6
Kalima 6

Sixth Kalima - Radde Kuffr (Rejection of Disbelief)

Audio Recitations & Translations:

ٱللَّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ أَنْ أُشْرِكَ بِكَ شَيْءً وَأَنَا أَعْلَمُ بِهِ وَأَسْتَغْفِرُكَ لِمَا لَا أَعْلَمُ بِهِ تُبْتُ عَنْهُ وَتَبَرَّأَتُ مِنَ ٱلْكُفْرِ وَٱلشِّرْكِ وَٱلْكِذْبِ وَٱلْغِيبَةِ وَٱلْبِدْعَةِ وَٱلنَّمِيمَةِ وَٱلْفَوَاحِشِ وَٱلْبُهْتَانِ وَٱلْمَعَاصِي كُلِّهَا وَأَسْلَمْتُ وَأَقُولُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا ٱللَّٰهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ ٱللَّٰهِ

English Translation

O, Allah! Indeed I seek protection in you from associating with you anything whilst I have knowledge of it and I seek your forgiveness for what I do not know about it I repent for it and I distance myself from disbelief and polytheism and lying and backbiting and heresy and talebearing and obscenity and slander and sins in totality and I submit to your will and I declare: there is no other God except Allah and Muhammad (S.A.W) is the messenger of Allah.

اردو ترجمہ

آے اللہ میں پناہ مانگتا ہو اس بات سے کہ میں کسی شے کو تیرا شریک بناو جان بوجھ کر،اور بخشش مانگتاہو میں تم سے اس کام کی جو میں جانتا نہیں ہواور میں نے اس سے توبہ کیا اور بیزار ہوا کفر سے، شرک سے، اور جھوٹ سے، اور غیبت سے، اور بدعت سے ، اور چغلی سے ، اور بے حیائی سے، اور بہتان سے اور تمام گناہو سے اور میں اسلام لایا اور میں کہتا ہوکہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہے۔

Benefits Based on Hadith:

English Reference

“When (the following) was revealed: It is those who believe and confuse not their belief with Zulm (wrong) (6:82) – That bothered some Muslims, so they said: ‘O Messenger of Allah! Which of us has not wronged himself?’ He said: ‘It is not that, it is only Shirk, have you not heard what Luqman said to his son: O my son! Do not commit Shirk with Allah. Verily Shirk is a tremendous Zulm (wrong) (31:13)."-Sahih hadith 3067 from Jami At Tirmidhi

حدیث کی بنیاد پر فوائد

عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب آیت «الذين آمنوا ولم يلبسوا إيمانهم بظلم» ”جو لوگ ایمان لائے اور اپنے ایمان میں ظلم ( شرک ) کی آمیزش نہ کی“ ( الأنعام ۸۲ ) ، نازل ہوئی تو مسلمانوں پر یہ بات گراں گزری، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم میں کون ایسا ہے جس سے اپنی ذات کے حق میں ظلم و زیادتی نہ ہوئی ہے۔ آپ نے فرمایا: ” ( تم غلط سمجھے ) ایسی بات نہیں ہے، اس ظلم سے مراد صرف شرک ہے، کیا تم لوگوں نے سنا نہیں کہ لقمان علیہ السلام نے اپنے بیٹے کو کیا نصیحت کی تھی؟ انہوں نے کہا تھا: «يا بني لا تشرك بالله إن الشرك لظلم عظيم» ”اے میرے بیٹے! شرک نہ کر، شرک بہت بڑا گناہ ہے“ ( لقمان: ۱۳ ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔