Back to Hizb Indexق َالُوٓ اۡ م ِّن ق َرۡيَتِكُمۡۖي َتَطَهَّرُو نَ٥٦ٱ مۡرَأَتَهُۥ ٱ لۡغَـٰ بِرِي نَ٥٧م َّطَرًاۖ ف َسَا ٓءَٱ لۡمُنذ َرِي نَ٥٨ٱ لۡحَمۡدُٱ لَّذِينَٱ صۡطَفَىٰٓۗ ٱ ل سَّمَـٰ وٰ تِم ِّنَٱ ل سَّمَا ٓءِف َأَنۢب َتۡنَام َّات ُنۢب ِتُواۡ م َّعَٱ للَّهِۚي َعۡدِلُو نَ٦٠ج َعَلَٱ لۡأَرۡضَو َجَعَلَو َجَعَلَٱ لۡبَحۡرَيۡنِم َّعَٱ للَّهِۚي ُجِيبُٱ لۡمُضۡطَرَّٱ ل سُّو ٓءَٱ لۡأَرۡضِۗم َّعَٱ للَّهِۚم َّاي َهۡدِيكُمۡٱ لۡبَرِّي ُرۡسِلُٱ ل رِّيَـٰ حَب َيۡنَم َّعَٱ للَّهِۚٱ للَّهُي َبۡ دَؤُاۡ ٱ لۡخَلۡقَي َرۡزُقُكُم م ِّنَٱ ل سَّمَا ٓءِم َّعَٱ للَّهِۚك ُنت ُمۡف ِىٱ ل سَّمَـٰ وٰ تِٱ لۡغَيۡبَٱ للَّهُۚٱ دّٰ رَكَٱ لۡأَخِرَةِۚم ِّنۡهَاۖم ِّنۡهَاٱ لَّذِينَو َءَابَا ٓؤُنَآ ق َبۡ لُٱ لۡأَوَّلِي نَ٦٨ٱ لۡأَرۡضِٱ لۡمُجۡ رِمِي نَ٦٩ف ِىم ِّمّ َاٱ لۡوَعۡدُك ُنت ُمۡي َكُونَب َعۡضُٱ لَّذِىٱ ل نّ َاسِف ِىٱ ل سَّمَا ٓءِم ُّبِي نٍ٧٥ٱ لۡقُرۡءَانَٱ لَّذِىو َرَحۡمَةٌ ل ِّلۡمُؤۡمِنِي نَ٧٧ب ِحُكۡمِهِۦ ۚٱ لۡعَزِيزُٱ لۡعَلِي مُ٧٨ٱ للَّهِۖٱ لۡحَقِّٱ لۡمُبِي نِ٧٩ٱ لۡمَوۡتَىٰٱ ل صُّمّ َٱ ل دُّعَا ٓءَٱ لۡعُمۡىِض َلَـٰ لَتِهِمۡۖت ُسۡمِعُي ُؤۡمِنُم ُّسۡلِمُو نَ٨١ٱ لۡقَوۡلُم ِّنَٱ لۡأَرۡضِٱ ل نّ َاسَك ُلِّف َوۡجًا م ِّمّ َن ي ُكَذِّبُب ِـَٔـايَـٰ تِىٱ لۡقَوۡلُب ِمَاٱ لَّيۡلَل ِّقَوۡمٍ ي ُؤۡمِنُو نَ٨٦ٱ ل صُّورِف ِىٱ ل سَّمَـٰ وٰ تِف ِىٱ لۡأَرۡضِش َا ٓءَٱ للَّهُۚٱ لۡجِبَالَو َهِىَٱ ل سَّحَابِۚٱ للَّهِٱ لَّذِىٓ ب ِمَاج َا ٓءَم ِّنۡهَام ِّن ف َزَعٍ ي َوۡمَئِذٍج َا ٓءَٱ ل نّ َارِٱ لۡبَلۡدَةِٱ لَّذِىو َأُمِرۡتُٱ لۡمُسۡلِمِي نَ٩١ٱ لۡقُرۡءَانَۖٱ هۡتَدَىٰض َلَّٱ لۡمُنذ ِرِي نَ٩٢
Hizb 39
2 Surahs88 Versesالحزب 39
27:56
۞فَمَا
تو نہ
كَانَ
تھا
جَوَابَ
جواب
قَوۡمِهِۦٓ
اس کی قوم کا
إِلَّآ
مگر
أَن
یہ کہ
انہوں نے کہا
أَخۡرِجُوٓ اۡ
نکال دو
ءَالَ
آل
لُوطٍ
لوط کو
سے
اپنی بستی
إِنّ َهُمۡ
بیشک وہ
أُنَاسٌ
کچھ لوگ ہیں
جو بہت پاک بنتے ہیں
تو اس ؑ کی قوم کا کوئی جواب نہیں تھا مگر یہ کہ انہوں نے کہا : نکال باہر کرو لوط کے گھر والوں کو اپنے شہر سے۔ یہ لوگ بڑے پاکباز بنتے ہیں
27:57
فَأَنج َيۡنَـٰ هُ
تو نجات دی ہم نے اس کو
وَأَهۡلَهُۥٓ
اور اس کے گھر والوں کو
إِلَّا
سوائے
اس کی بیوی کے
قَدَّرۡنَـٰ هَا
مقدر کردیا ہم نے اس کے لیے
مِنَ
میں سے
پیچھے رہنے والوں
تو ہم نے نجات دی اس ؑ کو اور اس ؑ کے گھر والوں کو سوائے اس کی بیوی کے جس کے بارے میں ہم نے طے کردیا تھا کہ وہ پیچھے رہ جانے والوں میں ہوگی
27:58
وَأَمۡطَرۡنَا
اور برسائی ہم نے
عَلَيۡهِم
ان پر
ایک بارش
تو بہت بری تھی
مَطَرُ
بارش ڈرائے
جانے والوں کی
اور ان کے اوپر ہم نے ایک بارش برسائی تو بہت ہی بری بارش تھی جو ان لوگوں پر برسائی گئی جن کو خبردار کردیا گیا تھا
27:59
قُلِ
کہہ دیجیے
سب تعریف
لِلَّهِ
اللہ کے لیے ہے
وَسَلَـٰ مٌ
اور سلام ہے
عَلَىٰ
پر
عِبَادِهِ
اس کے بندوں
وہ جو
اس نے چن لیے
ءَآللَّهُ
کیا اللہ
خَيۡرٌ
بہتر ہے
أَمّ َا
یا وہ جو
يُشۡرِكُو نَ
٥٩شریک ٹھہرا رہے ہیں
آپ ؑ کہہ دیجیے کہ کل حمد اور کل شکر اللہ کے لیے ہے اور سلام ہے اس کے ان بندوں پر جن کو اس نے ُ چن لیا ہے کیا اللہ بہتر ہے یا وہ جن کو یہ شریک بناتے ہیں
27:60
أَمّ َنۡ
یا کون ہے جس نے
خَلَقَ
پیدا کیا
آسمانوں کو
وَٱ لۡأَرۡضَ
اور زمین کو
وَأَنز َلَ
اور نازل کیا
لَكُم
تمہارے لئے
سے
آسمان (سے)
مَا ٓءً
پانی
پھر اگائے ہم نے
بِهِۦ
اس کے ساتھ
حَدَا ٓئِقَ
باغات
ذَاتَ
والے
بَهۡجَةٍ
رونق (والے)
نہ
كَانَ
تھا
لَكُمۡ
تمہارے لئے
أَن
کہ
تم اگا سکو
شَجَرَهَآۗ
ان کے درخت
أَءِلَـٰ هٌ
کیا کوئی الٰہ ہے
ساتھ
اللہ کے (ساتھ)
بَلۡ
بلکہ
هُمۡ
وہ
قَوۡمٌ
ایک قوم ہے
جو برابر قرار دے رہی ہے
بھلا کون ہے جس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو اور آسمان سے تمہارے لیے پانی اتارا پھر اس کے ذریعے سے ہم نے ُ پررونق باغات اگائے تمہارے لیے ممکن نہیں تھا کہ ان کے درختوں کو خود اگا سکتے کیا کوئی اور معبود بھی ہے اللہ کے ساتھ بلکہ یہ ایسے لوگ ہیں جو (حق سے) انحراف کر رہے ہیں
27:61
أَمّ َن
یا کون ہے جس نے
بنایا
زمین کو
قَرَارًا
جائے قرار
اور بنایا
خِلَـٰ لَهَآ
اس کے درمیان
أَنۡهَـٰ رًا
نہروں کو
اور بنائے
لَهَا
اس کے لئے
رَوٰ سِىَ
پہاڑ
وَجَعَلَ
اور بنایا
بَيۡنَ
درمیان
دو سمندروں کے
حَاجِزًاۗ
ایک پردہ
أَءِلَـٰ هٌ
کیا کوئی الٰہ ہے
ساتھ
اللہ کے
بَلۡ
بلکہ
أَكۡثَرُهُمۡ
ان میں سے اکثر
لَا
نہیں
يَعۡلَمُو نَ
٦١علم رکھتے
بھلا کس نے بنایا زمین کو ٹھہرنے کی جگہ اور رواں کردیے اس کے اندر دریا (اور ندیاں) اور بنائے اس کے لیے لنگر (پہاڑ) اور بنایا دو دریاؤں کے درمیان پردہ کیا کوئی اور معبود بھی ہے اللہ کے ساتھ بلکہ ان کی اکثریت علم نہیں رکھتی
27:62
أَمّ َن
یا کون ہے
جو جواب دیتا
لاچار کو
إِذَا
جب
دَعَاهُ
وہ پکارتا ہے اس کو
وَيَكۡشِفُ
اور دور کرتا ہے
تکلیف
وَيَجۡ عَلُكُمۡ
اور وہ بناتا ہے تم کو
خُلَفَا ٓءَ
جانشین
زمین کے
أَءِلَـٰ هٌ
کیا کوئی الٰہ ہے
ساتھ
اللہ کے
قَلِيلاً
کم
کتنی
تَذَكَّرُو نَ
٦٢تم نصیحت پکڑتے ہو
بھلا کون ہے جو سنتا ہے ایک مجبور و لاچار کو جب وہ اس کو پکارتا ہے اور (اس کی) تکلیف کو دور کرتا ہے اور جو تمہیں جانشین بناتا ہے زمین میں کیا کوئی اور معبود بھی ہے اللہ کے ساتھ (ان کاموں میں شریک) ؟ بہت ہی کم نصیحت ہے جو تم لوگ حاصل کرتے ہو
27:63
أَمّ َن
یا کون ہے جو
رہنمائی کرتا ہو تمہاری
فِى
میں
ظُلُمَـٰ تِ
اندھیروں (میں)
خشکی کے
وَٱ لۡبَحۡرِ
اور سمندر کے
وَمَن
اور کون ہے جو
بھیجتا ہے
ہواؤں کو
بُشۡرَۢا
خوش خبری کے ساتھ
آگے
يَدَىۡ
آگے
رَحۡمَتِهِۦٓۗ
اس کی رحمت کے
أَءِلَـٰ هٌ
کیا کوئی اور الٰہ بھی ہے
ساتھ
اللہ کے
تَعَـٰ لَى
بلند ہے
اللہ
عَمّ َا
اس سے جو
يُشۡرِكُو نَ
٦٣وہ شریک ٹھہرا رہے ہیں
بھلا کون ہے جو تمہیں راستہ دکھاتا ہے خشکی اور سمندر کے اندھیروں میں ؟ اور کون بھیجتا ہے ہواؤں کو بشارت دیتی ہوئی اپنے باران رحمت کے آگے آگے کیا کوئی اور معبود بھی ہے اللہ کے ساتھ ؟ بہت بلند وبالا ہے اللہ اس شرک سے جو یہ لوگ کرتے ہیں
27:64
أَمّ َن
یا کون ہے جو
ابتدا کرتا ہے
تخلیق کی
ثُمّ َ
پھر
يُعِيدُهُۥ
وہ لوٹاتا ہے اس کو
وَمَن
اور کون
دیتا ہے تم کو
سے
آسمان (سے)
وَٱ لۡأَرۡضِۗ
اور زمین (سے)
أَءِلَـٰ هٌ
کیا کوئی اور الٰہ بھی ہے
ساتھ
اللہ کے
قُلۡ
کہہ دیجئے
هَاتُواۡ
لاؤ
بُرۡهَـٰ نَكُمۡ
اپنی دلیل
إِن
اگر
ہو تم
صَـٰ دِقِي نَ
٦٤سچے
بھلا کون ہے جو ابتدا میں پیدا کرتا ہے مخلوق کو پھر اس کا اعادہ کرتا ہے ؟ اور کون ہے جو تم لوگوں کو رزق دتیا ہے آسمانوں اور زمین سے کیا کوئی اور معبود بھی ہے اللہ کے ساتھ ؟ آپ ﷺ کہیے کہ لاؤ اپنی دلیل اگر تم سچے ہو
27:65
قُل
کہہ دیجئے
لَّا
نہیں
يَعۡلَمُ
جانتا
مَن
جو کوئی
میں
آسمانوں (میں) ہے
وَٱ لۡأَرۡضِ
اور زمین (میں)
غیب کو
إِلَّا
سوائے
اللہ کے
وَمَا
اور نہیں
يَشۡعُرُونَ
وہ شعور رکھتے
أَيَّانَ
کہ کب
يُبۡ عَثُو نَ
٦٥وہ دوبارہ اٹھائے جائیں گے
آپ ﷺ کہہ دیجیے کہ جو کوئی بھی آسمانوں اور زمین میں ہیں کسی کو بھی غیب کا علم نہیں سوائے اللہ کے اور انہیں تو یہ بھی نہیں معلوم کہ انہیں کب اٹھایا جائے گا
27:66
بَلِ
بلکہ
فنا ہوگیا/ ضائع ہوگیا
عِلۡمُهُمۡ
ان کا علم
فِى
میں
آخرت کے معاملے (میں)
بَلۡ
بلکہ
هُمۡ
وہ
فِى
میں
شَكٍّ
شک (میں) مبتلا ہیں
اس کے معاملے (میں)
بَلۡ
بلکہ
هُم
وہ
اس کی طرف سے
عَمُو نَ
٦٦اندھے ہیں
بلکہ تھک ہار کر رہ گیا ہے ان کا علم آخرت کے بارے میں بلکہ اس کے بارے میں وہ شک میں مبتلا ہیں بلکہ اس کی طرف سے وہ اندھے ہوچکے ہیں
27:67
وَقَالَ
اور کہا
ان لوگوں نے
كَفَرُوٓ اۡ
جنہوں نے کفر
أَءِذَا
کیا جب
كُنّ َا
ہوں گے ہم
تُرٰ بًا
مٹی
اور ہمارے آباؤ اجداد بھی
أَئِنّ َا
کیا یقیناً ہم
لَمُخۡرَجُو نَ
٦٧البتہ نکالے جائیں گے
اور یہ کافر کہتے ہیں کہ کیا جب ہم اور ہمارے آباء واجداد مٹی ہوجائیں گے تو کیا ہمیں پھر سے نکال لیا جائے گا
27:68
لَقَدۡ
البتہ تحقیق
وُعِدۡ نَا
وعدہ کئے گئے ہم
هَـٰ ذَا
اس بات کا
نَحۡنُ
ہم بھی
وَءَابَا ٓؤُنَا
اور ہمارے باپ دادا بھی
مِن
سے
اس (سے) قبل
إِنۡ
نہیں
هَـٰ ذَآ
یہ
إِلَّآ
مگر
أَسَـٰ طِيرُ
کہانیاں ہیں
پہلوں کی
یہی وعدہ ہم سے بھی کیا گیا ہے اور اس سے پہلے ہمارے آباء و اَجداد سے بھی کیا گیا تھا یہ کچھ نہیں مگر پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں
27:69
قُلۡ
کہہ دیجئے
سِيرُواۡ
چلو پھرو
فِى
میں
زمین (میں)
فَٱ نظ ُرُواۡ
پھر دیکھو
كَيۡفَ
کس طرح
كَانَ
ہوا
عَـٰ قِبَةُ
انجام
مجرموں کا
آپ ﷺ کہیے کہ ذرا گھومو پھرو زمین میں اور دیکھ لو کہ کیسا انجام ہوا مجرم قوموں کا
27:70
وَلَا
اور نہ
تَحۡزَنۡ
تم غم کرو
عَلَيۡهِمۡ
ان پر
وَلَا
اور نہ
تَكُن
تم ہو
میں
ضَيۡقٍ
تنگی (میں)
اس سے جو
يَمۡكُرُو نَ
٧٠وہ چالیں چل رہے ہیں
(اے نبی ﷺ !) آپ ان پر رنجیدہ نہ ہوں اور جو چالیں یہ چل رہے ہیں ان پر دل تنگ نہ کریں
27:71
وَيَقُولُونَ
اور وہ کہتے ہیں
مَتَىٰ
کب ہوگا
هَـٰ ذَا
یہ
وعدہ
إِن
اگر
ہو تم
صَـٰ دِقِي نَ
٧١سچے
اور وہ کہتے ہیں کہ یہ وعدہ کب پورا ہوگا اگر آپ سچے ہیں
27:72
قُلۡ
کہہ دیجئے
عَسَىٰٓ
امید ہے
أَن
کہ
ہو
رَدِفَ
پیچھے لگا ہوا
لَكُم
تمہارے لئے
بعض
وہ جو
تَسۡتَعۡجِلُو نَ
٧٢تم جلدی مانگتے ہو/ جلدی مچاتے ہو
آپ ﷺ کہہ دیجیے کہ ہوسکتا ہے جس چیز کی تم لوگ جلدی مچا رہے ہو اس کا کچھ حصہ تمہارے قریب ہی آ لگا ہو
27:73
وَإِنّ َ
اور بیشک
رَبَّكَ
رب تیرا
لَذُو
البتہ والا ہے
فَضۡلٍ
فضل
عَلَى
پر
لوگوں (پر)
وَلَـٰ كِنّ َ
لیکن
أَكۡثَرَهُمۡ
اکثر ان میں سے
لَا
نہیں
يَشۡكُرُو نَ
٧٣شکر کرتے
اور یقیناً آپ ﷺ کا رب بڑے فضل والا ہے لوگوں کے حق میں لیکن ان کی اکثریت شکر نہیں کرتی
27:74
وَإِنّ َ
اور بیشک
رَبَّكَ
رب تیرا
لَيَعۡلَمُ
البتہ جانتا ہے
مَا
جو
تُكِنّ ُ
چھپاتے ہیں
صُدُورُهُمۡ
ان کے سینے
وَمَا
اور جو کچھ
يُعۡلِنُو نَ
٧٤وہ ظاہر کرتے ہیں
اور یقیناً آپ ﷺ کا رب خوب جانتا ہے جو کچھ چھپاتے ہیں ان کے سینے اور جو کچھ وہ ظاہر کرتے ہیں
27:75
وَمَا
اور نہیں
مِنۡ
کوئی
غَا ٓئِبَةٍ
غیب ہونے والی
میں
آسمان (میں)
وَٱ لۡأَرۡضِ
اور زمین میں
إِلَّا
مگر
فِى
میں
كِتَـٰ بٍ
ایک کتاب
روشن
اور نہیں ہے کوئی پوشیدہ چیز آسمان اور زمین میں مگر وہ ایک روشن کتاب میں موجود ہے
27:76
إِنّ َ
بیشک
هَـٰ ذَا
یہ
قرآن
يَقُصُّ
بیان کرتا ہے
عَلَىٰ
کے
بَنِىٓ
بنی
إِسۡرٰ ٓءِيلَ
اسرائیل (کے بارے میں )
أَكۡثَرَ
اکثر
وہ باتیں
هُمۡ
وہ
فِيهِ
اس میں/ جن میں
يَخۡتَلِفُو نَ
٧٦اختلاف کررہے ہیں/ اختلاف رکھتے ہیں
یقیناً یہ قرآن کھول کر بیان کر رہا ہے بنی اسرائیل پر اکثر وہ باتیں جن میں وہ اختلاف کرتے ہیں
27:77
وَإِنّ َهُۥ
اور بیشک وہ
لَهُدًى
البتہ ہدایت ہے
اور رحمت ہے
ایمان لانے والوں کے لئے
اور یقیناً یہ (قرآن) ہدایت اور رحمت ہے اہل ایمان کے حق میں
27:78
إِنّ َ
بیشک
رَبَّكَ
رب تیرا
يَقۡ ضِى
فیصلہ کرے گا
بَيۡنَهُم
ان کے درمیان
اپنے حکم سے
وَهُوَ
اور وہ
زبردست ہے
علم والا ہے
یقیناً آپ ﷺ کا رب فیصلہ کردے گا ان کے درمیان اپنے حکم سے۔ اور وہ زبردست ہے سب کچھ جاننے والا
27:79
فَتَوَكَّلۡ
پس بھروسہ کرو
عَلَى
پر
اللہ (پر)
إِنّ َكَ
بیشک تم
عَلَى
پر
حق (پر) ہو
واضح
تو (اے نبی ﷺ !) آپ توکلّ کیجیے اللہ پر۔ یقیناً آپ ﷺ ہی واضح حق پر ہیں
27:80
إِنّ َكَ
بیشک تم
لَا
نہیں
تُسۡمِعُ
تم سنوا سکتے
مردوں کو
وَلَا
اور نہیں
تُسۡمِعُ
تم سنوا سکتے
بہروں کو
پکار
إِذَا
جب
وَلَّوۡاۡ
وہ پھرجائیں
مُدۡ بِرِي نَ
٨٠پیٹھ پھیر کر
البتہ آپ ﷺ ُ مردوں کو نہیں سنا سکتے اور نہ آپ ﷺ بہروں کو اپنی پکار سنا سکتے ہیں جبکہ وہ پیٹھ پھیر کر چل پڑیں
27:81
وَمَآ
اور نہیں
أَنت َ
تم
بِهَـٰ دِى
ہدایت دینے والے
اندھوں کو
عَن
سے
ان کی گمراہی سے/ان کے بھٹکنے سے
إِن
نہیں
تم سنواتے
إِلَّا
مگر
مَن
جو
ایمان رکھتا ہے
بِـَٔـايَـٰ تِنَا
ہماری آیات پر
فَهُم
پھر وہ
مسلمان ہیں
اور نہ ہی آپ ﷺ اندھوں کو ان کی گمراہی سے پھیر کر راہ پر لانے والے بن سکتے ہیں آپ ﷺ نہیں سنا سکتے مگر صرف انہی کو جو ہماری آیات پر ایمان رکھتے ہیں اور وہ فرمانبرداری کی روش اختیار کرتے ہیں
27:82
۞وَإِذَا
اور جب
وَقَعَ
واقع ہوجائے گی
بات
عَلَيۡهِمۡ
ان پر
أَخۡرَجۡ نَا
ہم نکالیں گے
لَهُمۡ
ان کے لئے
دَا ٓبَّةً
ایک جانور
سے
زمین (سے)
تُكَلِّمُهُمۡ
جو ان سے کلام کرے گا
أَنّ َ
بیشک
لوگ
كَانُواۡ
تھے
بِـَٔـايَـٰ تِنَا
ہماری آیات کے ساتھ
لَا
نہ
يُوقِنُو نَ
٨٢یقین رکھتے
اور جب ان پر ہماری بات واقع ہوجائے گی تو ہم نکالیں گے ان کے لیے زمین سے ایک جانور جو ان سے کلام کرے گا کہ لوگ ہماری نشانیوں پر یقین نہیں رکھتے تھے
27:83
وَيَوۡمَ
اور جس دن
نَحۡشُرُ
ہم گھیر لائیں گے/ اکٹھا کریں گے
مِن
سے
ہر
أُمّ َةٍ
امت (میں سے)
ایک فوج کو
ان میں سے جو
جھٹلاتے ہیں
بِـَٔـايَـٰ تِنَا
ہماری آیات کو
فَهُمۡ
تو وہ
يُوزَعُو نَ
٨٣گروہ در گروہ اکٹھے کئے جائیں گے
اور ذرا تصور کرو اس دن کا جس دن ہم جمع کریں گے ہر امتّ میں سے ایک فوج ان لوگوں میں سے جو ہماری آیات کو جھٹلایا کرتے تھے پھر ان کی درجہ بندی کی جائے گی
27:84
حَتَّىٰٓ
یہاں تک کہ
إِذَا
جب
جَا ٓءُو
وہ سب آجائیں گے
قَالَ
اللہ تعالیٰ پوچھیں گے
أَكَذَّبۡ تُم
کیا جھٹلایا تم نے
میری آیات کو
وَلَمۡ
اور نہیں
تُحِيطُواۡ
تم نے احاطہ کیا تھا
بِهَا
ان کا
عِلۡمًا
علم کے اعتبار سے
أَمّ َاذَا
یا کیا کچھ
كُنت ُمۡ
تھے تم
تَعۡمَلُو نَ
٨٤تم عمل کرتے
یہاں تک کہ جب وہ سب آجائیں گے تو اللہ فرمائے گا : کیا تم نے میری آیات کو جھٹلادیا تھا حالانکہ تم نے ان کا علمی احاطہ نہیں کیا تھا ؟ یا تم لوگ کیا کرتے رہے تھے
27:85
وَوَقَعَ
اور واقع ہوجائے گی
بات
عَلَيۡهِم
ان پر
بوجہ اس کے جو
ظَلَمُواۡ
انہوں نے ظلم کیا
فَهُمۡ
تو وہ
لَا
نہ
يَنط ِقُو نَ
٨٥بول سکیں گے
اور واقع ہوجائے گی ان پر بات اس لیے کہ وہ ظلم کے مرتکب ہوئے تھے چناچہ وہ بول نہیں سکیں گے
27:86
أَلَمۡ
کیا نہیں
يَرَوۡاۡ
انہوں نے دیکھا
أَنّ َا
بیشک ہم نے
جَعَلۡنَا
بنایا ہم نے
رات کو
لِيَسۡكُنُواۡ
تاکہ وہ سکون پائیں
فِيهِ
اس میں
وَٱ ل نّ َهَارَ
اور دن کو
مُبۡ صِرًاۚ
روشن
إِنّ َ
بیشک
فِى
میں
ذٰ لِكَ
اس (میں)
لَأَيَـٰ تٍ
البتہ نشانیاں ہیں
لوگوں کے لئے
ایمان لانے والے
کیا وہ دیکھتے نہیں کہ ہم نے بنایا ہے رات کو تاکہ وہ اس میں آرام کریں اور دن کو روشن بنایا ہے یقیناً اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو ایمان رکھتے ہیں
27:87
وَيَوۡمَ
اور جس دن
يُنف َخُ
پھونکا جائے گا
فِى
میں
صور(میں)
فَفَزِعَ
تو ڈر جائیں گے
مَن
جو
میں
آسمانوں (میں) ہیں
وَمَن
اور جو
میں
زمین (میں) ہیں
إِلَّا
مگر
مَن
جس کو
چاہے
اللہ
وَكُلٌّ
اور سب کے سب
أَتَوۡهُ
آئیں گے اس کے پاس
دٰ خِرِي نَ
٨٧ذلیل ہوکر
اور جس دن صور میں پھونکا جائے گا تو گھبرا اٹھیں گے وہ سب جو آسمانوں اور زمین میں ہیں سوائے ان کے جنہیں اللہ (محفوظ رکھنا) چاہے اور سب حاضر ہوجائیں گے اس کے آگے عاجزی کے ساتھ
27:88
وَتَرَى
اور تم دیکھتے ہو
پہاڑوں کو
تَحۡسَبُهَا
تم سمجھتے ہو ان کو
جَامِدَةً
جامد/ جمے ہوئے
اور وہ
تَمُرُّ
چلتے ہیں
مَرَّ
چلنا
بادلوں کا
صُنۡعَ
کاریگری ہے
اللہ کی
وہ ذات
أَتۡقَنَ
جس نے مضبوط بنایا
كُلَّ
ہر
شَىۡءٍۚ
چیز کو
إِنّ َهُۥ
بیشک وہ
خَبِيرُۢ
خبر رکھنے والا ہے
ساتھ اس کے جو
تَفۡعَلُو نَ
٨٨تم کرتے ہو
اور تم پہاڑوں کو دیکھتے ہو اور سمجھتے ہو کہ وہ خوب جمے ہوئے ہیں اور (اُس دن) وہ چلیں گے جیسے بادل چلتے ہیں یہ اللہ کی کاری گری ہے جس نے ہرچیز کو محکم بنایا ہے یقیناً وہ ہر اس چیز سے باخبر ہے جو تم کر رہے ہو
27:89
مَن
جو کوئی
لایا
بِٱ لۡحَسَنَةِ
نیکی کو
فَلَهُۥ
تو اس کے لئے
خَيۡرٌ
بہتر ہے
اس سے
وَهُم
اور وہ
سے
گھبراہٹ (سے)
اس دن کی
ءَامِنُو نَ
٨٩امن میں ہوں گے
جو کوئی بھی (اس دن) نیکی لے کر آئے گا تو اس کے لیے اس سے بہتر صلہ ہوگا اور وہ اس دن کی گھبراہٹ سے امن میں ہوں گے
27:90
وَمَن
اور جو کوئی
لایا
بِٱ ل سَّيِّئَةِ
برائی کو
فَكُبَّتۡ
تو اوندھے ڈالے جائیں گے
وُجُوهُهُمۡ
ان کے چہرے
فِى
میں
آگ (میں)
هَلۡ
نہیں
تُجۡ زَوۡنَ
تم جزا دیئے جارہے
إِلَّا
مگر
مَا
جو
كُنت ُمۡ
تھے تم
تَعۡمَلُو نَ
٩٠تم عمل کرتے
اور جو کوئیُ برائی لے کر آئے گا تو ایسے لوگوں کے منہ آگ میں اوندھے کردیے جائیں گے) اور کہا جائے گا کہ) تمہیں بدلے میں وہی تو دیا جارہا ہے جو تم عمل کرتے رہے ہو
27:91
إِنّ َمَآ
بیشک
أُمِرۡتُ
مجھے حکم دیا گیا ہے
أَنۡ
کہ
أَعۡبُدَ
میں عبادت کروں
رَبَّ
رب کی
هَـٰ ذِهِ
اس
شہر کے
وہ ذات
حَرَّمَهَا
جس نے حرام ٹھہرایا اس شہر کو
وَلَهُۥ
اور اسی کے لئے ہے
كُلُّ
ہر
شَىۡءٍۖ
چیز
اور مجھ کو حکم دیا گیا ہے
أَنۡ
کہ
أَكُونَ
میں ہوجاؤں
مِنَ
سے
مسلمانوں میں سے/ فرماں برداروں میں سے
(دیکھو !) مجھے تو یہی حکم ہوا ہے کہ میں بندگی کروں اس شہر کے رب کی جس نے اسے محترم قرار دیا ہے اور اسی کے اختیار میں ہے ہرچیز اور مجھے حکم ہوا ہے کہ میں شامل ہوجاؤں اس کے فرمانبردار بندوں میں
27:92
وَأَنۡ
اور یہ کہ
أَتۡلُوَاۡ
پڑھ سناؤں
قرآن کو
فَمَنِ
تو جو
ہدایت پائے
فَإِنّ َمَا
تو بیشک
يَهۡتَدِى
ہدایت پائے گا
لِنَفۡسِهِۦ ۖ
اپنی ذات کے لئے
وَمَن
اور جو
بھٹکا
فَقُلۡ
تو کہہ دیجئے
إِنّ َمَآ
بیشک
أَنَاۡ
میں
مِنَ
سے
ڈرانے والوں میں سے ہوں
اور یہ کہ میں تلاوت کروں قرآن کی تو جو کوئی ہدایت پائے گا وہ اپنے ہی بھلے کے لیے ہدایت پائے گا اور جو کوئی گمراہی کی روش اختیار کرے تو آپ ﷺ کہہ دیجیے کہ میں تو صرف خبردار کرنے والا ہوں