Back to Hizb Indexي ُسۡلِمۡٱ للَّهِف َقَدِٱ سۡتَمۡسَكَٱ لۡوُثۡقَىٰۗٱ للَّهِٱ لۡأُمُو رِ٢٢ك َفَرَب ِمَاٱ للَّهَب ِذَاتِٱ ل صُّدُو رِ٢٣ث ُمّ َس َأَلۡتَهُم م َّنۡٱ ل سَّمَـٰ وٰ تِٱ للَّهُۚٱ لۡحَمۡدُٱ ل سَّمَـٰ وٰ تِٱ للَّهَٱ لۡغَنِىُّٱ لۡحَمِي د ُ٢٦ٱ لۡأَرۡضِش َجَرَةٍو َٱ لۡبَحۡرُب َعۡدِهِۦ م َّاٱ للَّهِۗٱ للَّهَو ٰ حِدَةٍۗٱ للَّهَب َصِي رٌ٢٨ٱ للَّهَٱ لَّيۡلَٱ ل نّ َهَارِٱ ل نّ َهَارَٱ لَّيۡلِٱ ل شَّمۡسَي َجۡ رِىٓ م ُّسَمًّى و َأَنّ َٱ للَّهَٱ للَّهَٱ لۡحَقُّد ُونِهِٱ لۡبَـٰ طِلُٱ للَّهَٱ لۡعَلِىُّٱ لۡكَبِي رُ٣٠ٱ لۡفُلۡكَٱ لۡبَحۡرِٱ للَّهِم ِّنۡل ِّكُلِّش َكُو رٍ٣١م َّوۡجٌ ك َٱ ل ظُّلَلِٱ للَّهَٱ ل دِّينَٱ لۡبَرِّم ُّقۡ تَصِدٌۚ و َمَاك َفُو رٍ٣٢ٱ ل نّ َاسُٱ تَّقُواۡ ل َّاو َلَدِهِۦ و َالِدِهِۦ ٱ للَّهِف َلَاٱ لۡحَيَو ٰ ةُٱ ل دُّنۡيَاب ِٱ للَّهِٱ لۡغَرُو رُ٣٣ٱ للَّهَٱ ل سَّاعَةِٱ لۡغَيۡثَٱ لۡأَرۡحَامِۖم َّاذَاو َمَاب ِأَىِّت َمُوتُۚٱ للَّهَٱ لۡكِتَـٰ بِر َّبِّٱ لۡعَـٰ لَمِي نَ٢ٱ فۡتَرَ>ٮٰهُۚٱ لۡحَقُّر َّبِّكَم َّآ م ِّن ن َّذِيرٍ م ِّن ق َبۡ لِكَٱ لَّذِىٱ ل سَّمَـٰ وٰ تِث ُمّ َٱ سۡتَوَىٰٱ لۡعَرۡشِۖم ِّن د ُونِهِۦ و َلِىٍّ و َلَاٱ لۡأَمۡرَٱ ل سَّمَا ٓءِٱ لۡأَرۡضِك َانَم ِّمّ َاٱ لۡغَيۡبِٱ لۡعَزِيزُٱ ل رَّحِي مُ٦ٱ لۡإِنس َـٰ نِط ِي نٍ٧س ُلَـٰ لَةٍ م ِّن م َّا ٓءٍ م َّهِي نٍ٨ر ُّوحِهِۦ ۖٱ ل سَّمۡعَم َّاٱ لۡأَرۡضِج َدِيدِۭۚ ب َلۡب ِلِقَا ٓءِم َّلَكُٱ لۡمَوۡتِٱ لَّذِىٱ لۡمُجۡ رِمُونَٱ لۡقَوۡلُٱ لۡجِنّ َةِٱ لۡخُلۡدِٱ لَّذِينَو َسَبَّحُواۡ ٱ لۡمَضَاجِعِو َطَمَعًا و َمِمّ َام َّآ م ِّن ق ُرَّةِج َزَا ٓءَۢ ب ِمَاك َانَك َمَن ك َانَل َّاٱ لَّذِينَٱ ل صَّـٰ لِحَـٰ تِٱ لۡمَأۡوَىٰب ِمَا
Hizb 42
3 Surahs73 Versesالحزب 42
31:22
۞وَمَن
اور جو
حوالے کردے
وَجۡ هَهُۥٓ
اپنی ذات کو
إِلَى
طرف
اللہ کی
وَهُوَ
اور وہ
مُحۡسِنٌ
محسن بھی ہو
تو یقینا اس نے
تھام لیا
بِٱ لۡعُرۡوَةِ
مضبوط
کڑا
وَإِلَى
اور طرف
اللہ کے
عَـٰ قِبَةُ
انجام ہے
سب کاموں کا
اور جس شخص نے اپنا چہرہ اللہ کے سامنے جھکا دیا اور وہ احسان کی روش اختیار کرنے والا بھی ہو تو اس نے تھام لیا مضبوط حلقے کو اور تمام معاملات کا انجام اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے
31:23
وَمَن
اور جس نے
کفر کیا
فَلَا
پس نہ
يَحۡزُنك َ
غمگین کرے تجھ کو
كُفۡرُهُۥٓۚ
اس کا کفر کرنا
إِلَيۡنَا
ہماری طرف
مَرۡجِعُهُمۡ
ان سب کا لوٹنا ہے
فَنُنَبِّئُهُم
پھر ہم بتائیں گے ان کو
ساتھ اس کے
عَمِلُوٓاۡ ۚ
جو انہوں نے عمل کیے
إِنّ َ
بیشک
اللہ تعالیٰ
عَلِيمُۢ
جاننے والا ہے
بھید
سینوں کے
اور (اے نبی ﷺ !) جو کوئی کفر کرے تو اس کا کفر آپ کو رنجیدہ نہ کرنے پائے ہماری ہی طرف ان سب کو لوٹنا ہے پھر ہم انہیں آگاہ کردیں گے ان کاموں کے بارے میں جو وہ کیا کرتے تھے یقیناً اللہ خوب جاننے والا ہے اسے بھی جو سینوں میں چھپا ہوا ہے
31:24
نُمَتِّعُهُمۡ
ہم فائدہ دے رہے ہیں ان کو
قَلِيلاً
تھوڑا سا
پھر
نَضۡطَرُّهُمۡ
ہم کھینچ لے جائیں گے ان کو
إِلَىٰ
طرف
عَذَابٍ
عذاب کی
غَلِي ظٍ
٢٤سخت
ہم انہیں تھوڑی دیر کے لیے مال و متاع دے رہے ہیں پھر ہم انہیں کھینچ کر لائیں گے ایک بہت گاڑھے عذاب کی طرف
31:25
وَلَئِن
اور البتہ
اگر پوچھو تم ان سے
کس نے
خَلَقَ
پیدا کیا
آسمانوں کو
وَٱ لۡأَرۡضَ
اور زمین کو
لَيَقُولُنّ َ
البتہ ضرور کہیں گے
اللہ نے
قُلِ
کہہ دیجیے
سب تعریف
لِلَّهِۚ
اللہ کے لیے ہے
بَلۡ
بلکہ
أَكۡثَرُهُمۡ
اکثر ان میں سے
لَا
نہیں
يَعۡلَمُو نَ
٢٥علم رکھتے
اور (اے نبی ﷺ !) اگر آپ ان سے پوچھیں کہ کس نے پیدا کیا ہے آسمانوں اور زمین کو تو ضرور کہیں گے کہ اللہ نے آپ ﷺ کہیے کہ سب تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں لیکن ان کی اکثریت علم نہیں رکھتی
31:26
لِلَّهِ
اللہ ہی کے لئے ہے
مَا
جو کچھ
فِى
میں ہے
آسمانوں
وَٱ لۡأَرۡضِۚ
اور زمین میں ہے
إِنّ َ
بیشک
اللہ تعالیٰ
هُوَ
وہی
بےنیاز ہے۔ بےپرواہ ہے
تعریف والا ہے
اللہ ہی کے لیے ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے یقیناً اللہ ہی غنی ہے بہت خوبیوں والا
31:27
وَلَوۡ
اور اگر
أَنّ َمَا
بیشک
فِى
جو کچھ
زمین
مِن
میں ہے
درختوں میں سے
أَقۡ لَـٰ مٌ
قلم ہوجائیں
اور سمندر
يَمُدُّهُۥ
مدد کریں اس کی۔ سیاہی اس کی
مِنۢ
سے
اس کے بعد
سَبۡ عَةُ
سات
أَبۡ حُرٍ
سمندر
نہ
نَفِدَتۡ
ختم ہوں
كَلِمَـٰ تُ
کلمات
اللہ کے
إِنّ َ
بیشک
اللہ تعالیٰ
عَزِيزٌ
زبردست ہے
حَكِي مٌ
٢٧، حکمت والا ہے
اور اگر زمین میں جتنے بھی درخت ہیں وہ سب قلم بن جائیں اور سمندر (سیاہی بن جائے) اس کے بعداس کو مزید سات سمندر سیاہی مہیا کریں اللہ کے کلمات ختم نہ ہوں گے۔ یقیناً اللہ زبردست ہے کمال حکمت والا
31:28
مَّا
نہیں
خَلۡقُكُمۡ
پیدائش تمہاری
وَلَا
اور نہ
بَعۡثُكُمۡ
دوبارہ اٹھنا تمہارا
إِلَّا
مگر
كَنَفۡسٍ
نفس کی طرح
ایک
إِنّ َ
بیشک
اللہ تعالیٰ
سَمِيعُۢ
سننے والا ہے
دیکھنے والا ہے
تم سب کا پیدا کرنا اور دوبارہ اٹھانا (اللہ کے لیے) ایسا ہی ہے جیسے ایک جان کا (پیدا کردینا اور دوبارہ زندہ کردینا) یقیناً اللہ سب کچھ سننے والا ہرچیز پر نظر رکھنے والا ہے
31:29
أَلَمۡ
کیا تم نے
تَرَ
دیکھا نہیں
أَنّ َ
بیشک
اللہ تعالیٰ
يُولِجُ
داخل کرتا ہے
رات کو
فِى
میں
دن
وَيُولِجُ
اور داخل کرتا ہے
دن کو
فِى
میں
رات
وَسَخَّرَ
اور اس نے مسخر کردیا
سورج کو
وَٱ لۡقَمَرَ
اور چاند کو
كُلٌّ
سب کے سب
چلتے ہیں
إِلَىٰٓ
تک
أَجَلٍ
ایک وقت
مقرر
اور بیشک
اللہ تعالیٰ
بِمَا
ساتھ اس کے
تَعۡمَلُونَ
جو تم عمل کرتے ہو،
خَبِي رٌ
٢٩باخبر ہے
کیا تم دیکھتے نہیں کہ اللہ رات کو پرو لاتا ہے دن میں اور دن کو پرو لاتا ہے رات میں اور اس نے مسخر کردیا ہے سورج اور چاند کو۔ یہ سب کے سب چل رہے ہیں ایک وقت معین تک کے لیے اور یہ کہ اللہ باخبر ہے اس سے جو تم کر رہے ہو
31:30
ذٰ لِكَ
یہ بات
بِأَنّ َ
بوجہ اسکے کہ
بیشک اللہ
هُوَ
وہی
حق ہے
وَأَنّ َ
اور بیشک
مَا
جو
يَدۡ عُونَ
وہ پکارتے ہیں
مِن
اس کے سوا
باطل ہے
وَأَنّ َ
اور بیشک
اللہ تعالیٰ
هُوَ
وہی
بلند ہے
بہت بڑا ہے
یہ اس لیے کہ اللہ ہی حق ہے اور یہ کہ یہ لوگ جس کسی کو بھی اس کے سوا پکارتے ہیں وہ باطل ہے اور یقیناً اللہ ہی سب سے بلند وبالا اور عظمت والا ہے
31:31
أَلَمۡ
کیا تم نے
تَرَ
دیکھا نہیں
أَنّ َ
بیشک
کشتیاں
تَجۡ رِى
چلتی ہیں
فِى
میں
سمندر
بِنِعۡمَتِ
ساتھ نعمت کے
اللہ کی
لِيُرِيَكُم
تاکہ وہ دکھائے تم کو
میں سے
ءَايَـٰ تِهِۦٓۚ
اپنی نشانیوں
إِنّ َ
یقینا
فِى
اس میں
ذٰ لِكَ
البتہ
لَأَيَـٰ تٍ
نشانیاں ہیں
واسطے ہر ایک
صَبَّارٍ
بہت صبر کرنے والے
بہت شکر گزار کے
کیا تم دیکھتے نہیں کہ کشتیاں چلتی ہیں سمندر میں اللہ کی نعمتوں کو لے کرتا کہ وہ دکھائے تمہیں اپنی نشانیوں میں سے یقیناً اس میں نشانیاں ہیں ہر اس شخص کے لیے جو صبر اور شکر کرنے والا ہے
31:32
وَإِذَا
اور جب
غَشِيَهُم
چھا جاتی ہے ان پر
ایک موج
سائبانوں کی طرف
دَعَوُاۡ
وہ پکارتے ہیں
اللہ کو
مُخۡلِصِينَ
خالص کرنے والے ہوکر
لَهُ
اس کے لیے
دین کو
فَلَمّ َا
تو جب
نَجَّـٰ هُمۡ
وہ نجات دیتا ہے ان کو
إِلَى
طرف
خشکی کی
فَمِنۡهُم
تو ان میں سے
بعض اعتدال برتتے ہوتے ہیں
اور نہیں
يَجۡ حَدُ
انکار کرے گا
بِـَٔـايَـٰ تِنَآ
ہماری آیات کا
إِلَّا
مگر
كُلُّ
ہر
خَتَّارٍ
غدار
ناشکرا
اور جب کبھی (سمندر میں) موج انہیں ڈھانپ لیتی ہے سائبانوں کی طرح تو وہ پکارنے لگتے ہیں اللہ کو اس کے لیے اطاعت کو خالص کرتے ہوئے پھر جب وہ انہیں نجات دے کر خشکی پر لے آتا ہے تو ان میں کچھ ہی ہیں جو میانہ روی اختیار کرتے ہیں اور ہماری آیات کا انکار نہیں کرتے مگر وہی لوگ جو قول کے جھوٹے اور نا شکرے ہیں
31:33
يَـٰٓ أَيُّهَا
اے
لوگو
ڈرو
رَبَّكُمۡ
اپنے رب سے
وَٱ خۡشَوۡاۡ
اور ڈرو
يَوۡمًا
اس دن سے
نہ
يَجۡ زِى
کام آئے گا
وَالِدٌ
باپ
عَن
اپنے
بچے کے
وَلَا
اور نہ
مَوۡلُودٌ
مولود۔ بچہ
هُوَ
وہ
جَازٍ
بدلہ دینے والا ہے
عَن
سے
اپنے والد کی طرف
شَيۡــًٔاۚ
کچھ بھی
إِنّ َ
یقینا
وَعۡدَ
وعدہ
اللہ کا
حَقٌّۖ
سچا ہے
تو ہرگز نہ
تَغُرَّنّ َكُمُ
دھوکے میں ڈالے تجھ کو
زندگی
دنیا کی
وَلَا
اور ہرگز نہ
يَغُرَّنّ َكُم
دھوکے میں ڈالے تجھ کو
اللہ کے بارے میں
دھوکے باز
اے لوگو ! اپنے رب کا تقویٰ اختیار کرو اور ڈرو اس دن سے جس دن کوئی باپ اپنے بیٹے کے کچھ کام نہیں آئے گا اور نہ ہی بیٹا اپنے باپ کے کچھ کام آسکے گا یقیناً اللہ کا وعدہ سچا ہے تو (دیکھو !) تمہیں دھوکے میں نہ ڈال دے دنیا کی زندگی اور (دیکھنا !) تمہیں دھوکے میں نہ ڈال دے اللہ کے حوالے سے وہ بڑا دھوکے باز
31:34
إِنّ َ
بیشک
اللہ تعالیٰ
عِند َهُۥ
اس کے پاس
عِلۡمُ
علم ہے
قیامت کا
وَيُنَزِّلُ
اور وہ اتارتا ہے
بارش کو
وَيَعۡلَمُ
اور وہ جانتا ہے
مَا
جو کچھ
فِى
میں ہے
رحموں
وَمَا
اور نہیں
تَدۡ رِى
جانتا
نَفۡسٌ
کوئی شخص
کیا کچھ
تَكۡسِبُ
کمائی کرے گا
غَدًاۖ
کل
اور نہیں
تَدۡ رِى
جانتا
نَفۡسُۢ
کوئی شخص
کس
أَرۡضٍ
زمین پر
وہ مرے گا
إِنّ َ
بیشک
اللہ تعالیٰ
عَلِيمٌ
علم والا ہے
خَبِي رُۢ
٣٤باخبر ہے
یقیناً اللہ ہی ہے جس کے پاس ہے قیامت کا علم اور وہی بارش برساتا ہے اور وہ جانتا ہے جو کچھ رحموں میں ہے اور کوئی جان نہیں جانتی کہ کل وہ کیا کمائی کرے گی اور کوئی جان نہیں جانتی کہ کس زمین میں اس کی موت واقع ہوگی یقیناً اللہ سب کچھ جاننے والا ہرچیز کی خبر رکھنے والا ہے
32:1
الٓ مٓ
١ا، ل، م
الف لام میم۔
32:2
تَنز ِيلُ
نازل کرنا ہے
کتاب کا
لَا
نہیں
رَيۡبَ
کوئی شک
فِيهِ
اس میں
مِن
طرف سے
رب کی
العالمین (رب العالمین کی طرف سے)
اس کتاب کا اتاراجانا اس میں کوئی شک نہیں تمام جہانوں کے پروردگار کی طرف سے ہے۔
32:3
أَمۡ
کیا
يَقُولُونَ
وہ کہتے ہیں
اس نے گھڑ لیا اس کو
بَلۡ
بلکہ
هُوَ
وہ
حق ہے
مِن
سے
تیرے رب کی طرف
لِتُنذ ِرَ
تاکہ تو خبردار کرے۔ متنبہ کرے
قَوۡمًا
ایسی قوم کو
نہیں
أَتَـٰ هُم
آیا ان کے پاس
کوئی
ڈرانے والا
تجھ سے پہلے
لَعَلَّهُمۡ
شاید کہ وہ
يَهۡتَدُو نَ
٣ہدایت پاجائیں
کیا یہ کہتے ہیں کہ اس (محمد ﷺ نے اسے خود گھڑ لیا ہے ؟ (نہیں !) بلکہ یہ حق ہے آپ ﷺ کے رب کی طرف سے تاکہ آپ ﷺ خبردار کریں اس قوم کو جس کے پاس آپ ﷺ سے پہلے کوئی خبردار کرنے والا نہیں آیا شاید کہ وہ ہدایت پائیں
32:4
ٱللَّهُ
اللہ
وہ ذات ہے
خَلَقَ
اس نے پیدا کیا
آسمانوں کو
وَٱ لۡأَرۡضَ
اور زمین کو
وَمَا
اور جو
بَيۡنَهُمَا
ان دونوں کے درمیان ہے
فِى
میں
سِتَّةِ
چھ
أَيَّامٍ
دنوں
پھر
وہ مستوی ہوا
عَلَى
پر
عرش
مَا
نہیں
لَكُم
تمہارے لیے
اس کے
سوا
مِن
کوئی
دوست۔ مددگار
اور نہ
شَفِيعٍۚ
کوئی سفارشی
أَفَلَا
کیا پھر نہیں
تَتَذَكَّرُو نَ
٤تم نصیحت پکڑتے
اللہ وہ ہے جس نے پیدا کیا آسمانوں کو اور زمین کو اور جو کچھ ان دونوں کے مابین ہے چھ دنوں میں پھر وہ متمکنّ ہوا عرش (تخت حکومت) پر نہیں ہے تمہارے لیے اس کے مقابلے میں کوئی حمایتی اور نہ کوئی سفارش کرنے والا۔ تو کیا تم نصیحت نہیں پکڑتے !
32:5
يُدَبِّرُ
وہ تدبیر کرتا ہے
معاملات کی
مِنَ
سے
آسمان
إِلَى
تک
زمین
ثُمّ َ
پھر
يَعۡرُجُ
وہ چڑھتا ہے (امر)
إِلَيۡهِ
اس کی طرف
فِى
میں
يَوۡمٍ
ایسے دن
ہے
مِقۡ دَارُهُۥٓ
اس کی مقدار
أَلۡفَ
ہزار
سَنَةٍ
سال (کے برابر)
اس میں سے
تَعُدُّو نَ
٥جو تم شمار کرتے ہو
وہ تدبیر کرتا ہے اپنے امر کی آسمان سے زمین کی طرف پھر وہ (امر) چڑھتا ہے اس کی طرف (یہ سارا معاملہ طے پاتا ہے) ایک دن میں جس کی مقدار تمہاری گنتی کے حساب سے ایک ہزار برس ہے
32:6
ذٰ لِكَ
یہ ہے
عَـٰ لِمُ
جاننے والا
غیب کا
وَٱ ل شَّهَـٰ دَةِ
اور حاضر کا
غالب،
رحم فرمانے والا
وہ جاننے والا ہے ہر چھپی اور ظاہری چیز کا وہ بہت زبردست ہے نہایت رحم فرمانے والا
32:7
ٱلَّذِىٓ
جس نے
أَحۡسَنَ
اچھا بنایا
كُلَّ
ہر
شَىۡءٍ
چیز کو
خَلَقَهُۥ ۖ
پیدا کیا اس کو
وَبَدَأَ
اور ابتدا کی
خَلۡقَ
تخلیق کی
انسان کی
مِن
سے
مٹی
جس نے جو شے بھی بنائی بہت خوبصورت انداز میں بنائی اور اس نے آغاز کیا انسان کی تخلیق کا گارے سے
32:8
ثُمّ َ
پھر
جَعَلَ
اس نے بنائی
نَسۡلَهُۥ
اس کی نسل
مِن
سے
خلاصے
پانی کے
ذلیل۔ حقیر
پھر اس کی نسل چلائی ایک بےقدر پانی کے خلاصے سے
32:9
ثُمّ َ
پھر
سَوَّٮٰ هُ
درست کیا اس کو
وَنَفَخَ
اور پھونک دی
فِيهِ
اس میں
مِن
اپنی روح
وَجَعَلَ
اور بنائے
لَكُمُ
تمہارے لیے
کان
وَٱ لۡأَبۡ صَـٰ رَ
اور آنکھیں
وَٱ لۡأَفۡــِٔدَةَۚ
اور دل
قَلِيلاً
کتنا کم ہے
جو
تَشۡكُرُو نَ
٩تم شکر ادا کرتے ہو
پھر اس کی نوک پلک درست کی اور پھونکا اس میں اپنی روح میں سے اور اس نے بنائے تمہارے لیے کان آنکھیں اور دل بہت ہی کم ہے جو شکر تم لوگ کرتے ہو
32:10
وَقَالُوٓ اۡ
اور انہوں نے کہا
أَءِذَا
کیا جب
ضَلَلۡنَا
ہم گم ہوجائیں گے
فِى
میں
زمین
أَءِنّ َا
کیا بیشک ہم
لَفِى
البتہ میں ہوں گے
خَلۡقٍ
پیدائش
نئی
بلکہ
هُم
وہ
ملاقات کے
رَبِّهِمۡ
اپنے رب کی
كَـٰ فِرُو نَ
١٠انکاری ہیں
اور یہ کہتے ہیں : کیا جب ہم زمین میں تحلیل ہوجائیں گے تو کیا پھر ہم ایک نئی خلقت میں ڈھالے جائیں گے ؟ بلکہ (حقیقت میں) یہ لوگ اپنے رب کی ملاقات کے منکر ہیں
32:11
۞قُلۡ
کہہ دیجیے
يَتَوَفَّـٰ كُم
قبضے میں لے لے گا تم کو۔ فوت کرلے گا تم کو
فرشتہ
موت کا
وہ جو
وُكِّلَ
مقرر کیا گیا
بِكُمۡ
تمہارے ساتھ
ثُمّ َ
پھر
إِلَىٰ
طرف
رَبِّكُمۡ
اپنے رب کی
تُرۡجَعُو نَ
١١تم لوٹائے جاؤ گے
(اے نبی ﷺ ! آپ کہہ دیجیے کہ تمہیں قبض کرلے گا موت کا وہ فرشتہ جو تم پر مقرر کردیا گیا ہے پھر تم اپنے رب کی طرف لوٹا دیے جاؤ گے
32:12
وَلَوۡ
کاش
تَرَىٰٓ
تم دیکھو
إِذِ
جب
مجرم
نَاكِسُواۡ
جھکائے ہوئے ہوں گے
رُءُوسِهِمۡ
اپنے سروں کو
عِند َ
پاس (کہیں گے)
رَبِّهِمۡ
اپنے رب کے
رَبَّنَآ
اے ہمارے رب
أَبۡ صَرۡنَا
دیکھ لیا ہم نے
وَسَمِعۡنَا
اور سن لیا ہم نے
فَٱ رۡجِعۡنَا
پس لوٹا دے ہم کو
نَعۡمَلۡ
ہم عمل کریں
صَـٰ لِحًا
اچھے
إِنّ َا
بیشک ہم
مُوقِنُو نَ
١٢یقین کرنے والے ہیں
اور کاش تم وہ منظر دیکھ سکو جب یہ مجرم کھڑے ہوں گے سر جھکائے ہوئے اپنے پروردگار کے سامنے (اور کہہ رہے ہوں گے :) اے ہمارے پروردگار ! اب ہم نے خوب دیکھ لیا اور سن لیا تو (ایک بار) ہمیں واپس لوٹا دے ہم نیک عمل کریں گے اب ہمیں یقین آگیا ہے
32:13
وَلَوۡ
اور اگر
شِئۡنَا
چاہتے ہم
لَأَتَيۡنَا
البتہ دے دیتے ہم
كُلَّ
ہر
نَفۡسٍ
نفس کو
هُدَٮٰ هَا
اس کی ہدایت
وَلَـٰ كِنۡ
لیکن
حَقَّ
سچ ہوگئی
بات
مِنّ ِى
میری طرف سے
لَأَمۡلَأَنّ َ
البتہ میں ضرور بھر ڈالوں گا
جَهَنّ َمَ
جہنم کو
مِنَ
سے
جنوں
وَٱ ل نّ َاسِ
اور انسانوں سے
أَجۡ مَعِي نَ
١٣سب کے سب۔ سب سے
اور اگر ہم چاہتے تو ہر جان کو اس کی ہدایت دے دیتے لیکن میری طرف سے یہ فیصلہ صادر ہوچکا ہے کہ میں جہنم کو جنوں اور آدمیوں سب سے بھر کر رہوں گا۔
32:14
فَذُوقُواۡ
تو چکھو
بِمَا
بوجہ اس کے جو
نَسِيتُمۡ
بھول گئے تم۔ بھلا دیا تم نے
لِقَا ٓءَ
ملاقات کو
يَوۡمِكُمۡ
اپنے دن کی
هَـٰ ذَآ
اس
إِنّ َا
بیشک ہم نے
نَسِينَـٰ كُمۡۖ
بھلا دیا ہم نے تم کو
وَذُوقُواۡ
اور چکھو
عَذَابَ
عذاب
ہمیشگی کا
بِمَا
بوجہ اس کے
كُنت ُمۡ
جو تھے تم
تَعۡمَلُو نَ
١٤تم عمل کرتے
تو اب چکھو مزہ (آگ کا) اس لیے کہ تم نے آج کے دن کی ملاقات کو بھلائے رکھا اب ہم نے بھی تمہیں نظر انداز کردیا ہے پس تم چکھو ہمیشگی کا عذاب اپنے ان کرتوتوں کے سبب جو تم کرتے رہے ہو۔
32:15
إِنّ َمَا
بیشک
يُؤۡمِنُ
ایمان لاتے ہیں
بِـَٔـايَـٰ تِنَا
ہماری آیات پر
وہ لوگ
إِذَا
جب
ذُكِّرُواۡ
نصیحت کیے جاتے ہیں
بِهَا
ساتھ ان کے
خَرُّواۡ
گرپڑتے ہیں
سُجَّدًا
سجدہ کرتے ہوئے
اور وہ تسبیح بیان کرتے ہیں
بِحَمۡدِ
حمد کے ساتھ
رَبِّهِمۡ
اپنے رب کی
وَهُمۡ
اور وہ
لَا
نہیں
يَسۡتَكۡبِرُو نَ
۩تکبر کرتے
ہماری آیات پر ایمان رکھنے والے تو وہی لوگ ہیں کہ جب ان کے ذریعے انہیں نصیحت کی جاتی ہے تو وہ سجدے میں گرپڑتے ہیں اور اپنے پروردگار کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتے ہیں اور وہ تکبر نہیں کرتے
32:16
تَتَجَافَىٰ
الگ رہتے ہیں
جُنُوبُهُمۡ
ان کے پہلو۔ ان کی کروٹیں
عَنِ
سے
بستروں
يَدۡ عُونَ
پکارتے ہیں
رَبَّهُمۡ
اپنے رب کو
خَوۡفًا
خوف سے
اور امید سے۔ طمع سے
اور اس میں سے
رَزَقۡ نَـٰ هُمۡ
جو رزق دیا ہم نے ان کو
يُنف ِقُو نَ
١٦وہ خرچ کرتے ہیں
(راتوں کو) ان کے پہلو بستروں سے الگ رہتے ہیں وہ اپنے رب کو پکارتے رہتے ہیں خوف اور امید کی کیفیت میں اور جو کچھ ہم نے انہیں دیا ہے اس میں سے (ہماری رضا جوئی کے لیے) خرچ کرتے ہیں
32:17
فَلَا
پس نہیں
تَعۡلَمُ
جانتا
نَفۡسٌ
کوئی نفس
جو
أُخۡفِىَ
چھپایا گیا
لَهُم
ان کے لیے
میں سے
ٹھنڈک
أَعۡيُنٍ
آنکھوں کی
بدلہ ہے
بوجہ اس کے
كَانُواۡ
جو تھے وہ
يَعۡمَلُو نَ
١٧عمل کرتے
تو کوئی انسان نہیں جانتا کہ ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک کے لیے کیا کچھ چھپا کر رکھا گیا ہے ان کے اعمال کے بدلے کے طور پر
32:18
أَفَمَن
کیا بھلا وہ جو
ہو
مُؤۡمِنًا
مومن
مانند اس کے
ہوسکتا ہے
فَاسِقًاۚ
جو فاسق ہو
نہیں
يَسۡتَوُۥ نَ
١٨وہ برابر ہوسکتے
تو بھلا جو کوئی مؤمن ہے کیا وہ اس کی مانند ہوجائے گا جو فاسق ہے ! وہ (دونوں) ہرگز برابر نہیں ہوسکتے۔
32:19
أَمّ َا
رہے
وہ لوگ
ءَامَنُواۡ
جو ایمان لائے
وَعَمِلُواۡ
اور انہوں نے عمل کیے
نیک
فَلَهُمۡ
تو ان کے لیے
جَنّ َـٰ تُ
باغات میں
ٹھکانہ
نُزُلاَۢ
مہمانی کے طور پر
بوجہ اس کے
كَانُواۡ
جو تھے وہ
يَعۡمَلُو نَ
١٩عمل کرتے
وہ لوگ جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کیے تو ان کے لیے باغات ہیں ٹھکانے کے طور پر ابتدائی مہمان نوازی کے طور پر ان کے اعمال کے بدلے میں