمُؤۡمِنِينَ
مومنوں کے ساتھ
رَحِيمًا
٤٣رحم فرمانے والا
وہی ہے جو رحمتیں بھیجتا رہتا ہے تم پر اور اس کے فرشتے بھی تاکہ نکالے تمہیں اندھیروں سے روشنی کی طرف۔ اور اہل ایمان کے حق میں وہ بہت مہربان ہے۔
33:44
تَحِيَّتُهُمۡ
ان کی پکار۔ ان کی دعا
يَوۡمَ
جس دن
يَلۡقَوۡنَهُۥ
وہ ملیں گے اس سے
سَلَـٰ مٌۚ
سلام ہوگی
اور اس نے تیار کیا
لَهُمۡ
ان کے لیے
أَجۡ رًا
اجر
عزت والا
} جس دن وہ اس سے ملیں گے تو ان کی دعا سلام ہوگی اور اس نے تیار کر رکھا ہے ان کے لیے بہت با عزت اجر
33:45
يَـٰٓ أَيُّهَا
اے
نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)
إِنّ َآ
بیشک ہم نے
أَرۡسَلۡنَـٰ كَ
بھیجا ہم نے آپ کو
شَـٰ هِدًا
گواہ بنا کر
اور خوش خبری دینے والا
اور ڈرانے والا
اے نبی ﷺ ! یقینا ہم نے بھیجا ہے آپ کو گواہ بنا کر اور بشارت دینے والا اور خبردار کرنے والا
33:46
وَدَاعِيًا
اور بلانے والا
إِلَى
طرف
اللہ کی (طرف)
بِإِذۡنِهِۦ
ساتھ اس کے اذن کے
وَسِرَاجًا
اور چراغ
روشن بنا کر
اور اللہ کی طرف بلانے والا اس کے حکم سے اور ایک روشن چراغ بنا کر
33:47
وَبَشِّرِ
اور خوش خبری دے دیجئے
مومنوں کو
بِأَنّ َ
بیشک
لَهُم
ان کے لیے
طرف سے
اللہ کی (طرف سے )
فَضۡلاً
فضل
بہت بڑا
اور آپ ﷺ اہل ایمان کو بشارت دے دیجیے کہ ان کے لیے اللہ کی طرف سے بہت بڑا فضل ہے۔
33:48
وَلَا
اور نہ
تُطِعِ
اطاعت کیجیے
کافروں کی
وَٱ لۡمُنَـٰ فِقِينَ
اور منافقوں کی
وَدَعۡ
اور چھوڑ دیجیے۔ پرواہ نہ کیجئے
أَذَٮٰ هُمۡ
ان کی اذیت رسانی کی
وَتَوَكَّلۡ
اور بھروسہ کیجیے
عَلَى
پر
اللہ (پر)
وَكَفَىٰ
اور کافی ہے
بِٱ للَّهِ
اللہ تعالیٰ
وَكِيلاً
٤٨کارساز
اور آپ ﷺ ان کافروں اور منافقوں کی باتوں کا دھیان نہ کریں اور ان کی ایذا رسانی کو نظر انداز کردیں اور اللہ پر توکل ّکریں۔ اور اللہ کافی ہے (آپ ﷺ کے لیے) مددگار کے طور پر۔
33:49
يَـٰٓ أَيُّهَا
اے
لوگو
ءَامَنُوٓ اۡ
جو ایمان لائے ہو
إِذَا
جب
نَكَحۡتُمُ
نکاح کرو تم
مومن عورتوں سے
ثُمّ َ
پھر
طَلَّقۡ تُمُوهُنّ َ
طلاق دو تم ان کو
مِن
سے
اس سے پہلے
أَن
کہ
تم چھوؤ ان کو
فَمَا
تو نہیں
لَكُمۡ
تمہارے لیے
عَلَيۡهِنّ َ
ان پر۔ ان کے ذمہ
مِنۡ
کوئی
عِدَّةٍ
عدت
تم شمارو کرو اس کو۔ تم اس کی گنتی پوری کراؤ
فَمَتِّعُوهُنّ َ
تو فائدہ دو ان کو
وَسَرِّحُوهُنّ َ
اور رخصت کرو ان کو
سَرَاحًا
رخصت کرنا
بھلے طریقے سے
اے اہل ایمان ! جب تم مومن خواتین سے نکاح کرو پھر انہیں طلاق دے دو قبل اس کے کہ انہیں چھوئو تو تمہاری طرف سے ان پر کوئی عدت لازم نہیں ہے جس کی تم انہیں گنتی پوری کرائو۔ } پس انہیں کچھ دے دلا کر بڑی خوبصورتی کے ساتھ رخصت کر دو۔
33:50
يَـٰٓ أَيُّهَا
اے
نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)
إِنّ َآ
بیشک
أَحۡلَلۡنَا
حلال کردیں ہم نے
لَكَ
آپ کے لیے
أَزۡوٰ جَكَ
آپ کی بیویاں
وہ جو
ءَاتَيۡتَ
دیے آپ نے
أُجُورَهُنّ َ
ان کے مہر
وَمَا
اور جن کے
مَلَكَتۡ
مالک ہے
يَمِينُكَ
آپ کا دایاں ہاتھ
مِمّ َآ
اس میں سے جو
أَفَا ٓءَ
لوٹایا
اللہ نے
عَلَيۡكَ
آپ پر
وَبَنَاتِ
اور بیٹیاں
عَمّ ِكَ
آپ کے چچا کی
وَبَنَاتِ
اور بیٹیاں
عَمّ َـٰ تِكَ
آپ کی پھوپھیوں کی
وَبَنَاتِ
اور بیٹیاں
خَالِكَ
آپ کے ماموں کی
وَبَنَاتِ
اور بیٹیاں
خَـٰ لَـٰ تِكَ
آپ کی خالاؤں کی
وہ
هَاجَرۡنَ
جنہوں نے ہجرت کی
مَعَكَ
تیرے ساتھ
وَٱ مۡرَأَةً
اور کوئی عورت
مومن
إِن
اگر
ہبہ کردے
نَفۡسَهَا
اپنے نفس کو
لِلنّ َبِىِّ
نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)
إِنۡ
اگر
أَرَادَ
ارادہ کریں
نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)
أَن
کہ
نکاح کرنا چاہیں اس سے
خَالِصَةً
خالصتا
آپ کے لیے ہے
مِن
کے
سوا
مومنوں کے
قَدۡ
تحقیق
عَلِمۡنَا
جان لیا ہم نے
مَا
جو
فَرَضۡنَا
فرض کیا ہم نے
عَلَيۡهِمۡ
ان پر
فِىٓ
معاملے میں
أَزۡوٰ جِهِمۡ
ان کی بیویوں کے (معاملے میں)
وَمَا
اور جن کے
مَلَكَتۡ
مالک ہیں
أَيۡمَـٰ نُهُمۡ
ان کے دائیں ہاتھ
لِكَيۡلَا
تاکہ نہ
يَكُونَ
ہو
عَلَيۡكَ
آپ پر
حَرَجٌۗ
کوئی تنگی
اور ہے
اللہ تعالیٰ
غَفُورًا
غفور
رحیم
اے نبی ﷺ ! ہم نے آپ کے لیے حلال ٹھہرایا ہے آپ کی ان تمام ازواج کو جن کے مہر آپ نے ادا کیے ہیں ور (ان کو بھی) جو آپ ﷺ کی ملک یمین (باندیاں) ہیں ان سے جو اللہ نے آپ ﷺ کو بطور فے عطا کیں (اسی طرح آپ ﷺ کو نکاح کرنا جائز ہے) اپنے چچا کی بیٹیوں سے اور اپنی پھوپھیوں کی بیٹیوں سے اور اپنی ماموئوں کی بیٹیوں اور اپنی خالائوں کی بیٹیوں سے جنہوں نے آپ ﷺ کے ساتھ ہجرت کی۔ اور وہ مومن عورت بھی جو ہبہ کرے اپنا آپ نبی ﷺ کے لیے اگر نبی ﷺ اسے اپنے نکاح میں لانا چاہیں۔ یہ (رعایت) خالص آپ ﷺ کے لیے ہے مومنین سے علیحدہ۔ ہمیں خوب معلوم ہے جو ہم نے ان (عام مسلمانوں) پر ان کی بیویوں اور ان کی باندیوں کے ضمن میں فرض کیا ہے } تاکہ آپ ﷺ پر کوئی تنگی نہ رہے۔ اور اللہ بہت بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے۔
33:51
۞تُرۡجِى
آپ دور رکیں
مَن
جس کو
آپ چاہیں
مِنۡهُنّ َ
ان میں سے
وَتُــٔۡوِىٓ
اور آپ جگہ دیں
إِلَيۡكَ
اپنی طرف
مَن
جس کو
آپ چاہیں
وَمَنِ
اور جس کو
آپ چاہیں
مِمّ َنۡ
ان میں سے
عَزَلۡتَ
الگ کردیں آپ
فَلَا
تو نہیں
جُنَاحَ
کوئی گناہ
عَلَيۡكَۚ
آپ پر
ذٰ لِكَ
یہ بات
أَدۡ نَىٰٓ
قریب تر ہے
أَن
کہ
ٹھنڈی ہوں
أَعۡيُنُهُنّ َ
ان کی نگاہیں
وَلَا
اور نہ
يَحۡزَنّ َ
وہ غمگین ہوں
وَيَرۡضَيۡنَ
اور وہ راضی ہوجائیں
بِمَآ
ساتھ اس کے جو
ءَاتَيۡتَهُنّ َ
دیا آپ نے ان کو
كُلُّهُنّ َۚ
سب کی سب
وَٱ للَّهُ
اور اللہ
يَعۡلَمُ
جانتا ہے
مَا
جو
فِى
میں
قُلُوبِكُمۡۚ
تمہارے دلوں میں ہے
وَكَانَ
اور ہے
اللہ تعالیٰ
عَلِيمًا
علم والا
حَلِيمًا
٥١حلم والا۔ بردبار
آپ ﷺ ان میں سے جس کو چاہیں پیچھے ہٹائیں اور جس کو چاہیں اپنے قریب جگہ دیں۔ اور جن کو آپ ﷺ نے دور کردیا تھا ان میں سے کسی کو (دوبارہ قریب کرنا) چاہیں تو بھی آپ ﷺ پر کوئی حرج نہیں یہ زیادہ قریب ہے اس سے کہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں اور وہ رنجیدہ نہ ہوں اور وہ سب کی سب راضی رہیں اس پر جو بھی آپ انہیں دیں۔ } اور اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے۔ اور اللہ ہرچیز کا علم رکھنے والا بہت بردبار ہے۔
33:52
لَّا
نہیں
يَحِلُّ
حلال
لَكَ
آپ کے لیے
عورتیں سے
مِنۢ
کے
اس کے بعد
وَلَآ
اور نہ
أَن
کہ
آپ بدل ڈالیں
بِهِنّ َ
بدلے ان کے
مِنۡ
سے
أَزۡوٰ جٍ
بیویوں میں (سے)
اور اگرچہ
أَعۡجَبَكَ
پسند آئے آپ کو
حُسۡنُهُنّ َ
حسن ان کا
إِلَّا
مگر
مَا
جن کا
مَلَكَتۡ
مالک ہے
يَمِينُكَۗ
آپ کا دایاں ہاتھ
وَكَانَ
اور ہے
اللہ تعالیٰ
عَلَىٰ
اوپر
كُلِّ
ہر
شَىۡءٍ
چیز کے
نگران
اب اس کے بعد اور عورتیں آپ ﷺ کے لیے حلال نہیں اور نہ ہی (اس کی اجازت ہے کہ) آپ ﷺ ان میں سے کسی کی جگہ کوئی اور بیوی لے آئیں اگرچہ ان کا حسن آپ ﷺ کو اچھا لگے سوائے اس کے جو آپ ﷺ کی مملوکہ ہو } اور اللہ ہرچیز پر نگران ہے۔
33:53
يَـٰٓ أَيُّهَا
اے
لوگو
ءَامَنُواۡ
جو ایمان لائے ہو
لَا
نہ
تَدۡ خُلُواۡ
تم داخل ہو
بُيُوتَ
گھروں میں
نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)
إِلَّآ
مگر
أَن
یہ کہ
اجازت دی جائے
لَكُمۡ
تمہارے لیے
إِلَىٰ
طرف
طَعَامٍ
کھانے کی (طرف)
غَيۡرَ
نہ
نَـٰ ظِرِينَ
انتظار کرنے والے ہو۔ نہ دیکھنے والے ہو
إِنَـٰ هُ
اس کے پکنے کا۔ پکنا اس کا
وَلَـٰ كِنۡ
اور لیکن
إِذَا
جب
دُعِيتُمۡ
بلائے جاؤ تم
فَٱ دۡ خُلُواۡ
تو داخل ہوجاؤ
فَإِذَا
پھر جب
طَعِمۡتُمۡ
کھانا کھالو
فَٱ نت َشِرُواۡ
تو منتشر ہوجاؤ
وَلَا
اور نہ
مُسۡتَــٔۡنِسِينَ
آرام پائے۔ مشغول ہونے والے
لِحَدِيثٍۚ
باتوں کے لیے
إِنّ َ
بیشک
ذٰ لِكُمۡ
یہ بات
كَانَ
ہے
يُؤۡذِى
ایذا دیتی۔ تکلیف دیتی
نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)
فَيَسۡتَحۡىِۦ
تو وہ شرماتے جاتے ہیں
مِنك ُمۡۖ
تم سے
وَٱ للَّهُ
اور اللہ تعالیٰ
لَا
نہیں
يَسۡتَحۡىِۦ
شرماتا
مِنَ
سے
حق (سے)
وَإِذَا
اور جب
سَأَلۡتُمُوهُنّ َ
سوال کرو تم ان سے
مَتَـٰ عًا
کسی چیز کا
تو سوال کرو ان سے۔ مانگو ان سے
مِن
سے
پیچھے (سے)
حِجَابٍۚ
پردے کے
یہ بات
أَطۡ هَرُ
زیادہ پاکیزہ ہے
لِقُلُوبِكُمۡ
تمہارے دلوں کے لیے
وَقُلُوبِهِنّ َۚ
اور ان کے دلوں کے لیے
وَمَا
اور نہیں
كَانَ
ہے
لَكُمۡ
(مناسب) تمہارے لیے
أَن
کہ
تم ایذا دو
رَسُولَ
رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو
اللہ کے
وَلَآ
اور نہ
أَن
یہ کہ
تم نکاح کرو
أَزۡوٰ جَهُۥ
آپ کی بیویوں سے
مِنۢ
کے
اس کے بعد
أَبَدًاۚ
کبھی بھی
إِنّ َ
بیشک
ذٰ لِكُمۡ
یہ بات
كَانَ
ہے
عِند َ
نزدیک
اللہ کے
عَظِيمًا
٥٣بہت بڑی
اے اہل ِ ایمان ! مت داخل ہوجایا کرو نبی ﷺ کے گھروں میں مگر یہ کہ تمہیں کسی کھانے پر آنے کی اجازت دی جائے نہ انتظار کرتے ہوئے کھانے کی تیاری کا ہاں جب تمہیں بلایا جائے تب داخل ہوا کرو پھر جب کھانا کھا چکو تو منتشر ہوجایا کرو اور باتوں میں لگے ہوئے بیٹھے نہ رہا کرو۔ تمہاری یہ باتیں نبی ﷺ کے لیے تکلیف کا باعث تھیں مگر وہ (نبی ﷺ آپ لوگوں سے جھجک محسوس کرتے ہیں اور اللہ حق (بیان کرنے) سے نہیں جھجکتا اور جب تمہیں نبی ﷺ کی بیویوں سے کوئی چیز مانگنی ہو تو پردے کی اوٹ سے مانگا کرو۔ یہ طرز عمل زیادہ پاکیزہ ہے تمہارے دلوں کے لیے بھی اور ان ؓ کے دلوں کے لیے بھی۔ اور تمہارے لیے جائز نہیں ہے کہ تم اللہ کے رسول ﷺ کو ایذا پہنچائو اور نہ یہ (جائز ہے) کہ تم نکاح کرو آپ ﷺ کی بیویوں سے آپ ﷺ کے بعد کبھی بھی۔ } یقینا اللہ کے نزدیک یہ بہت بڑی بات ہے۔